مدارس اسلامیہ۔ حکومت کے نرغے میں

 

 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

 

مدارس اسلامیہ کو ان دنوں جن خارجی مسائل کا سامنا ہے، ان میں بار بار مختلف عنوانات سے سروے اور جانچ کا کام بھی شامل ہے، مدارس اسلامیہ کے ذمہ داروں کو ہراساں اور پریشان کرنے کی یہ سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتی ہے، سروے فارم میں اس قسم کے سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن کا تعلق تعلیم کے معیار اور اس کی افادیت سے نہیں، بلکہ اس کے داخلی، خارجی سسٹم اور طریقہ کار سے ہے، مقصد یہ ہے کہ بوریا نشیں ان علماء کو اس قدر دفاتر کے چکر لگوائے جائیں کہ ان کے حوصلے پست ہو جائیں، اگر سرکار گرانٹ دیتی ہے تو جانچ کے نام پر گرانٹ روک دی جائے اور ایسے سوالات کھڑے کیے جائیں کہ وہ عالم، فاضل کے درجات کے لیے اساتذہ کا مطالبہ نہ کریں، بحالیوں کے لیے پورٹل کی قید لگا کر من مانی کرنے اور غیر مسلم اساتذہ کی بحالی کے لیے مدارس میں راستہ صاف ہو جائے، ایک بڑا مقصد مدارس اسلامیہ کی تعداد کو کم کرنا بھی ہے، اس سلسلے میں بہار سرکار محکمہ تعلیم کے مکتوب 885-07/2026-/V022/10 مورخہ 26-4-15 کو دیکھا جاسکتا ہے، جو وزیر داخلہ امت شاہ کے بہار کے دورے کے دوران دیے گئے زبانی احکام پر مشتمل ہے اور جو امور داخلہ بہار سرکار کے مکتوب نمبر CCIO MISO 4021/2016-3829 مجریہ 26-4-13 اور وزارت داخلہ حکومت ہند نئی دہلی کے مکتوب -BM-V-110/12/4/2026-V مورخہ 26-4-7 کی تکمیل کے طور پر بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے سکریٹری کو محکمہ تعلیم حکومت بہار کے اسپشل سکریٹری کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے، اس میں صاف صاف لکھا ہے کہ "مدارس کی تعداد کو کم کرنے کے ساتھ بہار سرکار پرائمری اسکولوں میں اردو کے ذریعہ تدریس کو بڑھاوا دے۔ اردو کے ذریعہ تدریس کو پرائمری اسکول میں بڑھاوا کیا ملتا، اس کے برعکس اردو اساتذہ کو زائد قرار دے کر ان کا تبادلہ ایسی جگہوں پر کیا جا رہا ہے، جہاں اردو پڑھنے والے طلبہ ہی نہیں ہیں، جو اردو اسکول پہلے سے تھے، ان میں ایسے غیر مسلم اساتذہ کو ہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا ہے، جو اردو جانتے ہی نہیں ہیں، اردو بنگلہ اساتذہ کی چھٹنی پر بھی محکمہ کام کر رہا ہے، اخبارات میں ایسی خبریں مسلسل آ رہی ہیں، یہ تو محکمہ داخلہ کے حکم کے دوسرے جز کا حال ہوا، پہلے جز میں سروے کے نام پر ملحقہ مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں بند کی جا رہی ہیں، بلکہ مدرسہ کے وجود کو ختم کرنے کے لیے بعض سرکاری افسران غلط صحیح رپورٹیں بھی دے رہے ہیں، بلاک اور ضلع سطح کے افسران اس حوالہ سے اپنی ذہنیت کے اعتبار سے مدارس کو نوٹس جاری کر رہے ہیں، بعضے سرکاری حکم کی تعمیل سے گھبرائے ہوئے بھی ہیں، اس کی ایک مثال ضلع کیمور کے BEO کی جانب سے مکتوب نمبر 475، مورخہ 26-10-16 ہے، جس میں 26-10-16 کو ہی شام تک غیر قانونی نجی مدرسوں کی فہرست مانگی گئی ہے، ایک ہی تاریخ میں مراسلہ بھیجنا اور اسی دن شام تک مدارس کے سلسلے میں جواب دینا، کیا یہ ممکن ہے، جواب صاف ہے کہ ایسا عملاً ممکن نہیں ہے، لیکن کیمور کے BEO کی پریشانی یہ ہے کہ اس کے پاس ضلعی افسر کی طرف سے مکتوب 26-10-15/2547 کو بھیجا گیا تھا، کم و بیش دس دن کا وقت تھا، لیکن انہیں یاد ہی نہیں رہا کہ اسے کر کے بہار سرکار کے محکمہ تعلیم کو بھیجنا ہے، جب یاد آیا تو بہت دیر ہو چکی تھی، یہ مکتوب BEO نے کیمور ضلع کے سبھی صدر مدرس اور قائم مقام صدر مدرس کے نام جاری کیا ہے، اس میں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ صدر مدرس یہ مدارس والے ہیں یا اسکول والے، بس قیاس ہی لگایا جا سکتا ہے کہ موضوع مدرسہ سے متعلق ہے، اس لیے مدارس کے صدر مدرسین صاحب ہی مراد ہوں گے۔

