ممتا بنرجی سے مسلمانوں کو کیا مطالبہ کرنا چاہئے؟

عبدالعزیز
آزادی ہند کے بعد حالات کچھ اسطرح خراب ہو ئے کہ ملت میں جو آزادی ہند کے بڑے سے بڑے سورما تھے وہ کانگریس میں کچھ اس طرح ضم ہوگئے کہ کسی کے اندر یہ خیال نہیں پیدا ہوا کہ مسلمانوں میں کوئی سیاسی یا غیر سیاسی جما عت ہو جس سے حکومت بہ حیثیت جما عت بات کرے یا معاملہ کرے ۔مسلم لیگ کی فرقہ وارانہ سیاست اور آر ایس ایس کا وجود کچھ اس طرح تھا کہ مسلم سیاسی جماعت کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ کیرالہ کے علاوہ مسلم لیگ ہندستان کے دیگر حصوں میں تحلیل کر دی گئی۔ جماعت اسلامی ہند پر خواہ مخواہ کا سرکاری عتاب رہا۔جمعیت علما ہند ایک ایسی جماعت تھی جو مسلمانوں کی طرف سے مسلمانوں کی نمائندگی کر سکتی تھی مگر آزادی ہند کے بعد وہ اپنا یہ کردار ادا نہیں کر سکی۔ سب سے پہلی وجہ تو یہ ہوئی کہ یہ خاندانی جماعت میں تبدیل ہوگئی اس کی اندرونی جمہوریت باقی نہیں رہی۔جمعیت علما ہند کئی حصوں میں بٹ گئی ۔ مرکزی، ملی اور اس طرح کے بہت سے ناموں سے وجود میں آگئی۔ مولانا اسعد مدنی کے بعد خاندانی جمعیت علما بھی چچا اور بھتیجے میں تقسیم ہوگئی۔ اسے ایک کرنے کی کوشش بھی کی گئی بدقسمتی سے کامیابی نہیں ہوئی۔ جمعیت علما ہند بہ حیثیت جما عت سیا ست سے دور رہی مگر اس کے افراد دور نہیں رہے۔دوسری جو کمی رہی۔ مضبوط جما عت ہونے کے باوجود جو ملت کی سیاسی نمائندگی کی بات کرتی۔ اس کے بڑے لیڈر محض راجیہ یا لوک سبھا کے ایک ٹکٹ پانے پر مطمئن ہوجاتے۔
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاج تنگی داما ں بھی تھا
ملت کیلئے بہت کچھ کر سکتے تھے مگر اپنی ذات میں سمٹ کے رہ گئے۔مغربی بنگال میں بھی جمعیت علما ہند کا یہی حال رہا۔ گزشتہ الیکشن سے پہلے جمعیت علما مغربی بنگال کے سب سے بڑے سر براہ مولانا صدیق اللہ چودھری کو ان کے دفتر میں جناب عبد الرزاق ملا کی موجودگی میں اس بھولے ہوئے سبق کو خاکسار نے یاد دلایا ۔ ما ن بھی گئے۔ ملا صاحب نے ان کی قیادت میں چلنے کے لئے رضامند بھی ظاہر کر دی۔ مگر دونوں نے ہی ایک ایک عدد ٹکٹ پر دو تین مہینے کے بعد نبنو جا کر سودا کرلیا۔ یہ ہے ملت کا المیہ۔
دس سال پہلے روز نامہ اخبار مشرق نے مسلمانوں کے مسلے کوزور شور سے اٹھا یا تھا ندیم الحق نے اپنے اخبار کی طرف سے مغربی بنگال کے چیدہ مسلمانوں کو دعوت دی تھی۔ جلسہ مشاورت میں ممتا بنرجی اپنی پارٹی کے مسلمان چہرہ مرحوم سلطان احمد اور جاوید احمد خان کے ساتھ تشریف فرما تھیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے بہت سے سوالوں کا جواب دیا۔ بہت کچھ کرنے کا وعدہ کیا مگر کچھ کر نہیں سکیں، جس سے مسلمانوں کی حالت تبدیل ہوتی۔ اب بھی وہی حالت ہے جو پہلے تھی۔ بعض معاملے میں بہت بدتر ہے۔ فرقہ پرستی دس گنا بڑھ گئی ہے۔ بی جے پی کا ایسا عروج ہو ا دس سال میں کہ اس کے اٹھارہ ایم پی ہوگئے۔ ووٹ کی شرح بھی حکمراں جماعت کے تقریباً برابر ہوگئی۔ مین اپوزیشن پارٹی ہوگئی۔ اب ممتا بنرجی کو اس کا چیلنج درپیش ہے۔ محمد ندیم الحق کوبھی ایک ٹکٹ ملا وہ بھی خاموش ہوگئے۔ ان کے جلسے میں جو ساری باتیں ہوئی تھیں وہ بھی بھول گئے۔ ممتا بنرجی بھی بھولے بغیر نہ رہ سکیں۔ نہ وہ مسلمانوں کے کسی فرد سے ملنا گوارا کرتی ہیں اور نہ کسی مسلم جماعت یا تنظیم کو خاطر میں لاتی نہ مسلمانوں کے مسلے کوحل کرنے پر آمادہ ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کے اس جلسے میں جو دس سال پہلے ندیم الحق کی ایما یا ممتا بنرجی کے اشارے پر ہوا تھا ۔ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ مغربی بنگال کے مسلمانوں کا ایک پریشر گروپ یا کور گروپ ہوگا جو مسلمانوں کے مسائل کو منوانے کی کوشش کرے گا۔ ممتا بنرجی گروپ کو تو بھول ہی گئیں۔ ملی کالج کو اس کے اقلیتی کردار سے بھی محروم کر دیا۔یونانی میڈیکل کالج کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیا۔ مدرسہ کے مسائل کو چھو نا بھی گوارا نہیں کیا۔ حکومت کی اس بے توجہی اوربے اعتنائی کے باوجود ممتا بنرجی کو اس لئے مسلمانوں کا تیس فیصد ووٹ پھر چاہئے کہ جس بی جے پی کے لانے میں محترمہ کا ہاتھ ہے وہ ان کی جگہ اقتدار کی کرسی پر نہ بیٹھ جائے۔ ممتا بنرجی کے جو بھی بہی خواہ ہیں ان کو اپنے ایک ٹکٹ کے لیے ووٹ دلانا چاہتے ہیں پہلے اس کور کمیٹی یا کور گروپ سے مل کر اس کی شکایات دور کریں ۔دوسرے جو مسلمانوں کے جائز مطالبات ہیں ان کو بھی ایک دو مہینے میں خاموشی سے دور کریں۔
