معلمِ انسانیت ﷺ کی تعلیمات، اساتذہ اور طلباء کے لیے مشعلِ راہ، جامعہ دارقم دھترولی منڈنگڈھ کے۱۴ویں اجلاس عام ’تکمیل قرآن ‘سے مفتی اشفاق قاضی کا خطاب

 

ممبئی۔۴؍ نومبر: دھترولی منڈنگڈھ کے دینی مدرسہ "جامعہ دار ارقم” میں منعقدہ ۱۴ ویں اجلاس عام ‘تکمیل قرآن’ سے خطاب کرتے ہوئے مفتی اشفاق قاضی (بانی و ڈائریکٹر فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر) نے قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کی اہمیت، معلمین کی ذمہ داریوں، رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ تعلیم و تربیت اور طلبہ کرام کی عملی و اخلاقی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر نہایت اہم اور فکر انگیز گفتگو کی، انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز سورۂ جمعہ کی اس آیتِ مبارکہ سے کیا جس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بنیادی مقاصد بیان فرمائے ہیں هُوَ ٱلَّذِي بَعَثَ فِي ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ رَسُولࣰا مِّنۡهُمْ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَاتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَابَ وَٱلۡحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِين،انہوں نے آیت کی روشنی میں واضح کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے اہم مقاصد میں اللہ کی آیات کی تلاوت، انسانوں کا تزکیہ اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دینا شامل ہے، یہی وہ بنیادی مقصد ہے جسے سامنے رکھ کر دینی تعلیمی اداروں کو اپنی سرگرمیاں انجام دینی چاہئیں، اس موقع پر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشادِ گرامی کا بھی حوالہ دیا: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ، یعنی تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے،حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے منقول اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا نہایت عظیم سعادت اور بہترین عمل ہے، جامعہ دار ارقم کی مجلس بھی اسی مبارک سلسلے کی ایک کڑی ہے، جہاں قرآن کریم کو سیکھنے، سکھانے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کا کام انجام دیا جارہا ہے،

