اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے!
از: محمد شاہد ناصری حنفی
مدیر ماہنامہ مکہ میگزین، ممبئی
آدمی کی اصل آزمائش اپنے مخالف کی خامی دیکھنے میں نہیں، اس کی خوبی تسلیم کرنے میں ہے۔ کسی سے اختلاف ہو تو اس کی غلطیاں گنوانا آسان ہے، لیکن اس کے علم و فضل کا اعتراف کرتے رہنا بڑے ظرف کی علامت ہے۔ افسوس کہ اختلاف کے جو آداب زبان سے بیان کیے جاتے ہیں، ان کی پابندی کا وقت آتا ہے تو بسا اوقات علم پر نفس غالب آجاتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ایک حکایت قابلِ غور ہے۔
منقول ہے کہ دونوں بزرگوں کے درمیان کسی بات پر رنجش ہوگئی تھی۔ جب حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر آتا تو وہ فرماتے: ’’خیاطوں کو چھوڑو!‘‘ ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان میں کپڑے سینے کا کام ہوتا تھا۔ یہ جملہ ان کے خاندانی پیشے کی طرف اشارہ تھا، جسے رنجش کے موقع پر طنز کا ذریعہ بنایا جاتا تھا۔
ایک روز حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے خواب دیکھا کہ وہ برہنہ کھڑے ہیں، سامنے کوڑے کا ڈھیر ہے اور ہاتھ میں ایک چھڑی ہے، جس سے وہ اس ڈھیر کو کرید رہے ہیں۔ خواب نے انہیں پریشان کردیا۔ تعبیر کے لیے ذہن میں جس شخصیت کا نام آیا، وہ امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ تھے؛ لیکن ان سے تو رنجش تھی۔ چنانچہ انہوں نے ایک شاگرد کو بلایا اور کہا کہ ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جاؤ اور یہ خواب اس طرح بیان کرو گویا تم نے خود دیکھا ہے۔
شاگرد ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں پہنچا اور خواب بیان کردیا۔ سنتے ہی فرمایا: ’’حسن کو میری طرف سے سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ وہ اس خواب کی تعبیر خیاطوں کے بیٹوں سے نہ پوچھیں!‘‘
یہ جواب حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچا تو انہیں یقین ہوگیا کہ ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ حقیقت بھانپ گئے ہیں۔ چنانچہ وہ خود ان کی مجلس میں تشریف لے گئے۔ ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ انہیں دیکھ کر اٹھے اور آگے بڑھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، پھر الگ بیٹھ کر دلوں کی رنجشیں دور کیں۔ اس کے بعد حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے خواب کی تعبیر دریافت کی۔
ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آپ کا برہنہ ہونا دنیا سے بے رغبتی کی علامت ہے، کوڑے کا ڈھیر دنیا کی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور اسے چھڑی سے کریدنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ اپنے دین کو دنیا کے معاملات میں الجھا رہے ہیں۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے اطمینان کا اظہار کیا، پھر پوچھا: آپ نے کیسے پہچان لیا کہ خواب میں نے دیکھا ہے؟ ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ بصرہ میں آپ سے زیادہ متقی شخص مجھے نظر نہیں آتا؛ اس لیے میں نے سمجھ لیا کہ یہ خواب آپ ہی کا ہوسکتا ہے۔
ذرا اس منظر پر غور کیجیے! جن ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کو کبھی خاندانی پیشے کے حوالے سے طنز کا نشانہ بنایا گیا، انہی کے علم کی ضرورت پڑی تو حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی طرف رجوع کیا۔ اور جن حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے رنجش تھی، انہی کے تقویٰ کا اعتراف کرتے ہوئے ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے خواب کی تعبیر بیان کی۔ نہ پہلے بزرگ نے اختلاف کو علم کی قدر دانی میں حائل ہونے دیا، نہ دوسرے نے ناراضی کو انصاف پر غالب آنے دیا۔ حکایت کا اصل سبق یہی ہے کہ دل میں رنجش ہو سکتی ہے، مگر اس کے سبب کسی کی علمی حیثیت اور خوبیوں کا انکار نہیں ہونا چاہیے۔
آج ہمارے علمی و دینی حلقوں میں اختلاف تو بہت ہے، لیکن اختلاف کے آداب کم ہوتے جارہے ہیں۔ کسی کی ایک لغزش کو اس کی پوری زندگی کی خدمات پر غالب کردینا، اس کی درست بات کو بھی محض مخالفت کی وجہ سے رد کردینا اور علمی تنقید کو شخصی تحقیر میں بدل دینا، یہ سب وہ رویے ہیں جو علم کی برکت اور اہلِ علم کے باہمی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
غلطی پر گرفت ضرور ہونی چاہیے، مگر انصاف کے ساتھ؛ اختلاف ضرور ہونا چاہیے، مگر دلیل کے ساتھ؛ اور تنقید ضرور کیجیے، مگر اس طرح کہ اصلاح مقصود ہو، تذلیل نہیں۔ دوسرے کی خوبی کا اعتراف اپنی بڑائی گھٹانا نہیں، اپنے ظرف کی بلندی ثابت کرنا ہے۔
بڑے لوگ وہ نہیں جن کے درمیان کبھی اختلاف نہ ہو؛ بڑے وہ ہیں جو اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی قدر پہچانتے ہوں۔ علم کا وقار اسی وقت قائم رہتا ہے جب اختلاف میں بھی انصاف زندہ رہے، ناراضی کے باوجود احترام باقی رہے اور نفس کی خاطر حق کو قربان نہ کیا جائے۔
(حوالہ: صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی، الوافی بالوفیات، جلد ۱۲، صفحہ ۱۹۱)
Comments are closed.