خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں ” وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں ” ( قسط دوم )

✒️ عین ا لحق امینی قاسمی

جب اوقاف اسلامی پر حکومت کی نیت گڑ بڑ ہورہی تھی اور مختلف ایکٹ اور قانو نی داؤپیچ کے بہانے اس پر اپنا غاصبانہ ہاتھ رکھنا چاہ رہی تھی ،تب خانقاہ رحمانی کے موجودہ روح رواں مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم نے وقف سے متعلق نہ صرف اپنی بے با ک رائے کا اظہار فرمایا ،بلکہ اس مسئلے میں براہ راست پڑکر حکومت کی بدنگاہی سے اسلامی اوقاف کے تحت کھربوں کی سمپتی کو بھی ضائع ہونے سے بچایا اور حکومت کے افسروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ:
میں خود ایک بڑے وقف کا متولی ہوں ،اورایک زندہ خانقاہ کا سجادہ نشیں ہوں، ایک ایسا مسلمان ہوں جو رننگ سیاست کو سمجھتا ہوں اور اسی حیثیت سے بات کررہا ہوں ،تھوڑا بہت قانونی داؤ پیچ کو سمجھ لیتا ہوں ،لوگ بے سمتی کا شکار ہورہے ہیں اور ادھر اُدھر سے وقف کی سنی سنائی باتوں پر قانون بنانے بیٹھ جاتے ہیں ،قانون ایک بے جان چیز ہے، اُسے عمل کے لائق بنایا جانا چاہئے،وقف ایکٹ میں ہم ہر ایسی ترمیم کا خیر مقدم کریں گے جو وقف کے مقاصد اور شرعی جوازسے ہم آہنگ ہو“۔
مسلمانوں کے ذمہ دار طبقہ اور سماج کے شعور مند افراد سے بھی اس بارے میں یہ بات کہی ہے :
” ہم سبھوں کی کوشش ہونی چاہئے کہ وقف کے نئے قانون کے ذریعے اوقاف کی جائداد کی حفا ظت اور ترقی کی راہ نکالیں ،جس کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ جہاں جہاں وقف کی جائدادیں ہیں ،ان کی فہرست بنا کر ،انھیں صوبائی وقف بورڈ میں رجسٹرڈ کروائیں،(چاہے وہ کسی کے قبضے میں ہی کیوں نہ ہو)رجسٹریشن کے بعد اس کے لئے کام کرنے والے افراد کی مقامی کمیٹی وقف بورڈ کے ذریعے بنوائیں ،اس کے بعدپہلے اخلاقی اور بعد میں قانونی طور پر اس وقف جائداد کو خالی کرانے کی جد وجہد شروع کردیں اس طرح منظم طریقے پر مسلسل پروگرام بناکر نہ تھکنے والے ارادے کے ساتھ کام کیا جائے ،تو بہت بڑی اجتماعی جائداد تیار ہوجائے گی اور ملت اسلامیہ خود کفیل ہوتی چلی جائے گی“( 2013 کاترمیم شدہ وقف ایکٹ)
گزشتہ سال تین طلاق کے مسئلے پر لوک سبھااور راجیہ سبھا سے بل منظور کرواکر حکومت نے تین طلاق کو کالعدم قراردیدیا اور ساتھ ہی طلاق دینے والو ں کے لئے تین سال کی سزا سنا کر اس کے لئے جیل کو آرام گاہ بنانے کا اعلان بھی کردیا ہے ،مگر اس درمیان خانقاہ رحمانی کی طرف سے مسلسل کوشش کی گئی کہ اس بل کو منظور ہونے سے بچالیا جائے ،ایک موقع پر لوک سبھا سے منظور ہونے کے باوجود راجیہ سبھا سے پاس ہونے نہیں دیا گیا لاکھوں کی لاکھ کی تعداد میں مردو خواتین سے اس بات پر دستخط کرائے گئے کہ (۱) ہم شریعت کے قانون پر عمل کرنے کے لئے پورے طور پر تیار ہیںاور شرعی قوانین سے مطمئن ہیں (۲)ہم یونیفارم سول کوڈ نہیں چاہتے۔(۳) ہم شرعی معاملات کے اندرمسلم پرسنل لا بورڈ پر یقین رکھتے ہیںاور اس کی لیڈر شپ پر پورا اعتماد کرتے ہیں۔یہ دستخط شدہ فارم صدرجمہوریہ ہند،وومنس کمیشن اور لاکمیشن کے ای میل آڈی پر تقریباً چار کروڑ تراسی لاکھ سینتالیس ہزار پانچ سوچھیا نوے تک بھیجے گئے ،اُن دستط کرنے والوں میں دوکروڑ نولاکھ نوے ہزار چھ سو باسٹھ مرد اور دوکروڑ تہتر لاکھ چھپن ہزار نوسو چونتیس خواتین شامل تھیں۔اسی طرح ہندوستان میں پہلی بار مرد کے علاوہ سینکڑوں جگہ خواتین نے لاکھوں کی تعداد میں مظاہرے کئے، مگر
