بہار عرب کے بعد اب بہار ہند،نصیب مدرسہ یارب یہ آب آتشناک
پروفیسر محسن عثمانی ندوی
بہت پہلے ایران میں اور پھربعد میں عرب ملکوں میں ، تیونس میں ،مصر میں ، شام میں ، لیبیا میں عوام و خواص جابر حکومتوں کے خلاف انقلاب بردوش بن کر اٹھے اور انہوں زمین میں میں زلزلہ ڈال دیا اور حکومتوں کا تختہ الٹ دیا ، کہیں یہ انقلاب کامیاب ہوا اور کہیں دنیا کی بڑی طاقتوں کی سازش سے اور خلیجی ملکوں کی کوشش سے ناکام ہوگیا ۔جو منظر عرب ممالک میں چند سال پہلے دیکھنے میں آیا تھا وہی منظر اب ہندوستان میں دیکھنے میں آرہا ہے ، ہندوستان کے طول وعرض میں احتجاجات کی لہر اٹھ رہی ہے ، عصری جامعات کے طلبہ اور خواتین کا اس میں قائدانہ رول ہے ، حدیث نبوی کی روشنی میں انسان کو نہ تو ظالم ہونا چاہئے اور نہ مظلوم، ظلم کا مقابلہ کرنا ایک دینی قدر ہے اور جو نوجوان حکومت کے ظلم کو روکنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں وہ قابل قدر ہیں اور ان کی ہمت کی داد دینی چاہئے کہ سخت سردی کے موسم میں ہندوستان کے سیکولر اور جمہوری آئین کی حفاظت کے لئے او ر تکثیری سماج کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔اگر اس وقت مزاحمت نہ کی گئی تو اس ملک میں اقلیتوں کو لوح ایام سے مٹا دیا جائے گا ۔ پھر نہ مسجدیں رہیں گی نہ چرچ نہ مدرسوں کا وجود باقی رہے گا ۔موب لینچنگ ، جے شری رام کے نعرے ، سوریہ نمسکار ، تین طلاق کا قانون ،دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی ، بابری مسجد اور اب شہریت کے قانون میں ترمیم کا ایکٹ ، یہ سلسلہ دراز سے دراز تک ہوتاجارہا ہے ،اگر ظلم کے خلاف پوری طاقت سے عوام نہیں کھڑے ہوں گے تو اس ملک کو اسپین اور ہندو راِشٹر بنانے کا آر اس اس کا خواب پورا ہوجائے گا ۔
اس پورے منظر نامہ کی خاص بات یہ ہے علماء کر ام اور مذہبی قیادت کا رول اس میں قائدانہ نہیں بلکہ تابع دارانہ ہے، جب پورا ملک احتجاج کی آواز سے گونجنے لگا تو پھر کچھ علماء کے بیانات بھی آنے لگے اور وہ بھی حکومت کے نئے قوانین کے خلاف لب کشا ہو گئے اور ان کی مہر سکوت ٹوٹ گئی ۔ظلم اور نا انصافی کی مخالفت میں پہلی آواز تو ان کی بلند ہونی چاہئے تھی انہیں احتجاج کی اپیل کرنی چاہئے تھی جیسا کہ شاہ بانوکیس میں انہوں نے حکومت کے خلاف احتجاج کو منظم کیاتھاہندوستان کی تاریخ میں خلافت موومنٹ میں اور بھارت چھوڑو تحریک میں علماء نے بڑے بڑے احتجاجات منظم کئے تھے ۔اور حکومت کو جھکنا پڑا تھا ۔ایران میں پہلے اوربعد میں بہار عرب کی قیادت مذہبی جماعتوں اور دینی شخصیات نے کی تھی پھر اس میں وہ لوگ بھی شامل ہوگئے جو اپنے ملکوں میںاستبدادی نظام کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن دنیا کی بڑی طاقتیں یہ پسند نہیں کرتی تھیں کہ عرب اور مسلم ملکوں میں جمہوریت آئے ،شریعت کا نفاذ ہو اوراستبدادی نظام کا خاتمہ ہو ،پٹرول کی دولت سے مالامال خلیجی ملکوں نے بھی اپنی اپنی حکومتوں کو بچانے کے لئے سازش کا ساتھ دیا ہزاروں مسلمانوں کا خون بہا ،زمین خون سے لالہ زار ہوگئی اور انقلاب کی کوشش ناکام ہوگئی ۔