مسلم نوجوانو! سیاست میں قدم بڑھاؤ، مگر حکمت اور اتحاد کے ساتھ:نظرعالم کا نوجوانوں کے نام ایک اہم اور نصیحت آمیز پیغام

 

 

دربھنگہ۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر و جے ڈی یو لیڈر نظرعالم نے ملک اور ریاست کی سیاست میں سرگرم مسلم نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی میدان میں آگے ضرور آئیں، لیکن جذبات کے ساتھ سیاسی شعور، حکمتِ عملی، زمینی حقائق اور قوم کے اجتماعی مفادات کو بھی سامنے رکھیں۔

 

انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ اور مستقبل کی امید ہوتے ہیں۔ مسلم نوجوانوں میں صلاحیت، حوصلہ اور آگے بڑھنے کا جذبہ موجود ہے، لیکن سیاست ایک ایسا میدان ہے جہاں صرف جوش اور نیک نیتی کافی نہیں، بلکہ تجربہ، مسلسل محنت، مضبوط تنظیم، عوامی اعتماد اور دور اندیشی بھی ضروری ہے۔

 

آج کے نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست محض تقریروں، نعروں، سوشل میڈیا پر مقبولیت یا انتخاب لڑنے کا نام نہیں، بلکہ یہ عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل سمجھنے، ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے اور ایک مضبوط سیاسی بنیاد تیار کرنے کا نام ہے۔ سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے اپنی زمینی تیاری، عوامی مقبولیت، تنظیمی طاقت، مالی وسائل اور اپنے سیاسی منصوبے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس کا مقصد نوجوانوں کی حوصلہ شکنی نہیں، بلکہ انہیں زیادہ مضبوط اور کامیاب سیاسی کردار کے لیے تیار کرنا ہے۔

 

نظرعالم نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سیاست میں ذاتی خواہشات اور اجتماعی مفادات کے درمیان توازن قائم رکھنا بے حد ضروری ہے۔ اگر ہر شخص صرف اپنی سیاسی پہچان بنانے، انتخاب لڑنے یا قیادت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور باہمی مشاورت و اتحاد کو نظرانداز کر دے، تو اس سے قوم کی اجتماعی سیاسی طاقت کمزور ہو سکتی ہے۔ سیاسی میدان میں آگے بڑھنا ہر نوجوان کا حق ہے، لیکن اس کے لیے منصوبہ بندی، عوامی حمایت اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس بھی ہونا چاہیے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک، ریاست، ضلع اور مقامی سطح پر مسلم سیاست کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہماری سیاسی نمائندگی کیوں کمزور ہو رہی ہے، باہمی اختلافات کیوں بڑھ رہے ہیں اور ہماری اجتماعی آواز پہلے کی طرح مؤثر کیوں نہیں رہ پا رہی۔ جب سیاسی اتحاد کمزور ہوتا ہے اور ہمارے درمیان غیر ضروری مقابلہ آرائی بڑھتی ہے، تو اس کا فائدہ ان سیاسی قوتوں کو پہنچ سکتا ہے جو ہماری تقسیم سے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں، ان کے سابقہ کردار اور عوامی مسائل پر ان کے موقف کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیں۔

 

نظرعالم نے واضح کیا کہ سیاست میں کسی خاندان، پس منظر یا مالی حیثیت کو ہی کامیابی کا واحد معیار نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل اہمیت کردار، صلاحیت، عوامی خدمت، مضبوط تنظیم، لوگوں کے اعتماد اور مسلسل جدوجہد کی ہے۔ تاہم، زمینی حقائق کو سمجھے بغیر اور مناسب تیاری کیے بغیر سیاسی میدان میں کود پڑنا بھی دانش مندی نہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے علاقوں میں تعلیمی، سماجی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کریں، بزرگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور سیاسی تربیت و مشاورت کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں۔

 

انہوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو سیاست سے دور رہنے کی نہیں، بلکہ سیاست کو بہتر طور پر سمجھنے اور اسے مثبت انداز میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں، قوم کے بنیادی مسائل پر متحد ہوں اور تعلیم، روزگار، آئینی حقوق، سماجی انصاف اور باوقار نمائندگی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں۔ سیاسی جماعتوں سے وابستگی ہر شخص کا جمہوری حق ہے، لیکن کسی بھی وابستگی سے پہلے عوامی مفاد اور اپنے فیصلوں کے دور رس نتائج پر غور کرنا ضروری ہے۔

 

انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ وقتی جذبات، افواہوں، ذاتی رنجشوں اور محض شہرت کی خواہش سے متاثر ہو کر فیصلے نہ کریں۔ سیاست میں کامیابی کا راستہ صبر، مستقل مزاجی، عوامی خدمت، سیاسی بصیرت اور مضبوط تنظیم سے ہو کر گزرتا ہے۔ جو نوجوان آج عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے گا، وہی کل ایک قابلِ اعتماد اور مؤثر قیادت کا کردار ادا کر سکے گا۔

 

آخر میں نظرعالم نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، لیکن ان کی کامیابی اسی وقت قوم کی کامیابی بنے گی جب ان کی جدوجہد میں شعور، حکمت، اتحاد اور اجتماعی مفاد شامل ہوگا۔ ہمیں ایسی سیاست کو فروغ دینا ہے جو افراد کو ایک دوسرے کا حریف بنانے کے بجائے قوم کی طاقت بنائے، اختلافات کو انتشار میں بدلنے کے بجائے مشاورت کا ذریعہ بنائے اور ذاتی مفادات کے بجائے عوامی حقوق و ترقی کو ترجیح دے۔

 

یاد رکھیے! سیاست میں آگے بڑھنا ضروری ہے، مگر اس انداز سے کہ ہماری ترقی کے ساتھ قوم کی سیاسی طاقت بھی بڑھے، ہماری آواز مضبوط ہو اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر راستہ تیار ہو۔

Comments are closed.