دیا پیام کچھ ایسا سکوتِ صحرا نے!

 

محمد شاہد ناصری حنفی

مدیر ماہنامہ مکہ میگزین، ممبئی

 

 

گیا میں بھول گلستاں کے سارے افسانے

دیا پیام کچھ ایسا سکوتِ صحرا نے!

 

شہر کی روشنیاں ہمیشہ دل کو منور نہیں کرتیں اور آبادیوں کے ہنگامے ہر وقت زےندگی کا سراغ نہیں دیتے؛ کبھی کسی سنسان خطۂ زمین کی خاموشی وہ کچھ کہہ جاتی ہے جس کے لیے لفظوں کا پورا ذخیرہ بھی ناکافی معلوم ہوتا ہے۔ فطرت جب اپنی زبان میں ہم کلام ہوتی ہے تو سماعت سے زیادہ بصیرت کی ضرورت پڑتی ہے۔

 

چمپارن نرسنگ کالج، کٹہری، ساٹھی میں علماء و مشائخ کے ایک علمی اجتماع میں شرکت کے لیے گزشتہ شب تقریباً نو بجے حاضری کا موقع ملا۔ اس سے قبل تین روز تک شیخِ طریقت و شیخ الحدیث حضرت مولانا اشتیاق احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی خانقاہ، مدرسہ جامع العلوم، مظفرپور میں اہلِ علم کی صحبت، نشست و برخاست، علمی گفتگو اور دیگر مصروفیات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس سے فراغت کے بعد موضع کٹہری، گلشنِ انیس میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہاں بھی علماء، مشائخ اور محبین سے ملاقاتوں کا سلسلہ رہا۔ پھر عشائیے کے بعد رات تقریباً گیارہ بجے شمش ٹیچرس ٹریننگ کالج، کٹہری کے احاطے سے باہر نکلنے کا اتفاق ہوا تو سامنے ایک ایسا منظر تھا جس نے نگاہوں کو ٹھہرا دیا۔ دور تک پھیلے ہوئے کھلے میدان، کہیں گنے کی بلند و بالا فصلیں، کہیں دھان کی لہلہاتی بالیاں، اور ان سب کے درمیان رات کی چادر اوڑھے خاموش زمین! فضا میں مٹی اور فصلوں کی سوندھی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ نہ شہروں کا شور، نہ گاڑیوں کا ہنگامہ، نہ دھوئیں اور گرد و غبار کی کثافت؛ بس صاف و شفاف ہوا کے جھونکے، کھیتوں کی وسعت اور قدرت کا ایک بے ساختہ حسن!

 

اس وقت حضرت مولانا ابو الکلام شمسی صاحب مدظلہ اور مفتی جمال احمد قاسمی صاحب سلمہ بھی میرے ساتھ تھے۔ میں نے سب سے پہلے کار کے ڈرائیور سے کہا کہ کھڑکیاں کھول دیجیے تاکہ فطرت کے اس دل آویز منظر کا براہِ راست مشاہدہ کیا جا سکے۔ پھر بے ساختہ ان حضرات کی توجہ اس منظر کی طرف مبذول کرائی اور عرض کیا: ذرا اس خاموشی کو محسوس کیجیے، اس منظر کو آنکھوں میں اتاریے اور اس کے سکون کو دل میں اترنے دیجیے۔ فطرت کے بعض مناظر ایسے ہوتے ہیں جن کی تفہیم کے لیے کسی شارح کی ضرورت نہیں پڑتی؛ ان کا حسن خود اپنا مفہوم ادا کرتا ہے۔ اسی کیفیت میں مرشدی حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاپ گڑھی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر بے اختیار زبان پر آگیا:

 

گیا میں بھول گلستاں کے سارے افسانے

دیا پیام کچھ ایسا سکوتِ صحرا نے!

 

اس شعر میں صحرا محض ایک فطری منظر نہیں، خلوتِ ذکر کا استعارہ بھی ہے۔ دنیا کے شور و شغب اور ظاہری مشاغل سے الگ، جب آدمی تنہائی میں اپنے رب کی یاد کے لیے یکسو ہوتا ہے تو کبھی اس کے قلب پر ایسی بے نام حلاوت اترتی ہے جو کسب و تکلف سے نہیں، محض فضلِ الٰہی سے نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہ باطنی کیفیت ہے جسے نہ محفل کی رونق بدل سکتی ہے، نہ الفاظ میں پوری طرح سمیٹا جا سکتا ہے۔ یوں صحرا کا سکوت صرف باہر کی خاموشی نہیں، باطن کی اس صدا کا بھی نام ہے جسے ذکرِ الٰہی میں مستغرق دل ہی سن پاتا ہے۔

 

اس رات واقعی صحرا کے سکوت نے گلستاں کے سارے افسانے بھلا دیے تھے۔ شہر کی مصنوعی چمک دمک اور آرائشِ محفل سے بے نیاز یہ منظر اپنی سادگی ہی میں ایک غیر معمولی کشش رکھتا تھا۔ کھیتوں کے درمیان پھیلی ہوئی خاموشی، فصلوں کی تازگی اور رات کی خنکی میں ایک ایسا سرور تھا جسے محسوس تو کیا جا سکتا تھا، مگر پوری طرح لفظوں میں منتقل کرنا آسان نہ تھا۔