ایک نوٹس DEO ضلع ارریہ کے دستخط سے تمام مدارس جس میں ملحقہ، غیر ملحقہ اور سرکاری امداد لینے اور نہ لینے والے مدرسہ کے صدر مدرسین کے نام گیا جو پانگ 606 مورخہ 1/4/26 کا مجریہ ہے، جو DM ارریہ کے مکتوب نمبر 894 مجریہ 1/4/26 کے تعمیل حکم میں ارسال کیا گیا ہے، جس میں سبھی مدارس کے صدر مدرس کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ 2/4/26 کی شام تک اپنے اپنے مدرسہ کے سبھی قسم کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور بینک اسٹیٹ منٹ 2025-03-01 سے 2026-03-31 تک ترجیحی بنیادوں پر مہیا کرائیں۔

سب سے دلچسپ مکتوب ضلع سیتا مڑھی سے جاری ہوا ہے، ڈی ایم سیتا مڑھی کے ذریعہ جاری مکتوب نمبر 2015 مورخہ 13/10/26 میں مدرسہ اور مسجد کے رجسٹریشن کرانے کی ہدایت دی گئی ہے، 578 مساجد، 4 گرجا گھر، ستانوے (97) مدارس اور غیر رجسٹر مدارس کی تعداد اسی (80) بتائی گئی ہے، ڈی ایم تنئے سلطانہ کے ذریعہ یہ مکتوب تمام ایس ڈی او، بی ڈی او اور تمام ڈی ای او کو ارسال کیا گیا ہے، مکتوب کے مندرجات کے مطابق ضلع سیتا مڑھی میں چلائے جارہے تمام مذہبی مقامات (چرچ اور مسجد) نیز مدارس کا ضابطہ کے تحت کتنوں کا رجسٹریشن کرایا جا چکا ہے اور کتنے غیر رجسٹرڈ ہیں، اس سلسلے کی صحیح اور واضح جانکاری نہ ہونے کی وجہ سے بھارت-نیپال سرحدوں سے متعلق نشستوں میں مسائل پیدا ہوئے ہیں، سماج اور ضلع کے مفاد میں غیر رجسٹرڈ مقامات کا رجسٹریشن کرانا لازم ہے، ان مقامات کے رجسٹریشن ہو جانے کے بعد ان کے رکھ رکھاؤ اور دیگر پہلوؤں پر بہتر خیال رکھا جا سکے گا، ڈی ای او سیتا مڑھی نے اس مکتوب سے قبل مکتوب نمبر 3914 مورخہ 26-9-28 کو BEO سیتا مڑھی کو جاری کیا، جس میں غیر رجسٹرڈ، منظور شدہ مدارس کی خواہ وہ کسی قسم کے بھی ہوں، ان کی اطلاع اور فہرست محکمہ کو فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تھا، یہ تو وہ خطوط ہیں ،جن کا کارڈ موجود ہے،اس سے قبل بغیر کسی مکتوب کے سرکار کے خفیہ محکمہ نے سیتا مڑھی کے مدارس کی معلومات جمع کیں اور جن فارم پر معلومات لی گئی، اس کی فوٹو کاپی بھی فراہم کرنے کی زحمت نہیں کی گئی، بلکہ سروے کرنے والے اس سے متعلقہ ذمہ داروں کو دور رکھتے تھے، یہ سروے کس کام کے لیے کیا گیا اور کیوں کیا گیا؟ اس کا کبھی پتہ نہیں، البتہ جن امور کا سروے کیا گیا، ان میں مدرسہ کا نام، چلانے والے کا نام، سن قیام رجسٹریشن نمبر، زمین کا کھاتہ، خسرا نمبر، نصاب، اساتذہ کو دی جانے والی تنخواہ، ذرائع آمدنی، اساتذہ وطلبہ کی تعداد، مسلک وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں، بعد میں مدارس کے سروے کے لیے ایک فارم بھی فراہم کرایا گیا جن میں ان کے علاوہ بہت ساری معلومات فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔

