ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات!
ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات!
از: محمد شاہد ناصری حنفی
مدیر، ماہنامہ مکہ میگزین، ممبئی
یہ تھے حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ علیہ، جنہیں مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یہ شخصیت زمین پر اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کی رحمت کا مظہر تھی۔ اپنے منتسبین کے لیے بھی اور عالمِ اسلام کے لیے بھی وہ ایک طرف عطیۂ ربانی تھے تو دوسری طرف دعا، وسیلہ اور بارگاہِ الٰہی میں التجا کی ایک زندہ تصویر۔ ان کی زندگی علم و فضل، تقویٰ و طہارت اور اخلاص و دیانت سے عبارت تھی؛ لیکن بعض اوقات کسی شخصیت کے باطن کی وہ خوبیاں، جو برسوں کی رفاقت اور طویل مشاہدے کے باوجود پوری طرح سامنے نہیں آتیں، اس کی وفات کے بعد کسی ایک واقعے سے اس طرح آشکار ہوتی ہیں کہ آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔
ابھی حضرت مولانا کی جدائی کا زخم تازہ تھا، ابھی دل اس صدمے سے سنبھلنے بھی نہیں پایا تھا کہ فضلاء دارالعلوم دیوبند کے ایک چینل پر ایک ایسی خبر سننے میں آئی جس نے حیرت و استعجاب کے ایک نئے عالم سے دوچار کر دیا۔ بے ساختہ زبان پر دیہات کی ایک کہاوت آ گئی: ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات! یعنی پودے کے ابتدائی آثار ہی اس کے مستقبل کی خوبیوں کی خبر دے دیتے ہیں۔ حضرت مولانا کی زندگی کا یہ واقعہ بھی ان کے کردار کی پاکیزگی اور احساسِ ذمہ داری کا مظہر ہے، جس کی ایک نمایاں شہادت ان کی وفات کے بعد سامنے آئی ہے۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء میں منعقدہ ملحقہ مدارس کے مشاورتی اجلاس کی آخری نشست میں ناظمِ ندوۃ العلماء حضرت مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی زید مجدہم نے یہ واقعہ بیان فرمایا تو مجلس کی فضا پر رقت طاری ہو گئی اور بہت سے مندوبین کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ دارالعلوم کے سابق مہتمم حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ علیہ شدید جسمانی ضعف کے باعث گزشتہ ڈھائی سال سے دارالعلوم آنے سے قاصر تھے۔ اس مدت میں مرشدِ ملت حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ علیہ کی وصیت کے مطابق حضرت مہتمم صاحب کو حسبِ سابق ماہانہ مشاہرہ ملتا رہا۔
حضرت مولانا کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء نے تقریباً چودہ لاکھ روپے کی یہ رقم ندوۃ العلماء کے ذمہ داروں کے حوالے کر دی۔ ان کے بیان کے مطابق حضرت مولانا کا احساس یہ تھا کہ جب وہ گزشتہ ڈھائی سال سے اپنے فرائض انجام دینے کے لیے دارالعلوم نہیں جا سکے تو اس مدت کا مشاہرہ اپنے پاس رکھنا ان کے نزدیک مناسب نہیں؛ اس لیے یہ رقم ندوۃ العلماء کی تعمیر و ترقی پر خرچ کی جائے۔ چنانچہ ان کی وصیت کے مطابق یہ رقم ادارے کے ذمہ داروں کے سپرد کر دی گئی۔
اس واقعے کی معنویت سمجھنے کے لیے حضرت مولانا کے ذاتی احساسِ ذمہ داری کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ شدید جسمانی ضعف کے باعث ان کا دارالعلوم نہ جا سکنا ایک حقیقی مجبوری تھی، لیکن انہوں نے اپنی اس مجبوری کو اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہی سے بے نیاز ہونے کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کے نزدیک اصل اہمیت اس بات کی تھی کہ وہ اپنی ذمہ داری کے بارے میں خود کیا محسوس کرتے ہیں اور ادارے کے حق کے معاملے میں ان کا ضمیر انہیں کیا رہنمائی دیتا ہے۔ یہ ان کی ذاتی دیانت اور احتسابِ نفس کی وہ کیفیت تھی جس نے انہیں اپنی ذات سے متعلق اس معاملے میں بھی ایک غیر معمولی فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا۔
یہاں اصل قابلِ توجہ چیز رقم کی مقدار نہیں، وہ احساس ہے جس نے اس فیصلے کو جنم دیا۔ انسان کی دیانت کا ایک امتحان اس وقت بھی ہوتا ہے جب اس کے سامنے اپنے مفاد اور اپنے ضمیر کے درمیان انتخاب کا موقع آئے۔ حضرت مولانا نے اپنے طرزِ عمل سے یہ مثال قائم کی کہ منصب کی ذمہ داری محض اس وقت تک محدود نہیں ہوتی جب تک کوئی شخص عملاً اپنے فرائض انجام دیتا رہے، بلکہ اس کے ساتھ وابستہ احساسِ امانت انسان کے اندر اس وقت بھی زندہ رہ سکتا ہے جب وہ جسمانی مجبوری کے باعث اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہو۔ یہ واقعہ ان کے اسی احساسِ امانت کی گواہی دیتا ہے۔
حضرت مولانا کی رحلت کے بعد یہ خبر سن کر دل کا بوجھ اور بڑھ گیا۔ ان کی جدائی کا صدمہ اپنی جگہ، لیکن ان کے کردار کا یہ پہلو سامنے آنے پر یہ احساس بھی گہرا ہوا کہ ہمارے عہد سے ایسے بزرگ رخصت ہو رہے ہیں جن کی زندگی علم و فضل کے ساتھ اخلاقی عظمت کی بھی مثال تھی۔ ان کے لیے دیانت کوئی دعویٰ نہیں تھی؛ وہ اپنے فیصلوں اور اپنے طرزِ عمل میں اس کا ثبوت پیش کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کی جدائی صرف ایک شخصیت سے محرومی نہیں، ایک زندہ نمونے سے محرومی بھی ہوتی ہے۔
تاہم اسی مجلس میں ناظمِ ندوۃ العلماء کی جانب سے یہ اطلاع ایک خوش گوار امید بن کر سامنے آئی کہ ان شاء اللہ اسی رقم سے زیرِ تعمیر رواقِ رابع میں حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ علیہ کے نام سے ’’سعید ہال‘‘ تعمیر کیا جائے گا۔ اس سے بہتر یادگار اور کیا ہو سکتی ہے کہ جس بزرگ نے اپنی زندگی ندوۃ العلماء کی خدمت میں گزاری، ان کے نام سے اسی ادارے میں ایک علمی یادگار قائم ہو اور اس کی تعمیر کے لیے وہی رقم صرف ہو جسے انہوں نے اپنی وصیت کے مطابق ادارے کے سپرد کرنے کی ہدایت کی تھی۔ یوں یہ رقم محض ایک مالی امانت کی واپسی تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ان کے نام سے قائم ہونے والی علمی یادگار کے ذریعے آنے والی نسلوں کو بھی ان کی زندگی کے ایک اہم اخلاقی پہلو کی یاد دلاتی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور ندوۃ العلماء کو ان کے علمی ورثے کے ساتھ ان کے اخلاقی ورثے کی حفاظت کی بھی توفیق دے۔
Comments are closed.