 

تاہم اس منظر کی دل کشی کا ایک دوسرا پہلو بھی تھا، جو اس کی فطری خوب صورتی سے کہیں آگے بڑھ کر تھا۔ جس زمین پر رات کے اس پہر فصلوں کی مہک اور سکوت کا راج تھا، اسی زمین پر ان دنوں علم و تحقیق کی ایک بزم آراستہ تھی۔ باہر قدرت اپنی خاموش صناعی کے ساتھ جلوہ گر تھی اور اندر قرآن و سنت، فقہ و اجتہاد اور امت کے علمی و دینی مسائل پر اہلِ علم کی گفتگو جاری تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ زمین کے ایک طرف فصلیں لہلہا رہی ہیں اور دوسری طرف علم و معرفت کا گلشن آباد ہے۔ قدرت کی یہ صناعی اور اہلِ علم کی یہ محفل، دونوں مل کر اس مقام کو ایک ایسی معنویت عطا کر رہے تھے جو محض چند روزہ اجتماع کی یاد سے کہیں زیادہ دیرپا ہے۔

 

یہ چمپارن کی سرزمین بھی کس قدر خوش نصیب ہے کہ اسے مختلف ادوار میں اکابر اہلِ علم کے قدموں سے شرف حاصل رہا ہے۔ یہاں امیرِ شریعت خامس حضرت مولانا سید عبدالرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ، امیرِ شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور فقیہ الامت حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے جلیل القدر اہلِ علم بھی تشریف لا چکے ہیں۔ کسی خطۂ زمین کی تاریخ کا سب سے روشن باب اس وقت رقم ہوتا ہے جب اس کی خاک پر ایسے نفوس کے قدم پڑتے ہیں جن کی زندگیاں علم و عمل، فقاہت و بصیرت اور دینی قیادت کی گواہ ہوں۔ زمینیں اپنی زرخیزی سے فصلیں اگاتی ہیں، لیکن اہلِ علم کی آمد سے ان کی نسبتیں اور تاریخیں زرخیز ہوتی ہیں۔

 

اسی علمی روایت کی ایک خوش آئند جھلک آج پھر اس خطے میں دکھائی دے رہی ہے۔ امت کے ممتاز فقیہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب قاسمی کی تشریف آوری اور ملک کے مختلف گوشوں سے علماء و فقہاء کی ایک بڑی تعداد کی شرکت نے اس اجتماع کو غیر معمولی علمی وقار بخشا ہے۔ یہ محض کسی تقریب میں شرکت کے لیے جمع ہونے والے افراد کا ہجوم نہیں، بلکہ اہلِ علم کی ایسی بزم ہے جس میں فقہی روایتیں، علمی تجربات، فکری مباحث اور دینی ذمہ داریوں کا احساس ایک جگہ جمع ہو گیا ہے۔ اس سرزمین کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا سعادت ہو سکتی ہے کہ جہاں کبھی اکابر فقہاء کی آمد سے علمی فضا معطر ہوئی تھی، وہاں آج پھر اہلِ علم کا یہ اجتماع اسی روایت کی تجدید کر رہا ہے۔

 

لیکن اس پورے منظر کا ایک ایسا کردار بھی ہے جس کا ذکر کیے بغیر اس بزم کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ شخصیت ہیں حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی، جو نہایت حلیم الطبع، شریف النفس، صاحبِ تدبیر اور علم دوست بزرگ عالمِ دین ہیں۔ ’’فقہِ اسلامی میں علمائے بہار کی خدمات‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس دو روزہ قومی سیمینار کے بانی و سرپرست کی حیثیت سے ان کی مساعی محض ایک اجتماع کے انعقاد تک محدود نہیں، بلکہ ان کے پس منظر میں علم کی خدمت، اہلِ علم کی قدردانی اور فقہی روایت کے احیا کا ایک مسلسل جذبہ کارفرما ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ اجتماع منعقد کرنا ایک انتظامی عمل ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک علمی مقصد، ایک فکری وژن اور اہلِ علم کو یکجا کرنے کا اخلاص موجود ہو تو وہ محض تقریب نہیں رہتا، ایک روایت بن جاتا ہے۔ حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی نے اپنی محنت، حسنِ تدبیر اور خونِ جگر سے اس علمی گلشن کی آبیاری کی ہے۔ ان کی شخصیت کا امتیاز یہی ہے کہ انہوں نے اپنی توانائیوں کو محض ذاتی تشہیر یا رسمی سرگرمیوں میں صرف نہیں کیا، بلکہ اہلِ علم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور فقہِ اسلامی میں علمائے بہار کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر علمی ماحول فراہم کرنے کو اپنی ترجیحات میں جگہ دی۔ کسی علمی کام کی اصل عظمت اس کے شور سے نہیں، اس کے ثمرات سے متعین ہوتی ہے؛ اور جو شخص اہلِ علم کو جمع کرنے، ان کی علمی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے اور ان کے درمیان تبادلۂ خیال کی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے، وہ دراصل ایک ایسی خدمت انجام دیتا ہے جس کے اثرات اس کی ذات اور اس کے عہد سے آگے تک پہنچتے ہیں۔

