مدارس کی حفاظت مسلمانوں پر ضروری ہے کیونکہ اسلام کی حفاظت مدارس سے ہوتی ہے
مفتی محمد عبید اللہ قاسمی، دہلی
اسلام کی حفاظت اگر مسلمانوں پر ضروری ہے اور یقیناً ضروری ہے تو پھر مدارسِ اسلام کی حفاظت بھی ان پر ضروری ہے. ان مدارسِ اسلام اور علماءِ اسلام کے ذریعے ہی ہم تک اور ہمارے گھروں تک اسلام پہنچا ہے اور پہنچ رہا ہے. ملت پر مدارس اور علماء کا بہت بڑا احسان ہے کہ ان کے طفیل ملت مسلمان باقی ہے. دنیا کے جن خطوں میں مدارسِ اسلام اور علماء ختم ہوگئے وہاں اسلام اور مسلمان ختم ہوگئے. اسپین میں صدیوں تک مسلم حکومت کے باوجود اسلام ومسلمان ختم ہوگئے. ازبکستان، بخارا جیسے علاقوں میں جو کبھی علمِ دین کے مرکز تھے جب مدارس اور علماء ختم ہوئے تو اسلام بھی تقریباً ختم ہوگیا. آج وہاں جو مسلمان ہیں انہیں دیکھ کر کوئی مسلمان نہیں کہہ سکتا ہے. یہ مسُلَمہ اور معقول وبدیہی اصول ہے کہ جو چیز ضروری ہوتی ہے اس کے اسباب وذرائع بھی ضروری ہوتے ہیں. لہذا جب اسلام ہمارے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز ہے تو اس کے ذرائع یعنی علماء اور مدارس بھی ہمارے لئے ضروری ہوئے اور علماءِ اسلام ومدارسِ اسلام کا احترام بھی ہم پر ضروری ہوا. حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا إن العلماء ورثة الأنبياء یعنی بیشک علماءِ اسلام انبیاء کے وارث ہیں. ایک اور حدیث میں آپ نے ارشاد فرمایا إنما بعثت معلما یعنی میں روئے زمین پر معلمِ اسلام بناکر بھیجا گیا ہوں.
لہذا مسلمانوں پر شرعاً وعقلاً ہر دو اعتبار سے ضروری ہے کہ وہ مدارسِ اسلام کے قیام اور ان کے تحفظ کی فکر کریں اور علماء کا احترام کریں کیونکہ علماء ومدارس ہی کے ذریعے ان تک اسلام پہنچا ہے. اگر علماء ومدارس سے عوام کا رشتہ ختم ہوگا اور علماء ومدارس پر عوام کا اعتماد کمزور مضمحل ہوگا تو عوام سے اسلام بھی رخصت ہوجائے گا. یقیناً علماء کی صف میں کچھ علماءِ سوء بھی گھسے پڑے ہیں اور یہ کمی زیادتی کے فرق سے ہر زمانے میں رہے ہیں مگر ان علماء کی تغلیط وتردید کرنا عوام کا منصب نہیں ہے بلکہ علماء کا ہی منصب ہے کیونکہ اگر عوام مذمت کرنا شروع کردے تو سارے علماء کو وہ مخدوش ونامعتبر قرار دے کر اسلام کو نقصان پہنچادے گی.
خلاصہ یہ کہ مدارس اور علماء مسلمانوں کا اسلام پر قائم رہنے کا ذریعہ ہیں لہذا ان کی حفاظت اور احترام مسلمانوں پر بہت ضروری ہے. اور یہ ضروری ہونا اس وقت اور دو چند ہوجاتا ہے جب اعداءِ اسلام مدارس کو ختم کرنے کی سازشیں بُن رہے ہوں اور شیطانی غول نوع بنوع عنوانات اور بہانوں کے تحت ان کے استیصال کے منصوبے بنارہے ہوں. ایسے وقت میں مسلمانوں کو مدارس کے بارے میں بہت بیدار، حساس اور چوکنا رہنا ہوگا اور ہر قیمت پر ان کے تحفظ کی فکر کرنی ہوگی. اس ضمن میں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ مسلمانوں کو نہ اتنے خوف میں مبتلا ہونا ہوگا کہ عقل وفکر ماؤف ہوجائے اور تدبیر کے سوتے بند ہوجائیں اور نہ اس قدر بے حس وحرکت ہوکر اطمینان کی کیفیت سے سرشار رہنا ہوگا کہ ان کی نسلوں کا سرمایہِ اسلام ہی لُٹ جائے.
مسلمانوں کو اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی طرف انابت اور توجہ اور اس سے دعاء کرنے کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے.
Comments are closed.