چار خوش نصیب انسان

مولاناقاضی محمداسرائیل گڑنگی
چا ر وہ خوش نصیب جنہوں نے علماء کی قیاد ت کی،میرے علم کے مطابق دنیا میں چار ایسے خوش نصیب حضرات گزرے ہیں جن کے پا س علم وعمل ،عقل وشعور ،زہد وتقویٰ اتنا زیادہ تھا کہ علوم و معارف کے پہاڑ علماء کرام نے ان کے ہاں حاضری دی ۔اور فیض حاصل کیااور ان کی قیادت وسیادت کو تسلیم کیا۔
1۔سیدالطائفہ رئیس العلماء و مرشدالعلماء حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ
2۔امام ِ علوم لدنوی حضرت میاں نظام الدین لاروی رحمۃ اللہ علیہ آف لار شریف کشمیر
3۔امام الائولیاء حضرت میاں جمال رحمۃ اللہ علیہ آف گھنیلہ شریف
4۔مصلح امت ،مستغرق فی التبلیغ حضرت حاجی محمد عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ ،جنہوں نے اکابر علماء کی موجودگی میں بین الاقوامی جماعت کی قیادت کی اور قیادت کا حق ادا کردیا ۔اور پچاس وہ خوش نصیب مسلمان جن کی قیادت کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا گیا ہے ان میں حاجی صاحب مرحوم کا نام بھی شامل ہے ۔
حضرت حاجی عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کے مبار ک ملفوظات میں ایک لفظ اکثر استعمال ہواہے جس میںحاجی صاحب فرماتے تھے ’’امت،امت ‘‘جماعت انبیاء علیہم السلام کی بھی یہی دعوت تھی ۔خصوصاً ہمارے پیارے نبی ﷺ ،چونکہ عالمی نبی تھے ان کی دعوت بھی ان ہی مبارک الفاظ سے تھی ۔
حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بہت زیادہ وقت اکابر علما ء کے ساتھ گزرا اس لیے ان کے الفاظ ِ دعوت امت سے موسوم ہوتے تھے ۔زندگی بھر یہی صدا لگاتے رہے یہانتک کہ دنیا سے جاتے ہوئے بھی یہی غم ان کو کھائے جا رہا تھا،زندگی بھر کلمہ کی محنت کی یہانتک کہ زندگی کا مشغلہ بنا لیا کہ اپنی نیند کو بھی قربا کر دیا ان کی نیند بھی وہی ہوتی تھی جو ممبر پر آنکھ اونگ کی صورت میں آرا م کا کچھ پیغام دیا کرتی تھی ۔ہم نے اللہ کے فضل وکرم سے ان کے بیانات کو سنا ہے ،جن میں سوز وفکر اور تڑپ ہواکرتی تھی ۔ان کی جدائی سے ہر مسلمان غم زدہ ہے مگر اللہ کا فیصلہ اٹل ہے جو رات قبر کی ہے و ہ دنیا میں نہیں ہے ۔۔۔
حقیقت میں ان کی جدائی امت مسلمہ کے لیے بڑا صدمہ لے کر آئی ہے
؎یا الٰہی کیا کروں دل حوصلہ پاتا نہیں
آنکھ جس کو ڈھونڈتی ہے وہ نظر آتانہیں
ہمارے مضامین و رسائل اور کتب وغیرہ حضر ت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ پڑھا اور سنا کرتے تھے ۔۔سائیں فقیر محمد صاحب بتاتے ہیں کہ ایک موقع پر حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اخبارالمدارس کراچی میں ہمارامضمون پڑھا اور بڑی خوشی کا اظہا رکیا ،خوب مسکرائے ان کی مبارک ادائوں کو دیکھ اور پڑھ کر ان الفاظ میں ان کویاد کرنا پڑتا ہے
؎اندر زمین کے بھی روشنی ہو
مٹی میں اک چراغ رکھ دیاہے
حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ اپنے بزرگوں کاذکرِ خیر کیا کرتے تھے ،اس تڑپ کے ساتھ کہ ان کی زبان ان کے عمل کی ترجمان ہواکرتی تھی ۔ان کی خوشی اس میں تھی کہ کس طرح امت مسلمہ اپنے اصلی کام پر آجائے اور دعوت الی اللہ کے کام میں لگ جائے ۔