 

علماء کی مجالس کی اپنی ایک تہذیب اور اپنا ایک علمی مزاج ہوتا ہے۔ وہاں گفتگو محض اظہارِ خیال نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے کتابوں کی ریاضت، اسلاف کی تحقیقات، فقہی بصیرت اور زمانے کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کا تجربہ موجود ہوتا ہے۔ کبھی فقہائے اسلام کے اجتہادی کارناموں کا تذکرہ ہوتا ہے، کبھی قدیم علمی مباحث نئے تناظر میں زیرِ بحث آتے ہیں، کبھی عصرِ حاضر کے پیچیدہ مسائل کے حل کی صورتیں تلاش کی جاتی ہیں اور کبھی امت کی دینی رہنمائی کے تقاضوں پر غور ہوتا ہے۔ ایسی مجالس کی اہمیت شرکاء کی تعداد سے نہیں، اس علمی زادِ راہ سے متعین ہوتی ہے جو وہاں سے حاصل ہو کر آگے منتقل ہوتا ہے۔

 

اس اجتماع کی قدر و قیمت اس اعتبار سے بھی مسلم ہے کہ یہاں علم کے مختلف گوشوں سے وابستہ اہلِ فضل کو ایک دوسرے سے استفادے اور علمی تبادلے کا موقع میسر آیا ہے۔ جب اہلِ فقہ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ صرف ان کی شخصیات نہیں آتیں، بلکہ ان کے مطالعات، تحقیقات، تجربات اور علمی روایتیں بھی اس مجلس کا حصہ بنتی ہیں۔ ایسی نشستیں ذہنوں کو وسعت دیتی ہیں، تحقیق کے نئے زاویے کھولتی ہیں اور اس احساس کو تازہ کرتی ہیں کہ دینی علوم کی خدمت کسی ایک فرد یا ادارے کا کام نہیں، بلکہ ایک مسلسل اجتماعی ذمہ داری ہے۔

 

رات کے اس خاموش منظر میں کھڑے ہو کر ایک خیال بار بار ذہن میں آتا رہا کہ زمین کا سینہ صرف غلہ اگانے کے لیے نہیں، علم و معرفت کے گلشن آباد کرنے کے لیے بھی ہے۔ کھیتوں میں گنے اور دھان کی فصلیں اپنی مدت پوری کرکے کٹ جاتی ہیں، مگر اخلاص سے کی گئی علمی کاوشوں کی فصل نسلوں تک ثمر آور رہتی ہے۔ ایک فصل جسم کی ضرورت پوری کرتی ہے، دوسری فکر و نظر کی آبیاری کرتی ہے۔ چمپارن کی اس سرزمین پر اس وقت یہ دونوں منظر بیک وقت موجود تھے: باہر زمین اپنی زرخیزی کا مظاہرہ کر رہی تھی اور اندر اہلِ علم اپنی علمی روایت کے تسلسل کا۔

 

شاید اسی لیے اس رات سکوتِ صحرا کا پیغام کچھ اور ہی تھا۔ وہ خاموشی کسی ویرانی کا استعارہ نہیں، بلکہ حسنِ فطرت کی ترجمان تھی، جس میں انسان اپنے وجود کی حقیقت اور کائنات کے خالق کی قدرت کو زیادہ قریب سے محسوس کرتا ہے۔ اسی خاموشی کے پس منظر میں اہلِ علم کی یہ بزم ایک دوسرا پیغام دے رہی تھی: زمین کی اصل رونق محض اس کی آبادیاں نہیں، وہ علمی و روحانی نسبتیں ہیں جو اسے تاریخ میں زندہ رکھتی ہیں۔

 

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی کی ان مخلصانہ مساعی کو شرفِ قبول عطا فرمائے، اس علمی بزم کو مزید وسعت و استحکام بخشے، حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب اور تمام علماء و مشائخ کی علمی خدمات سے امت کو نفع پہنچائے اور چمپارن کی اس سرزمین کو ہمیشہ اہلِ علم کی آمد و برکت سے آباد رکھے۔

 

ابھی اس چمنستانِ علم میں اہلِ فضل کی صحبت اور ان کے نوادراتِ علمی سے خوشہ چینی کے لیے دو روز میسر ہیں؛ دیکھیے، یہ صحبت ہمارے علمی سرمایے میں کتنا اضافہ کرتی ہے۔

 

رات گزر گئی، اس شب کی محفل بھی اپنے اختتام کو پہنچی، مگر اس رات کا سکوت اور اس زمین کی علمی رونق ذہن میں ایک ساتھ محفوظ ہو گئے۔ ایک طرف قدرت کا خاموش پیغام تھا اور دوسری طرف اہلِ علم کی بامعنی موجودگی۔ دل نے پھر اسی شعر کی گونج سنی:

 

گیا میں بھول گلستاں کے سارے افسانے

دیا پیام کچھ ایسا سکوتِ صحرا نے!

Comments are closed.