میڈیا کی آزادی اور اسلامی نقطۂ نظر

آیت اللہ اعجازی

المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ؛ لیکن آج کے جتنے ذرائع ابلاغ ہیں، مین اسٹریم میڈیا ہے، ان میں سے اکثر پر چند با اثر افراد یا سیاست دانوں کا کنٹرول ہے، آج کل کے اخبارات کارپوریٹ گھرانے نکالتے ہیں، نیوز چینلز پر بھی انھی کا مالکانہ کنٹرول ہے، جو کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے سمجھوتہ کرکے ان کی تشہیر اور حمایت میں فضا سازگار کرنے کے لیے کام کرتے ہیں، آج کا میڈیا بکا ہوا ہے ، جسے ہم گودی میڈیا سے تعبیر کرتے ہیں، میڈیا صرف اسی خبر کی تشہیر کرتا ہے، جس سے اس کے مخالف کی شبیہ شکنی اور اس کی شبیہ سازی ہوتی ہو، موجودہ عہد کے صحافی اور رپورٹر ان مشتبہ خبروں کو منظر عام پر لانے سے گھبراتے ہیں ، جو با اثر افراد سے تعلق رکھتی ہیں؛ جبکہ اسلامی نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس قسم کی خبروں کی اشاعت کو جس سے مفاد عامہ وابستہ ہو اور اس سے کسی پر ذاتی تنقید اور کیچڑ اچھالنا مقصود نہ ہو،کسی ملامت اور خوف کی پرواہ کیے بغیر مشتہر کیا جائے ، وہ اس خبر کی اشاعت میں شخص، ادارے، تنظیم، حکومت کے اثر ورسوخ ، جنگی ساز و سامان، طاقت وقوت اور فوجی طاقت کوخاطر میں نہ لائے، آپ ﷺ کا ارشاد ہے : أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ (‌سنن ابن ماجه، کتاب الفتن، باب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، حدیث نمبر: 4007) (ترجمہ: خبردار جو تم کسی شخص کے اثر و رسوخ کی وجہ سے حق کے اظہار میں تردد سے کام لو )

اسلام انسان کو محض بولنے کی اجازت ہی نہیں دیتا ؛ بلکہ اسے صداقت و سچائی اور عدل و انصاف کا پابند بھی بناتا ہے، اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان کسی کے خوف، لالچ، منصب یا اثر و رسوخ کی وجہ سے حق کو نہ چھپائے اور نہ باطل کی حمایت کرے، قرآن مجید میں ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ (سورۃ النساء : 135)

ترجمہ: اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، خواہ وہ گواہی خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔

اسی کے ساتھ ساتھ یہ فرق بھی ضروری ہے کہ صحافت کی آزادی کا مطلب جھوٹ، بہتان، کردار کشی اورالزام تراشی کی آزادی نہیں ہے، آج کی نام نہاد آزاد میڈیا بائسڈ خبروں کے ساتھ ساتھ غیر تحقیقی خبریں نشر کرتا ہے، فیکٹ چیک نہیں کرتا، انہیں اپنے مفاد کی چیزیں جہاں سے ملتی ہے وہ اسے اچک لیتا ہے، حال ہی میں ملک کے بڑے نیوز چینلوں میں سے ایک ABP News نے فوک سنگر نیہا سنگھ راٹھور کے بارے میں ایسی جھوٹی خبریں نشر کیں، جس سے ان کی کردار کشی ہوتی ہو، نیہا سنگھ راٹھور حکومت پر تنقید کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں ؛ اس لیے یہ جان بوجھ کر بھی کیا جا سکتا ہے ؛ کیونکہ انہیں حکومت کی طرف سے کھلی اور مطلق آزادی دے دی گئی ہے، وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں، یہ آزادی نہیں غلامی ہے، دوسری طرف اسلام ہے جو تحقیق، دیانت داری اور ذمہ دارانہ گفتگو کی ترغیب دیتا ہے، اسے لازم قرار دیتا ہے، قرآن مجید کا حکم ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا (سورۃ الحجرات : 6)

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔

یہ اصول سب کے لیے اہم ہے، صحافت کے بنیادی تقاضے ہیں، یہی وہ آزاد میڈیا اور آزاد صحافت کا تصور ہے جو اسلام پیش کرتا ہے کہ ایک جرنلسٹ نہ خوف کے سامنے جھکے، نہ لالچ کے ہاتھوں فروخت ہو اور نہ کسی کے دباؤ میں آکر سچائی کا گلا گھونٹے، حق کو جاننے کے بعد لوگوں کا خوف اسے بیان کرنے سے نہ روک سکے اور پھر یہ سارا عمل جذباتی نہ ہو ؛ بلکہ حقائق پر مبنی بھی ہو۔

Comments are closed.