ہندوستان کی موجودہ احتجاجی تحریک اقلیتوں کے جان ومال اور اور ان کے مذہب اور تہذیب کی حفاظت کے لئے ضروری ہے یہ تحریک یونیورسیٹیوں کے طلبہ بیباکانہ ، جرات مندانہ ،سر فروشانہ انداز میںپورے بانکپن کے ساتھ جمہوریت اور انصاف کو بچانے کے لئے چلارہے ہیں ۔ندوۃ العلماء کے طبہ نے بھی ایک مختصر احتجاج کے کے ذریعہ جامعات کے طلبہ سے اپنی یک جہتی کا اظہار کیا ۔اور اس سے حکومت کو اندازہ ہوا کہ مسلمانوں کا مذہبی طبقہ حکومت کا ہمنوا نہیں ہے ،دوسری طرف یہ افسوسناک خبر آئی ہے کہ اعظم گڑھ کے مضافات میں ایک دینی مدرسہ میں طلبہ نے علامتی طور پر ملک گیر احتجاج کی حمایت میں مظاہرہ کیا تو اس مدرسہ کے ذمہ دار اعلی نے ان طلبہ کو نکال دیا ان کا سامان باہر پھکوادیا اور احتجاج کرنے والے طلبہ کی پوری فہرست پولیس اسٹیشن میں داخل کردی تاکہ ان کے خلاف یوگی حکومت زدوکوب کی کاروائی کرے ۔ یعنی وہ حکومت ان کی تعزیر کرے جو شہروں کے نام تک بدل رہی ہے جو ایسا نام بھی گوارہ نہیں کرتی ہے جس سے بوئے اسلام آتی ہے۔ تعزیز جرم عشق برداشت کرنے کے بعد ان طلبہ کو اپنے احتجاج پر افسوس نہیں ہوگاالبتہ اس پر افسوس ہوگا کہ کیوں ایسے مدرسہ میں داخلہ لیا جس کا ذمہ دار اعلی فن حدیث سے اپنے اشتغال کے باوجود بے رحم ،عقل سے فارغ اورملی شعور سے محروم اور غیرت وحمیت سے بیگانہ ہے اوروہ ان احتجاجات کو محض ایک سیاسی کام سمجھتا ہے ۔یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ طبقہ علماء میںایسے لوگ ہیں جو بصیرت سے اور اندیشہ فردا سے محروم ہیں۔حکومت کی شہریت سے متعلق پالیسی کے خلاف احتجاج کو محض دنیوی اور سیاسی کام سمجھنے کیلئے عقل وہوش سے اور مذہبی جوش سے محرومی کی بہت بڑی مقدار درکار ہے ۔ ظلم کے خلاف کھڑاہونا ایک دینی قدر ہے ، ایک صحیح حدیث ہے ان الناس اذا رأوا الظالم فلم یأخذوا علی یدیہ اوشک ان یعمہم اللہ بعذاب من عندہ( لوگ ظالم کود یکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں توقریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب میں لپیٹ لے) ۔
ایک طرف ملک سخت اقتصادی بحران کا شکار ہے دوسری طرف ستر ہزار کروڑخرچ کرکے ان آر سی لایاجارہاہے شہریت امنڈمنٹ بل کے ذریعہ بنگلہ دیش سے آئے ہوئے پانچ لاکھ ہندووں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی اور تقریبا اتنی ہی تعداد میں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے مسلمانوں کو ڈٹنشن کیمپ میں رکھا جائے گا یا ان کو ملک بدر کردیا جائیگا ۔مذہب کی بنیاد پر یہ تفریق آئین کی روح کیخلاف ہے ۔شہریت ثابت کرنے کے لئے وہ دستاویز طلب کی جائیں گے جن کا مہیا کرنا تقریبا ۲۵ فی صدی آبادی کے لئے مشکل ہوگا اگر وہ مسلمان نہیں ہیں تو ان کو شہریت مل جائے گی اور مسلمان نہیں ہیں تو پھر ان کے خلاف کاروائی کی جائیگی۔ہماری خاک بسراور کم نظر مسلم قیادت بس یہ اپیل کرتی رہی ہے کہ مسلمان شہریت کا دستاویزی ثبوت تیار رکھیں ۔