مسجد ریس کورس کو ممکنہ انہدام سے بچانے کے لیے منہاج احمد قاسمی کی مرکزی حکومت سے اپیل

 

مولانا ہارون کا دعویٰ، آئندہ ہفتے انہدام کی کارروائی کا خدشہ؛ وقف بورڈ سے مؤثر مداخلت کا مطالبہ

 

نئی دہلی، 19 اکتوبر: نئی دہلی کی تاریخی مسجد ریس کورس کو ممکنہ انہدام سے بچانے کے لیے آل انڈیا سیمانچل جن وکاس پریشد کے چیئرمین منہاج احمد قاسمی نے مرکزی حکومت اور متعلقہ محکموں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مسجد کی تاریخی حیثیت، وقف اراضی سے متعلق دستاویزات اور قانونی حقوق کی مکمل جانچ ہونے تک کسی بھی ایسی کارروائی کو روکا جائے جس سے مسجد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

 

منہاج احمد قاسمی کے مطابق، مسجد کے امام مولانا ہارون صاحب نے انہیں بتایا ہے کہ لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (L&DO) کی جانب سے آئندہ ہفتے مسجد کو منہدم کیے جانے کا خدشہ ہے۔ امام صاحب کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ مسجد آزادی سے قبل کی ہے اور اس کے ساتھ تقریباً دو بیگھہ زمین وقف سے متعلق ہے، جس کے بارے میں سرکاری گزٹ میں اندراج ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ان دعوؤں اور مجوزہ انہدام کی کارروائی کی سرکاری سطح پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

 

قاسمی نے کہا کہ اگر مسجد کی تاریخی حیثیت اور وقف اراضی سے متعلق دستاویزات موجود ہیں تو ان کی غیر جانب دارانہ جانچ کرانا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل مسجد کے قانونی ریکارڈ، اراضی کی ملکیت اور ورثے سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی فریق کے قانونی حقوق متاثر نہ ہوں۔

 

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امام مولانا ہارون صاحب کے مطابق، دہلی وقف بورڈ کی جانب سے انہیں اس معاملے میں مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ قاسمی نے وقف بورڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر دستاویزات کی جانچ کرے، قانونی رہنمائی فراہم کرے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ حکام کے سامنے مسجد کا موقف پیش کرے۔

 

منہاج احمد قاسمی نے کہا کہ وہ ان شاء اللہ آئندہ روز خود مسجد ریس کورس پہنچ کر صورت حال کا جائزہ لیں گے اور متعلقہ افراد سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے مرکزی حکومت، L&DO، نئی دہلی میونسپل کونسل (NDMC) اور دہلی وقف بورڈ سے مطالبہ کیا کہ معاملے میں شفافیت اختیار کی جائے، مسجد کی ہیرٹیج حیثیت کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جائیں اور تمام قانونی پہلوؤں کی جانچ مکمل ہونے تک کسی بھی ناقابلِ تلافی کارروائی سے گریز کیا جائے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی عمارتوں اور مذہبی مقامات سے متعلق معاملات میں انتظامیہ کو قانون، شفافیت اور حساسیت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ اگر مسجد کے تاریخی ورثے اور وقف حیثیت سے متعلق دعوے دستاویزی طور پر ثابت ہوتے ہیں تو اس کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

 

منہاج احمد قاسمی نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ مسجد ریس کورس کے معاملے میں فوری توجہ دے، ممکنہ انہدام سے متعلق صورت حال واضح کرے اور تمام متعلقہ دستاویزات کی جانچ تک مسجد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

Comments are closed.