؎خوشی میں بھی نکل آتے ہیں آنسو
ہر ایک آنسو ثبوتِ غم نہیں ہوتا
امام اہلسنت کے ہاتھ چوم لئے
حضرت مفتی محمد جمیل خان شہید رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ پاک نے بڑی خوبیوں سے نوازا تھا جو کام وہ کرگئے بہت ہی مشکل ہے کہ کوئی اور کر سکے حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تمام اکابر کی خوب خدمت کی اور میرے سیدی و سندی حضرت امام اہلسنت شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کی بھی خوب خدمت کی اور ان کو مختلف علاقوں میں لے گئے۔ ایک مرتبہ رائے ونڈ لے کر گئے تو وہاں جب مصلح امت داعی امت حضرت حاجی محمد عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کو پتہ چلا کہ حضرت تشریف لائے تو بغیر جوتوں کے استقبال کے لیے تشریف لائے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ مبارک پکڑے چو مے اور سینے کے ساتھ لگائے اس منظر کو لاتعداد لوگوں نے دیکھا ان ناظرین میں حضرت مولانا فرید احمد شاکر صاحب بھی شامل تھے حضرت حاجی صاحب امام اہلسنت کے ساتھ ایسے چمٹ گئے جیسے کوئی معصوم بچہ عرصہ بعد اپنے والدین سے ملتا ہے۔
حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ علماء کرام کا بہت ہی زیادہ احترام کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کے دورِامارت میں دین اسلام کا بہت بڑا کام ہواہے ۔حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے بیانات میں فرمایا کرتے تھے ’’علماء کرام سے جڑواور مسائل اپنے مقامی علماء سے پوچھا کرو!‘‘حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ تمام اہل حق جماعتوں کی سرپرستی فرمایا کرتے تھے ،اسی سلسلہ میں تبلیغی جماعت کی بھی سرپرستی کے ساتھ دعائوں سے نوازا کرتے تھے ۔حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ عقیدت والا منظر ہمیشہ یاد رہے گا اور حاجی صاحب کی یادیں ہمیشہ اہل دل کے دلوں کو دین کے لیے تڑپاتی رہیں گی ۔
بد بخت
حضرت حاجی محمدعبدالوہاب ؒ کا ایک بہت ہی جامع جملہ مرزائیت کے خلاف اور عقیدہ ختم نبوت پر موجود ہے جو ان کی عظیم بصیرت پر دلالت کرتا ہے ۔وہ فرماتے تھے ’’مرزا کادیانی کم بخت ایسابدنصیب کافر ومردود تھا کہ وہ رحمت عالم ﷺ کی مسند پر قدم رکھنے کا مدعی تھا ۔یہ سوچ آتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے کہ ابوجہل سے بڑے کافر بھی دنیامیں ہوئے ہیں ۔‘‘
بلی کی حرکت اور حضرت حاجی صاحب کی برکت
13-1-2019 کو صبح کی نماز کیلئے جامع مسجد صدیق اکبر ؓ مانسہرہ میں حاضری ہوئی محراب کے اندر سے ایک بلی نے چھلانگ لگائی اور ادھر اُدھر دروازوں کے ساتھ پائوں مارنے شروع کر دیئے اسی موقع پر ایک سفید ریش بزرگ نے کہا کہ حضرت حاجی محمد عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ جنت ملے گی تو اللہ کے فضل و کرم سے ہی مگر ہر انسان کو ہاتھ پائوں بلی کی طرح مارنے تو چاہئیں تاکہ اس حرکت سے اللہ تعالیٰ برکت ڈال دیں اور اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل فرما دیں۔
