حرمین شریفین کے سفر کی مختصر روداد

بدر الحسن القاسمی

(کویت)

 

یوں تو حرمین شریفین کا ہر سفر ہر زمانہ میں نئی نئی علمی ‘‘فتوحات’’ اور روحانی ‘‘فیوض’’ کا سرچشمہ رہا ہے جس کا اندازہ دنیا کی مختلف زبانوں میں لکھے جانے والے ان سفر ناموں سے ہوتا ہے جو زائرین حرم کے قلم سے نکلے ہیں، قلبی واردات وروحانی الہامات وانکشافات ان کے علاوہ ہیں جو بڑے اونچے مقام کے لوگوں کو ہوتے رہے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ‘‘فیوض الحرمین’’ کے مندرجات تو خاص لوگوں کی سمجھ سے بھی بعض دفعہ بالا تر ہوتے ہیں اور ‘‘فتوحات مکیہ’’ میں تو بہت سی باتیں ‘‘شطحات’’ تک پہنچ جاتی ہیں جن پر حضرت مجدد الف ثانی کی رگ حمیت پھڑکتی اور وہ چیلنج کے انداز پر کہنے لگتےہیں کہ ‘‘نصوص’’ کے مقابلہ میں ‘‘فصوص’’ اور ‘‘فتوحات مدنیہ’’ کے مقابلہ ‘‘فتوحات مکیہ’’ ہمیں ہرگز گوارا نہیں اور اپنے استاذ گرامی فقیہ امت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کی نصیحت کے مطابق اپنا ذہن تو نہ کسی کی تکفیر وتفسیق کا ہے اور نہ شرعی نصوص سے دوراز کار خواطرواردات کی تائید کا بلکہ بقول حضرت مفتی صاحبؒ ‘‘کلام العشاق یطویٰ ولا یرویٰ’’۔ بر عمل مين راحت هي تاکہ شریعت کی عظمت اور اس حدود کی پاس داری بھی ر ہے اور کیفیات سے سرشار اور اپنے احوال سے مغلوب لوگوں کی باتیں شرعی حدود کو توڑنے کا باعث بھی نہ بنیں۔

نہ ہم گزرے ہوئے لوگوں کو کافر کہنے کے مکلف ہیں اور نہ ان کی بظاہر بے تکی باتوں کے ماننے پر مجبور، ہر ایسی چیز جس سے گمراہی پھیلنے کا اندیشہ ہو اس سے خود باز رہنے اور دوسروں کو دور رکھنے کی کوشش ہمارا منصبی فریضہ ہے۔

بہرکیف ہم تو جدید ٹکنالوجی اور سائنسی تحقیقات وایجادات کے زمانہ میں سانس لے رہے ہیں اور مکہ مکرمہ میں بھی ایک طرف ‘‘خانہ کعبہ’’ کے ایمان افزوں روحانی نظارے ہیں تو دوسری طرف مسجد حرام کے اردگرد بلکہ اب پورا مکہ شہر ہی اپنی فلک بوس عمارتوں اور اسمارٹ بلڈنگوں کی وجہ سے دنیا کے کسی بھی مرکزی شہر سے اپنی ظاہری ترقی اور رعنائی میں بھی یہ پیچھے نظر نہیں آتا، اور مزید آگے بڑھنے کی راہ پر گامزن ہے۔

مثال کے طور پر ‘‘مکہ مکرمہ’’ کی ‘‘کلاک ٹاور’’ بلڈنگ اور اس میں قائم دنیا کی سب سے بڑی گھڑی اور چار منزلوں میں پھیلا ہوا میوزيم موجودہ زمانہ کے ان کارناموں اور ‘‘فتوحات’’ میں سے ہے جن کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔

رمضان المبارک کے عشرہ اواخر میں منعقد ہونے والی رابطہ عالم اسلامی کی عالمی کانفرنس نے یہ موقع بھی فراہم کردیا کہ شرکائے کانفرنس کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ سابق خادم حرمین شریفین ملک عبد اللہ بن عبد العزیز کے عہد میں پایۂ تکمیل کو پہنچنے والے اس عجیب وغریب شاہکار کا صرف بیرونی نظارہ ہی نہ کیا جائے بلکہ اندورنی سیر بھی کی جائے اور اس کے چار منزلوں میں پھیلے ہوئے میوزيم کو قریب سے دیکھا جائے اور کہکشانی نظام اور اس میں بکھرے ہوئے ماہ وانجم کا مشاہدہ کیا جائے اور سورج کی تپش اور اس کے سراج وہاج ہونے کی کیفیت میں قدرت کی نشانیوں کو قریب سے دیکھا اور محسوس كيا جائے۔

