فقہ اسلامی میں علمائے بہار کی خدمات پر دو روزہ قومی سیمینار کا شاندار افتتاح
مولانامحمد شاہد ناصری نے علمائے فقہ کی عظمت اور مولانا انیس الرحمن قاسمی و مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی علمی خدمات کو منظوم خراج تحسین پیش کیا
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے دینی ماحول میں عصری تعلیم کے مثالی نمونے پر مولانا انیس الرحمن قاسمی کو سراہا؛ فتاویٰ علماء ہند کی ساٹھویں جلد سمیت چار اہم کتابوں کا اجرا
مغربی چمپارن، 4 نومبر 2026: پھلواری شریف، پٹنہ کی علمی و تحقیقی تنظیم ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’فقہ اسلامی میں علماء بہار کی خدمات‘‘ کے عنوان سے دو روزہ قومی سیمینار کا افتتاح بدھ کے روز شمس ٹیچرس ٹریننگ کالج، کٹہری، ساٹھی، مغربی چمپارن کے کانفرنس ہال میں ہوا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی، جبکہ افتتاحی خطاب سیمینار کے سرپرست، کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل اور صدر ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن مفکر ملت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کیا۔ اس موقع پر ملک کے مختلف حصوں سے ممتاز علماء، مفتیان کرام، محققین، ریسرچ اسکالرز اور علمی و تعلیمی شخصیات نے شرکت کی۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ دعوت السنہ ویلفیئر ٹرسٹ، مہاراشٹر کے بانی و روح رواں اور ماہنامہ مکہ میگزین ممبئی کے مدیر خادم القران والسنہ مولانا محمد شاہد ناصری نے خطبۂ مسنونہ کے بعد حدیث نبوی ’’مَنْ يُرِدِ اللّٰهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ‘‘ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں، اسے دین کی سمجھ عطا کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے اسٹیج پر تشریف فرما علماء ہوں یا سامنے بیٹھے ہوئے وہ اہل علم جو کسی بھی صورت میں تفہیم شریعت اور فقہ اسلامی کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہیں، سب اس حدیث کے مصداق اور مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علمائے بہار کی فقہی خدمات پر اس سیمینار کا انعقاد ایک نہایت مبارک اور قابل قدر اقدام ہے۔ یہ ایسی مجلس ہے جہاں فقہاء اور اہل علم کا تذکرہ ہوگا، ان شاء اللہ ان کے ذکر کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں گی، ان سے محبت کے ذریعے اللہ کی محبت نصیب ہوگی اور امید ہے کہ انہی اہل علم سے نسبت و محبت کی بنیاد پر قیامت کے دن ان کے ساتھ حشر بھی ہوگا۔
مولانا شاہد ناصری نے کھلے دل سے حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی کی فقاہت، علمی ذکاوت، غیر معمولی فعالیت، ملت کے تئیں درد مندی اور دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کا اعتراف کرتے ہوئے ایک شعر کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیا:
یہ ارضِ جہاں کا گوہر ہے
اس دور کا ایک مہتاب ہے یہ

انہوں نے حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی اس سیمینار میں شرکت کو بھی باعث مسرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت کا شمار محض فقہائے خشک میں نہیں، بلکہ فقہائے عابدین میں ہوتا ہے۔ وہ ایسے صاحب علم اور صاحب نظر فقیہ ہیں جن کا ہر لمحہ امت کی فکر اور اس کے مسائل کے حل میں صرف ہوتا ہے۔ ان کی علمی مصروفیات اور امت کے تئیں غیر معمولی انہماک کا عالم یہ ہے کہ بسا اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ نیند میں بھی کسی فقہی مسئلے کی گرہیں کھول رہے ہوں گے۔ مولانا شاہد ناصری نے ان کی خدمت میں یہ شعر بھی پیش کیا:
برسوں لگی رہی ہیں جب مہر و مہ کی نظریں
تب کوئی جا کے تم سا صاحبِ نظر بنے ہے
اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مولانا انیس الرحمن قاسمی کی علمی، تعلیمی اور ادارہ جاتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس کیمپس میں حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور سرسید احمد خاں رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمی فکر کا حسین امتزاج پیش کیا ہے۔ دینی ماحول میں عصری تعلیم کا مؤثر نظام قائم کرنے کی ضرورت محسوس کرنا اور اسے عملی شکل دینا مولانا انیس الرحمن قاسمی کی دور اندیشی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دینی تشخص اور تعلیمی ماحول کو برقرار رکھتے ہوئے جدید علوم میں بھی مہارت حاصل کریں۔