ایسی تیرہ و تار فضا میں جامعہ ملیہ اور علی گڑہ مسلم یونیورسیٹی اور جے ان یو اور دیگر یونیورسیٹیوں کے طلبہ نے بیداری اورزندگی کا ثبوت دیا ہے ۔اقبال نے کہا تھا ’’ جوانوں کو پیروں کا استادکر‘‘ان شاہین صفت بچوںنے سال خورد عقابوں کو جینے کا سلیقہ سکھایا ہے، اسی لئے ہم نے کہا تھا کہ ہمارے عمر رسیدہ علماء نے قیادت نہیں کی ہے ان جوانوں کی تابعداری کی ہے جن کا لہو گرم ہے اور جن کو اپنا اور مسلمانوں کا مستقبل عزیز ہے ۔شاہین باغ کی مسلم خواتین جن کو صنف نازک کہا جاتا ہے انہوں نے بھی مردوں کے دوش بدوش آمریت کے خلاف اس جنگ میں حصہ لیا ہے ۔
مسلمان نوجوان طلبہ غیر مسلم قائدین کو ساتھ لے کر میدان میں آگئے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا ،امید کے سارے چراغ بجھنے لگے تھے، انہوں نے نوجوانوںکی شیرازہ بندی کی، انصاف پسند برادران وطن کو ساتھ لیا اور ملک کے آئین کو بچانے کیلئے میدان میں آگئے ۔لیکن آئندہ کیا ہونے والا ہے یہپردہ تقدیر میں ہے ، ایک طرف توجوانوں کا اور قامت کشیدہ سیاسی لیڈروں کا عزم جواں ہے دوسری طرف ظلم وستم کا کوہ گراں ہے ، ایک طرف پرچم انصاف وعدالت ہے دوسری طرف حکومت کی شان اور طاقت ہے ۔ نوجوان اور طلبہ اور ملک کے انصاف پسند شہری اس وقت کے انتظار میں ہیں جب تخت گرائے جائیں اور تاج اچھالے جائیں گے اورملک میں جمہوریت کا، انصاف کا اور سیکولرزم کا بول بالا ہوگا ، اور ہر شہری کو اس کی شہریت ملے گی اور اس کے حقوق ملیںگے ۔لیکن شاید اس کے لئے ا بھی بہت قربانیاں دینی ہوں گی اور بہت انتظار کرنا ہوگا ۔ایمان تقوی اور صبر تینوں سے مل کر کامیابی اور سرخروئی کا نسخہ تیار ہوتا ہے ۔
مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات ۔ ہمارے ملک کی مذہبی قیادت ’’الار ‘‘ کی شکارہے ۔پہلے جب بیل گاڑی چلتی تھی یا گھوڑا گاڑی تو گاڑی بان سواریوں سے کہتا تھا داہنی طرف الار ہورہا ہے بائیں طرف آجائیے اور وہ کبھی بائیں جانب بیٹھے ہوئے سوار کو دائیں جانب جانے کو کہتا ۔ہماری مذہبی قیادت بھی ایک جانب جھکی ہوئی ہے ۔قرآن کے مطالعہ سے اور سیرت نبوی کے مطالعہ سے دین کا جومزاج سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ صرف مسلمانون کی اصلاح کی فکر نہیں ہونی چاہئے بلکہ تمام بنی نوع انسان کی عاقبت بخیر ہونے کی فکر کی جانی چاہئے ، مسلمانوں کو خیر امت اس لئے کہا گیا تھا کہ ان کو تمام بنی نوع انسان کے لئے مبعوث کیا گیا تھا (اخرجت للناس )مسلمان علماء نے معنوی ور عملی تحریف کرڈالی اور اسے اخرجت للمسلمین کا مرادف سمجھ لیا ۔تمام انبیاء کرام کے بارے میں آیا ہے (وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لہم) یعنی ہم جو بھی رسول بھیجے وہ لسان قوم میں بات کرنے والے تھے تاکہ وہ قوم کے سامنے حق واضح کریں ۔ لیکن ہم نے ہزاروں مدارس قائم کئے جو صرف ایسے علماء تیار کرتے تھے جو لسان المسلمین میں صرف مسلمانوں کو خطاب کرنے کے لائق تھے۔