بھارت جوڑو: دیوانہ کا خواب

زین شمسی

راہل گاندھی نے براہ راست سنگھ سے پنگا لیا۔ آج سے ہی نہیں منموہن سنگھ کے زمانہ سے ہی وہ جلسے جلوس میں آر ایس ایس اور ملک کے بڑے صنعت کاروں کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے ہیں۔ ملک میں فرقہ وارانہ ماحول کے بگاڑ میں شدت کی وجہ وہ آر ایس ایس کو گردانتے ہیں تو ملک میں بے روزگاری اور بدعنوانی کا سبب سنگھ اور صنعت کاروں کی مل بھگت میں تلاش کرتے ہیں۔

اب یہ ان کی سیاسی ناسمجھی ہے یا پھر سیاسی بصیرت کہ جہاں ان کے اس موقف سے نام نہاد راشٹر بھکت ناراض ہوٸے تو وہیں ان ہی کی پارٹی میں چھپے نام نہاد کانگریسی بھی تلملا گٸے۔ متعدد کانگریسیوں نے حیلہ بہانہ بنا کر پارٹی چھوڑی تو کٸی کانگریسیوں نے ” لوٹی وہیں پرخاک جہاں کا خمیر تھا“ کے مصداق سنگھ میں واپسی کر لی۔ چنانچہ کانگریس کے ساتھ یہ چیلنج زیادہ سخت ہو گیا کہ ووٹرس کو متحد کریں یا لیڈروں کو منتشر ہونے سے بچاٸیں۔ کانگرس کے ساتھ یہ بھی برا ہوا کہ علاقاٸی پارٹیاں اس کے ووٹ بنک پر ڈاکہ ڈالتی چلی گٸیں۔ اب مشکل یہ ہے کہ کانگریس کے ساتھ وہ اتحاد تو کر لیتی ہیں مگر اسے اتنی کم سیٹوں پر سمٹنا ہوتا ہے کہ وہ بس عزت ہی بچا پاتی ہے تاہم کچھ ریاستوں میں کانگریس آج بھی زیادہ کمزور نہیں ہوٸی ہے اور حکومت بنانے میں کامیاب ہے۔ راہل نے حتی الامکان کوشش کی کہ وہ اپنی باتوں اور اپنے نظریوں سے بی جے پی کی لہر کند کر سکے لیکن انہیں کامیابی نہیں مل پا رہی ہے۔ اس کی وجہ ان کا سنگھ مخالف کٹر نظریہ ہی رہا ہے۔ بی جے پی نے ملک میں مسلمانوں کے خلاف جس طرح کا پروپگنڈہ اور ماٸنڈ سیٹ تیار کیا ہوا اس ماٸنڈ سیٹ میں دلتوں، بہوجنوں اور پچھڑوں کے بھی ماٸنڈ سیٹ ہو گٸے کہ کانگریس ہندو مخالف ہے اور مسلمانوں کے مفاد میں کام کرتی ہے۔ دوران الیکشن براہ راست کانگریس کے بارے میں یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ کانگریس آٸے گی تو مسلمانوں کی حکومت آ جاٸے گی۔ اب اس طرح کے ٹیگ کے باوجود اگر راہل گاندھی آر ایس ایس کے نظریہ کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہ جاتے ہیں تو اسے ان کا جرآت مندانہ قدم کہا جاسکتا ہے یا پھر ان کے سیاسی ناسمجھی۔