مولانا رحمانی نے عہد نبوی کے ایک اہم واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزوۂ بدر کے بعد بعض قیدیوں کی رہائی کو دس مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھانے سے مشروط کیا گیا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام نے علم و تعلیم کو کس قدر اہمیت دی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ پیغام دیا کہ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، علم کے حصول سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے تعلیمی منصوبے کے ذریعے سنت نبوی کے اسی پیغام کو عملی شکل دی ہے۔
انہوں نے لفظ ’’سراج‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن کیے جاسکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں ’’سراجاً منیراً‘‘ کہا گیا ہے۔ اسی طرح تعلیمی ادارے بھی ایسے چراغ ہیں جن سے علم حاصل کرنے والے ہزاروں افراد معاشرے میں علم کی روشنی پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے مولانا انیس الرحمن قاسمی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی عمر اور علمی و تعلیمی کوششوں میں برکت کی دعا کی۔
علمائے بہار کی فقہی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا رحمانی نے کہا کہ بہار کی سرزمین ہمیشہ سے علم و تحقیق اور فقہ و افتاء کا اہم مرکز رہی ہے۔ یہاں کے علماء نے فقہ اسلامی کی تدوین، تشریح اور فروغ میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، جن کے اثرات برصغیر کے علمی حلقوں میں نمایاں ہیں۔ ان خدمات کو جمع کرنا، مرتب کرنا اور نئی نسل کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن اس سلسلے میں قابل قدر کام انجام دے رہی ہے۔
افتتاحی خطاب میں حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ فقہ دراصل قرآن و حدیث کی گہری تفہیم اور ان سے حاصل ہونے والی دینی رہنمائی کا منظم علمی نام ہے۔ فقہ کا مقصد محض مسائل اور ان کے احکام بیان کرنا نہیں، بلکہ دین کو سمجھنا، اس پر عمل کرنا اور انسانی زندگی کو صحیح سمت عطا کرنا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ جیسے اکابر نے اپنے اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق اسلامی علوم کو عام فہم اور مؤثر انداز میں پیش کیا۔ آج زمانہ بدل چکا ہے، تحقیق کے طریقے اور علمی وسائل میں بھی تبدیلی آئی ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ اسلامی علوم اور فقہی سرمایہ کو جدید تحقیقی ذرائع کے استعمال سے نئی نسل تک آسان اور مؤثر انداز میں پہنچایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کا مقصد صرف قرآن و حدیث سے حاصل ہونے والے علوم کو جمع کرنا نہیں، بلکہ عصری علمی وسائل اور تحقیقی طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے اس علمی سرمایہ کو زیادہ منظم، مستند اور قابل استفادہ بنانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمس ٹیچرس ٹریننگ کالج جیسے عصری تعلیمی ادارے میں فقہ اسلامی کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد اس بات کی علامت ہے کہ دینی علوم اور جدید تعلیم ایک دوسرے سے جدا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔
مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی نے اپنے خطاب میں موجودہ دور میں فقہ اسلامی پر غور و فکر اور تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہار کے علماء نے فقہ اسلامی کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، لیکن ان میں سے بہت سی خدمات ابھی تک عام علمی حلقوں کے سامنے نہیں آسکی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان علمی ذخائر کو مرتب اور محفوظ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے حل کے لیے اس طرح کے علمی و تحقیقی اجتماعات نہایت مفید ثابت ہوں گے۔ انہوں نے ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے ذمہ داروں کو اس اہم پیش رفت پر مبارک باد پیش کی۔