بغیر جوتے چل پڑے
ایک دن حضرت مولاناخواجہ خان محمد رحمۃ اللہ علیہ بغیر جوتے پہنے اپنے کمرے سے باہر تشریف لائے گویا کسی کے انتظار میں ہیں ، کافی دیر بعد معلوم ہوا کہ ادھر سے حاجی محمد عبدالوہاب صاحب بھی جوتے اتارے حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے ملنے آرہے ہیں ، حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بہت دور سے جوتے اتار دیتے ہیں کہ خانقاہ شریف میں حاضری ہے ، اِدھر حضرت اقدس رحمۃاللہ علیہ بھی انتظار میں ہیں جبکہ ان کو پہلے بتایا نہیں گیا تھا۔(مزید تفصیل کیلئے راقم الحروف کا مضمون دلوں کا حکمران مجلہ صفدر بہاولپور میں ملاحظہ فرمائیں)
سارے عالم کی فکر
عزیزہ فضہ چوہدری صاحبہ 2000؁ء کا اجتماع جو کراچی میں ہوا اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں یوں تحریر کرتی ہیں حضرت حاجی عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ نے اس تبلیغی اجتماع میں اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے
میرے بھائیودوستو!اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اس امت کو سارے عالم کے انسانوں کیلئے داعی بنا کر بھیجا ہے ۔
میرے دوستو! یہ ہمارے یعنی عورتیں ہوں مرد ہوں لڑکیاں ہوں لڑکے ہوں بیٹے ہوں بیٹیاں ہوں چاہے بادشاہ ہوں فقیرہوں امیر ہوں غریب ہوںجب میرے دوستو کہیں بھی پیدا ہوئے ہوں اللہ نے یہ کرم فرما دیا ہے فضل فرمادیا اللہ تعالیٰ نے سارے عالم کے انسانوں کیلئے ہدایت کا ذریعہ بنا دیا جب ہم ہیں۔
دوستو !سارے عالم کے انسانوں کی ذمہ داری اپنے اوپر سمجھ کر میرے دوستو محنت کریں گے ،
میرے دوستو!اگر ایک آدمی اپنے آپ کو ایک ذریعہ سمجھ کر بیٹھا ہے اللہ اس کے مطابق اس کو سمجھ عطا فرمائے گا
ایک ڈاکٹر سمجھ کر بیٹھا ہے تو اس کے مطابق اس کی سوچ ہو گی اور اگر ذمہ دار اپنے کو سمجھے گا تو اس کے مطابق اس کی سوچ ہو گی ، اب کسی ملک کا صدر اپنے آپ کو سمجھے گا تو اس کے مطابق اس کی سوچ ہو گی ۔
میرے بھائیومیرے دوستو! اللہ نے ہمیں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد لے کر دنیا میں بھیجا ہے جب ہم یہ بات بیٹھ کر سوچیں گے تو یہ چیز چلے گی۔ یہ سارا عالم ہمارے سامنے ہے جس کیلئے ہمیں اللہ نے بھیجا ہے اورمیرے دوستو !اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے جس کیلئے ہمارے علماء کرام فرماتے ہیں کہ بھائی اللہ نے حکم دیا ہے تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو تو بھائی مقصد میں بھی اتباع کریں گے اور طریقے میں بھی اتباع کریں گے ۔
میرے بھائیواور دوستو! سارے کے سارے امت کی فکر کریں گے کہ جیسے ہمارے علماء کرام فرماتے ہیں کہ ساری امت کو اللہ نے ساری اقوام کیلئے مبعوث فرمایا ہے اللہ نے سارے انسانوں کیلئے بھیجا ہے اور اللہ نے اس لئے بھیجا ہے تاکہ وہ ایسی محنت کریں جدوجہد کریں کہ وہ انہیں جنت پر لا کر کھڑا کریں اسی لئے بھیجا گیا ہے
بھائیو ہمارا مقصد صاف ہے کہ اللہ کی مخلوق کو داعی بن کر جنت کی طرف بلائیں ۔

Comments are closed.