ملک کا مستقبل لہولہان۔فکرمندی کی ضرورت

مولانا احمد حسین قاسمی
معاون ناظم امارت شرعیہ،پھلواری شریف ،پٹنہ
یہ زمین اپنی ابتداء ہی سے حق و باطل کی رزم گاہ رہی ہے ۔اگر کوئی فلسفی دنیا کی حقیقت کے بارے میں سوال کرے تو من جملہ اس کے جوابوں میں ایک صحیح ترین جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’دنیا حق وباطل کے درمیان کشمکش کا ایک خوبصورت میدان ہے ‘‘۔آدم علیہ السلام اور ابلیس کے اولین معرکۂ حق و باطل سے لے کر قیامت تک مختلف عنوانوں سے بنی نوع انساں کے تمام شعبہ ٔحیات میں خیر وشر کی یہ سرد جنگ شعوری یا غیر شعوری طور پرضرور جاری رہے گی ۔انسان یا تو حق پر ہوتا ہے یا باطل پر ہو تا ہے ،جس کا تعلق اس کے احساسات و مدرکات اور اس کے شعور و لا شعور سے ہے ۔جس طرح انسان کی کچھ فطرتیں ہیں ،اسی طرح اس کے خالق کی کچھ سنتیں بھی ہیں، انسان اپنے اختیارات میں بہت محدود ہے مگر اس کا مالک اپنے اختیارات میں لا محدود ہے ۔انسان اپنے وجود کے خارجی احوال سے بہت حد تک ناواقف ہے یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر خارجی فیصلوںمیں وہ نقصان اٹھا تا ہے۔ اس کی زیادہ تر معلومات ظنی اور غیر یقینی ہیں ۔ اس کی تمام تر کوششوں کا ماحصل فقط اس کے تجربات ہیں۔ بسا اوقات انسان اپنے محدود دائرۂ اختیار کو غلط طریقے سے بڑھا تا ہے تو قدر ت اسے متنبہ کرتی ہے اور یہ تعلیم دیتی ہے کہ تمہارا یہ فیصلہ غلط ہے، اس سے تم باز آؤ! اور جب وہ باز نہیں آتا تو پھر اس کے آگے قدرت کامتعینہ نظام کام کرتاہے ،یہی وجہ ہے کہ وقت کے ہزاروں فرعون وشداد اپنی طاغوتی ذہنیت اور اپنی سرکش طاقت و حکومت کے زعم میں ہلاک و برباد ہوئے ہیں۔
اقتدار کے نشہ میںچور مرکزی حکومت نے آر ایس ایس) (RSS سے ملنے والی فکری رہنمائی کے نتیجہ میںسی اے اے (CAA) جیسا متنازع اور ناقابل عمل قانون بنا کر ایسی ہی ایک بڑی غلطی کر رہی ہے، جس کا اسے احساس نہیں ہے، اس ملک کے لیے طلبا کا سی اے اے(CAA)کے خلاف اولین اقدام کے طورپرپرچم احتجاج بلند کرنا ایک مثبت اور خوش آئند عمل ہے ،وہ اس ملک کے مستقبل اور کل کے قائد ہیں ،پورے ملک کا بوجھ ان کے کندھوں پر آنے والا ہے، وہ حال کے آئینہ میں مستقبل کے تمام حالا ت کو بخوبی دیکھ رہے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ اس سیاہ اور کالے قانون کی ناپاک دھمک کو سب سے زیادہ انہوں نے ہی محسوس کیا ۔کئی ہفتے ہوگئے، مگر ان کے طرز احتجاج میں ذرہ برابر کوئی فرق نہیں آیا ،بلکہ دن بدن مزید اس میں استحکام ہی پیدا ہو رہا ہے۔ جس پا مردی اور عزیمت وحوصلے کے ساتھ ان غیور و جرأت مند طلبہ وطالبات نے حکومت اور اس کی ظالم انتظامیہ کی بر بریت کا ڈٹ کر مردانہ وار مقابلہ کیا ہے وہ آنے والے دنوں میں آزاد بھارت کا تاریخ ساز کارنامہ شمار کیا جائے گا۔ جس احتجاج کا آغاز جامعہ ملیہ اور جے این یو سے ہوا تھا، اس نے صرف ملک کی یونیورسیٹیوں کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ وہ آواز بیرون ملک کی عظیم یونیورسیٹیوںآکسفورڈ اور کیمبرج میں بھی گونج رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا کے لوگ ان کی شان میں عظمت کے قصیدے پڑھ رہے ہیں ، اوران کے حوصلوں کو سلام پیش کر رہے ہیں ۔