افتتاحی اجلاس کی ایک اہم سرگرمی ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام شائع ہونے والی چار اہم کتابوں کی رونمائی تھی۔ ان میں پہلی کتاب ’’فتاویٰ علماء ہند‘‘ کی ساٹھویں جلد ہے، جو مولانا انیس الرحمن قاسمی کے ایک طویل علمی و تحقیقی منصوبے کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت برصغیر کے ممتاز علماء اور فقہاء کے فتاویٰ کو جمع کرکے ایک جگہ محفوظ کیا جارہا ہے، تاکہ امت کے اس عظیم فقہی ورثے سے نئی نسل اور اہل علم استفادہ کرسکیں۔ دوسری کتاب تقریباً ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل ’’منتخب احادیث‘‘ ہے، جسے مولانا انیس الرحمن قاسمی نے مرتب کیا ہے۔ تیسری کتاب ’’فتاویٰ رحمانی‘‘ ہے، جس میں حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانیؒ کے فتاویٰ جمع کیے گئے ہیں۔ اس کی ترتیب و تدوین مولانا و مفتی سہیل احمد قاسمی نے کی ہے۔ چوتھی کتاب علم حدیث میں علمائے بہار کی خدمات کے عنوان سے منعقدہ گزشتہ سیمینار میں پیش کیے گئے علمی و تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے۔
تقریب اجرا سے قبل مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی نے چاروں کتابوں کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔ انہوں نے ’’فتاویٰ علماء ہند‘‘ کی ساٹھ جلدوں کی اشاعت کو ہندوستان کے فقہی اور علمی ورثے کو محفوظ کرنے کا اہم کارنامہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مجموعے میں فتاویٰ کے ساتھ حوالہ جات کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے، جس سے اس کی تحقیقی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے مولانا انیس الرحمن قاسمی کی بلند فکر اور تعلیمی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ علاقہ پٹنہ سے کئی سو کلومیٹر دور واقع ہے، لیکن ان کی کوششوں نے اس دور افتادہ علاقے کو علم و تعلیم کا اہم مرکز بنا دیا ہے۔
اجلاس سے مولانا سید امانت حسین نے بھی خطاب کیا اور مولانا انیس الرحمن قاسمی کی ملی خدمات، ملت کے تئیں درد مندی اور ہر بچے کو تعلیم یافتہ بنانے کے جذبے کو سراہا۔ مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی نے مولانا انیس الرحمن قاسمی کی علمی، تحقیقی اور تعلیمی خدمات کی تحسین کرتے ہوئے سیمینار کے انعقاد کو اہم علمی پیش رفت قرار دیا۔ مولانا نافع عارفی نے بہار کی علمی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرزمین محب اللہ جیسے عظیم فقیہ کی جنم بھومی رہی ہے۔ یہاں کے علماء نے علم و فقہ کی ایسی شمع روشن کی جس کی روشنی دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچی، تاہم وقت کے ساتھ کئی اہل علم کی خدمات تاریخ کے دبیز پردوں میں چھپ گئی ہیں۔ ضرورت ہے کہ انہیں دوبارہ منظر عام پر لایا جائے۔ انہوں نے ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کی کوشش کو اسی علمی تسلسل کو آگے بڑھانے کی سنجیدہ کاوش قرار دیا۔
مولانا سید محمد عادل فریدی قاسمی نے علاقے میں قائم تعلیمی اداروں اور ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کا تفصیلی تعارف پیش کیا اور مولانا انیس الرحمن قاسمی کی علمی، فکری، تحقیقی اور تعلیمی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ مولانا ضیاء الحق نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ پروگرام کا آغاز حافظ نوید شہاب، متعلم معہد السلام کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا، جبکہ نعت رسول مقبول وسیم احمد، متعلم معہد السلام نے پیش کی۔ مولانا نافع عارفی اور مولانا محمد عادل فریدی قاسمی نے مشترکہ طور پر نظامت کے فرائض انجام دیے۔
افتتاحی اجلاس میں ملک کے مختلف حصوں سے تشریف لائے علماء کرام، مفتیان عظام، ریسرچ اسکالرز کے علاوہ علاقے کے علماء، اساتذہ، دانشوران اور معززین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ سیمینار کی دوسری علمی نشست بدھ کی شام چھ بجے اور تیسری نشست جمعرات 5 نومبر کو صبح نو بجے منعقد ہوگی، جس میں مختلف علماء و محققین کے مقالات اور علمی مباحث کا سلسلہ جاری رہے گا۔
شرکاء کا یہ خیال تھا کہ یہ سیمینار محض ایک علمی اجتماع نہیں، بلکہ بہار کے علماء کی فقہی خدمات کو منتشر تحریروں اور نایاب علمی ذخائر سے نکال کر مستقل تحقیقی سرمایہ بنانے اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی ایک اہم اور قابل قدر کوشش ہے۔
Comments are closed.