بلا تحقیق کسی کی عزت اچھالنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے: مفتی محمود حسن تاؤلوی

 

شریعت کا مزاج پردہ پوشی، اصلاح اور خیرخواہی ہے؛ سوشل میڈیا پر کسی کو رسوا کرنے سے کیا حاصل؟ طلبہ سے خطاب

 

دیوبند، سہارنپور: جامعہ محمود للبحوث والدراسات الاسلامیہ، دیوبند کے بانی و صدر مفتی محمود حسن تاؤلوی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص، خصوصاً اہلِ علم اور علماء کے بارے میں بغیر تحقیق کوئی بات پھیلانا اور سوشل میڈیا پر کسی کی عزت و آبرو کو مجروح کرنا اسلامی تعلیمات اور شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔ اسلام ہمیں تحقیق، احتیاط، پردہ پوشی اور اصلاح کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ لوگوں کی لغزشوں کو اچھال کر انہیں رسوا کرنے کی۔

 

مفتی محمود حسن تاؤلوی نے کہا کہ آج سوشل میڈیا کے دور میں کسی کے بارے میں سنی سنائی بات کو تحقیق کے بغیر عام کر دینا بہت آسان ہوگیا ہے، لیکن اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایک غیر مصدقہ خبر کسی شخص کی عزت، وقار اور سماجی زندگی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ کسی بھی بات کو آگے پھیلانے سے پہلے اس کی حقیقت معلوم کرے اور اپنی زبان و قلم کے استعمال میں شرعی حدود کا خیال رکھے۔

 

حضرت ماعز بن مالکؓ کا واقعہ اور نبوی تعلیم

 

انہوں نے پردہ پوشی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ کے واقعے کا حوالہ دیا۔ احادیث میں مذکور ہے کہ جب حضرت ماعزؓ سے زنا کی لغزش سرزد ہوئی تو حضرت ہزال بن یزید اسلمیؓ نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر اپنے معاملے کا اعتراف کرنے کا مشورہ دیا۔ اس واقعے کے ضمن میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ہزالؓ سے فرمایا:

«يَا هَزَّالُ، لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ لَكَانَ خَيْرًا لَكَ»

ترجمہ: ’’اے ہزال! اگر تم اسے اپنے کپڑے سے چھپا لیتے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔‘‘

مفتی محمود حسن تاؤلوی نے اس واقعے کی روشنی میں واضح کیا کہ اسلامی تعلیمات میں کسی مسلمان کی لغزش کو اچھالنے اور اسے رسوا کرنے کے بجائے حکمت، خیرخواہی اور اصلاح کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس نبوی ارشاد سے یہ سبق ملتا ہے کہ جہاں مناسب ہو، کسی کی لغزش کو عام کرنے کے بجائے اس کی پردہ پوشی اور اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔

 

غلطی کی اصلاح کی جائے، تذلیل نہیں

 

انہوں نے مزید کہا کہ شریعت کا مزاج یہ ہے کہ اگر کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اس کی اصلاح کی فکر کی جائے۔ اگر کسی معاملے میں شرعی یا قانونی کارروائی ضروری ہو تو اسے متعلقہ ذمہ دار افراد اور اداروں کے ذریعے انجام دیا جائے، لیکن کسی کو ذلیل و رسوا کرنے، اس کی تضحیک کرنے اور اس کے عیوب کی تشہیر کو معمول بنا لینا درست طرزِ عمل نہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ کسی شخص کی غلطی پر تنبیہ کرنا اور بات ہے، جبکہ اس کی تذلیل کرنا اور اس کی غلطی کو لوگوں میں پھیلا کر اسے بدنام کرنا بالکل الگ بات ہے۔ اصلاح کا مقصد انسان کو درست راستے پر لانا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے معاشرے کی نگاہوں میں گرانا۔

 

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی کے بارے میں الزام سامنے آنے پر محض سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ پہلے حقیقت معلوم کی جائے، تمام پہلوؤں کو سمجھا جائے اور پھر شرعی اصولوں کے مطابق ذمہ داری کے ساتھ کوئی قدم اٹھایا جائے۔

 

سوشل میڈیا پر تشہیر سے کیا حاصل ہوگا؟

 

مفتی محمود حسن تاؤلوی نے سوشل میڈیا پر بلا تحقیق باتیں پھیلانے کے رجحان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی کے خلاف غیر مصدقہ باتیں پھیلانے اور اس کی لغزشوں کو عام کرنے سے آخر حاصل کیا ہوتا ہے؟ کیا اس سے کسی کی اصلاح ہوتی ہے، معاشرے میں خیر پیدا ہوتی ہے یا کوئی مثبت نتیجہ سامنے آتا ہے؟

 

انہوں نے کہا کہ آج ایک غیر مصدقہ خبر چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ بعد میں اگر وہ بات غلط ثابت ہو جائے تو متاثرہ شخص کی عزت اور وقار کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی آسان نہیں ہوتی۔ اس لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی صحت کی تحقیق کریں اور محض جذبات، اختلاف یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی کے خلاف مہم چلانے سے گریز کریں۔

 

انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ دینی علوم سے وابستہ ہونے کی حیثیت سے اپنے کردار، گفتگو، تحریر اور سوشل میڈیا کے استعمال میں اسلامی آداب کا خصوصی خیال رکھیں۔ کسی کے بارے میں کوئی بات سنیں تو تحقیق کریں، کسی پر الزام لگانے میں جلد بازی سے بچیں اور اختلاف کی صورت میں بھی شائستگی، عدل اور خیرخواہی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

 

معاشرے میں اصلاح اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے

 

اپنے خطاب میں مفتی محمود حسن تاؤلوی نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ معاشرے میں خیر، اعتماد اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ تحقیق کے بغیر کوئی بات نہ پھیلائی جائے اور لوگوں کی لغزشوں کے معاملے میں حکمت سے کام لیا جائے۔ جہاں اصلاح ممکن ہو، وہاں رسوائی کے بجائے اصلاح کو ترجیح دی جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف اپنی ذات کی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اسے دوسروں کے ساتھ بھی خیرخواہی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ کسی کی غلطی سامنے آنے پر اس کے لیے اصلاح کا راستہ اختیار کرنا، اس کی عزت و آبرو کا لحاظ رکھنا اور غیر ضروری تشہیر سے بچنا اسلامی اخلاق کا اہم تقاضا ہے۔

 

مفتی محمود حسن تاؤلوی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کو کسی کی تذلیل اور بدنامی کا ذریعہ بنانے کے بجائے علم، خیرخواہی، اصلاح اور مثبت پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جائے۔ تحقیق کے بغیر بات پھیلانے سے بچنا، دوسروں کی عزت کا احترام کرنا اور اصلاح کو ترجیح دینا ہر مسلمان کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔

Comments are closed.