بگڑ تی ہے جب ظا لم کی نیت ۔
نہیں کا م آ تی د لیل و حجت
حضرت رحمانی صاحب دامت برکاتہم اس درمیان بہت دکھی ہوئے ،مگر وہ اپنے حصے کے کام اور کوشش میں کمی نہیں کرتے ،اُنہوں نے بطور اسباب اپنی: توانائی اور حکمت وتدبر کا بھر پور استعمال کیا اور پھر” مرضی مولیٰ ازہمہ اولیٰ “
ایک موقع پر ملکی عدلیہ اورمنصفوں کی” خانہ خرابی“ کااظہار انہوں نے یوں کیا ہے :
” یہ واقعہ ہے کہ آج نہ ایڈمنسٹریشن صاف ستھرا اور ایماندار ہے اور نہ جوڈیشری صاف ستھری اور ایماندار ہے، جوڈیشری کا ایک بڑا طبقہ چور ہے،وہ پیسے لے کر فیصلہ کرتا ہے ،اسی طرح جس طرح کا تعصب ،جس طرح کی تنگ نظری آج پھیلی ہوئی ہے اور جس طرح کا مسلم مخالف ذہن پورے ملک میں مرکزی حکومت ،اس کی پارٹی اور آر ایس ایس نے بنائی ہے،اس کے نتیجے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اگر فیصلہ کرنے والا افسر اس ذہن سے متا¿ثر ہوگا تو فیصلہ کیا آئے گا اور کیسا آئے گا انھوں نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ نے کامکھیا مندر آسام (جہاں کامکھیا مندر کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کئی عدد مندر ہیں،بڑے مندر کے پجاری کو صرف مردوں کے ووٹ سے چنا جاتا ہے ،عورتوں کا مطالبہ تھا کہ ہمیں بھی ووٹ کا حق ملے) کے سلسلے میں مذہبی یقین کو کسٹم قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا کہ صرف مردہی ووٹ کریں گے ،چوں کہ مردوں کا ووٹ دینا کسٹم میں چلا آرہا ہے ،ہم اس میں چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتے،یہاں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ کسٹم کسی کتاب میں لکھا ہوا نہیں ہے ،آٹھ نوسو سال کی زبانی روایات پر قائم ہے ،سپریم کورٹ نے مندر کے سلسلے میں کسٹم کی اہمیت سمجھی اور جوچیز (تین طلاق )چودہ سو سالہ کسٹم سے بھی ثابت ہے اور کتابوں میں بھی لکھی ہوئی ہے ،سپریم کورٹ نے اسے نظر انداز کردیا اور یہاں مذہبی یقین کے خلاف فیصلہ سنا دیا “(از: خطبہ صدارت ،شجاعل پور مونگیر)
مدھیہ پردیش کے محمد سلیم جو باوضع رہ کر اپنے اسکو ل کی پڑھائی کرنا چاہتا تھا ،مگر اسکو ل انتظامیہ نے ” ڈریس کوڈ” کے بہانے اسے داڑھی کےساتھ اسکول آنے پر پابندی لگادی تھی،تب محمد سلیم نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ،مگر ہائی کورٹ نے انصاف دینے سے محروم کردیا تو وہ سپریم کورٹ گیا ،مگروہاں بھی جب ایک بنچ کے جج مسٹر مارکنڈے کاٹجو نے اس کی اپیل ،یہ کہتے ہوئے مسترد کردی کہ ” اب مزید طالبانیت (دہشت گردی) اپنے ملک میں ہم نہیں چاہتے” انہوں نے اپنے فیصلے میں برقعہ پر بھی طنز کس دیا اور داڑھی کے مسئلے میں کہا کہ اسلام میں وہ لازمی نہیں اختیاری عمل ہے ۔اس طرح سے محمد سلیم کو سپریم کورٹ نے بھی مزید بوجھل کرکے واپس کر دیا گیا تھا،اب بات ایک طرح سے ختم ہوگئی تھی ،وکلا نے اپنی فائلیں سمیٹ لیں ،اب محمد سلیم کو اگر اس اسکول میں پڑھنا تھا تو اسے داڑھی منڈائے بغیر چارہ نہیں تھا ۔ مگر اللہ جزائے خیر دے امیر محترم مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کو ،کہ انہوں انصاف کے تمام تر دروازے بند ہونے کے بعد مسٹر کاٹجو کے فیصلے کو چیلنج کیا اورداڑھی کو رسوا ہونے سے بچانے کے لئےانصاف کے تانے بانے بننے لگے ،انہوں نے پہلے اخبار کے ذریعے دنیا کو بتا یا کہ مسٹر کاٹجو نے محمد سلیم کے معاملے میں کیا کہا ہے اور جو کچھ کہا ہے وہ جمہوری آئن کی نظر میں کتنا غلط ہے ،اسی کے ساتھ انہوں مسٹر مارکنڈے سےسیدھا سوال بھی کیا کہ کیا وہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو داڑھی منڈوانے کا مشورہ دیں گے؟ اسی طرح مولانا نے جسٹس کاٹجو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ داڑھی رکھنا مذہبی حق نہیں سمجھنا ،ہوسکتا ہے ہندو دھرم میں ہو مگر اسلامی نقطئہ نظر سے داڑھی رکھنا ،کسی بھی شخص کا ذاتی فیصلہ اور ذاتی اعتقاد نہیں ،بلکہ مذہبی ذمہ داری ہے،انہوں نے دوٹوک لہجے میں یہ بھی کہا کہ مسٹر کاٹجو خود کو سیکولر کہہ رہے ہیں ،مگر انہوں نے زبان وہ استعمال کی ہے جو اندھا فرقہ پرست بھی نہیں کرسکتا ،داڑھی کو طالبان کی علامت ماننا یا تو منٹل کرائم ہے یا ذہنی دیوالیہ پن ۔
بعد کے دنوں میں براہ راست پھر باضابطہ مدلل ومکمل خط مسٹر کاٹجو کے نام لکھا ،جس میں داڑھی اور برقعہ کی شرعی وضاحت کے ساتھ آئین وقانون کی ذمہ داری کا بھی احساس س کرایا ۔رفتہ رفتہ یہ سلسلہ بحث کا موضوع بن گیا ۔
اس سلسلے میں آپ نے نائب وزیر اعلی ڈاکٹر حامد انصاری ،دہلی کی وزیر اعلی شیلا دکشت ،وزیر قانون ہنس راج اور وزیر قانون ویر پا موئلی سے مسلسل ملاقاتیں کیں ،یہاں تک کہ وزیر اعظم سے ایک ملاقات میں کہا کہ آپ داڑھی کب منڈا رہے ہیں ،اس طرح ملاقاتوں کے ذریعے اپر یل2009 سے جولائی 2009تک نہ صرف اپنے درد کا اظہار کرتے رہے ،بلکہ وہ دن بھی آیا جب آزاد ہندوستان میں کسی مولوی نے اپنی قانونی وفکری جد وجہد سے سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج مسٹر مارکنڈے کاٹجوکو اپنے ہی ریمارک پرتحریری معا فی مانگنے پر مجبور کردیا ہو ۔بالآخر کاٹجو صاحب نے اپنی بات واپس لی اور مقدمے کو دوسری بنچ کے حوالے کرنے کی چیف جسٹس سے شفارش کی،چنانچہ جسٹس اگروال اور جسٹس سنگھوی والے دورکنی بنچ اپنا عبوری فیصلہ سناتے ہوئے آئین ہند کی عزت بچانے میں کامیاب ہوااور نرملا کنوینٹ کے پرنسپل کو ہدایت دی کہ مکمل فیصلہ آنے تک محمد سلیم اپنے اسلامی وضع قطع میں پڑھتے رہیں گے ،انہیں اس سے روکا نہیں جا سکتا ۔اسی طرح کا ایک معاملہ فورس میں تعینات حیدر علی کے ساتھ بھی پیش آیا ہوا تھا ،چنانچہ چلائی گئی اس تحریک اور عبوری فیصلے نے حکومت کی سونچ پر بھی اثر ڈالا ،اسی کا اثر تھا کہ 25/ جولائی 2009ء کو وزیر دفاع اے کے انٹونی نے فوج کے کے تینوں شعبوں کے نام جاری کی گئی ہدایت نامے میں کہا کہ وہ کسی بھی مسلم جوان یا افسر کے خلاف داڑھی رکھنے پر کوئی کارروائی نہ کرے۔(مستفاد از مفکر اسلام …مشاہدات وتآثرات)