نظام شمسی کی قدرتی ساخت اور کہکشانی نظام کی وسعت اور آفاق کی پہنائیوں کا جائزہ لیا جائے اور چاند سورج زحل اور عطارد کے مواقع کا اندازہ لگایا جائے اور ہزاروں لاکھوں ضوئی سالوں کی دوری پر قدرت کی صنعت گری کے جلووں کو دیکھ کر ایمان کو تازہ کیا جائے۔

پہلی دوسری تیسری اور چوتھی منزلوں پر پھیلے ہوئے اس آفاقی وفلکیاتی میوزیم میں نظام شمسی کی مکمل عکاسی کی گئی ہے اور بڑے بڑے مجسموں کے ذریعہ جدید سے جدید تر ٹکنالوجی کا استعمال کرکے کائنات کے رازہائے سربستہ سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے، خلا اور سیاروں سے متعلق مجسم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

اتنی بلندی پر اس قدر وزنی گھڑی کی تنصیب ہی نہایت حیرت انگیز ہے اور ٹاور میں ہلال تک وسیع ہالوں اور کمروں اور فلکیاتی مجسموں کی اتنے بڑے پیمانہ پر تعمیر وتنصیب کسی معجزہ سے کم نہیں ہے۔

وقت کا نظام، سورج کی حرکت، چاند اور سورج کو لاحق ہونے والے گرھن کو ذہن میں رکھئے پھر قرآن کریم کی ان آیات کو ذہن میں تازہ کیجئے جنمیں رات دن کے نظام چاند سورج اور ستاروں کی گردش اور آفاق میں مسلسل ہوتے رہنے والی وسعت کا ذکر کیا گیا ہے، اور ان کی حرکت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور مجسمات پر ان حقائق کا مشاہدہ بھی کیجئے تو ایمان میں تازگی محسوس ہوگی اور آپ بے اختیار پکار اٹھیں گے کہ:

(ربنا ما خلقت ھذا باطلاً سبحانک فقنا عذاب النار)، پھر اس ٹاور کے شرفہ (بالکنی) میں آئیے اور مکہ مکرمہ کا منظر دیکھئے خانہ کعبہ کے گرد گھومتی ہوئی انسانیت کو دیکھئے بے ساختہ آپ کا بھی جی چاہے گا کہ آپ بھی طواف کرنے لگیں اور اللہ کی عظمت وجلال کے سامنے اس کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہوئے سربسجود ہوجائیں۔

آج کے زمانہ میں ‘‘کلارک ٹاور میوزیم کا مشاہدہ بھی ‘‘فتوحات مکیہ’’ سےکم اہمیت نہیں رکھتا۔

مشہور شاعر ابو نواس کي رندی کے باوجود اس شعر پر مغفرت کی منامي بشارتیں مل سکتی ہیں جس میں اس نے کہا ہے:

تأمل فی نبات الأرض وانظر

إلی آثار ما صنع الملیک

 

عیون من لجین شاخصات

بأحداق من الذھب السبیک

 

علی قضب الزبرجد شاھدات

بأن اللہ لیس لہ شریک

 

تو رات ودن کے الٹ پھیر، چاند وسورج کی گردش، ستاروں کی چمک دمک اور سارے کہکشانی نظام کے پھیلاؤ اور اس کی حرکت کو دیکھ سربسجود ہوجائیں اور اللہ کی ان عظیم نشانیوں کو دیکھ پکار اٹھیں کہ:

فی کل شیئ لہ آیۃ تدل علی أنہ واحد

تو کیا رحمت حق آپ کو اپني آغوش میں لے کر جنت کا مستحق نہیں گردانے گی؟

‘‘وسطیت’’ یا ‘‘فکری اعتدال پسندی’’ ومیانہ روی اس امت کی شناخت ہے جسے ‘‘امت وسط’’ ہونے کا لقب دیا گیا ہے۔

‘‘شدت پسندی’’ اور فکری بے اعتدالی کے مناظر سامنے آنے کے بعد ہر طرف سے ‘‘وسطیت‘‘ کی صدا بلند ہونے لگی اور اس عنوان سے جگہ جگہ عالمی مراکز قائم ہونے لگے جن کا مقصد مسلم نوجوانوں کو فکری اعتدال کی راہ اپنائے انتہا پسند تنظیموں کا آلہ نہ بننے کی تلقین کے ساتھ غیر مسلموں اور عالمی سیاسی بساط پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والی طاقتوں کو اطمینان دلانا بھی تھا جبکہ اسلام دشمن طاقتوں کو تو سرے سے مسلمانوں کا شریعت کے احکام کا پابند ہونا بھی انتہا پسندی ہی نظر آتا ہے۔

