اسلام میں طلاق صرف ایک ضرورت ہے اوراس کااستعمال اسی کے بقدرہوناچاہیے!
مفتی احمدنادرالقاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
اسلامی اوردینی اعتبار سے طلاق کاراستہ اسی وقت اختیارکیاجاناچاہیے ۔جب زوجین کے رشتہ میں اتنی تلخی پیداہوجائے کہ اب دونوں کا ایک ساتھ زندگی بسرکرنا اورازدواجی رشتہ کوباقی رکھنا دونوں کے لئے دشوارہوجائے ۔اورتلخی کی وجہ بھی معقول ہو ۔محض ذہنی اورفکری ناہم آہنگی یااسباب زندگی میں کسی طرح کی کمی یاحسب خواہش ضرورت پوری نہ ہونے،بلاوجہ ایک دوسرے کےپسندوناپسند کو زوجین یاان کے گھروالے تلخی اورشقاق کی وجہ نہ بنائیں ۔اسی طرح زوجین ایک دوسرے پر محض کسی شک وشبہ اوربدگمانی کی بنیادپر غلط الزام لگانے سے ہرممکن بچیں ۔کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ جتنی ذمہ داریوں والاہے اتناہی نازک بھی ہے ۔اگرکسی بدگمانی اورغلط فہمی کی وجہ سےخدا نہ خواستہ دونوں میں سے کسی نےایک دوسرے پر کوئی الزام لگادیاتو زندگی بھرکےلئےدل میں بےاعتمادی کاکانٹا پیوست ہوجاتاہےجوتادم حیات نہیں نکلتا اوراس کی وجہ سے ایک طرف ازدواجی رشتہ کمزورہوتاہے تودوسری طرف زندگی کا لطف وسرور اورامنگ غارت ہوکررہ جاتاہے ۔
کبھی کبھی ان تمام چیزوں کے نہ ہونے کےباوجود مسلسل ایک دوسرے کونظراندازکرتے رہنے اورواجبی حقوق ادانہ کرنے کی وجہ سے تلخی اورشقاق میں اضافہ ہوتاچلاجاتاہے ۔اورزوجین کے درمیان خلیج اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اب رشتہ کو باقی رکھنا دونوں کے لئے مضرہوجاتاہے ۔یہ وہ ناگزیر ضرورت جہاں شریعت طلاق کے استعمال کی اجازت دیتی ہے اس کے بغیر نہیں ۔
اس بات کو کبھی فراموش نہیں کرناچاہیے کہ مردوعورت کے درمیان حلال رشتہ ازدواجی بندھن کے ذریعہ ہمیشہ باقی رہنےکےلئے قائم ہوتاہےنہ کہ جب اچھالگے باقی رکھیں ورنہ ختم کردیں ۔
افراد خاندان کی ذمہ داری :
لڑکے اورلڑکیاں شادی کےبعد جب زندگی کے ابتدائی مرحلے میں ہوتے ہیں اس وقت دونوں کے رشتے مضبوط نہیں ہوتے۔ اس لئے وہ آپسی رشتوں کی اہمیت سے بھی ناآشناہوتے ہیںبس اتنا جانتے ہیں کہ ہم دونوں کا نکاح ہوگیا ہے ۔میاں بیوی ہیں ،بات بات پر دونوں الجھتے ہیں ،بحث شروع ہوجاتی ہے،بات غصے اورطیش تک پہونچ جاتی ہے۔کبھی گھرکاماحول بھی اس میں معاون ثابت ہوجاتاہے ۔ایسے مواقع پر دونوں خاندان کے ذمہ داروں کافرض بنتاہےکہ وہ اس کو سمجھیں ۔دونوں رشتے کی قدر پہچنوانے کی کوشش اورتدبیریں کریں ۔اوران کو بتائیں کہ میاں بیوی کارشتہ اللہ کے حکم سے قائم ہوتاہے ۔اس بات کو پیش نظررکھناہمارافرض ہے ۔رشتہ محض کوئی اتفاقی چیزنہیں ہے۔اس کے ذریعہ آنے والا خاندان اورانسانوں کاگروہ وجود میں آتاہے۔اس لئے ہمیں اس کی پاس داری کرنی ہے۔
طلاق کوئی کھیل تماشے کی چیزنہیں ہے ۔آج معاشرے میں اسے ایک مذاق کی شکل بناکررکھ دیاگیاہے ۔بات بات پر مردطلاقیں دے ڈالتاہے ۔موبائل اٹھایا ،تھوڑی سی بحث وتکرارہوئی اورموبائل پرہی نہ سوچا نہ سمجھاکہ اس کاانجام کیاہوگا طلاق دے ڈالی ۔یہ کیاہے۔؟ یہ شریعت اورکتاب وسنت کے اصولوں کا مذاق نہیں ہے؟ اورپھر کبھی یوٹیوب پر توکبھی اس مفتی کے پاس توکبھی اس عالم کے پاس جاکر بچنےاور تین کوایک کرانے کی گنجائشیں تلاش کرتے پھرتےہیں ۔ایک طرف دین اورشریعت کے اصول کوپامال کرتے ہیں ۔اوردوسری طرف اپنے کرتوت کونیارنگ دینے کےلئےحیلے بازیاں کرتےہیں کہ مجھے پتہ نہیں تھا ،میں نشے میں تھا ،میں طلاق دینانہیں چاہتاتھا ،بس منہ سے نکل گیا ۔تین بار ایک ساتھ بول دیا وغیرہ وغیرہ ۔ارے بھائی جب تودینانہیں چاہتاتھاتوپھر تمہاری زبان سے تین بارہی کیوں نکلا۔اس کا صاف مطلب ہے کہ تودینابھی چاہتاتھا اوردیابھی اورتین ہی دی ۔یہ خودکواوردوسروں کودھوکہ دیناہے۔اس طرح طلاق کے حکم اورعمل کو تماشابناکررکھ دیاہے ہمارے مسلم معاشرے نے ۔جس کی وجہ سےخاندان بھی ٹوٹتاہے،بچے کی زندگی بھی تباہ ہوتی ہے اوراسلام دشمن طاقتوں کو دین کامذاق اڑانے کابھی موقعہ ملتاہے ۔ظاہر ہے ان تمام باتوں کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔
دوسری طرف ہماری شریعت میں کوئی جبربھی نہیں ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے ،میاں بیوی گھٹ گھٹ کرجیتے رہیں ،طلاق ہوہی نہیں سکتی ،شریعت میں ناگزیر حالت میں بھی الگ ہونےکا کوئی پروویزن ہی نہیں ہے۔ایسانہیں ،اس کے لئے اسلام نے طلاق،خلع اورفسخ وتفریق کا راستہ کھلارکھاہے۔اس لئے طلاق نہ تو جرم ہےاورنہ خواتین کی توہین ہے بلکہ عدم اتفاق کی صورت میں بھلے طریقے پر الگ ہوجانے کاایک آسان راستہ اورپروویزن ہےاوراگر میں یہ کہوں توغلط نہیں ہوگاکہ آج پوری دنیانے اسلام کے قانون طلاق کی پیروی کرتےہوئے اپنے اپنے یہاں طلاق کاقانون بنایاہے ۔اسلام سے پہلے کسی قانونی اورمذھبی کتاب میںیہ اصول نہیں رہاہے۔رومن لا نے بھی اسلام ہی سے استفادہ کیاہے اورآج پوری دنیامیں بغیر اسلام کانام لئے ڈیورس لا نافذ ہے۔
تین طلاق دلوانے کا غلط رواج
آج کل کورٹ اوروکیلوں کے ذریعہ ہرمہینے کے اعتبار سے ایک ایک کرکے تین طلاق دلوانے کا چلن بھی عام ہورہاہے۔
ذراسوچ کردیکھیں جب ایک طلاق رجعی کے بعد اگر تیسری ماہواری سے پہلےپہلے رجوع نہیں کیا تواسی ایک طلاق رجعی سے بائن ہوکر بیوی علاحدہ ہوجارہی ہے تو پھر دوسری اورتیسری طلاق دلوانے کی ضرورت کیاہے؟ کیایہ خواتین کی بےتوقیری (اپمان)نہیں ہے؟ یہ سب کورٹ کے ذریعہ ہورہاہے ۔یہ ٹھیک نہیں ہے، اس پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ مجھے یادہے پہلے بھی کورٹ میں یہی ہوتاتھا اوروکلا ایک ساتھ تین طلاق دلواتے تھے ۔اس کافائدہ اٹھاکر عوام نے بھی اپنے طورپر از خود ایک ساتھ تین دینے کی روش اختیار کرلی جوآج تک اسلامی تعلیمات سے دور مسلمانوں میں رائج ہےبالکل مسلمانوں کی مخالفت میں ہی صحیح مگر طلاق ثلاثہ کا بل حکومت کولانا پڑا ۔قطع نظر یادرست ہونے کے۔
محفوظ اورآسان طریقہ
بہتر وہی طریقہ ہے جو ہمارے دارالقضا میں رجوع کامنشا نہ ہونے کی صورت میں ایک طلاق بائن دلواکر زوجین کو علاحدہ کردیاجاتاہے ۔یہی ہوناچاہیے اورکورٹ میں بھی مسلم پرسنل لا کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایساہی کیاجاناچاہئے اورہمارے وکلا حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ یہی طریقہ اختیار کریں نہ کہ تین مہینے میں تین طلاق والاطریقہ اورکسی بھی معاملے میں قران کابتایاہواطریقہ یعنی صلح وصفائی کامالکیہ کی رائے کے مطابق دونوں خاندان کو پہلے ضروراورلازما اپناناچاہئے ۔ارشاد باری ہے:”وان خفتم شقاق بینھما فابعثواحکمامن أھلہ وحکمامن أھلھا۔ان یریدا اصلاحایوفق اللہ بینھما“(سورہ نسا ٢٥)اللہ تعالی ہمیں دین وشریعت کے اصول اپنی زندگی میں داخل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ہم علما اوراہل دانش کی ذمہ داری ہے کہ ہم مسلم معاشرے کو دین پر باقی رکھنے کی جدوجہد کریں اوراصلاح معاشرہ کےلئے دینی اجتماعات کریں ۔
اس ضمن میں معلوم ہواہےکہ ان دنوں ”جمعیۃ علما ہند “کی طرف سے ائمہ اورعلما کےذریعہ خواتین میں دینی بیداری پیداکرنے کی غرض سے دہلی کی تمام مسلم کالونیوں کی مساجد میں خواتین کے خصوصی اجتماعات کا اہتمام کیاجارہاہے ۔اچھی پیش رفت ہے۔ان میں بھی اس طرح کے اہم موضوعات پرگفتگو ہوتو بہتر رہے گا۔
Comments are closed.