بلاتفریق مذہب ومسلک انسانیت کی خدمت امارت شرعیہ کی اپنی پہچان ہے: مفتی محمد سہراب ندوی

کشن گنج(پریس ریلیز)

امارت شرعیہ کا نظام ملت کی ہمہ جہت خدمات پر مشتمل ہے،سماجی انصاف کو عام کرنے،ملی اتحاد کو مستحکم بنانے ،بنیادی دینی تعلیم اور معیاری عصری تعلیم کو فروغ دینے اور معاشرتی اصلاح پر توجہ دینے کے ساتھ امارت شرعیہ کا ایک بڑا کام بلاتفریق مذہب ومسلک انسانیت کی خدمت ہے، چنانچہ جب اور جہاں بھی انسانیت پر کوئی اوفتاد پڑی لوگ کسی زمینی وآسمانی آفات ومصائب کے شکار ہوئے یا کسی دوسری جہت سے انسانی جان ومال کو نقصان پہونچایاگیا تو امارت شرعیہ نے پورے ملک کے اندر بلاتفریق مذہب ومسلک انسانیت کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اوراس کو بڑا کار ثواب سمجھا،آسام ہو یا گجرات،کشمیر ہو یا پنجاب ،نوح میوات ہو یایوپی بہارکے مختلف مقامات پر پیش آنے والے سانحات،ہرموقع پر امارت شرعیہ کے خادموں نے جائے حادثہ پہونچ کر مصیبت زدگان کا آنسو پوچھنے اوران کو راحت پہونچانے کا کام کیا،ابھی گذشتہ اگست ستمبر میں پنجاب کے بھیانک سیلاب نے جو تباہی مچائی اس نے ہر درد مند انسان کو جھنجھور کر رکھ دیا،امارت شرعیہ کے امیر شریعت مفکرملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ اورناظم امارت شرعیہ مولانامفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب نے آپسی مشورہ سے ۱۵؍افراد پر مشتمل ایک مضبوط ریلیف ٹیم پنجاب روانہ کیا،جس نے لمبے وقفہ تک قیام کرکے دریائے راوی اور دریائے توی کے کنارے سیکڑوں گوجر خاندان ،سکھ بھائی ودیگر برادران وطن جن کے گھر پانی میں بہہ گئے اور وہ بے گھر کھلے آسمان کے نیچے زندگی گذاررہے تھے ان کو راحت پہونچانے اوران کی بازآبادکاری میں تعاون دینے کی بڑی خدمت انجام دی،اس لئے امارت شرعیہ سے تعلق رکھنے والے اوراس کی فکر سے وابستہ ہرفرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمیشہ انسانیت کی خدمت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیںاور مذہب ومسلک کے فرق کے بغیر اس کام کے انجام دینے کو بڑی عبادت سمجھیں، ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم وقائد وفد جناب مولانامفتی محمد سہراب ندوی قاسمی صاحب نے رات ٹھاکرگنج بلاک کی مشہور آبادی مرچان کی وسیع جامع مسجد میں بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مفتی صاحب نے وفد کے اس دورہ کے مقاصد اوراس کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔دارالافتاء امارت شرعیہ کے رفیق جناب مولانا مفتی عقیل اختر قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں میراث کی ادائیگی میں خواتین کی حق تلفی کی شناعت اوراس کی وجہ سے جہیز کی بڑھتی لعنت پر حدیث وقرآن کی روشنی میں مدلل گفتگوکی،انہوں نے کہاکہ اس وقت یونیفارم سول کوٹ کو جس طرح مختلف ریاستوں میں نافذ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اگر ہم نے خود اپنی شریعت پر عمل کا مضبوط فیصلہ نہیں کیا تواحکام شریعت کی حفاظت مشکل ہوگی۔جناب مولاناوصی احمد قاسمی قاضی شریعت ٹیڑھا گاچھ نے بنیادی دینی تعلیم کے نقطہ نظر سے ہرگھر کو مکتب بنانے اورہرمسجد میں بنیادی دینی تعلیم کے نظام کو منظم طورپر چلانے کی تلقین کی اورکہاکہ یہ کام والدین کے ذمہ محض واجب اورمستحب نہیں بلکہ فرض عین ہے۔دارالقضاء پواخالی کے قاضی شریعت مولانافضل اللہ قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کے نظام قضاء اورضلع کشن گنج میں قائم تینوں دارالقضاء کی خدمات ،افادیت پر روشنی ڈالی اورکہاکہ ہمارے ایمان کی حفاظت مال کی سلامتی اورعزت وآبرو کے تحفظ کی سب سے آسان راہ یہ ہے کہ ہم ہرسول معاملے کو اوراپنے گھریلو جھگڑوں کو شرعی دارالقضاء میں پیش کریں،تاکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں انصاف پاسکیںاور اپنی شریعت کی حفاظت بھی کرسکیں۔جناب مولانا سعوداللہ رحمانی مبلغ امارت شرعیہ نے نظامت کی ذمہ داری نبھائی اور تمہیدی خطاب میں امارت شرعیہ کی وسیع خدمات کا تعارف کرایا۔اس سے قبل دن کا پروگرام بندرجھولاکی آبادی میں منعقد ہوا،جہاں قائد وفد اور ارکان وفد نے خاص طورپر اتحاد کی ضرورت ،شریعت کی حفاظت کے لئے اس پر عمل کی اہمیت اور دینی تعلیمی نظام کو مستحکم بنانے کی طرف حاضرین کو متوجہ کیا، دونوں اجلاس ہراعتبار سے کامیاب رہے ۔جناب مولانا رئیس اعظم رحمانی صاحب مبلغ امارت شرعیہ نے دونوں اجلاس کے نظم وضبط کو سنبھالا۔

Comments are closed.