رُکے قافلے کے قدم یک قلم

جناح کامشن کشمیر ! قسط19

ش م احمد ۔کشمیر
7006883587
شہر خاص سری نگر کی تاریخی پتھر مسجد میں مسلم کانفرنس کے سیرتی جلسے میں تنظیم کی دعوت پر محمد علی جناح نے ذوق وشوق سےشرکت کی ۔ جلسے میں مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما چودھری غلام عباس قائد نے سپاس نامہ پیش کیا ۔اس کا خلاصہ گزشتہ قسط میں قارئین کی نذر کیا گیا۔ ا س موقع پر قائد نے اپنے مختصر سےخطاب میں
سپا س نامہ پر اظہارِتشکر کر تے ہوئے اہلِ کشمیر کی سیاسی بیداری پر اطمینان کااظہارکیا ۔ا نہوں نے برطانوی ہند میں اپنی سیاسی جدوجہد اورکشمیر کی تحریک کو ایک ہی تسبیح کے دودانے قرار دیا ۔ البتہ سیاسی بصیرت اور نبض شناسی سے مالامال قائد نے چند ہی اشاروں میں تاڑ لیا کہ مسلم کانفرنس اپنا سیاسی قبلہ سیکولر ازم کی سیاسی فکر سے بدل رہی ہے۔اس لئے انہوں نے ناصحانہ انداز میں کہا کہ ریاست کی مسلم ا کثریت غیر مسلم اقلیت کے تئیں انصاف اور مساوات سے کا م لے۔ سچ یہ ہے کہ ان تعمیری خطوط پر اگر آج بھی کوئی کام کر نے کو تیار ہو تو اقلیت اور اکثریت کے مابین خوشگوار تعلقات پیدا ہونے میں دورائے نہیں ہے ۔ قائد نے مجمع سے مخاطب ہو کر کہا:
’’ صدر محترم چو دھری غلام عباس، ممبران ِ کانفرنس وحاضرین !
مجھے ا س امر کا لطیف اور متشکرانہ احساس ہے کہ مسلمانانِ جموں وکشمیر کی طرف سے ،جن کے لئے میں نے کوئی خدمت انجام نہیں دی ،اس قدر شاندار الفاظ میں مجھے ایڈریس دیا گیا ہے۔ آپ نے الفاظ کی حدود سے بڑھ کر میری تعریف کی ہے ۔ در حقیقت جو کچھ آپ نے میرے متعلق کہاہے، میں اس کے نصف کا بھی حق دار نہیں۔ میں اس جذبہ ٔ محبت اور تکریم کے لئے جو آپ نے میرے تئیں ظاہر کیااور اس زبان کی جوآپ نے اپنےا یڈریس میں استعمال کی ہے، قدر کرتا ہوں۔ میں یہاں بطور ایک سیاح کے آیا ہوں، آپ کی خوش نما اور دلفریب وادی میں جس سے مجھے ازحد دلچسپی ہے ، میں ایک طائر کوہ نورد کی حیثیت سے آیا ہوں، یہ وادی پھولوں، پھلوں، دریاؤں اور پہاڑوں کی سرزمین ،اس قدر لاثانی ہے کہ کوئی اور قوم اور ملک اور کوئی دوسری جگہ اس کی ہمسری نہیں کرسکتی۔
معزز حاضرین ! دس سال پیش تر میں یہاں آیا تھا اور آج مجھے یہ دیکھ کر حد سے زیادہ مسرت حاصل ہوئی ہے کہ اس عرصہ میں جموں کشمیر کے شہریوں میں بیداری پیدا ہوئی ہے، قدرتی طور وہ شخص جو ہمیشہ قوم کی آزادی کے لئے کمر بستہ رہاہو اور ہمیشہ رہے گا، آپ کی ا س تحریک کو بہ نظر استحسان دیکھے گا ،اور ہمیشہ عوام کے ا س حق کی حمایت کر ے گا کہ و ہ اپنے معاملات پر خود نگرانی کریں۔ میں آپ کی تحریک سے دلی ہمدردی اور احترام ظاہر کرسکتا ہوں۔۔۔ میں ہمیشہ آزادی کے لئے کمر بستہ رہاہوں۔ میں آپ پر یہ بات واضح کر نا چاہتا ہوں کہ آزادی کے لئے آپ کی جدوجہد اور برٹش انڈیا میں میری معاملات کے ساتھ اپنی ہمدردی اور نیک خواہشات ظاہر کریں ۔ یقیناً آپ ایسا کریں گے، مجھے یقین ہے کہ آپ کوان لوگوں کے ساتھ ہمدردی ہے جو اپنے معاملات پر خود نگرانی کر نے کا حق حاصل کر نے کے لئے لڑ رہے ہیں ۔