رابطہ عالم اسلامی کی اس عالمی کانفرنس کا عنوان بھی ‘‘وسطیت’’ کے مفہوم کو راسخ کرنا اور اس کا مقصد مسلمانوں کو فکری اعتدال پسندی کی تلقین کرنا تھا۔ اس لئے ‘‘وثیقہ مکہ’’ یا مکہ کے اعلان اور منشور کی اساس بھی ‘‘وسطیت’’ کے موضوع پر سمینار کو بنایا گیا تھا۔

موضوع نیا نہیں ہے اور ہزارہا ہزار صفحات اس موضوع پر لکھے جاچکے ہیں اس لئے کانفرنس کی علمی نشست کے پہلےہی اجلاس میں پیش کئے جانے والے مقالات پر میرا تبصرہ ‘‘مداخلہ’’ کی شکل میں یہ تھا:

۔ ‘‘وسطیت’’ کے لفظ کی لغوی تحقیق، اس کے معنی کی تعیین اور شرعی نصوص میں اس کے خدوخال تلاش کرنے کی اب چنداں ضرورت نہیں۔

اس وقت جو پہلو زیر بحث آنا چاہئے وہ تشدد پسندی یا فکری بے اعتدالی اور غلو کے اسباب اور ان کے علاج کا طریقہ کار ہے، میری نظر میں عام طور پر دینی تعلیم وثقافت سے وابستہ لوگوں میں شدت پسندی اور غلو کے اسباب یہ ہیں:

۔ شرعی نصوص کو ظاہری مفہوم پر ہر جگہ محمول کرنے کی کوشش اور فقہاء وعلمائے اصول کی طرف سے متعین کردہ ضوابط سے انحراف۔

۔ ‘‘محکمات’’ کے بجائے ‘‘متشابھات’’ پر زور اور بے پڑھے لکھے لوگوں سے بھی اپنے ذہن میں متعین کردہ مفہوم کو ماننے پر اصرار۔

۔ ضروری علمی صلاحیت کے بغیر ہی ناپختہ علم وعمر کے لوگوں کو اجتہاد پر ابھارنے کی کوشش۔

۔ ‘‘سیاست’’ کو دین کا ایک جزء قرار دینے کے بجائے پورے دین کو ‘‘سیاست’’ بنا دینے حکومت وخلافت کو مقصود اصلی قرار دےکر عبادت کو اس کے تابع کردینے کی بعض جماعتوں کی طرف سے کوشش۔

۔ غیر مسلموں سے معاملہ کرنے میں ‘‘موالاۃ’’ ‘‘مداراۃ’’ اور ‘‘مواساۃ’’ کے درمیان فرق کئے بغیر نوجوانوں کو بے موقع ابھارنے اور ان کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش۔

۔ ہر کس وناکس کو نازک علمی مسائل اور خطرناک اجتماعی وسیاسی امور میں فتوی دینے کی چھوٹ جس کے نتیجہ میں ناحق لوگوں کی جانیں اور ان کے مال اور ان کی عزت وآبرو کو نشانہ بنایا جائے۔

اور ان کے علاج کا کارگر نسخہ یہ ہے کہ دینی علوم کی پختہ تعلیم دی جائے اصول فقہ اور اصول حدیث سے نصوص کو ماننے اور نصوص کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد لی جائے۔

لادینی انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جائے اور معاشرہ میں شریعت کی تعلیمات اور دینی شعائر ومظاہر کے احترام کو عام کیا جائے اور ہر کس وناکس کو فتوی کی اجازت نہ دی جائے، وغیرہ وغیرہ۔

وقت مختصر ہونے کی وجہ سے تمام نقاط کی مکمل وضاحت ممکن نہیں تھی خاص طور پر تبصرہ اور مداخلت کے دوران۔

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں مکہ مکرمہ کے گورنر شاہزادہ خالد الفیصل موجود رہے جنہوں نے بادشاہ معظم کا پیغام پہنچایا اور مصر لبنان اور سعودی عرب کے مفتیان کے علاوہ شیخ عبد اللہ بن بیہ کے بیانات پیش کئے گئے۔