جتنی مسلمانوں کی جماعتیں ہیں وہ صرف مسلمانوں کے درمیان کام کرتی ہیں اور برادران وطن سے ان کا رابطہ ٹوٹا ہوا ہے ۔علماء کو ۱۵ ۔۱۶ کروڑ مسلمانوں کی بہت فکر ہے اور سوکروڑ اللہ کی مخلوق کی کوئی فکر نہیں۔ ایک شخص کے تین بیٹے ہوں ایک صحت مند ہو ( مسلمان کی تمثیل)دو بیمار ہوں ( کافر اور مشرک) تو کیا اس کے لئے درست ہوگا کہ وہ بیمار بیٹوں کے علاج کی فکر نہ کرے اور ان سے لا پرواہ ہوجائے ۔یقین کرنا چاہئے کہ آج جو حالات پیش آرہے ہیں وہ ہماری صدیوں کی غلطیوں کاشاخسانہ ہیں ہمارا انداز اور طرز فکر مزاج نبوی کے خلاف ہے ۔علماء دین اور علوم مذہی کا جمہور اعظم صحیح اور اہم طرز فکر سے دور ہے ،اس وقت برادران وطن کو دین کی دعوت دینے سے پہلے ان کو خدمت خلق یا کسی اور عنوان سے اسلام اور مسلمانوں سے مانوس کرنیکی ضرورت ہے۔اور یہ اس لئے کہ قرن اول میں کافروںاور مشرکوں کے ساتھ رشتہ داریاں بھی تھیں تعلقات باہمی بھی تھے لسان قوم بھی مشترک تھی ، اب صدیوں سے سارے مراسم اور تعلقات ٹوٹ چکے ہیں لسان قوم کا بھی اشتراک نہیں ۔ اسلئے اب پہلی فرصت میں Mass Contact کا پروگرام بنانا چاہئے اور ان کے دلوں کو جیتنے کی کوشش کرنی چاہئے ان کے ذہن ودماغ میں حسن سلوک کے ذریعہ(ادفع بالتی ہی احسن) یہ تصور جاگزیںکردینا چاہئے کہ مسلمان اچھا شہری ،ایک اچھا پڑوسی، ایک اچھا انسان ہوتا ہے، شریف خوش اخلاق مہذب اور شائستہ۔ہم نے یہ کام صدیوں سے نہیں کیا ہے۔صحیح مزاج دین سے دوری پر ماہ وسال کی سیکڑوں گردشیں پوری ہوچکی ہیں،اسلئے دشمن عناصر کو یہ موقع مل گیا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کازہر برادران وطن کے رگ وپے میں اتار دیں ۔عقائد اسلام کو پیش کرنے اور دلائل کے ساتھ اسے ثابت کرنے کے ساتھ رابطہ ستوار کرنے کا کام ضروری ہے ،شہریت ترمیم ایکٹ کے خلاف سب مذہب وملت کے لوگ مل کر جو احتجاج کرہے ہیں یہ بہت خوش آئند بات ہے ۔اس وقت سب سے اہم کام یہی ہے کہ مسلمانوں کی تنظیموں اور جماعتوں کے اس ’’الار‘‘ کواور اس غیر معتدلانہ مزاج کو ختم کیا جائے اور لسان قوم والے علماء سامنے آئیں ۔برادران وطن کی غلط فہمیاں دور کی جائیں ۔ہر مسلمان تنظیم کو چاہئے کہ اس کام کا اپنے یہاں شعبہ قائم کرے ۔تاکہ مسلمان جماعتوں کا ’’ الار ‘‘ ختم ہوسکے ۔مسلمانوں کے سلسلہ میں موجودہ حالات میں کاموں کے بہت سے اہم منصوبے ہوسکتے ہیں ، لیکن اگر یہ طویل مدتی منصوبہ دوسرے مختصر مدتی منصوبوں کے ساتھ اگر اختیار نہیں کیا گیا تو ہم ہمیشہ ناکام اور نامراد رہیں گے اور دوسروںکے ظلم وستم کا ماتم کرتے ر ہیں گے۔مسلمان امت عقیدہ کی گمراہی پر جمع نہیں ہوئی ہے لیکن مزاج دین سے اس دوری پر اس کا افسوسناک ’’اجماع ‘‘ ہوچکا ہے ۔جن ملکوں میں مسلمان ۸۰۔۹۰ فی صدی کی اکثریت میں ہوں وہاں یہ مزاج درست ہوسکتا ہے لیکن جہاں چاروں طرف غیر مسلموں کا عددی غلبہ ہو وہاں صرف مسلمانوں کے درمیان کام کرنا انبیائی طریقہ نہیں ہے ۔اگر یہ ضروری کام نہیں انجام پایا تو منزل مقصود ہمیشہ مفقود رہے گی ۔
Comments are closed.