ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کی آمد اور علمی و فکری استفادہ

 

محمد نفیس خان ندوی

(17 اکتوبر 2026ء)

 

ڈاکٹر اکرم ندوی ایک تحریکی اور مقناطیسی شخصیت ہیں۔ جس مجلس میں ہوتے ہیں، اسے اپنا ہم مزاج اور ہم فکر بنا لیتے ہیں۔ ان کے انداز گفتگو، طرز استدلال اور اس پر مستزاد ان کی خود اعتمادی میں ایسی تاثیر ہے کہ وہ اپنے مخالف کو بھی اپنا ہم نوا بنا لیتے ہیں۔

 

مولانا جب ندوہ تشریف لاتے ہیں تو یہاں کی خاموش فضا میں ایک ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے۔ نئے موضوعات زیر بحث آتے ہیں اور متداول موضوعات پر بھی نئے زاویوں سے گفتگو اور مذاکرے کا آغاز ہوجاتا ہے۔

 

مولانا دراصل ایک استاذ ہیں۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ مستفیدین کو کچھ نیا سکھائیں، انہیں نئے زاویوں سے سوچنے کی ترغیب دیں اور علمی بحث و تحقیق کے نئے گوشوں کی طرف متوجہ کریں۔

 

برادرم مولانا محمد وثیق ندوی اس اعتبار سے شکریے کے مستحق ہیں کہ وہ اپنی زیرنگرانی الاصلاح (رواق ابو الحسن) میں علمی و فکری نشستوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ موضوع کی اہمیت اور مناسبت کے پیشِ نظر اپنے رفقاء کو بھی ان نشستوں میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔

 

آج ڈاکٹر اکرم ندوی کی تشریف آوری پر وثیق صاحب نے ایک مذاکراتی نشست کا اہتمام کیا، جس میں منتخب طلباء اور متعدد اساتذہ کو مدعو کیا گیا تھا۔ طلباء کو ہر طرح کے سوالات کرنے کی اجازت تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس نشست میں طلباء نے مختلف سوالات کیے اور ڈاکٹر صاحب نے نہایت سہل اسلوب اور علمی انداز میں ان کے جوابات دیے۔

 

طلباء کے سوالات اور ڈاکٹر صاحب کے جوابات سے یہ اندازہ ہوا کہ ندوہ اپنی علمی و فکری راہ پر پوری طرح گامزن ہے اور اسلاف نے علم و فکر کی جو بنیادیں قائم کی تھیں، ندوہ آج بھی انہی بنیادوں پر استوار ہے۔

 

مثلا ایک طالب علم نے عورت کی ملازمت اور سیاست میں شرکت کے حوالے سے سوال کیا کہ اس سلسلے میں علماء کا کیا فتویٰ ہے؟

 

مولانا نے جواب دیا کہ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فتویٰ کے ذریعہ معاشرے کی اصلاح نہیں ہو سکتی؛ معاشرہ کی اصلاح تعلیم کے ذریعے ہوگی۔ فتویٰ تو ان لوگوں کے لیے مفید ہوگا جو آپ سے فتویٰ لینے آئیں گے۔

 

ایک طالب علم نے سوال کیا کہ قرآن مجید کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کرنے کا کام رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں کیوں نہیں ہوا؟

 

مولانا نے اس کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی ہی میں پورا قرآن محفوظ تھا، البتہ وہ ایک مصحف کی شکل میں جمع نہیں کیا گیا تھا۔ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے، وحی کے نزول کا امکان باقی تھا، اس لیے قرآن مجید کو ایک مصحف کی صورت میں جمع کرنے کا کام آپ کے وصال کے بعد انجام دیا گیا۔

 

مولانا نے یہ بھی واضح کیا کہ قرآن مجید کی تلاوت مختلف علاقوں میں مختلف قراءتوں کے مطابق کی جاتی تھی۔ جب عجمیوں میں اسلام پھیلا اور انہوں نے قرآن کی تلاوت شروع کی تو قراءت کے اختلافات کو سمجھنا ان کے لیے دشوار ہونے لگا۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے امت کو مصاحف عثمانیہ پر جمع کرنے کا اہتمام فرمایا، جس سے قراءت کے اختلافات کے باعث پیدا ہونے والی نزاع کی روک تھام میں مدد ملی۔

 

ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ آپ اتنے مضامین اور مقالات لکھتے ہیں تو ان میں حوالوں کا اہتمام کیسے کر لیتے ہیں؟

 

ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ دراصل میں مستقل تدریس سے وابستہ ہوں اور زمانہ طالب علمی ہی سے نوٹس تیار کرنے کا میرا مزاج رہا ہے۔ جن موضوعات کا مطالعہ کیا ہے یا جن کتابوں کا درس دیا ہے، ان کے نوٹس میرے پاس محفوظ ہیں۔ اسی وجہ سے حوالہ دینے میں مجھے زیادہ دشواری پیش نہیں آتی۔