CAA اور NRCکے خلاف اٹھنے والی تحریک کی ابتداء ملک کے انہی طلبہ وطالبات سے ہوئی ہے، ہم ان کے اس جرأت مندانہ قدم کو ملک کے دستور کی حفاظت کے حوالے سے’’صور اسرافیل‘‘ سمجھتے ہیں ۔سیاسی پارٹیاں اور اس ملک کے سیکولر عوام بھی در اصل طلبہ پر پولس انتظامیہ کی جانب سے ہونے والے مظالم کو دیکھنے کے بعد ہی میدان میں آئے ؛چناں چہ بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ طلبہ نے اپنی قربانیوں او رشجاعت وبہادری سے عوام کو بیدار کرنے کا ایک عظیم فریضہ انجام دیا ہے، جو ’’نعرے‘‘ وہ اپنے کیمپس اور جامعات کے سامنے لگا رہے تھے، اب وہ امریکہ ،کناڈا اور یوکے کی سڑکوں پر سننے کو مل رہے ہیں، آپ نے سیاسی پارٹیوں کے دھرنے اورمظاہرے خوب دیکھے ہوں گے، مگر ان کا مقابلہ طلبہ کے ان مظاہروں سے کسی طرح نہیں کیا جاسکتا ،کیونکہ کہ طلبہ کے سینوں میں فقط ذوق جنوں ،سرشاری کیفیت اور زندہ جذبات ہی نہیں بلکہ ان کے دل ملک کے تئیں بے لوث محبت ،وارفتگی ،جاں نثاری ،فدائیت اور بے پناہ خلوص سے معمور ہیں ،جن کا اظہار وہ اس ماہ دسمبر اور جنوری کی ریکارڈتوڑ ٹھنڈک میں بھی کرتے نظر آرہے ہیں ،بر سر اقتدار جماعت کے لیے اس میں ایک بڑا سوال بھی ہے اورنصیحت آموز سبق بھی۔
طلبہ اس قدر احتجاج کیوں کر رہے ہیں ؟وہ تھکتے کیوں نہیں ؟وہ ڈرتے کیوں نہیں؟ وہ رکتے کیوں نہیں ؟انہیں کیا ہوگیا ہے ؟وہ ان نعروں سے باز کیوں نہیں آتے؟ہم نے تو ان کے قدموں میں ہزار زنجیر یں ڈالنے کی کوششیں کیں، انہیں روکنے کے لیے ہر ممکن اپنی طاقتوں کا بھر پور استعمال کیا، مگر وہ پا بہ جو لاں دار ورسن کی طرف بڑھے جارہے ہیں، وجہ یہ ہے کہ جہاں یہ طلبہ پڑھتے ہیں وہ ہندوستان کا ایک خوبصورت نمونہ ہے اگر کسی کو ہندوستان کی اصلی تصویر دیکھنی ہو تو وہ ا ن یونیورسیٹیوں کے کیمپس میں چلا جائے ،وہاں گنگا جمنی تہذیب ،صا ف ستھر ی اور سچی انسانیت ،درمندی ،بھائی چارگی اور کینہ ونفرتوں سے دورباہمی اخوت ومحبت پر مشتمل بھارت کا جمہوری دستورانسانی شکلوں میںچلتا پھرتا نظر آئے گا، اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں نوع بنوع ذات ،برادری ،اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے صاف وشفاف ذہن کے طلبہ ایک کالج ،ایک کلاس روم میں ،ایک ساتھ ایک پروفیسر سے پڑھتے ہیں ، اور ایک ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھتے ہیں ،وہاں کتنی خوبصورت جمہوریت ہوگی ،ابوالکلام اور گاندھی جی کے دیش کی کیسی دل فریب تصویر ہوگی، اور ملی جلی تہذیب کا کتنا حسین سنگم ہوگا، اس کا اندازہ طلبہ ہی کر سکتے ہیں ،ہمارے طلبہ دراصل اپنے ملک کی اسی خوبصورتی کو بچانے کے لیے مستقل یہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ مگر افسوس کہ نفرت کے سوداگروں اور مذہبی شدت پسندوں کو ملک کی تعلیم گاہوں کی یہ جمہوری تہذیب بھی راس نہیں آئی اور یہ ان کی آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھنے لگا۔
