امریکی الیکشن میں دھاندلی سے وابستہ مختلف پٹیشنز مسترد
محمد عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ. پنجاب.
رابطہ 9855259650
مرزا غالب کا ایک بہت مشہور شعر ہے کہ
نکلنا خلد سے سنتے آئے تھے حضرت آدم کا
بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
مذکورہ بالا شعر لگتا ہے آجکل صدر ٹرمپ کی موجودہ صورتحال پر ایک دم صادق آتا ہو ا محسوس ہوتا ہے. جیسا کہ ہم سبھ سبھی جانتے ہیں کہ اس سال نومبر میں اختتام پذیر ہوئے امریکی صدارتی انتخابات پوری دنیا میں چرچا ؤں میں رہے ہیں. جبکہ الیکشن کے نتائج کے بعد ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو فاتح قرار دیا گیا تھا. جنھوں نے اپنے رپبلکن پارٹی کے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دی. اب جو بائیڈن امریکہ کے 46 ویں صدر کے طور پر 20 جنوری 2021 ہونگے حلف لیں گے۔
لیکن ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کہ اکثر اپنے بیانات اور ٹویٹس کے ذریعے دنیا بھر میں خاصی چرچاؤ میں رہے ہیں. جیسے ہی ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی اور جو بائیڈن کو اس میں بڑھت ملنا شروع ہوئی اسی دن سے صدر ٹرمپ الیکشن میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات لگاتے ہوئے ان نتائج کو عدالت میں چیلنج کرنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں. چنانچہ اسی سلسلے میں گزشتہ دنوں امریکہ کی مختلف عدالتوں میں مقدمات بھی دائر کیے گئے تھے. ایسی ہی ایک پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے بے ضابطگیوں والی ایک دائر پٹیشن کو مسترد کر دیا تھا۔
یہاں قابل ذکر ہے کہ وفاقی جج اسٹیفنوز بباس نے ریاست پینسلوینیا میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور نتائج کی تصدیق سے متعلق درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ "ناانصافی کے الزامات سنگین ہیں لیکن انتخابات کو محض غیر منصفانہ قرار دینے سے یہ حقیقت نہیں بن جاتی۔”
اس سے قبل نارتھ ڈسٹرکٹ آف جارجیا کے اسٹیون گرمبرگ سمیت ری پبلکن ادوار میں تقرر پانے والے کئی جج بھی صدر ٹرمپ کی انتخابی دھاندلی کے الزامات کے خلاف فیصلے دے چکے ہیں۔
اس ضمن میں کیس کی سماعت کے دوران وفاقی جج بباس نے اپنے 21 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ جرم کے لیے الزامات اور پھر ثبوت درکار ہوتے ہیں لیکن ہمارے سامنے تو ایسا کچھ نہیں۔
جبکہ اس سے پہلے مختلف عدالتیں کئی ریاستوں میں صدر اور اُن کے حمایتیوں کے پیش کردہ الزامات مسترد کر چکی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے حامیوں نے کئی ریاستوں میں تین درجن سے زائد انتخابی عذرداریاں کے متعلق پٹیشن دائر کی تھیں. ان پٹیشنز میں چناؤ میں دھاندلی، لاکھوں غیر قانونی ووٹ ڈالے جانے اور ووٹوں کی غلط گنتی جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔
مذکورہ بالا مختلف ریاستوں میں صدر اور اُن کے حامیوں کی بیشتر عذرداریاں سماعت کے دوران مسترد کی جا چکی ہیں۔
مذکورہ عدالتوں کے فیصلوں کے بعد کیلی فورنیا سپریم کورٹ کے سابق ایسوسی ایٹ جج جوزف گروڈن نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی اور نظریاتی تقسیم کے باوجود عدلیہ کی آزادی اب بھی زندہ و جاوید ہے۔ ایک چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کے دوران انھوں نے کہا کہ ججز قانون کی پیروی کرتے ہوئے میرٹ پر فیصلے کرتے ہیں اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ جسٹس بباس نے صدر ٹرمپ کے عذرداری کو میرٹ پر پورا نہ اترنے پر خارج کیا ہے ۔
یہاں یہ امر بھی ذکر ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد جن ججز کو تعینات کیا تھا ان میں بباس بھی شامل تھے. جنہیں 2017 میں کورٹ آف اپیل فار تھرڈ ڈسٹرکٹ میں تعینات کیا گیا تھا. جسٹس بباس کے جن کے دائرۂ اختیار میں ریاست پینسلوینیا کے علاوہ دیگر دو ریاستیں بھی آتی ہیں۔
اس کے علاوہ گزشتہ دنوں اٹارنی جنرل ولیم بار نے بھی ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کے ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جو انتخابی نتیجے کو یکسر بدل کر رکھ دیں۔
جبکہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر جوناتھن ٹرلی کا کہنا ہے کہ وفاقی ججز کو تاحیات تعینات کرنے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ اُنہیں سیاسی اثر و رسوخ سے تحفظ دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ نے وفاقی عدالتوں نے جہاں گزشتہ چار سالوں کے دوران ٹھیک کام کیا ہے وہیں گزشتہ چار ہفتوں میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
انھوں نے مذید کہا کہ وفاقی ججز بشمول صدر ٹرمپ کے تعینات کردہ ججز مسلسل صدر کی جانب سے انتخابی نتائج کے خلاف دائر درخواستیں یہ کہہ کر مسترد کر رہے ہیں کہ جن الزامات پر ریلیف مانگا جا رہا ہے ان سے متعلق شواہد نہیں پیش کیے گئے۔
جبکہ صدر صدر ٹرمپ بار بار اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ سپریم کورٹ انتخابی بے ضابطگیوں کے معاملے کو دیکھے۔
جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ عدالت عظمیٰ مذکورہ معاملہ دیکھ سکتی ہے لیکن ماتحت عدالتوں کی جانب سے جس طرح سے درخواستیں مسلسل مسترد ہو رہی ہیں۔ ان کو دیکھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے حالات کوئی زیادہ سازگار نہیں ہیں۔
اس ضمن میں جوناتھن ٹرلی کا یہ ماننا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ری پبلکنز نے انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق بعض جائز تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے بے بنیاد الزامات نے عدالتوں میں اُن کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچایا ہے۔
جوناتھن کے مطابق سپریم کورٹ سے ریلیف حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی روش اختیار کرنے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ٹرلی نے آگے یہ بھی کہا کہ اگر سپریم کورٹ انتخابی بے ضابطگیوں کا معاملہ سننے کے لیے راضی بھی ہو جائے تب بھی یہ مشکل دکھائی دیتا ہے کہ اس کا فیصلہ صدر ٹرمپ کے حق میں آئے گا. اس لیے ٹرمپ کے مستقبل کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی۔‘‘
Comments are closed.