’’پرسنل لا کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ہم شریعت کو اپنی زندگیوں میں نافذکریں۔‘‘:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
ندوۃ العلماء میں دو روزہ تفہیم شریعت ورک شاپ کا آغاز
لکھنؤ:19؍مئی(محمد نفیس خان ندوی) آج میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام کی تعلیمات کو بدنام کرنے اور ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، خاص طور پر ہمارے نوجوانوں کو نشانہ بنا کر انہیں گمراہ کیا جا رہا ہے۔ یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایسے گھرانوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں جہاں دین کا چرچا ہوتا ہے اور مذہبی پس منظر پایا جاتا ہے، مگر ان کے ذہنوں میں غلط فہمیاں بٹھائی جا رہی ہیں۔ ان غلط فہمیوں کو دور کرنا اور ان کے دل و دماغ کو مطمئن کرنا ہم علماء کی ذمہ داری ہے، اور یہ کام محض حکمت اور مجادلۂ حسنہ ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کیا۔
آج ندوۃ العلماء میں پرسنل لا بورڈ کے زیرِ اہتمام دو روزہ ’’تفہیمِ شریعت ورک شاپ‘‘ کا آغاز ہوا۔صدر پرسنل لا بورڈ نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے دعوت کے کام میں ہمیشہ تدریج اور مخاطب کی ذہنیت کا خیال رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اہلِ مکہ سے خطاب فرمایا تو ان کی نفسیات کے مطابق اسلام قبول کرنے پر پورے عرب کی حکمرانی کی بشارت دی، جبکہ اہلِ مدینہ کو مخاطب کیا تو ان کے باہمی انتشار کو ملحوظ رکھتے ہوئے اتحاد و بھائی چارے کی خوش خبری سنائی۔ اسی طرح جب حضرت معاذؓ کو اہل یمن کے پاس روانہ فرمایا تو دعوت میں تدریج کا خیال رکھنے کی تلقین فرمائی۔انہوں نے مزید کہا کہ تفہیمِ شریعت کے لیے ضروری ہے کہ ہم مخاطب کی ذہنی سطح اور اس کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
افتتاحی نشست کا آغاز قاری بدرالدجیٰ فرقانی کی تلاوت سے ہوا، ان کے بعد محمد کیف اور ان کے رفقاء نے ترانہ ندوہ پیش کیا۔
مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی (کنوینر تفہیم شریعت کمیٹی)نے موضوع کی اہمیت و نزاکت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تفہیمِ شریعت کا کام انتہائی بنیادی اور وقت کی اہم پکار ہے۔ آج ملک میں جو حالات پیدا کیے جا رہے ہیں اور اسلام کو جس طرح بدنام کیا جا رہا ہے اور اس کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، وہ نہایت تشویش ناک ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ برادرانِ وطن تو اپنی جگہ، ہمارا وہ طبقہ بھی جو ’’مثقف‘‘ اور ’’انٹیلیکچول‘‘ کہلاتا ہے وہ بھی حقیقت اسلام سے بڑی حد تک ناواقف ہے۔ ان حالات میں ایسے پروگراموں کی سخت ضرورت ہے جن میں لوگوں کے سامنے اسلام کے حقائق پیش کیے جائیں، خصوصاً اس طبقے کو مدعو کیا جائے جو فکری اور علمی حلقوں سے وابستہ ہے، تاکہ ان کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر آ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف مسلمانوں ہی کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا اہم تقاضا ہے؛ اس لیے کہ آج پوری دنیا، بالخصوص ہمارا ملک، جن مسائل اور بحرانوں سے دوچار ہے، ان کا حقیقی حل صرف اسلام کے پاس ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو کتابوں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اس کی عملی ترجمانی بہت کم نظر آتی ہے۔
