جہان بصیرت

جوشی کے ر ونے پر ہم کیو ں نہ ہنسیں!

اتواریہ: شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز/ سرپرست بصیرت آن لائن )
مرلی منوہر جوشی کی آنکھوں میں آنسو بھلے نہ نظر آئیں گے مگر وہ رو رہے ہیں!
پہلے تو انہیں یہ پیغام پہنچایاگیا کہ نریندر مودی او رامیت شاہ یہ نہیں چاہتے کہ وہ اس بار کانپور سے لوک سبھا الیکشن لڑیں اور پھر ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر انہیں پارٹی ٹکٹ سے محروم کرکے ان کا پتہ کاٹ دیاگیا۔ یہ دوسرا موقع ہے جب مودی نے انہیں نہ گھر کا چھوڑا ہے اور نہ گھاٹ کا ۔ پہلے انہوں نے جوشی سے ورانسی کا حلقہ چھینا اور خود وہاں سے الیکشن لڑکر پارلیمنٹ میں پہنچے۔ جوشی کو کانپور بھیجاگیاتھا جہاں سے انہوں نے ریکارڈ توڑ ۵۷ فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار مودی نے ان سے وہ سیٹ بھی چھین لی ہے او ریہ بھی واضح کردیا ہے کہ انہیں اب کہیں سے بھی ٹکٹ نہیں دیاجائے گا!
جوشی رو رہے ہیں او رمودی کو سخت سست سنا بھی رہے ہیں لیکن کوئی ان کی سن نہیں رہا ہے۔ ویسے جوشی کا رونا بڑی خوشی کی بات ہے کم از کم اس ملک کے مسلمانوں او رانصاف پسند سیکولر ہندوستانیوں کےلیے۔ ایک زمانے میں انہو ںنے ’رام رتھ یاترا‘ سے اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کو خوب رلایا تھا۔ مجھے ان کے چہرے کی وہ ہنسی آج تک نہیں بھولی ہے جو ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے روز ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت کے بعد ان کے لبوں پر نظر آئی تھی۔ میں وہ منظر بھی نہیں بھلا سکا ہوں، جو اس منحوس او رکالے دن کا کریہہ ترین منظر تھا، انتہائی گھنائونا اور انتہائی فحش۔ ادھر بابری مسجد شہید ہوئی اور ادھر سادھوی اوما بھارتی، مرلی منوہر جوشی کے کندھوں پر لد گئیں۔ اوما بھارتی کے چہرے پر بھی ہنسی تھی او رجوشی کے چہرے پر بھی ۔ یہ ہنسی جمہوری ہندوستان میں جمہوریت او رسیکولر ازم کی شکست پر تھی، مسلمانوں کی تذلیل پر تھی اور اپنے اس ’جھوٹ‘ کو سچ ثابت نہ کرپانے کے باوجود بھی کہ بابر ی مسجد کی جگہ ہی رام للّا پرکٹ ہوئے تھے، بابری مسجد کو شہید کرنے پر تھی۔
جوشی اور اوما بھارتی کی وہ ہنسی سارے ہندوستانیوں کے چہروں پر ایک طمانچہ تھی ۔ نفرت اور خبث سے بھری ہنسی جنہیں بھی یاد ہوگی وہ آج جوشی کی بے بسی پر ہنس رہے ہوں گے او رانہیں ہنسنا بھی چاہئے۔ ’ہندو راشٹر‘ کی نیو ڈالنے میں جوشی پوری طرح اڈوانی کے ساتھ تھے لہذا انجام بھی اڈوانی ہی جیسا ہوا ہے۔ اوما بھارتی کو بھی ٹکٹ اس بار نہیں ملنا تھا اس لیے انہوں نے خود ہی سے یہ کہہ کرکہ مجھے اس بار الیکشن نہیں لڑنا ہے خود کو ذلیل ہونے سے ایک حد تک بچا لیا ہے۔لیکن ذلیل تو انہیں ہرحال میں ہونا ہے۔ اللہ کی سنت ہے کہ وہ ظالموں کو نہیں بخشتا ہے او ربابری مسجد کی شہادت ظلم عظیم تھا، اس کے بعد فسادات میں بے گناہوں کا خون بھی ظلم عظیم تھا۔ اللہ کی پکڑ آگئی ہے، جو بچے ہیں ان پر بھی پکڑ آئے گی۔ وہ خود کو محفوظ نہ سمجھیں۔ ہم سب کو چاہئے کہ ان ظالموں کی ذلت پر ان کی مکروہ ہنسی کو یاد کریں، اور زور زور سے قہقہے لگائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker