ماہ ذی الحجہ اور قربانی کے مسائل
ترتیب : مفتی ریاض احمد قاسمی
استاد حدیث وفقہ : جامعہ رحمانی مونگیر
مبائل : +917079707529
یکم ذی الحجہ سے نویں ذی الحجہ تک دن میں روزہ رکھنا اور رات میں حسب توفیق عبادت میں مشغول رہنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت پسندیدہ اور مقبول عمل ہے۔
خصوصاً نویں ذی الحجہ کا روزہ رکھنے سے اگلے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
جو قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لئے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹے، اور جو قربانی کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اس کے لئے اجازت ہے، البتہ نہ کاٹے تو بہتر ہے۔۔۔۔۔اس لئے 29 ذی قعدہ سے پہلے ناخن اور بال بنالینا چاہیے۔
نویں ذی الحجہ کی فجر سے لے کر تیرھویں ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ مرد کے لیے زور سے اور عورت کے لئے آہستہ تکبیر تشریق۔۔۔ اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھنا واجب ہے، اگر کسی وجہ سے چھوٹ جائے تو توبہ استغفار کرے۔تنہا اس کی قضاء نہیں ہے۔
دس ذی الحجہ کو بقرعید کا دن ہے، اس کے لئے غسل کرے، اچھے کپڑے پہنے، خو شبو لگاےاور دورکعت عیدالاضحی کی واجب نماز چھ زاید تکبیروں کے ساتھ باجماعت ادا کرے۔نمازکے لئے جاتے آتے بلند آواز سے تکبیر تشریق پڑھتا رہے۔
جو آج قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لئےمستحب ہے کہ ابھی کچھ نہ کھاے، اپنی قربانی کے گوشت سے کھانا شروع کرے۔اور جو ارادہ نہ رکھتا ہو، اس کے لئے بھی یہ بہتر ہے۔لیکن گیارہ یا بارہ تاریخ کو قربانی کرے، تواس دن قربانی سے کھانا شروع کرنامستحب نہیں ہے۔اس سے پہلے کھا پی سکتا ہے۔
قربانی کے دنوں میں سب سے افضل عمل قربانی کرنا ہے، اسلئے جس پر قربانی واجب ہو، وہ قربانی کرنے کی پوری کوشش کرے، اس میں سستی یا بہانہ بازی گناہ اور بڑی محرومی ہے۔
جو صاحب نصاب ہو، یعنی اپنی ضروریات زندگی، مثلاً مکان، بقدرمعاش کھیتی باڑی، گھریلو سامان، استعمالی کپڑے، گاڑی اور کمانے کے اوزار وآلات، اور واجب الادا قرض کے علاوہ بقول حضرت مفتی شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ 612 گرام 360 ملی گرام چاندی، یا اس کی قیمت کے بقدر نقد یا سامان کامالک ہو، تو اس پر قربانی واجب ہے۔
اکثر خواتین کے پاس اتنی مالیت کے بقدر سونے چاندی کے زیورات ہوتے ہیں، ان پر بھی قربانی واجب ہے، اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
قربانی کا وقت دس ذی الحجہ کی فجر سے بارھویں ذی الحجہ کے غروب تک ہے، لیکن جہاں عید کی نماز ہوتی ہو وہاں نماز سے پہلے قربانی جائز نہیں ہے اور رات میں قربانی بہتر نہیں ہے۔
قربانی کے لئے کم از کم ایک سال کاصحیح سالم بکرا،بکری، بھیڑ، بھیڑی، دنبہ، دنبی، یا دوسال کا بیل، گاے، بھینسا، بھینس، یا پانچ سال کا اونٹ اونٹنی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کسی جانور کی قربانی درست نہیں ہے۔
