یوم آزادی : لال قلعہ کے بدلتے تیور

 

ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعظم نریندر مودی نے امسال چھٹی مرتبہ لال قلعہ سے ترنگا لہرا کر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی برابری کردی ۔ ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ ہر مرتبہ یوم آزادی کے موقع پر کوئی نیا شوشہ چھوڑیں اس لیے کہ وہ جانتے ہیں عوام پرانے راگ سے بہت جلد بور ہوجاتے ہیں اور کچھ نیا چاہتے ہیں۔ ۲۰۱۴؁ میں انہوں نے اپنی ۶۵ منٹ کی تقریر میں اپنے ایک غریب خاندان سے ہونے کے باوجود وزیر اعظم بن جانے پر مجلس آئین ساز کا شکریہ ادا کیا تھا ۔ سوچھ بھارت ، جن دھن یوجنا ، صلاحیتوں کے فروغ کی خاطر SKILL INDIA اور گھریلو پیداوار بڑھانے کے لیے میک ان انڈیا کا نعرہ دیا۔ ان میں صفائی مہم کے علاوہ کسی اور محاذ پر خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ ۲۰۱۵؁ میں کسانوں کی جانب توجہ فرمائی اور وزارت کے نام میں کسانوں کی فلاح و بہبود کو شامل کردیا ۔ اس سے نام تو بدل گیا لیکن کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ نہیں رکا ۔ نئے کاروباریوں کے لیے اسٹارٹ اپ انڈیا کا اعلان بھی کیا گیا کھیل کود کے میدان میں آگے بڑھنے پر توجہ دلائی نیز ۲۰۲۲ ؁تک ہر فرد کے لیے گھر اور بجلی کا وعدہ کیا۔

۲۰۱۶؁ میں انہوں نے اپنا ۸۶ منٹ کا اپنا ہی ریکارڈ توڑتے ہوئے ۹۶ منٹ طویل بھاشن دے ڈالا۔ اس بار مودی جی نے انفراسٹرکچر کی جانب توجہ کی اور سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ غیر روایتی بجلی سازی کا بکھان کیا۔ اپنی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دو کروڈ بیت الخلا بنائے گئے اور دس ہزار گاوں میں بجلی پہنچائی گئی۔ خواتین کی ترقی کے اجولا ّ یوجنا اور میٹرنٹی کی چھٹیاں ۲۶ ہفتے تک کرنے کا اعلان کیا۔ مودی جی نے ۲۰۱۶؁ میں پہلی مرتبہ بیرونِ ملک بلوچستان ، گلگت اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا مبارکباد کے لیےشکریہ ادا کیا اور ماو نوازوں کو ہتھیار ڈالنے کی تلقین کی ۔ یہ ساری باتیں بھی ہوائی ثابت ہوئیں ۔ ۲۰۱۷؁ میں مودی جی تھوڑے سے فلسفیانہ ہوگئے اور اپنے مختصر یعنی ۵۶ منٹ کی تقریر میں ‘نیو انڈیا’ کا خواب دکھایا۔ اپنی پرانی اسکیموں کے ساتھ بے نامی جائیدادوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا ذکر کیا ۔ بیس مقامات پر بہترین صنعتوں کے قیام کا ذکرفرمایا جن کا کہیں اتہ پتہ نہیں ہے۔ کشمیر کی بابت وہ بولے اس مسئلہ کا حل کشمیری عوام کو گلے لگا کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد اس اعلان کا گلا کٹ گیا ہے ۔

۲۰۱۷؁ کی طرح ۲۰۱۸؁ کے اندر بھی مودی جی دباو میں تھے کیونکہ وہ ان کی پہلی مدت کار کا آخری خطاب تھا ۔ اس کے بعد انہیں انتخاب لڑنا تھا اس لیے اپنی ۸۳ منٹ کی تقریر میں انہوں نے اپنی حکومت کا جائزہ پیش کیا اور کامیابیاں یاد دلائیں ۔ عوام کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے۲۰۱۷؁ کے بھولے ہوئے سرجیکل اسٹرائیک کو یاد کیا۔ وزیراعظم نے شمال مشرقی صوبوں میں ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تفصیل سے بیان کیا ۔میگھالیہ اور تریپورہ سے آفپسا کا کالا قانون ہٹانے کا احسان یاد دلایا ۔ دس لاکھ غریب خاندانوں کے ۵ لاکھ روپئے سالانہ کی صحت بیمہ کا اعلان کرنے کے بعد تین طلاق کے قانون کو ایوان میں پیش کرکے منظورکرانے کا وعدہ کیا۔ یہ ایک انتخابی تقریر تھی جس میں سنگھ کو خوش کیا گیا تھا ۔ ان پانچوں تقاریر میں معیشت اور فلاح بہبود کا پہلو غالب تھاگوکہ وقت کے ساتھ اس کے زور میں کمی ہوئی تھی ۔ اس کے باوجود ۲۰۱۹؁ کا انتخاب جیتنے کے لیے انہیں ائیر اسٹرائیک کا سہارا لینا پڑا اور سمجھ گئے کہ معاشی ترقی کی بنیا د پر اقتدار کو بچایا نہیں جاسکتا ۔۲۰۱۹؁ کے بعد ایوان کے پہلے ہی اجلاس میں معیشت کو خیر باد کہہ کے تین طلاق، یواے پی اے،آرٹی آئی اور دفع ۳۷۰ جیسے سیاسی مدعوں پر قوانین بنائے گئے۔ اس بار یوم آزادی کی تقریر بھی اسی کا عکس تھی ۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے بھی اپنی قدیم روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک نہایت احمقانہ بیان دیا ۔ دفع ۳۷۰ کی منسوخی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئےروپانی نے کہا اس بار یومِ آزادی ایک آزاد کشمیر کے ساتھ منایا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے قبل کشمیر غلام تھا اور کس کا غلام تھا؟ کیا بی جے پی نے ۲۰۱۵ ؁ کے اندر کسی غلام جموں کشمیر میں حکومت کی تھی؟ مودی جی نے اسے آزاد کرانے میں ۵ سال اور ۷۰ دنوں کا وقت کیوں لگایا؟ مزے کی بات یہ ہے کہ روپانی کے مطابق جس وقت کشمیر غلام تھااس وقت پابندیاں کم تھیں اور اب آزادی کے بعد ان میں اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے مودی اور شاہ کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا اب حقیقی معنیٰ میں کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ بنا ہے ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ پہلے یہ تعلق حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی تھا۔ مودی جی نے اپنی تقریر میں کشمیر کا ذکر تو کئی بار کیا مگر اس بار آسام اور شمال مشرقی ریاستوں کو پوری طرح بھلا دیا کیونکہ انتخابی ضرورت پوری ہوگئی ہے۔

کشمیر میں ایک ملک ایک پرچم کا نعرہ لگا نے والوں نے ناگا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے ۱۴ اگست کو ۷۳ ویں ناگالینڈ یوم آزادی کےموقع پر نیلے رنگ کے ناگاقومی جھنڈے کو لہرانے کی واردات سے آنکھیں موندلیں ۔ اس سال یہ تقریب مختلف ریاستوں کے میں پھیلے ہوئے ناگا علاقوں میں بڑے پیمانے پر منائی گئی۔ این ایس ایف کا کہنا تھا کہ ناگا قوم کی منفرد شناخت کو قائم کرنے کے لیے یہ اہتمام کیا گیا۔ اس سے پہلے علٰحیدگی پسند اپنے کیمپ کے اندر ۱۴ اگست کو ناگا لینڈ کا یوم آزادی مناتے تھے لیکن اس بار یہ کام کھلے عام کیا گیا۔ حکومت کے ہند کے خلاف سب سے پہلے مسلح بغاوت کرنے والی تنظیم این ایس ایف نے اس کی حمایت کی۔ اس نے ا س اقدام کو مبنی بر انصاف دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پرچم پہلی بار ۲۲ مارچ ۱۹۵۶؁ کو لہرایا گیا تھا۔ ایک طرف تو شمال مشرقی صوبوں میں بی جے پی کے اثرات بڑھ رہے ہیں دوسری جانب وہاں کے لوگوں میں اپنے تشخص کو لاحق خطرات میں اضافہ ہورہا ہے۔ جموں کشمیر کے واقعات کا بھی اس پر اثر ہوا ہے۔ آسام میں فی الحال بی جے پی کی حکومت ہے لیکن وہاں پر الفا(آزاد) نے منی پور کی عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ ۱۵ اگست کی صبح ڈیڑھ بجے سے شام ساڑھے ۶ بجے تک عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے تاکہ یوم آزادی کے جشن میں روڈے اٹکائے جاسکیں۔ حیرت کی بات یہ ہے دیش بھکتی کا شور تو بہت ہوتا ہے مگر ان واقعات پر نہ کوئی ماتم کرتا ہے اور نہ آنسو بہاتا ہے۔

(بصیرت فیچرس)

Comments are closed.