مسلمانوں اور بنی اسرائیل میں کوئی حد فاصل ؟

عبدالرافع رسول
قرآن کے مطالعے سے یہ بات واضح ہے کہ بنی اسرائیل ایمان کی کمزوری سے لے کر اخلاقی پستی تک میں بنی اسرائیل پھنسی ہوئی تھی اور اسے اپنی بے بسی کا کوئی خاص احساس بھی نہیں تھا اور نہ وہ اس دلدل سے نکلنے کے لئے کوئی حکمت عملی ہی بنانے پر غور کرتی تھی۔انہوں نے الہ واحد کی ہدایات و احکامات کو ترک کر رکھا تھا اور رب العالمین پر ان کا ایمان،یقین اور اعتماد حد درجہ کمزور ہو چکا تھا۔ انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کی بات نہیں سنی اور جب سنی بھی تو بالکل ڈھلمل یقین کے ساتھ۔ فرعون سے نجات دلانے کے لئے جب حضرت موسی علیہ السلام نے انہیں دریائے نیل عبور کرنے کو کہا تو ان کی جھجھک اور بے اعتمادی کا عالم یہ تھا کہ یہ آگے بڑھنے کو تیار نہیں تھے بلکہ الٹا حضرت موسی علیہ السلام پر قوم کو ہلاکت میں ڈالنے کا الزام عائد کرنے لگے۔جب رب العالمین نے انہیں سلطنت دینا چاہی اور اس کے لئے انہیں جہاد کرنے کاحکم ملا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ’’ موسی جاو تم اور تمہارا رب جہاد کریںہم تو یہیں بیٹھتے ہیں‘‘۔
حد تو یہ ہوگئی کہ ایمان لانے کے باوجود کفر ان کے دل سے نہیں نکل سکا اورحضرت موسی علیہ السلام کے کوہ طورپر چند دن گزارنے کے لئے تشریف لے گئے اوراس دوران رب العالمین کی طرف سے انہیں الواح عطاہوئیں اوران سے کہاگیاکہ اے موسی ان الواح کومضبوطی کے ساتھ پکڑاوران میں دی گئیں ہدایات کے مطابق بنی اسرائیل کی راہنمائی کریں۔لیکن جب حضرت موسی علیہ السلام حامل الواح ہوکر واپس تشریف لائے تویہاں بنی اسرائیل کو کفرکے ایک بڑے طوفان میں پھنساہوا دیکھا۔حضرت موسی علیہ السلام جب کوہ طور پرتشریف لے گئے تھے توانہوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کوان کی نگرانی اورانکی راہنمائی کے لئے ان کے پاس رکھا تو انہوں نے حضرت ہارون علیہ السلام کی ایک بات بھی نہیں مانی اورانہوں نے سامری کے پھندے میں آکراس کے بنائے ہوئے نقلی بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔
حضرت موسی علیہ السلام کی وفات کے بعد پے در پے انبیاء کرام علیہم السلام بنی اسرائیل میں آئے آور انکا اختتام حضرت عیسی علیہ السلام پر ہوا۔یعنی بنی اسرئیل کو گمراہیوں سے نکالنے کے لیے رب العالمین کی طرف سے بار ہا انبیا ء کرام علیہم السلام مبعوث کیے جاتے رہے۔حقیقت یہ ہے کی جتنی بڑی تعداد میں رب العالمین نے بنی اسرائیل میں نبی بھیجے،کسی اور قوم میں اسکا ثبوت نہیں ملتا۔لیکن وہ نہ صرف مسلسل شریعت سے انحراف کرتے رہے بلکہ انہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کو جھٹلایا بھی،سرکشی بھی کی اور انکو قتل بھی کیا۔رب العالمین کی دعوت کو انکے سرکش نفس قبول نہ کر پاتے۔کسی نبی کی تکذیب کر دیتے اور کسی کو قتل کر دیتے۔
بنی اسرائیل نے حضرت عیسی علیہ السلام کو جھٹلایا بھی بلکہ سولی پر چڑھانے کی بھی کوشش کر ڈالی لیکن رب العالمین نے حضرت عیسی علیہ السلام کوان سے بچالیااورانہیںآسمان پرچڑھالیا۔اسی طرح انہوں نے سیدناحضرت ذکریاعلیہ اسلام اور حضرت یحیی علیہ اسلام کو بھی قتل کیا۔رب العالمین کی تعلیمات سے انحراف بلکہ خدائی تعلیمات لانے والوں کے ہی درپے ہوجاتے تھے۔جب بھی انہیں کسی نیکی کی بات کاحکم دیاجاتا تو وہ کہتے کہ ہے تو یہ صحیح لیکن ہمارے دل نہیں مانتے،یہ بات ہمارے دل میں داخل نہیں ہوتی۔ساتھ ساتھ حضرت موسی علیہ السلام سے کہتے کہ اپنے رب سے دعا کیجیئے کی وہ ہمارے دلوں کو کھول دے،کیونکہ یہ باتیں ہماری عقل تسلیم نہیں کرتی لہذ ہم انکو ماننے سے عاری ہیں۔اپنے کفر پر گھمنڈ کیا کرتے اور نیکی کی بات کو مذاق سمجھ لیا کرتے۔