آپ نے اپنے ایڈریس میں مجھے ہندومسلم اتحاد کا دلدادہ ظاہر کیا ہے ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ اتحاد میرے لئے صرف لفظی اور مبہم بیان تک محدود نہیں ۔ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے کہتا ہوں کہ ا س کے لئے میں نے سالہا سال سے کام کیا ہے اور کرتارہوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ بغیر اس اتحاد کے برطانوی ہندوستان کے باشندوں کو ہندوستان پر حکومت کر نے کی کوئی اُمید نہیں ، میں آپ کے یہاں کے مسائل سے واقف نہیں، اس لئے ا س میں کسی رائے کااظہار نہیں کروں گا، لیکن ایک بات میں آپ سے اور آپ کے رہنماؤں سے ضرور کہنا چاہتاہوں کہ وہ اقلیتوں یعنی ریاست کے ہندوؤں کو ہمیشہ یہ احساس دلائیں کہ وہ ریاست میں انصاف اور مساوات حاصل کریں گے ۔ یہ احسا س دلانا اکثریت کا فرض ہے، میں نے یہ اصول برطانوی ہندوستان میں برتا لیکن میں چندا یک لیڈروں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکاکہ جب تک
ا س اصول کو نہ اپنایا جائے، آزادی کی کوئی اُمید نہیں ۔ میں کہوں گا کہ ا قلیتوںکو یہ احساس دلائے بغیر کہ ا کثریت کی طرف سے مساوات کا سلوک کیا جائے گا ، آپ کی سیاسیات کے راستے میں سے کانٹے دور نہ ہوں گے ۔ میں ایک بار پھر آپ کا، کانفرنس کا اور ان اصحاب کا جویہاں موجود ہیں، شکریہ ادا کرتاہوں‘‘ ۔
’’تاریخ حریت کشمیر‘‘ (حصہ دوم) مصنفہ :رشید تاثیرؔ
۱۹۳۶ میں منعقدہ اس شاندار سیرتی تقریب کے سات سال بعد جناح صاحب سات سال بعد پھر ایک بار وارد ِ کشمیر ہوئے مگر ا س بارکشمیر کا سیاسی حلیہ بدلا بدلا یا بگڑا بگڑا تھا ۔ کشمیری مسلمان مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس کے نام پر منقسم ہوکر اب آپس میں ہی دست وگریباں تھے۔ سرپھٹول، رسہ کشی، ٹانگ کھینچا ئی اور شخص پرستی کا جادو لوگوں کے سر پر چڑھ کر بول رہا تھا۔ مسلم قیادت اپنے اصل مقصد سے منحرف اور ہدف سے دور ہوکر ایک دوسرے کی پگڑیاں اُچھالنے اور حسد کی حدیں پارکر نے میں سبقت لے رہی تھی، غنڈہ گردی ، دادا گیری اور شرارت پسندی کی مسموم فضا میں شریفوں کا جینا حرام ہو رہا تھا ۔ حالات کے اس مایوس کن منظر نامے میں کشمیر کی سیاست کو مثبت طرح دینے میں جناح صاحب ناکام ہی لوٹے۔ بالیقین وہ اپناکف ِ افسوس مَلنے کے بجزاور کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے ۔ تند وتلخ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کی پیچ در پیچ سیاسی اندھیر نگر ی میں قائد کی خداداد ذہانت ، دوراندیشی ، اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈَے رہنے کی بے مثال ادا، اپنے پسندکردہ اصول کی حقانیت منوانے کی ناقابل ِ تسخیر قوت، موصوف کے یہ سارے شخصی اوصاف یہاںعضوئے معطل ہو کر رہے ۔ چشم فلک بہ نگاہِ حسرت دیکھتی رہی بانی ٔپاکستان ایک فیصلہ کن مر حلے پر دومتوازی کیمپوں میں بٹ چکے کشمیر ی مسلمانوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانے میں مکمل طور ناکام رہے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ شیخ محمد عبداللہ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ مسلم کانفرنس کے کندھے سے کندھا ملاکر وہ اپنے مقابلے میں کسی اور کی لیڈر شپ کو پنپنے کا موقع دیں ، حتٰی کہ شیخ کم ازکم مشترکہ پروگرام جیسا کوئی عارضی یا وقتی فارمولہ وضع کر کے بھی مخالف سیاسی دھارے سے مشترکہ اہداف کے حصول
کے ضمن میں تعاون کر نے یا تعاون مانگنے پر کبھی تیار نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب قائد اعظم نے کشمیر کے لیل ونہار سے دل برداشتہ ہوکر پولیس کی محافظت میں گھر واپسی کی راہ لی تو انہوں نے ناگفتہ سیاسی عناد کا ساراملبہ شیخ کے سر ڈالتے ہوئے علانیہ کہا کہ شیخ نہروکے ہاتھ بک چکے ہیں ۔
۴؍ جنوری ۱۹۴۴ کو مہاراجہ بہادر نے سربی این راؤ کو ریاست کا اپنانیا وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ وزارت ِ عظمیٰ کاعہدہ سنھالنے کے بعد راؤ نے ۱۵؍ فروری کو جموں میں اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اگرچہ کشمیر ایک’’ ہندو ریاست‘‘ ( ہندوتو کی زبان میں ہندو راشٹر) ہے مگر میرا یہ عزم ہے کہ غیر ہندو( مسلم اکثریت ) بھی ترقی کی شاہراہ پکڑے۔ نئے متعصب وزیراعظم کشمیرکی زبانی پچاسی فی صد مسلم آبادی رکھنے والی ریاست کو ’’ہندوریاست ‘‘ جتلاناشیخ محمد عبداللہ پر تھوڑاشاق گزرا۔ انہوں نے درگاہ حضرت بل میں میلاد النبی ؐ کے جلسے میں مسٹر راؤ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے بیان میں ریاست ِ کشمیرکو ’’ہندو ریاست ‘‘کہہ کر پکارا ہے ، مجھے ا س سے سخت اختلاف ہے۔ ایک ایسی ریاست جس کی آبادی کا پچاسی فی صد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہو ، اس کو ہندو ریاست کہنا سورج کو تھوکنے کے مترادف ہے ( حوالہ رشید تاثیرؔ )۔ شیخ عبداللہ کی لن ترانی کے مقابلے میں مسلم کانفرنس نے بی این راؤ کو جھٹلانے
کے لئے الگ سے اپنی حکمت عملی وضع کی ۔ پارٹی نے وزیراعظم کی تردید میں رسمی طور کوئی بیان جاری نہ کیا مگر یہ دکھانے کے لئے کہ کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے ،مسلم کانفرنس نے میلاد النبیؐ کا فقید المثال جلوس شہر خاص خانیار میں نکالا جو شہر خاص سری نگر کے بیچون بیچ گزرا۔ ا س میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسلمانوں کی پُر جوش شرکت سے نئے مہاراجی وزیراعظم کو آٹے دال کے بھاؤ معلوم ہوئے۔ اس غیر معمولی میلادی جلوس سے مہاراجی حکومت کوو اضح پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ مسلم کانفرنس خطے کے مسلمانوں کی ایک قابل اعتنا سیاسی قوت ہے جسے یونہی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ مزیدبرآں جلوس سے بین ا لسطور ارباب ِ حکومت کو پتہ چلا کہ مسلم رعا یا ریاست کے مذہبی تشخص کو مسخ کر نے کی کسی بھی حکومتی کوشش کو ٹھنڈے پیٹوں برادشت نہیں کر ے گی۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت کے لئے مسلم کانفرنس کی جانب سے اتنا بڑا مذہبی جلوس نکلوانا ایک طرح سے اس جماعت کی سبکی تھی ۔قبل ا زیں این سی کے جھنڈے تلے منظم میلادی جلسہ خانیار والے جلوس کے مقابلے میں اس کا عشر عشیر بھی نہ تھا ۔ نیشنل کانفرنس نے اس خفت کا ازالہ کر نے کے لئے اپنا میلادی جلوس مولوی ہمدانی کی سرکردگی میں دوبارہ پورے زور وشور سے نکالا مگر تمام ترکوششوں کے باوجوداس میں عوام الناس کی شرکت واجبی تھی اور گہماگہمی بھی مفقود تھی،ا س لئے مسلم کانفرنس پر اس معاملے میں پارٹی بازی لے سکی۔
مئی ۱۹۴۴کوجناح صاحب کی بڑی امیدوں کے ساتھ آمد ِکشمیر اور یہاں سے بے نیل ومرام دہلی واپس لوٹنے کی کہانی تواریخ کشمیر کا وہ باب ہے جو بتاتا ہے کہ یہاں کی سیاسی ہواؤں کا رُخ آنے والے ماہ وسال میں کس طرح مڑنے والا تھا۔ قبل ازیںآل انڈیامسلم لیگ نےنیشنل کانفرنس کے ساتھ اپنی سیاسی راہ ورسم اور قربتیں بڑھانے میں اگرچہ تاخیر کی مگر وہ اس معاملے میں پیچھے بھی نہ رہی ۔ اکتوبر ۱۹۴۳ میں لیگ کے اہم لیڈروں پر مشتمل ایک سہ رُکنی وفد۔۔۔ نواب ممدوٹ، راجہ غضنفر علی خان اور ممتاز دولتانہ بظاہر سیاح کے طور کشمیر آئے مگر اُن کااصل مشن شیخ محمد عبداللہ سے خفیہ ملاقاتیں کر کے اُن سے سیاسی روابط استوار کر نا یا ریاست میں لیگ کے تئیںاُن کی سیاسی ہم نوا ئی حاصل کر نا تھا۔ اسی زاویۂ نگاہ سے بات چیت ہوئی۔ اس میں شیخ کے ساتھ مفصل تبادلہ ٔ خیال ہوا جس میںطے پایا کہ نیشنل کا نفرنس کا ایک نمائندہ وفد پردہ ٔ اخفا میں قائد اعظم سے دہلی میں ملاقات کرنے آئے۔ شیخ صاحب نے اس کام کے لئےمولا نا محمد سعید مسعودی اور خواجہ غلام محمد صادق کے نام قرعہ ٔ فال نکال دیا ۔ نیشنل کا نفرنس کے یہ کر تا دھرتا جہلم ویلی روڑ سے لاہور پہنچ گئے جہاں سے انہیں دہلی کوچ کرنا تھا مگر صادق کی طبیعت اچانک خراب ہوئی تو مولا نامسعودی نواب ممدوٹ کے ہمراہ دہلی روانہ ہوئے ۔
(باقی باقی)
نوٹ : ش م احمد کشمیر کے آزاد صحافی ہیں
ؐٔ سیاسی امور پرتبادلہ ٔ خیال کے بعد طرفین میں طے پایا کہ نیشنل کانفرنس کا ایک نمائندہ وفد جناح صاحب سے خفیہ گفت وشنید کے لئے دہلی روانہ کیا جائے گا تاکہ معاملات طے ہوں ۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق مولانا محمد سعید مسعودی اور غلام محمد صادق جہلم ویلی روڑ سے لاہور پہنچ کر دہلی کو نوٹن

Comments are closed.