مسلمانوں میں ایک بڑی تعداد ہے جو اکثر یت کی فرقہ پرستی کو سمجھتی ہے اور اسے خطرناک بھی سمجھتی ہے ۔مگر اقلیت کی فرقہ پرستی وہ بالکل نہیں سمجھتی وہ جذبات کی رو میں بہہ رہی ہے وہ سمجھتی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہئے ۔ایسے لوگ ملت کے مسائل کو بڑھا رہے ہیں اور اکثر یتی فرقہ پرستی کو جواز فراہم کر رہے ہیں ۔
ایسے لوگ آزادی سے پہلے بھی تھے آج بھی ہیں۔ اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد جیسے جلیل القدر شخصیت کو گالی گلوج سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں انہیں کانگریس کا شو بوائے (Show Boy)کہتے تھے۔ مولانا شریف النفس انسان تھے ‘صبر سے کام لیتے تھے۔ آج بھی جو سمجھا جاتا ہے اسے بھی اسی انداز کے لوگ سمجھا نے والے کو گالیوں سے نواز تے ہیں۔ ایک طرف یہ بات ہے دوسری طرف سیکولر پارٹیوں کے خوشامدی مسلمان پارٹی میں رہ کر مسلمانوں کے مسائل اور مصائب پر ڈر سے چپ سادھے رہتے ہیں کہ کہیں ان پر فرقہ پرستی کا الزام نہ لگ جائے اور پارٹی سپریمو انہیں پارٹی سے نہ نکال دے۔ وہ زندگی بھر ایک ٹکٹ یا ایک عدد وزارت کے لیے مسلمانوں کی خط غلامی لکھ دیتے ہیں ۔مسلمانوں کوTaken for grantedسمجھتے ہیں۔ ضرورت ہے غیر سیاسی اور سماجی طور پر مسلمانوں کا کوئی مضبوط گروپ ہو جو مسلمانوں کے لیے عوامی احتجاج کرسکے جب تک جمہوریت میں کسی کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا ، پارٹی کوئی اہمیت نہیں دیتی۔کسی کا کچھ نہ بگاڑو تو کون ڈرتا ہے۔
آج ممتا بنرجی شوبھندوادھیکار ی کو منانے کا کس قدر جتن کر رہی ہیں کیونکہ اس سے ممتا بنرجی کی پارٹی کو چلے جانے سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر مسلمانوں کا کوئی لیڈر صدیق اللہ چو دھری یا عبد الرزاق ملا نکلنے کی بات کریں تو ممتا بنرجی کوئی اہمیت نہیں دیں گی کہ جائیں یا رہیں ان کو معلوم ہے کہ ان کے پیچھے مسلم عوام نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم عوام اس وقت پیچھے ہوتے جب وہ مسلمانوں کے لیے کچھ قربانی دیئے ہوتے اور اپنے بل بوتے پر دوچار سیٹ پر خود یا دوسروں کو کامیاب بنا سکتے ہیں یہاں تو حال یہ ہے کئی بار آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑے ہوئے مگر جیت نہیں سکے۔ مسلمانوں کو ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو فرقہ پرستی کی بنیاد پر نہیں بلکہ خدمت خلق کی بنیاد پر کامیاب ہو۔ ہندو اور مسلمان میں یکساں مقبول ہو اور اپنی طاقت سے جیت سکتا ہو جب ہی حکومت اس کی بات سنے گی اس کے لیے سخت محنت اور مشقت کی ضرورت ہے جو محض فرقہ پرستی کی بنیاد پر کامیاب ہوتے ہیں وہ فرقہ پرستوں کو تو فائدہ پہنچا سکتے ہیں مسلمانوں کو یا ملک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ ہندو فرقہ پرست جو اقتدار کی کرسی پر فائز ہیں ملک کو چند سالوں میں بگاڑاور بحران کی طرف لے جانے میں کامیاب ہیں۔ ہر طبقہ اس وقت پر یشان حال ہے مگر ان کو رام مندر، جے شری رام، بھارت ماتا کی جے‘ سی اے اے‘ این آرسی ، آرٹیکل370‘ لو جہاد اور دھرم پریو رتن جیسے غیر مدعا مدعا بنا ہوا ہے اس سے ان کی ناکامیوں پر بھی پر دہ پڑا رہتا ہے ایک تیر سے دو شکار کرتے ہیں۔

E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

Comments are closed.