حاجی علی درگاہ اور بڑا قبرستان کی انتظامیہ کے ’کارنامے‘
اتواریہ
شکیل رشید
خبر سننے اور سنانے جیسی ہے ،اس لیے آپ لوگ بھی سن لیں ؛ عروس البلاد ممبئی کی حاجی علی کی درگاہ میں دنیا کا سب سے بڑا ترنگا لگایا جائے گا ، ترنگا کی رونمائی ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کریں گے ۔ہے نا دلچسپ خبر !
ایک خبر اور سن لیں ؛ ممبئی کے مرین لائنس قبرستان کے ، جسے بڑا قبرستان بھی کہا جاتا ہے ، گیٹ بند کر دیے گیے ہیں ،نتیجتاً جن افراد کو اپنے اعزا و اقارب کی قبروں کی زیارت کرنا ہوتی ہے انھیں دقتوں سے گزرنا پڑ رہا ہے ، وہ اسی وقت قبروں تک پہنچ سکتے ہیں جب قبرستان انتظامیہ انہیں اس کی اجازت دے ۔ یہ خبر بھی دلچسپ ہے کہ نہیں!
جی یہ دونوں خبریں دلچسپ بھی ہیں اور افسوس ناک بھی ۔ افسوس ناک اس لیے نہیں کہ ایک درگاہ پر دنیا کا سب سے بڑا پرچم لہرانے کا منصوبہ ہے ۔ افسوس ناک اس لیے کہ ، درگاہ انتظامیہ قومی پرچم کے ’بڑا ‘ ہونے کو ایک ایسے ترازو کی طرح پیش کر رہی ہے جس میں وطن سے ، مسلمانوں کی محبت کو تولا جاسکے ۔ چلیے ’بڑا ترنگا ‘ کو وطن سے محبت کی ایک علامت کے طور ہم قبول کیے لیتے ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پرچم کس کے پیسے اور کس کے روپیے سے لگایا جا رہا ہے ؟ اس سوال کا جواب ایک ہی ہے ’ درگاہ ٹرسٹ ‘ کے پیسے سے ۔ سوال یہ ہے کہ جس درگاہ میں لوگ نذرانہ اور عطیات اس لیے دیتے ہوں کہ انتظامیہ جمع ہونے والی رقم کا استعمال غریبوں اور مسکینوں کی امدادکے لیے کرے گا ، اس پیسے سے ، ان بچوں کی تعلیم کا انتظام کرے گا جو محتاج ہیں اور بیماروں کے علاج کے لیے پیسے دے گا ، اس درگاہ کی رقم کا استعمال بہت ’ بڑا ‘ پرچم لہرانے کے لیے کیسے استعمال کی جا سکتی ہے ؟ درگاہ کے ایک ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی ہیں ،یہ حضرت مخدوم علی مہائمی ؒ کی درگاہ کے بھی ٹرسٹی ہیں ، ان دونوں ہی درگاہوں کے ٹرسٹ سے ہر سال تعلیمی امداد دی جاتی تھی ،لیکن کورونا کا بہانہ بنا کر وہ امداد بند کر دی گئی ہے ۔ طبّی امداد کا حال بھی کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ اگر کوئی مدد مانگنے کے لیے جاتا ہے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ ٹرسٹ کے پاس پیسے نہیں ہیں ،کورونا کی وجہ سے کہیں سے کوئی عطیہ یا نذرانہ نہیں آیا ہے ! ہاں ! اگر معاملہ کسی تقریب کا ہو تو پیسے نکل آتے ہیں ، جیسے کہ دنیا کا سب سے ’بڑا ‘لگانے کے لیے پیسے نکل آئے ہیں ۔ یہ ہم مسلمانوں کی لیڈر شپ ہے ،اور یہ ہیں ہمارے ٹرسٹ! کیا ان سے کسی بھی طور فلاح کی کوئی امید رکھی جا سکتی ہے ؟ قطعی نہیں ۔ یہ ٹرسٹ اور یہ ٹرسٹی بس مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے اور پیسے بٹورتے ہیں ،اور اپنے سیاسی قد کو بڑھانے اور اپنے مفادات کو بچانے کے لیے،اور ان پیسوں کا ستعمال کر کے بڑے بڑے سیاسی لیڈروں کو تقریبات میں بلاتے اور ان کے آگے ہاتھ باندھتے ہیں ۔انھوں نے آج تک یہ کوشش نہیں کی کہ جو رقم جمع ہوتی ہے اُس سے کوئی اسپتال ، کالج یا کوئی مسافر خانہ بنا دیا جائے تاکہ قوم کو بھی فائدہ پہنچے اور ملک کو بھی ۔اور نہ ہی یہ کبھی ایسے کسی منصوبے پر غور کریں گے ۔ حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹی ہی کی طرح بڑا قبرستان کی انتظامیہ بھی ہے ، جو کورونا کے دور میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمانوں کو فراموش کیے بیٹھی تھی ، جو مرنے والوں کو دفن ہونے سے روکتی تھی یہ سوطے بغیر کہ انہیں بھی ایک دن مرنا اور دفن ہونا ہے ۔ کیا بڑے بڑے لیڈر بلائے جاتے تھے ! جامع مسجد ، اللہ کا گھر ، نمازیوں کا مسکن ، دعوت گاہ میں تبدیل ہو گیا تھا ۔ غیروں کے سامنے سر جھکانے والے یہ لوگ آج بھی سنبھلے نہیں ہیں ،آج بھی یہ قبرستان میں آنے والوں کو پریشان کیے ہوئے ہیں ۔ قبرستان میں اگر یعقوب میمن کی قبر ہے ، اور کوئی وہاں جاتا ہے تو اس سے اُن لوگوں کا کیا لینا دینا ہے جو اپنے اعزا ، اقارب اور والدین وغیرہ کی قبروں کی زیارت کے لیے جاتے ہیں ،کیوں اُن پر قبرستان کے دروازے بند ہیں؟ یاد رہے اللہ کے بندوں کو ستانے والے کبھی چین سے نہیں رہ سکتے ۔ بڑا قبرستان کے بہت سے معاملات ہیں ، بہت سی شکایتیں ہیں ، ان پر بھی غور کریں ،صرف سیاست دانوں کے یہ کہنے پر کہ آتنکی یعقوب میمن کی قبر کو کس نے سجایا ، ڈر کر قبرستان کے دروازے ہی نہ بند کریں۔
Comments are closed.