امریکہ میں عبداللہ جیت گیا، تو یوپی میں بھی عبداللہ جیت جائے گا: ایک خوش فہمی!
از: محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی
امریکہ میں امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان سے لے کر ریاستی سینیٹوں اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں تک، کئی عبداللہ کامیاب ہوئے ہیں — الحمدللہ! 2026 کے ان وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ایک شاندار ’’بلیو ویو‘‘ (Blue Wave) دیکھنے کو ملی، جس نے ٹرمپ اور ان کی نفرت انگیز سیاست کو ایک بڑا سیاسی دھچکا پہنچایا۔ تمام کامیاب عبدلوں اور ڈیموکریٹس کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں!
لیکن ٹھہریے! امریکہ میں عبدلوں کی اس کامیابی میں ہندوستان کے عبدلوں کے لیے ایک بڑا سبق پوشیدہ ہے۔ اگر آپ محمدوں کے قائد بننے کی خواہش رکھتے ہیں تو امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے عبدلوں سے سیکھئے۔
ان عبدلوں نے جان، جارج، سینٹ، مارٹن، گوتم، یادو، سنگھ اور محمد، سبھی کے دل جیتے۔ انہوں نے ایسے لوگوں کی محبت، عزت اور اعتماد حاصل کیا جو نہ ان کے مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور نہ ہی ان کے مذہبی اقدار پر عمل کرتے تھے۔ انہوں نے مذہبی جذبات کا استحصال کرکے یا مختلف قوموں کے درمیان تفریق پیدا کرکے کامیابی حاصل نہیں کی۔ اس کے برعکس، انہوں نے بہتر حکمرانی، بہتر طبی سہولیات، بلند معیارِ زندگی اور سب کے لیے ایک بہتر مستقبل کے عزم کے ذریعے ووٹروں کو اپنا قائل کیا۔ انہوں نے مختلف نظریات رکھنے والے لوگوں کو متحد کرنے کے لیے بھرپور محنت کی، ان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، اور یوں عزت بھی کمائی اور شاندار انتخابی کامیابی بھی حاصل کی۔
لیکن یوپی میں انتخابی مہم چلانے والا عبداللہ بظاہر اس کے بالکل برعکس راستے پر گامزن ہے۔ وہ غلط انداز سے شعلہ بازی کر رہا ہے، نفرت کے پودے کو کھاد دے رہا ہے اور تقسیم کی خلیج کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ وہ غیر عبدلوں کو عبدلوں کے خلاف صف آرا کر رہا ہے اور اس طرح فرقہ وارانہ ہم آہنگی، باہمی اعتماد اور قومی اتحاد کے امکانات کو مزید محدود کر رہا ہے۔ ایسا عبداللہ ہندوستانی عبدلوں کو ان کا ’’اپنا قائد‘‘ ہونے کے لبادے میں گمراہ کر رہا ہے۔
ہندوستانیوں کو ایسے رہنماؤں کو پہچاننا اور مسترد کرنا سیکھنا ہوگا جن کی سیاست تقسیم پر پروان چڑھتی ہے اور جن کے ذاتی مفادات مختلف برادریوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا رکھنے میں پوشیدہ ہیں۔ موجودہ ہندوستان نہ امریکہ ہے اور نہ یورپ، اور یہاں کے ووٹروں کی اکثریت یقیناً انتخابی سیاست کو اسی زاویے سے نہیں دیکھتی جس طرح امریکی یا یورپی ووٹر دیکھتے ہیں۔
اگر ہندوستان کا کوئی عبداللہ یہ ثابت کر دے کہ وہ واقعی امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے عبدلوں جیسا ہے تو ہندوستان کے سارے عبد اللہ فخر کے ساتھ اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے اور ان کے ساتھ ان کے ہم وطن شہری — شرما، گوتم، یادو، ٹھاکر، سنگھ اور دیگر لوگ بھی شامل ہوں گے۔ حقیقی قیادت اسی طرح مختلف طبقوں کے لوگوں کو جوڑ کر حاصل کی جاتی ہے۔ ورنہ بلند آہنگ نعروں، فرقہ وارانہ پولرائزیشن اور مصنوعی دشمنی کی سیاست کرنے والا کوئی عبداللہ ہمیں ایک ایسی تاریک کھائی میں دھکیل دے گا جس کی قیمت آنے والی نسلوں کو بھی چکانی پڑے گی۔
یاد رکھیے، ہر افسانوی ڈرامے کے دو بنیادی کردار ہوتے ہیں: ایک ہیرو اور دوسرا ولن۔ ناظرین کی بھاری اکثریت ہیرو کو داد دیتی ہے، جب کہ بعض لوگ ولن کی ڈرامائی اداکاری سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ تاہم، فلم کی تجارتی کامیابی کے لیے دونوں کردار ضروری ہوتے ہیں۔ دونوں ایک ہی ہدایت کار کے تحت، ایک ہی اسکرپٹ کے مطابق کام کرتے ہیں اور بالآخر ایک ہی پروڈکشن ہاؤس کے مفادات کی تکمیل کرتے ہیں۔
سیاست بھی بعض اوقات ایک پہلے سے لکھی ہوئی فلمی کہانی سے مشابہ ہوتی ہے۔ سیاسی اداکار عوام کے سامنے اپنے اپنے طے شدہ کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک طبقے کے لیے ہیرو ہوتا ہے تو دوسرے طبقے کے لیے ولن۔ پردے پر جو کچھ دکھایا جاتا ہے، اسے دیکھ کر ناظرین کبھی خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں، کبھی داد دیتے ہیں، کبھی روتے ہیں اور کبھی غصے میں آجاتے ہیں۔ لیکن ایک باشعور اور سمجھ دار ناظر جانتا ہے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے، وہ ایک اداکاری ہے؛ ضروری نہیں کہ وہی حقیقت بھی ہو جس کا اسے یقین دلایا جا رہا ہے۔
ہندوستان میں بھی اپنا ایک سیاسی تھیٹر ہو سکتا ہے۔ کوئی عبداللہ کچھ لوگوں کے لیے ہیرو اور دوسروں کے لیے ولن کا کردار ادا کر رہا ہو۔ اگر دیکھنا ہی ہے تو اس اداکاری کو ضرور دیکھیے، لیکن اپنا شعور اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت اس کے حوالے مت کیجیے۔ سب سے بڑھ کر کسی سیاسی اداکار کو یہ اجازت نہ دیجیے کہ وہ آپ کے حال کو یرغمال بنائے، آپ کے معاشرے میں زہر گھولے یا آپ کے ملک اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دے۔
ایک ایسا قائد جو اپنی برادری سے باہر کے لوگوں کے دل نہیں جیت سکتا، وہ ہندوستان جیسے وسیع جمہوری ملک میں خود کو قومی رہنما کہلانے کا دعویٰ نہیں کر سکتا، جہاں قانون سازی اور قوانین میں ترمیم کا عمل پارلیمانی تعداد اور سیاسی اکثریت کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ فرقہ وارانہ تقسیم پر زندہ رہنے والی سیاست کسی کے لیے بھی مفید اور خوش حال مستقبل کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ بھیس بدلا ہوا عبداللہ ’’آپ کا قائد‘‘ بن کر سیاسی ’’غنیمت‘‘ میںاپنا حصہ ضرور سمیٹ سکتا ہے، لیکن قانون سازی کے عمل میں وہ عملاً بے اثر ثابت ہوتا ہے؛ نہ اپنے ووٹروں کے لیے کوئی بامعنی نتائج پیدا کر پائے گا اور نہ ہی اپنے محبوب وطن ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں کوئی مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔
———————
Comments are closed.