دراصل جہالت کی ایک نشانی یہ ہے کی انسان اپنی چیز پرجم جائے اور کسی بھی دلیل اور سچائی کو ماننے سے انکار کر دے۔اسی لیے جہالت سے بچنے کے لیے ہمیں ایساعلم حاصل کرنے اور سیکھنے کی ترغیب دی گئی جوہمیں رب کے راستے کی نشاندہی کرسکے۔انسان جب ایسے علم یعنی دین کی راہنمائی کے راستوں پر چلتا ہے تو پھر اسکا دل کھلتا ہے ۔جدید تعلیم سے آراستہ کوئی جب کوئی شخص یا قوم اپنی برائی پر گھمنڈ کرنے لگتے ہیں اور ہدایت اور نیکی کی بات کو ہلکا سمجھ کر اسکو مذاق میں اڑا دیتے ہیں،اسکی تحقیر کرنے لگے تواسے پڑھالکھاجاہل کہہ دیناچاہئے ۔ رب العالمین کا یہ قانون ہے کہ وہ بھی انہیں ہدایت کی رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔اگر منہ کا ذائقہ کڑوا ہو جائے تو شہد بھی کڑوا لگنے لگتا ہے،اسی طرح جب دل بگڑ جائے تو پھر ہدایت کی ہر بات معقولیت سے ہٹی ہوئی نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔بنی اسرائیل کا تکیہ کلام ہوا کرتا تھا کہ اب تو جس کا جی چاہے ہم پر ظلم کر لے مگر جب وہ نبی آئے گا تو ہم ان سب ظالموں سے بدلہ لیں گے۔مگر یہودیوں نے نہ صرف جھٹلا دیا بلکہ اان کے سب سے بڑے مخالف بھی بن گئے۔
محمدعربی ص کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گااورنہ ہی کوئی کتاب نازل ہوگی ۔آخری نبی محمدعربی ص اورآخری کتب قرآن مجیدہی ہمارے لئے بس مکمل اورکامل رشد وہدایت ہے۔قرآن کوآئینہ بناکرآج کے مسلمان اپنے پر ایک نظر ڈال لیں توآج کے بگڑے ہوئے مسلمان کی جوصورتحال سامنے آ جائے گی اوراس کے کرداراوراس کے اعمال کاجوحلیہ سامنے آئے گا تواسے یہ بات مترشح ہوجاتی ہے کہ ہمارے اوربنی اسرائیل کے مابین کوئی خاص فرق ،کوئی امتیاز ،اورکوئی حد فاصل باقی نہیں رہاہے۔مسلمانوں میں ایمان و اعتقاد کی کمزوری کا عالم یہ ہے کہ وہ مساجد سے دور تو ہیں ہی ، لیکن اب ان کے دلوں سے خوف خدا بھی نکلتا جا رہا ہے۔ اب ان کے فیصلے اللہ کو حاضر وناظر سمجھ کر نہیں ہوتے بلکہ برادریوں،دوستیوں اور امتیازات کے دائرے میں ہوتے ہیں۔تادم تحریرصرف ایک ملک جس کے کل کابھی پتہ نہیں کہ وہاں کیاہوگاکیونکہ وہ بھی اب پسپائی کی طرف لڑکناشروع ہوچکاہے ،میری مراد سعودی عرب ہے کے استثناکے ساتھ ،کرہ ارض پررہنے بسنے والے تمام مسلمان اپنا فیصلہ قرآن و حدیث کی روشنی میں نہیں کرانا چاہتے اور نہ ہی کسی کام کو کرنے سے پہلے اس کام کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول ص کی منشا،مرضی اورواضح احکام کا خیال کرتے ہیں۔
دوسری سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آج کے مسلمان کے اندر اخلاقی زوال اس قدر آگیا ہے کہ اب لوگ ایک مسلمان پر بھروسہ کرنے کے بجائے دوسری قوموں پر بھروسہ کرنا زیادہ مناسب سمجھنے لگے ہیں۔اپنوں کے لئے دشمن اوردوسرں کے ساتھ دوستیاں نبھارہے ہیں۔آج کے مسلمان نے روزی و روٹی حاصل کرنے کے لئے حلال و حرام کی تمیز کھو دی ہے۔ اب تومسلمان بس پیسے کاغلام بن چکاہے اوروہ دولت کوبت بناکراس کی پوجاپاٹ میں مگن ہے ۔ایسالگ رہاہے کہ عہد فراعنہ واپس لوٹ آیاہے اورآج کامسلمان بنی اسرائیل ۔ ایسی صورت میں کیا الٰہی غضب کا شکار نہیں ہونا پڑے گا؟ کیا بنی اسرائیل کی طرح بے آب و گیاہ میدان میں دربدرکی ٹھوکریں نہیں کھانی نہیں پڑیں گی؟ کیا فرعون مسلط نہیں کئے جائیں گے؟ کیا اب بھی یہ اسی کام خیالی میں رہیں گے کہ یہی اللہ کی چہیتی قوم ہیں اور جنت تو بس انہیں کے لئے ہے۔

Comments are closed.