ابھی ۵ / اپریل 2020ءمیں جب پورے ملک میں وزیر اعظم نے رات نوبجے ،لائٹ بجھاکر اور پورے ملک کو اندھیرے میں رکھ کر ” کورونا “بھگانے کی نامعقول ترکیب بتائی (جو یقناًایک غیر یقینی عمل تھا )تب اس کے خلاف پہلی تحریری آواز خانقاہ رحمانی سے اٹھائی گئی اور بروقت اٹھائی گئی ،نہ جانے کتنے مسلمانوں کا عقیدہ خطرے میں آتا ،لوگوں کا ذہن خراب ہوسکتا تھا ،نئی نسل وباؤں سے بچنے کے لئے بد عقیدگی کے ساتھ شاید زندگی بھر اس خیال کو ڈھوئے پِھرتی،حضرت صاحب نے اپنی تحریر میں جس قوت ایمانی کے ساتھ عام ہندوستانیوں کو اس سے بچنے کی دعوت دی اور حکومت کے ساتھ اندھ بھگتوں کو راست مشورہ دیا وہ تاریخ کا اہم حصہ ہے،ایسے ماحول میں آپ نے اخبارات ،اور سوشل میڈیا کے توسط اپنی بات عام لوگوں تک پہونچانے کی کوشش کی جس میں ایمر جنسی کی صورت حال کا سماں لگ رہا تھا ،اس موقع پر اچھے اچھوں کی زبان بند تھی ،لوگ اپنے اپنے گھروں میں محفوظ تھے ،کیا مجال کہ حکومت کے ادنی افسر کے خلاف کوئی کچھ بول جائے ،مگر حضرت ممدوح نے اِس سناٹگی میں حکومت ہند کے طرزعمل کے خلاف جو بیان جاری کیا وہ بجلی کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گیا اور مسلمان بہت سی خرافات وفاسد عقیدہ سے محفوظ رہے۔وہ بیان یہ تھا :
”ملک کے مختلف حصوں سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ۵/ اپریل کو رات کو نوبجے پورے ملک میں اندھیرا کرنے کی اپیل پر عمل کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ میری رائے میں اچھی خاصی روشنی کو بجھا نا اور دئے یا لالٹین یا موبائل کی روشنی پھیلانا کچھ عجب سا کام ہوگا یہ مضبوط صورت حال سے کمزور صورت حال کی طرف لے جانا ہے اور وزیر اعظم اس کے ماہر ہیں،انہوں نے اپنے کئی کاموں کے ذریعے ملک کے عوام کو بہتر سے بدتر حالت کا سفر کرایا ہے ،جیسے نوٹ بندی ،جی ایس ٹی کا غلط نفاذ،بیروز گاری میں اضافہ ،کسانوں کی حالت کو نظر انداز کرنا ،ملک کے غریبوں ،بے زمینوں،کم پڑھے لوگوں کے لئے جیسے کئی اقدام اور پروگرام کے ذریعہ ملک کو بہتر حالت سے بدتر حالت کی طف لے جارہے ہیں،اندھیرا اور اندھیر نگری وزیر اعظم کا مشغلہ ہوسکتا ہے ،مگر یہ ملک کی صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہے ،بجلی کے شعبے کا بھی کہنا ہے ،اگر روشنی بندی پر عمل کیا گیا تو ،تو پاور گریڈ پر بہت برا اثر پڑسکتا ہے،جس کو ٹھیک کرنے میں ایک ہفتہ کا وقت لگ سکتا ہے اس کی وجہ سے کرونا کے مریضوں کے علاج مین بڑی دشواری آسکتی ہے ،
ہوسکتا ہے وزیر اعظم نے ۵/ اپریل کی رات روشنی بندی ،اور اس سے قبل تھالی اور تالی بجانے کی اپیل ہندو دھرم کے پس منظر میں کی ہو اور وہ مذہبی رسم ورواج کو پھیلانے کی کوشش کررہے ہوں،اسلام ،عیسائیت،سکھ مت،بدھ مت،جین ،ت،میں اس کی کوئی مذہبی حیثیت نہیں ہے،جو لوگ اس چیز کو مانتے ہوں وہ کرسکتے ہیں ،مگر مسلمانوں ،عیسائیوں ،سکھوں ،بدھسٹوں اور جینیوں کو اس کے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اسلام میں اس قسم کے وہم کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔کورونا وائرس تاریکی پھیلانے سے بھاگ سکتا ہے ،یہ سونچ وزیر اعظم کو مبارک ہو ،میرے جیسا انسان روشنی پھیلانے کا قائل ہے اور اس بات کو صحیح سمجھتا ہے کہ پورا ملک اپنےاپنے گھروں میں رہے ،اپنے اپنے طریقے پر اپنے اللہ کو یاد کرے،پڑوس اور محلہ کے غریبوں اور پریشان حال لوگوں کی مددکرے،انتظامیہ کی ہدایت کو مانے،اس کے مشورہ پر عمل کرے“(کارکنان امارت شرعیہ گروپ) …………جاری
…………………………………………..
* معہد عائشہ الصدیقہ رحمانی نگر کھاتوپور بیگوسرائے

Comments are closed.