”بھارت جوڑو“ مہم کا آغاز کرتے ہوٸے ان کا جو موقف ہے وہ بس اتنا ہی ہے کہ ملک کی اقتصادی ، سماجی اور سیاسی حالت دگرگوں ہو چکی ہے۔ ایسے میں عوام کو اپنے ملک کے تٸیں بیدار ہو جانا چاہٸے کہ ملک کی سلامتی اور ترقی ہر آدمی کی ذمہ داری ہے۔ چونکہ بھارت میں میڈیا چند صنعتکاروں کا زرخرید غلام بن چکا ہے اور اپنے ڈبیٹ میں بھارت کو توڑنے کی حتی المقدور کوشش کررہا ہے اس لٸے بھارت جوڑو مہم اس کے نظریہ کے خلاف چلاٸی جانے والی مہم ہے۔ اس لٸے اس مہم کو دکھانا یا اس مہم سے منسلک کسی طرح کی جانکاریوں سے عوام کو آگاہ کرنا اس کے لٸے گناہ عظیم تو ہے ہی اپنے آقاٶں کی طرف سے پھیکی ہوٸی روٹی کی تذلیل بھی ہے، اس لٸے بھارت میں چلنے والی اب تک کی سب سے بڑی مہم کو بلیک آٶٹ کر دیا گیا۔ 3000کلومیٹر کا پیدل مارچ بھارت ہی نہیں دنیا کا سب سے بڑا پیدل مارچ ہے جو ملک کی 12ریاستوں سے تقریبا 5ماہ میں اپنی منزل طے کرے گا۔۔اس پیدل مارچ میں 120لوگ ہمہ وقت شامل ہیں اور جن راستوں سے یہ قافلہ گزرتا ہے وہاں کے مقامی باشندے جوق درجوق اس میں شامل ہوتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان 120لوگوں میں راہل اور کنہیا کمار کو چھوڑ کر تمام انجان چہرے ہیں۔ قافلہ کو نزدیک سے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام لوگ گھر نہیں جاتے بلکہ ساتھ میں چلنے والے کنٹینرز میں ہی کھاتے اور سوتے ہیں۔ ماہرین سیاست کا کہنا ہے کہ اس ریلی سے عوامی بیادری میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور راہل کی مقبولیت میں بھی۔ تاریخ نویسوں کا کہنا ہے کہ اتنی لمبی دوری کی ریلی آج تک دنیا کے کسی کونے میں نہیں نکلی۔ جدوجہدآزادی کے زمانہ میں بھی گاندھی جی کی قیادت میں متعدد پیدل مارچ ہوٸے مگر 12 ریاستوں میں پیدل مارچ پہلی مرتبہ دیکھا گیا۔ روزانہ 26 کلومیٹر چلنا ایک معجزہ ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر چلاٸی جا رہی مہم کانگریس کو ازسر نو زندہ کرپاٸے گی۔کیا پیدل مارچ کا ساتھ دینے والے لوگ ووٹنگ مراکز پر کانگریس کو ووٹ دینے پیدل چل کر آٸیں گے۔ کہنا مشکل ہے کیونکہ اسی بھارت میں کرونا کے دور میں عوام نے بے انتہا مشکلات کا سامنا کیا۔ بے روزگاری کا سامنا کر ہی رہے ہیں۔ مہنگاٸی روز بروز عروج پر پہنچ چکی ہے۔ لیکن عوام پر کوٸی اثر دیکھنے کو نہیں ملا اور نہ ہی سرکار کو کسی گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ آج کی سیاست مسلم مخالف سیاست ہے۔ مسلمانوں کے خلاف وہ لوگ بھی کھڑے ہو چکے ہیں جنہیں مسلمانوں نے چلنا سکھایا تھا۔آج اگر کوٸی بھی مسلمانوں کے مفاد میں یا اس کے دفاع میں کھڑا ہوگا وہ ملک دشمن قرار پاٸے گا۔ ایسے میں راہل کی بھارت جوڑو مہم دیوانہ کا خواب ہی ثابت ہوگا۔ ابھی بھارت کے ایک ہزار مساٸل ایک طرف اور گیان واپی مسجد کا مسٸلہ ایک طرف۔ اس لٸے آپ راہل گاندھی کے جذبہ کو تو سلام کر سکتے ہیں مگر ان کے بھارت جوڑنے کے نظریہ پر افسوس ہی کر سکتے ہیں اور اگر بین السطور لکھنا پڑے تو یہ لکھ سکتا ہوں کہ مسلمان بھی آر ایس ایس کے خلاف ہے اور راہل بھی ۔ مگر دونوں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے سکتے ۔ یہ بھی ایک طرح کا ماٸنڈ سیٹ ہی ہے۔

Comments are closed.