پروگرام کا افتتاحی خطاب مولانا عتیق احمد بستوی نے کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ احکامِ شریعت مکمل طور پر حکمت، عدل اور رحمت پر مبنی ہیں، بلکہ ان کا مقصد انسانیت کی ضروریات کی تکمیل اور فلاح ہے۔ اگر کوئی چیز غیر مصلحت آمیز، غیر حکیمانہ یا انسانیت کے لیے زحمت اور پریشانی کا باعث ہو، تو وہ کسی بھی قیمت پر شریعت کا حصہ نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی شریعت کے محاسن کو ملک گیر پیمانے پر پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ آج اسلام کے سلسلے میں جو مسلسل غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، وہ بڑی حد تک ہماری کوتاہی کا نتیجہ ہیں۔ ہمیں لوگوں تک اسلام کے حقائق پہنچانے ہوں گے، اور یہ کام حکمت، پیار، محبت اور بہترین اندازِ گفتگو ہی کے ذریعے ممکن ہے۔
اس نشست میں کلیدی خطاب مولانا خالد غازیپوری ندوی نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے، اور دین کا صحیح فہم انسان کو ذلت و رسوائی سے نکال کر عزت و سربلندی تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ تفہیمِ شریعت ہی کے ذریعے معاشرے سے ہر قسم کی برائی، فتنہ اور فساد کو دور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فہم اور تفہیم دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اگر دین کا صحیح فہم نہ ہو تو عبادات بھی اپنی حقیقی روح کھو بیٹھتی ہیں۔ اس لیے عوام تک یہ پیغام پہنچانا ضروری ہے کہ جب تک دین کا صحیح فہم حاصل نہ ہو، نہ نماز درست طور پر ادا ہو سکتی ہے اور نہ روزہ صحیح معنی میں رکھا جا سکتا ہے؛ کیونکہ فہم کے بغیر ان احکام پر صحیح طور پر عمل کرنا ممکن نہیں۔
اس نشست میں اہم خطاب مولانا فضل الرحیم مجددی نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں پرسنل لا بورڈ کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پرسنل لا بورڈ کے خلاف ایک منظم کوشش جاری ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کو پرسنل لا کے تعلق سے بدظن کرنا ہے۔ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ، جو عصری تعلیم یافتہ ہے، حتیٰ کہ وکلاء بھی، یا تو پرسنل لا بورڈ سے واقف نہیں ہیں یا اس کے بارے میں غلط معلومات رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے، جبکہ دنیا ایک ’’گلوبل ولیج‘‘ بن چکی ہے، چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے پرسنل لا اور قانونِ شریعت سے دور کرنے کے لیے ایک گہری سازش چل رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک منظم کوشش کے تحت مسلمانوں کا صرف نام اسلامی باقی رکھا جائے، انہیں نماز اور روزہ کی اجازت تو ہو، لیکن ان کی معاشرتی زندگی سے اسلام اور شریعت کو نکال دیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جن میں حلال کو مشکل اور حرام کو آسان بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ شریعت اسلامی کو مسلم عوام کے سامنے مؤثر اور حکیمانہ انداز میں پیش کریں۔
یہ افتتاحی نشست صدر بورڈ کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی، جس کے بعد محاضرات کی پہلی نشست کا آغاز ہوا۔اس نشست میں مہان خصوصی کے طور پر مولاناعمار عبدالعلی ندوی، مولانا عبدالعزیز بھٹکلی ندوی، مولانا کمال اختر ندوی ، مولانا خلیق احمد ندوی اور ڈاکٹر شعیب قریشی موجود تھے۔
محاضرات کی پہلی نشست میں دومحاضرے پیش کیے گئے ؛ایک ’’نفقہ مطلقہ ‘‘سے متعلق جبکہ دوسر’’ا تعدد ازدواج ‘‘سے متعلق۔
نظامت کے فرائض مولانا سلمان نسیم ندوی نے انجام دیے۔ انہوں نے اپنی تمہیدی گفتگو میں دونوں موضوعات کے اہم نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں مسائل کو اسلامی قانون کی نارسائی اور صنفِ نازک پر ظلم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں قوانین پوری انسانیت کے لیے سراپا رحمت ہیں، اور اس حقیقت کو ہم آئندہ محاضرات میں بخوبی سمجھ سکیں گے۔