یہی وجہ ہے ABVPکے ذریعہ ملک کی فاسسٹ ،نازی اور فرقہ پرست طاقتوں نے یونیورسیٹی کی پاکیز ہ فضا کو مسموم اور زہر آلود کردیا ہے۔طلبہ اس حقیقت کوسمجھ رہے ہیں ،اس لئے ملک کی اکثر یونیورسیٹیزمیں طلبہ یونین کے انتخاب میں اے بی وی پی کو کامیابی نہیں ملی، یہ اس ملک کو نفرت کی آگ میں جھونکنے والوں کے لیے درس عبرت ہے ۔مذہب کی بنیاد پر سیاست کرنے والوں نے ہر محاذ پر اپنی ذہنیت کے خاص لوگوں کو رکھنا چاہا ہے اس کے پیش نظرانہوں نے شروع سے ہی اپنا کیڈر تیار کرنے کے لیے کالج اور یونیورسیٹیوں کا بھی سہارا لیا ،اوراکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد ( ABVP )کے نام سے طلبہ کی ملکی سطح پر ایک جماعت تشکیل دی جو مرکزی حکومت کے زیر سایہ تعلیم گاہوں اور جامعات میں غنڈہ گردی اور دہشت گردی کا کام کر رہی ہے،گذشتہ اتوار ۵؍جنوری ۲۰۲۰؁ء جے این یو کے طلبہ پر دہشت گردانہ حملہ اس کا واضح ثبوت ہے ۔’’ ہندو رکشا دل‘‘ نے اس کی ذمہ داری لے کر بہت کچھ چھپایا ہے تو بہت کچھ ظاہر بھی کیا ہے ،اس سے پہلے بھی روہت ویمولا اور نجیب کے دردناک واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کررکھ دیا تھا۔ملک کی عدالت سے درخواست ہے کہ ان وارادات کے مدنظر ان تنظیموں پرپابندی عائد کی جائے ۔طلبہ ملک کی شان اور آبرو ہیں اور بھارت کے مستقبل بھی، ان کی آواز کو پولس کی سفاکانہ اوروحشیانہ رویوں کے ذریعہ دبانا اور ان کوABVP کے دہشت گرد غنڈوں کے حملوں سے لہو لہان کرانا بزدلانہ عمل ہے۔ عدالت کو اس پر سخت نوٹس لینی چاہئے اور قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے والے ملک دشمن عناصر کو عبرت ناک سزا دینی چاہئے ۔
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے ہمیں اس کی عظمت کو پامال کرنے والوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا، یہ ایک عظیم لڑائی ہے، جو پر امن طریقے پر آئین اورجمہوریت کی روشنی میں لڑی جارہی ہے ۔ ملک کے حکمرانوں کے غلط فیصلوں کے خلاف احتجاج کرناہمارا قانونی اوردستوری حق ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ملک کے ارباب اقتدار ان کے مطالبات کو پورا کریں ،غلط فیصلوں سے رجوع کریں ،اور احتجاج سے ملک کی روز مرہ زندگی کو متأثر ہونے سے قبل اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں،اور عوام کو مذہبی بنیادوں پر دوخانوں میں تقسیم کر کے ملک کی یک جہتی اورسا لمیت کے لیے خطرہ نہ پیدا کریں ۔واضح رہے کہ حکمراں جماعت ملک کے آئین کی قسم کھا کر عوامی خدمت کے فریضہ کی ادائیگی کا اقرار کرتی ہے، لہذا حکومت کوہر لمحہ اپنے اس قول وقرار کا پابند رہنا چاہئے اور اپنے اس حلف کو ذہنوں میں مستحضر رکھنا چاہئے ۔
(بصیرت فیچرس)

Comments are closed.