جامعہ دار ارقم کے نام کی مناسبت سے مفتی اشفاق قاضی نے عہدِ نبوی کے تاریخی مرکز "دارِ ارقم” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نام سنتے ہی مکہ مکرمہ کے ابتدائی دورِ اسلام کی وہ مبارک یاد تازہ ہوجاتی ہے جب رسول اللہ ﷺ حضرت ارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان میں صحابۂ کرام کی تربیت اور تعلیم کا اہتمام فرماتے تھے،اس گھر میں ایمان لانے والے افراد رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہوتے، قرآن کریم سیکھتے اور اسلامی تعلیمات سے اپنی زندگیوں کو سنوارتے تھے، اسی مقام پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا واقعہ بھی پیش آیا، جس نے اسلامی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا۔ مفتی صاحب نے اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دارِ ارقم کے اس مبارک نام اور اس کی تاریخی نسبت کو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچایا، انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جامعہ دار ارقم کو بھی دین کی تعلیم، امت کی خدمت اور سماجی و فلاحی ضروریات کی تکمیل کا ایسا مرکز بنائے جس کی خدمات کا دائرہ وسیع ہو اور اس ادارے کی نیک نامی دور دور تک پہنچے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دین کی تعلیم کا مقصد صرف عبادات کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرنا نہیں، بلکہ معاملات، معاشرت اور اخلاق کے احکام کو سمجھنا اور انہیں اپنی زندگی میں نافذ کرنا بھی ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی اس وقت مکمل دینی رنگ اختیار کرتی ہے جب اس کی عبادات کے ساتھ اس کے معاملات درست ہوں، اس کا اخلاق اچھا ہو اور وہ اپنے اہلِ خانہ، پڑوسیوں اور معاشرے کے دیگر افراد کے حقوق ادا کرنے کا بھی اہتمام کرے، اساتذہ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معلمین کے لیے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ بہترین نمونہ اور اسوہ ہے، آپ ﷺ سے بڑھ کر کوئی معلم نہیں، اس لیے تعلیم و تربیت سے وابستہ ہر شخص کو آپ ﷺ کے طریقۂ تعلیم، شفقت، حکمت، صبر اور اصلاح کے انداز کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے، محض معلومات منتقل کردینا تعلیم کا مکمل مقصد نہیں، بلکہ طالب علم کے اندر اچھے اخلاق، ذمہ داری کا احساس، کردار کی پاکیزگی اور زندگی گزارنے کا صحیح شعور پیدا کرنا بھی معلم کے فرائض میں شامل ہے، انہوں نے معلمین کو متوجہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو صرف درس و تدریس تک محدود نہ رکھیں، بلکہ طلبہ کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں، اپنے خطاب کے آخر میں مفتی اشفاق قاضی نے طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ جب تعلیم حاصل کرکے اپنے گھروں کو واپس جائیں تو وہاں بھی شرعی احکام اور دینی آداب کا پورا خیال رکھیں، خصوصاً والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، خیر خواہی، محبت اور احترام کا معاملہ کریں، ان کی باتوں کو توجہ سے سنیں اور ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھیں، انہوں نے طلباء کو ترغیب دی کہ والدین کی پیشانی پر محبت سے بوسہ دیں، ان کے لیے دعاؤں کا اہتمام کریں اور ان کی قدر و منزلت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں، انہوں نے قیامت کے دن انسان سے کیے جانے والے پانچ سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ انسان سے اس کی عمر کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ اسے کہاں صرف کیا، جوانی کس کام میں گزاری، حاصل کیے گئے علم پر کتنا عمل کیا، مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا،ان سوالات کی روشنی میں انہوں نے متعلمین اور معلمین دونوں کو اپنی زندگی، علم اور ذمہ داریوں کا جائزہ لیتے رہنے کی تلقین کی، مفتی اشفاق قاضی نے اپنے خطاب کا اختتام اس پیغام کے ساتھ کیا کہ قرآن کریم کی تعلیم اسی وقت حقیقی ثمرات پیدا کرتی ہے جب وہ انسان کے عقیدے، عبادات، معاملات، اخلاق اور گھریلو زندگی میں نمایاں ہو۔ جامعہ دار ارقم جیسے اداروں کی اصل کامیابی بھی اسی میں ہے کہ یہاں سے علم حاصل کرنے والی طلباء كرام علم و عمل، حسنِ اخلاق اور والدین کی خدمت کے جذبے سے آراستہ ہوکر معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں، دریں اثناء مجلس کے صدر حضرت مفتی رفیق پورکر صدر انجمن دردمندان تعمیر و ترقی نے اپنے خطبۂ صدارت میں حاضرین کو دینی خدمات کے میدان میں آگے بڑھنے اور دینی اداروں کے استحکام کے لیے عملی تعاون کرنے کی طرف متوجہ کیا، انہوں نے جامعہ دار ارقم کی تعلیمی و دینی خدمات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اداروں کا قیام اور ان کا تسلسل پوری ملت کی اجتماعی ذمہ داری ہے، انہوں نے خاص طور پر مدرسے کی موجودہ زمینوں کے درمیان واقع ۱۶ گنٹھے زمین خریدنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلے میں اہلِ خیر، صاحبِ ثروت افراد اور دینی خدمت کا جذبہ رکھنے والوں سے تعاون کی اپیل کی، انہوں نے واضح کیا کہ اس زمین کا حصول مدرسے کی توسیع اور مستقبل کی تعلیمی ضروریات کے لیے اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اس مقصد کو محض ادارے کے ذمہ داران کی کوششوں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اس کارِ خیر میں حصہ لے،اپنے خطاب میں انہوں نے دینی تعلیم کے مزاج، اس کے انفرادی و اجتماعی فوائد اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی،ان کا کہنا تھا کہ دینی تعلیم انسان کو اپنے خالق کے حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق پہچاننے، زندگی کے معاملات درست رکھنے اور معاشرے کے لیے مفید فرد بننے کا شعور عطا کرتی ہے، انہوں نے حاضرین کو نصیحت کی کہ دینی اداروں کی سرپرستی، تعاون اور ان کی ضروریات کی تکمیل کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں، کیونکہ ان اداروں پر خرچ ہونے والا مال دراصل نسلوں کی دینی و اخلاقی تعمیر میں حصہ ڈالنے کے مترادف ہے، بتادیں کہ اجلاس میں جامعہ حسینیہ عربیہ شریوردھن کے مہتمم حضرت مولانا ارشد صاحب سمیت دیگر علمائے کرام نے شرکت کی، نظامت کے فرائض حضرت مفتی سعود مہاڈکر نے انجام دیے، جب کہ جامعہ کے ذمہ دار حضرت مفتی عبدالرؤف صاحب بھی اس موقع پر موجود تھے،حضرت مفتی رفیق پورکر صاحب کی دعا پر اس دینی ، علمی اور روحانی مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

Comments are closed.