پہلا محاضرہ مفتی نصراللہ ندوی نے پیش کیا، جس کا موضوع ’’نفقۂ مطلقہ‘‘ تھا۔ موصوف نے اپنے محاضرے میں کہا کہ آئینِ ہند میں مسلمانوں کو 1937ء کے شریعت اپلیکیشن ایکٹ کے تحت پرسنل لا کے مسائل میں اسلامی شریعت پر عمل کرنے کی آزادی دی گئی ہے، بلکہ عدالتوں کو بھی اس کا پابند بنایا گیا ہے کہ جب دونوں فریق مسلمان ہوں تو پرسنل لا کے مسائل میں شریعت کے مطابق فیصلہ کریں۔ لیکن آزاد ہندوستان میں کئی مواقع ایسے آئے جب عدالتوں نے اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا، اور یہ محسوس ہوا کہ جج حضرات آئین کے مطابق فیصلے کرنے کے بجائے خود آئین میں مداخلت کرنے لگے۔ اس کی ایک واضح مثال شاہ بانو کیس ہے۔
انہوں نے نفقۂ مطلقہ کے مسئلے پر شریعت اور فہمِ شریعت کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے نفقہ کے مفہوم کو واضح کیا، اور عدالت کی جانب سے اس کی جو غلط تشریح کی گئی ہے، اس کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ موصوف نے یہ بھی کہا کہ جہاں کہیں بھی اس مسئلے میں تساہل برتا گیا ہے، وہاں اس کے سنگین نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ آج مغربی معاشرے میں نفقۂ مطلقہ استحصال کا ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ اسلام کا پیش کردہ نظام خیر و عافیت اور عدل و توازن کا ضامن ہے۔
دوسرے محاضرے کا عنوان ’’تعددِ ازدواج‘‘ تھا، جو مولانا محمد اسعد ندوی نے پیش کیا۔موصوف نے تعددِ ازدواج کو مذہبی، سماجی اور اخلاقی تینوں پہلوؤں سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مذہب، خواہ سناتن دھرم ہو، یہودیت ہو یا مسیحیت، ایسا نہیں جس میں تعددِ ازدواج کی مثالیں موجود نہ ہوں۔ ہندو دھرم کے بڑے دیوتاؤں کے بارے میں بھی کثرتِ ازدواج کے شواہد ملتے ہیں، اسی طرح یہودی پیغمبروں کی بھی متعدد بیویاں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر مردوں اور عورتوں کی شرحِ پیدائش تقریباً یکساں ہوتی ہے، لیکن شرحِ اموات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ مختلف جنگوں میں عموماً مرد ہی بڑی تعداد میں ہلاک ہوتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں ہلاک یا معذور ہونے والے مردوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ گئی تھی۔ جرمنی میں ایک طویل عرصے تک ایک مرد کے مقابلے میں تین عورتیں موجود تھیں۔ اسی طرح جیلوں میں بھی عموماً مردوں کی تعداد زیادہ پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی سماجی ضرورت ہے جس میں تعددِ ازدواج معاشرتی توازن قائم رکھنے کا ایک ذریعہ بنتا ہے۔ اگر اس کا دروازہ بند کر دیا جائے تو معاشرے میں نہ صرف اخلاقی فساد اور بے راہ روی پھیلے گی بلکہ خاندانی نظام بھی تباہی سے دوچار ہو جائے گا۔
محاضرات کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی، جس میں مندوبین نے مختلف سوالات کیے اور محاضرین نے تشفی بخش جوابات دیے۔آخر میں صدرِ مجلس مولانا فضل الرحیم مجددی کا خطاب ہوا، جس میں آپ نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگراموں کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ دینِ اسلام کے صحیح فہم کو عام کرنا اور شریعتِ اسلامی کے تعلق سے پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علماء، دانشوروں اور نوجوانوں کو مل کر اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ معاشرہ فکری انتشار اور اخلاقی گمراہی سے محفوظ رہ سکے۔صدر صاحب ہی کی دعا پر اس نشست کا اختتام ہوا۔
Comments are closed.