اور اختتامی نشست میں وثیقہ مکہ یا ‘‘اعلان مکہ’’ پڑھ کر سنایا گیا۔

امام حرم شیخ صالح بن حمید، سابق جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبد اللہ الترکی، عالمی فقہی اکیڈمی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبد السلام العبادی، الجزائر کے موجودہ وزیر اوقاف یوسف بلمہدی (جنہوں نے کبھی الجزائر ٹی وی کے لئے مجھ سے تفصیلی انٹرویو لیا تھا) بزرگ عالم دین موریتانیہ کے سابق وزیر وفقیہ شیخ عبد اللہ بن بیہ اور مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ومولانا زاہد الراشدی اور دیگر علماء سے ملاقاتیں بھی کانفرنس کی فتوحات اور برکات کا حصہ ہیں۔

رب کریم کی عنایتیں اس عاجز وفقیر سراپا تقصیر پر ہمیشہ ہی بے حساب رہی ہیں۔ فلہ الحمد والمنۃ۔

رمضان المبارک کے ایام خاص طور پر عشرہ اواخر حسب معمول حرمین شریفین میں گزارنے کا خیال ہی ہوا تھا کہ ایمیل پر رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سکریٹری صاحب کی طرف سے ارسال کردہ دعوت نامہ نظر آیا کہ شرعی نصوص کی روشنی میں تشدد پسندی کے جائزہ کے لئے عالمی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آرہا ہے اس میں تمہاری شرکت ذمہ داران کے لئے خوشی کا باعث ہوگی۔

اس طرح جو مرحلہ مشکل نظر آرہا تھا اسے اللہ تعالی نے محض اپنے فضل سے نہایت آسان کردیا اور دنیا بھر کے منتخب علماء کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ دس دن جوار حرم میں گزارنے کی سعادت حاصل ہوگئی۔

شرکاء کانفرنس میں مصر، لبنان، شیشان، عراق، اور دیگر تقریباً ۱۳۹ ملکوں کے ۱۲۰۰ افراد شامل تھے جن میں حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا فضل الرحیم، مفتی محمد اسلم لندن، مولانا تقی الدین ندوی مظاہری ابوظہبی، برمنگھم نیوزی لینڈ، الجزائر، تیونس، مراکش اور تقریبا تمام ہی ایشیا وافریقہ اورديكربراعظمون کے ممالک کے نمائندے مدعوئین میں شامل تھے۔ فرقوں کے لحاظ سے بھی شیعہ سنی بریلوی دیوبندی اہل حدیث درزی سبھی موجود رہے۔

‘‘وسطیت’’ کی آبیاری اور فکری میانہ روی کی تلقین کے لئے جو کانفرنس منعقد ہوئی تھی اس کا اختتام ‘‘وثیقہ مکہ’’ یا ‘‘مکہ مکرمہ کے منشور ’’ کے اعلان پر ہوا۔

مکہ مکرمہ میں کئی دن سکون واطمینان سے گزارنے اور حرم محترم اور ‘‘خانہ کعبہ’’ کے جلوہ سے بقدر تاب نظر مستفید وبہرہ ور ہونے کے بعد قدرتی طور پر دیار حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) مدینہ منورہ کی زیارت کا شوق دل میں پیدا ہوا چنانچہ ۲۶ اور ۲۷ رمضان المبارک کی راتیں مدینہ طیبہ میں گزریں جس کے باريمیں کہا گیا ہے کہ:

ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر

نفس گم کردہ می آید جنید وبایزید ایں جا

مدینہ منورہ کی علمی فتوحات میں حضرت مولانا یونس صاحب جونپوریؒ کی افادات پر مشتمل بخاری شریف کی عربی شرح نبراس الساری کی تیسری جلد اور اردو شرح کی دوسری جلد کو شمار کیا جاسکتا ہے جس کے بارے میں تفصیلی طور پر گفتگو پھر کبھی کروںگا، مولانا کے شاگرد رشید مفتی یونس بتات مولانا کی زندگی کے ایام سے ہی کرم فرما رہے ہیں۔

سفر میں برخوردار عزیز عبد اللہ بدر قاسمی کے ساتھ ہونے سے بڑی راحت رہی۔

۲۰؍مئی کو کویت سے مکہ مکرمہ کے لئے روانگی ہوئی تھی اور جون کی پہلی تاریخ کو مدینہ طیبہ سے کویت کے لئے واپسی ، فالحمد للہ علی ذلک، وإنما بعزتہ وجلالہ تتم الصالحات۔

Comments are closed.