ان میں ایک مکتوب وہ بھی ہے، جس میں افسران کو مذہبی مقامات (گرجا اور مسجد) کے سروے کا کام سونپا گیا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذہبی مقامات لکھ کر بریکٹ میں گرجا اور مسجد لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، صاف ظاہر ہے کہ سروے انہیں دونوں مذہبی مقامات کا ہوگا اور خوب اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ گرجا کو یوں ہی جوڑ دیا گیا ہے، تاکہ صرف مسجد پر اعتراضات نہ ہوں، سیتامڑھی میں عیسائی بستے ہی نہیں تو گرجا وہاں کہاں سے آئے گا، سرحدی علاقہ میں جیسا کہ مذکور ہوا، صرف چار گرجا گھر ہیں، بقیہ یہاں گاج صرف مساجد پر گرنی ہے، کہنے کو تو یہ کہا گیا ہے کہ اچھی دیکھ ریکھ اور سماج مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے یہ کام کیا جا رہا ہے، جب کہ وہاں مدارس کے سروے کا کام بہت پہلے سے جاری ہے، جس کی تھوڑی تفصیل اوپر دی گئی ہے، مدارس میں غیر ملکی طلبہ کی تلاش کے ساتھ آمد و خرچ کی تفصیلات اور ذرائع آمدنی کا مطالبہ زوروں سے جاری ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بات مدارس کے ساتھ مساجد تک پہنچ چکی ہے، قبرستان، مزارات، کربلا، آستانے، خانقاہیں پہلے ہی وقف ترمیمی بل 2025 کے ذریعہ سرکار اپنے قبضے میں لینا چاہتی ہے، بلکہ بڑی حد تک اس قانون کے نفاذ کے بعد وہ سرکاری ملکیت میں تبدیل ہوتی جارہی ہیں، مدارس کے وجود کو اس لیے بھی خطرہ ہے کہ وہ زیادہ تر وقف ہیں۔

ان حالات میں مدارس کے ذمہ داروں، علماء، دانشوران کو حساس اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے، سرکاری نوٹس کا جواب تو دینا ہی چاہیے، نہ دینے پر بھی مسائل کھڑے ہوں گے اور دینے پر بھی مسائل یکساں نہیں، الگ الگ علاقوں میں الگ الگ ہوں گے، ان مسائل کے حل کی تدبیر میں بھی ذہن میں رہنی چاہیے، ان حالات کے پیش نظر امیر شریعت ثامن مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے ایک خصوصی اجلاس مدارس اسلامیہ کنوشن کے نام سے 11 نومبر 2026ء کو طلب کیا ہے، گاندھی سھاگار پٹنہ میں منعقد ہونے والے اس کنوشن سے مدارس اسلامیہ پر خطرات اور حکومت کے نرغے سے نکلنے کی تدابیر سامنے آئیں گی۔

Comments are closed.