 

البتہ بعض اوقات کوئی نیا موضوع سامنے آتا ہے تو اس کی تیاری میں کئی ماہ، بلکہ کبھی کبھی سال بھی لگ جاتا ہے۔ مثلاً ایک مرتبہ میرے سامنے یہودیوں کے حوالہ سے یہ سوال آیا کہ آپ لوگ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو رحمت کا پیغمبر کہتے ہیں، جب کہ آپ نے خیبر کے یہودیوں کو قتل کروایا تھا۔ اس سوال کا جواب تیار کرنے میں مجھے ایک سال کا عرصہ لگ گیا۔

 

اسی طرح جب عقیدے سے متعلق ایک سوال کیا گیا تو ڈاکٹر صاحب نے طلباء سے فرمایا کہ یہ ایک طویل بحث ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ اس موضوع پر مزید مطالعہ کریں اور چند بنیادی سوالات پر غور کریں:

 

کیا لفظ عقیدہ قرآن و حدیث میں کہیں استعمال ہوا ہے؟

 

اسلام جس ایمان کی بات کرتا ہے، کیا لفظ عقیدہ بھی اسی مفہوم کو ادا کرتا ہے؟

 

لفظ عقیدہ کا استعمال سب سے پہلے کب ہوا؟

 

اور عقیدے کی معروف کتاب العقیدۃ الطحاویۃ کی تالیف کا پس منظر اور مقصد کیا ہے؟

 

یہ سوالات محض معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ کسی موضوع کی اصل حقیقت تک پہنچنے اور اس کے تاریخی و علمی پس منظر کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

 

طلباء کے علاوہ اساتذہ نے بھی اس نشست سے استفادہ کیا اور مختلف موضوعات پر ڈاکٹر صاحب سے گفتگو کی۔

 

ڈاکٹر صاحب نے چند روز قبل یہ بات کہی تھی کہ خدا کو عقل سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دراصل عقل کا کام تشریح و توضیح کرنا ہے۔ عقل بہت سے معاملات میں انہی تصورات کی روشنی میں استدلال کرتی ہے جو انسان کے ذہن میں اس کی تہذیب اور ثقافت کے زیر اثر پہلے سے متعین ہو چکے ہوتے ہیں۔ مثلاً کوئی چیز لذیذ یا خوب صورت ہے، تو عقل اس کے حق میں بھی انہی تصورات کی روشنی میں استدلال کرے گی جنہیں ماحول اور معاشرہ پہلے سے متعین کر چکے ہیں۔

 

ان کے بقول، عقل کسی چیز کو اسی وقت درست طور پر سمجھنے اور اس کے حق میں استدلال کرنے کے قابل ہوتی ہے جب اسے فطرت سے ہم آہنگ کرکے دیکھا جائے۔ انبیاء علیہم السلام نے یہی کام انجام دیا، اور قرآن مجید کا اسلوب بھی یہی ہے کہ وہ انسان کو کائنات اور خود اپنی ذات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔

 

مغرب اور عشاء کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک یہ نشست جاری رہی۔ عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں ایک عمومی خطاب ہوا، جس کا بنیادی موضوع ’’فکر ندوہ کی عصری معنویت‘‘ تھا۔

 

رات کے کھانے کے بعد بھی کافی دیر تک ڈاکٹر صاحب ندوہ کے اساتذہ اور دیگر معزز اہلِ علم کے درمیان موجود رہے اور ان کے سوالات کے تشفی بخش جوابات دیتے رہے۔

 

اسی دوران ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ آپ ایسے موضوعات کو زیر بحث کیوں لاتے ہیں جن کے بارے میں ہندوستانی علماء اور عوام کے ذہنوں میں پہلے سے ایک خاص رائے قائم ہو چکی ہے؟

 

ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ دین کے فروعی مسائل میں شدت نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فروعی مسائل میں غور و فکر کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی جائے اور کسی بھی معاملے میں شدت اختیار کرنے سے گریز کیا جائے۔

 

بہرحال، یہ مختلف علمی و فکری نشستوں کے حوالے سے یہ ایک خوش گوار ملاقات تھی، جس میں طلباء اور اساتذہ دونوں کو استفادے کا موقع ملا۔ ایسی نشستیں نہ صرف علم میں اضافے کا ذریعہ بنتی ہیں، بلکہ سوال کرنے، غور و فکر کرنے اور مسائل کو نئے زاویوں سے سمجھنے کا حوصلہ بھی پیدا کرتی ہیں۔

 

اللہ تعالیٰ اس علمی و فکری سلسلے کو جاری و ساری رکھے اور ہمیں علم و تحقیق کی ان مجلسوں سے حقیقی استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments are closed.