جو جانور نمایاں طور پر عیب دار ہو، مثلاً اتنا لنگڑا ہو کہ چل کے قربانی کی جگہ تک نہ آسکے، یا اندھا کانا ہو، یانصف یا اس سے زیادہ کان،یا دم کٹی ہوئی ہو، یا سینگ جڑ سے اکھڑا ہوا ہو، یا چھوٹے جانور کا ایک تھن اور بڑے جانور کے دو تھن خراب ہوں، یا اتنا دبلا ہوکہ ہڈیوں پرگوشت نہ ہو، یا اتنے دانت نہ ہوں، جن سے چارہ کھا سکے، یا گوشت تک پہنچا ہوا گہرازخم ہو،تو اس کی قربانی درست نہیں ہے۔
جس جانور کے پیدائشی طور پر کان چھوٹے چھوٹے ہوں، یا شروع ہی سےکان نہ ہوں، یا اوپر سے سینگ ٹوٹا ہوا ہو، یاشروع ہی سے سینگ نہ ہو، یابدن میں کہیں مسہ یا گلٹی ہوجس کا اثر اس کی صحت پر ظاہر نہ، یا زخم کا نشان ہو، یا اوپر اوپر ہلکا پھلکازخم ہو،یا بانجھ۔۔۔بہیلا۔۔۔ہو، تواس کی قربانی جائز ہے۔
قربانی کے جانور کو قبلہ رخ لٹا کر تیز چھری سے اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا مستحب ہے۔
ذبح کے وقت قربانی کی نیت کرنا اور بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے، اور قربانی کی دعا پڑھنا مستحب ہے، زبانی یاد نہ ہو تو دیکھ کر بھی پڑھ سکتے ہیں، وہ بھی نہ ہو تو صرف بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ لینا کافی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی سے قبولیت کی دعا کر لی جائے۔
موجودہ حالات میں اپنی قربانی خود کر لینی چاہیے۔ کسی خاص آدمی کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
قربانی کے گوشت میں سے کم از کم ایک تہائی غرباء اور مساکین کو دینا، یا کھلانا مستحب ہے، باقی رشتے داراور احباب کو دینا،پکاکرکھلانا، خود کھانا ، اور جو بچے اسے رکھ آئندہ کے لیے رکھ دینا سب جائز ہے۔
قربانی کے چمڑے کو سوکھا کرخود استعمال کرنا، کسی دوسرے امیر یا غریب کو دے دینا، اسے دے کربدلے میں کوئی باقی رہنے والی استعمال کی چیز کپڑا، برتن،وغیرہ لےلینا، اسے بیچ کر قیمت صدقہ کرنا، مدرسے میں دینا، سب جائز ہے۔ جب تک ان میں سے کوئی صورت ممکن ہو، دفن کرنا مناسب نہیں ہے۔
قربانی کا گوشت یا چمڑہ غیر مسلم کو بھی دینا جائز ہے۔
چھوٹا جانور ایک آدمی کی طرف سے اور بڑا جانور سات آدمی کی طرف سے قربان کیا جا سکتا ہے۔اور بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ بھی رکھنا درست ہے۔
میت کی وصیت کی قربانی کا سارا گوشت غرباء اور مساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے، قربانی کرنے والے اور صاحب نصاب کے لئے اس میں سے کھانا جائز نہیں ہے۔
قربانی کے تینوں دن گذر جائیں اورکوئی صاحب نصاب قربانی نہ کرسکے، تو اوسط درجہ کے چھوٹے، یابڑے جانور کی جو قیمت ادا کرتے وقت ہو، وہ صدقہ کرنا واجب ہے، بڑے جانور کے ساتویں حصے کی قیمت صدقہ کرنا کافی نہیں ہے۔
جس پر قربانی واجب ہے، اس کے لئے پہلے ہی سے قربانی کے بجائے صدقہ کرنے کا ذہن بنانا، اور قربانی کی کوشش میں نرمی برتنا گناہ اور بڑی محرومی ہے، خواہ وجہ کرونا ہو، یاجوبھی ہو۔
Comments are closed.