مکالماتی ادب کے فروغ میں مسلمانوں کی خدمات
ڈاکٹر ظفردارک قاسمی
شعبہ دینیات سنی،علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، علیگڑھ
تعمیری اور مثبت ادب قوموں اور معاشروں کی فلاح وبہبود کا ضامن ہوتا ہے۔ صالح ادب کی نشر و اشاعت قوموں کے روشن و تابناک مستقبل کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح ادب کا احیاء نسل نو کی فکری اور ذہنی تربیت میں اہم کرداراداکرتا ہے۔ کیونکہ ادب اور اس کی تما م اصناف و اقسام ذہنوں کو اپیل کرتی ہیں۔ دلوں پر حکمرانی ہوتی ہے۔ اس سے ایک فکر اور نظریہ ملتا ہے۔ جو نوع انسانیت کی اصلاح وتربیت اور تہذیب وتمدن کو یقینی بناتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ مثبت ادب کے فروغ سے معاشرتی اقدار اور باہم رائج تہذیبوں کے تحفظ و بقاء کے لئے بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بر عکس اگر معاشرے میں نفرت و تعصب اور تنگ نظری جیسے گھناؤنے عناصر سے لبریز ادب کا فروغ کیا جائے تو وہ قوموں اور معاشروں کو تباہی اور سر کشی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس سے باہمی رکھ رکھاؤ اور سماجی اقدار کی روحانیت متاثر ہوتی ہے۔ تحمل و برداشت اور یکجائیت و مرکزیت نابود سی ہوجاتی ہے۔ نسل نو کا بے راہ روی اور طغیانی جیسے جرائم میں مبتلا ہونے کا زیادہ اندیشہ رہتا ہے۔ گویا ادب میں قوموں کے عروج و اقبال ، فتح و ظفر اور زوال و پستی دونوں رجحان پائے جاتے ہیں ۔ موجودہ دور میں اگر حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات نکل کر سامنے آ تی ہے کہ نفرت و بیزاری اور تہذیبی تصادم کی ہوا بہت تیزی سے معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ البتہ اس کی وجوہات متنوع ہیں کہیں سیاسی غلبہ کی خواہ تو کہیں اصل مذہبی تعلیمات کا مسخ ہے۔ بناء بریں اب معاشرے کو باہم قریب کرنے اور ایک دوسرے کے نظریات و افکار کا احترام کرنے کی غرض سے ایسے ادب و ثقافت کو فروغ دینا ہوگا جس سے قوموں کا اعتبار و اعتماد بحال ہوسکے۔ تاکہ قومیں مل کر امن و امان اور سکون و اطمینان سے رہ سکیں۔ اس بابت مکالماتی ادب کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔ مکالمہ بین المذاھب کی اس وقت جو افادیت و معنویت ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ کیونکہ ایک طبقہ وہ ہے جو ہماری پر امن تہذیب کو لگاتار اپنی ذاتی منفعت اور اقتدار کی بقاء کے لئے مجروح کرنے پر تلا ہوا ہے۔ تو وہیں ایسے کرداروں اور نظریات کی بھی بہتات ہے جو فرقہ پرستی ، قومی اور مذہبی منافرت کو بے اثر کرنے کے لئے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اگر مکالماتی ادب اور باہم تہذیبی مذاکرات کی تاریخ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ عہد رسالت سے لیکر آ ج تک مسلم کمیونٹی نے بے مثال خدمات انجام دی ہیں ۔ اور بین مذہبی مذاکرات پر کافی حد تک لٹریچر کی اشاعت کا فریضہ انجام دیا ہے۔ آ ج کےاس کالم میں مسلمانوں کی موازنہ ادیان کے حوالے سے گرانقدر تعاون کا تعارف مقصود ہے۔ چنانچہ ایچ پنارڈ ڈی لا بولی نے اپنی کتاب Léétude comparée des religion میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مطالعہ ادیان کے بانی مسلم مفکرین ہیں ۔ وہ لکھتا ہے کہ ” ابن حزم الانداسی نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ انسانی فکر کی تاریخ میں بھی تقابل ادیان کے فروغ میں پیش پیش تھے” ایرک جے شارپ کا کہنا ہے کہ” مذاہب کی تاریخ پر پہلی کتاب لکھنے کا اعزاز الشہرستانی کو حاصل ہو ، جس نے ایک عین تاریخی طریقہ کار کی بنیاد پر اس وقت کے مشہور دنیا کے دس مذاہب کی درجہ بندی کی تھی” ایڈم میٹز نے کہا کہ قرون وسطی میں اسلامی اور عیسائی سلطنتوں کے درمیان سب سے بڑا فرق مسلم سرزمین میں مختلف مذاہب کی ایک بڑی تعداد پر وظیفے کا وجود تھا ، اور ان میں سے ہر ایک کو اس وقت یورپ میں ایک طرح کی رواداری کا پتہ نہیں تھا۔ اس رواداری کا اشارہ تقابلی مذاہب کے میدان کی تشکیل ہے ۔ فرانز روزینتھل نے انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں کہا کہ” مغرب پوری ایمانداری کے ساتھ تسلیم کرتا ہے کہ تقابلی مذہب کے مطالعہ کو اسلامی تہذیب کے عظیم کارناموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس نے انسانی افکار کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے اسلامی فکر میں اس میدان کے ابھرنے کے پیچھے بہت ساری وجوہات اور محرکات ہیں۔ اس کی حمایت علما کرام نے کی۔ انہوں نے اس نئے فکری شعبے کو تخلیق کرنے اور اسے معروضی اور اصولی انداز میں ترقی دینے کی ترغیب دی۔ نیز ، قرآن اکثر دوسرے مذاہب اور عقائد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آخر کار ، مسلمانوں کی رواداری اور ان کی بات چیت اور بحث و مباحثہ کے لئے کھلا پن سے،عظیم تہذیب کے فروغ کے ماحول کو ایک مثبت رخ ملا جس نے مسلمانوں میں باقی انسانیت کی ذمہ داری کے گہرے احساس کو جنم دیا۔” اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے بنیادی مصادر پر نظر ڈالی جائے۔چنانچہ
موازنہ ادیان یا تقابل ادیان کا اولین محرک قرآن کریم ہے۔ قرآن مجید میں ۔ سابقہ انبیاء، اور سابقہ امم کے متعلق آیات قرآنی موجود ہیں۔ مثلآ قصہ آ دم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ، اسی طرح حضرت خضر علیہ السلام کا ذکر، حضرت اسحاق علیہ السلام کا تذکرہ، نیز حضرت عیسی علیہ السلام، کا ذکر، علاوہ ازیں بنی اسرائیل، قوم عاد، قوم ثمود، قوم عمالقہ، اصحاب الایکہ، اصحاب رس، قوم لوط اور قوم صالح وغیرہ وغیرہ۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ قرآن تقابل ادیان کی کتاب ہے۔ ہاں یہ کہنا درست ہے کہ قرآن میں بھی اس موضوع سے متعلق اشارات پائے جاتے ہیں ۔ جو نوع انسانیت کے لئے درس عبرت ہیں۔ یہ وہ حقیقی شواہد ہیں جو مطالعہ ادیان پر کام کرنے والے اصحاب علم و فضل کے لئے مشعل راہ اور بین ثبوت ہیں۔ اس کے بعد دوسرا سب سے اہم اور بنیادی مصدر تقابل ادیان پر کتب احادیث ہیں۔ اگر نگاہ تدبر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ احادیث میں نہ صرف سابقہ انبیاء کے احوال بیان فرمائے ہیں بلکہ سابقہ امتوں کے متعلق بھی کافی تفصیلات قلمبند کی گئی ہیں۔ مثلاً کتب احادیث میں "کتاب الانبیاء ” کے ذیل میں جو احادیث لائی گئی ہیں ان کا تعلق بھی تقابل ادیان سے بہت گہرا ہے۔ اسی طرح بعض کتب تواریخ اور سیرمیں بھی تقابل ادیان پر مباحث درج ہیں۔ مثلآ ابن کثیر نے اپنی کتاب ” البدایہ والنہایہ” علامہ عبد الرحمن ابن خلدون نے ” دیوان المبتدا والخبر، ابن اثیر نے ” الکامل فی التاریخ” وغیرہ میں سابقہ انبیاء علیہم السلام کی بابت کافی علمی اور اہم بحثیں کی ہیں ۔ اس سے یہ اندازہ ہوا کہ تقابل ادیان پر گفتگو کرنا جہاں اہل علم کے لئے مفید ہے۔ وہیں اس کے اندر دروس و عبر اور نصائح بھی موجود ہیں ۔ نیز اس سے قومی ہم آہنگی کا بھی فروغ ہوتا ہے۔ جن کا ہماری زندگی کو راہ راست پر لانے میں بنیادی کردار ہے۔ اسی طرح متقدمین علماء نے بھی اس موضوع پر بہت ہی علمی کام کیا ہے۔ ابوریحان البیرونی کی "فی تحقیق ماللہند ” ابن حزم ظاہری کی” الفصل فی الملل والا اہواء والنحل” علامہ عبد الکریم شہرستانی کی” الملل والنحل”علامہ اپنی تیمیہ کی ” الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح،”ابن قیم الجوزیہ کی ” ہدایة الحیاری فی اجوبة الیہود والنصاری” سرسید احمد خاں کی "تبیین الکلام فی تفسیر التوراة والانجیل علی ملة الإسلام ” اس کے علاوہ ایک اور بہت ہی اہم کتاب جو توریت کی تفسیرپر ہے۔ مولانا عنایت رسول چریا کوٹی کی۔ ” بشری "اسی طرح داراشکوہ نے اپنیشدوں کا فارسی میں ترجمہ "سر اکبر” کے نام سے کیا تھا۔ نیز عرب ممالک میں بھی تقابل ادیان پر کام ہوا ہے۔ معروف محقق احمد شلبی نے ” ادیان الہند الکبر ی ” کے نام سے کتاب لکھی ہے۔ معروف محدث ضیاء الرحمن اعظمی کی تصنیف "دراسات فی الیہودیہ، والمسیحیہ و ادیان الھند” وغیرہ وغیرہ،۔ ان کتب وادب کے علاوہ کئی مذاہب و ادیان نمبر بھی نکلے ہیں۔ جیسے "گگن کا مذاہب نمبر، اور جماعت اسلامی سے شائع ہونے والے سہ روزہ دعوت نے مذاہب نمبر نکالا تھا۔ تقابل ادیان پر مذکورہ کتب، سند ومتن اور دستاویز کا درجہ رکھتی ہیں۔ آ ج کے دور میں تقابل ادیان پر درسگاہوں اور دانشگاہوں میں بہت زیادہ کام ہورہا ہے۔ بر صغیر پاک و ہند کے علا وہ مغرب کی دانشگاہوں میں بھی اس عنوان کے متعلق با قاعدہ شعبہ جات قائم ہوچکے ہیں ۔ جہاں تقابل ادیان کے متعدد گوشوں کو بروئے کار لاکر معاشرے میں ہم آ ہنگی کی روایات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ در اصل تقابل ادیان کے دو بنیادی حصے ہیں ۔ ایک سامی ادیان ( اسلام، یہودیت، عیسائیت) دوسرا غیر سامی ادیان( ہندو مت، بدھ مت، جین مت ، سکھ مت، ) لہذا جو ں جوں تقابل ادیان پر کام ہوتا گیا اس کے نئے گوشے اجاگر ہوتے گئے۔ یہی وجہ ہیکہ جہاں عربی زبان میں مسلم مفکرین اور اصحاب علم نے اس موضوع پر نہایت وقیع کام کیا ہے ۔وہیں اردو زبان و ادب میں بھی تقابل ادیان پر مسلم اسکالر نے بڑا تحقیقی کام کیا ہے۔ چنانچہ ہندو دینیات و منابعات کا اصل سرمایہ سنسکرت زبان میں ہے۔ اب باہم ایک دوسرے کے نظریات کو سمجھنے اور خلیج کو دور کرنے کے لئے مسلم مفکر ین و مترجمین نے ہندوازم کے بنیادی مصادر کا اردو اور عربی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ مثلآ منودھرم شاشتر ، ارتھ شاشتر، رگ وید، گیتا، کے تراجم نے معاشرے میں ایک مثبت اور تاریخی نوعیت پیدا کرنے کا کام کیا ۔ تقابل ادیا ن پر مسلم علماء و فضلاء کے ادب و تحقیقات کی موضوعاتی ترتیب میں علمی ، تقابلی اور مناظرانہ جھلک سامنے آ تی ہے۔ یہ ہمارا وہ علمی سرمایہ اور ورثہ ہے جو ہماری تہذیب و روایت کو پر افتخار بناتا ہے۔
سابقہ سطور کی روشنی میں یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے کو امن و یکجہتی سے ہم کنار کرنے کے لئے مسلم کمیونٹی نے ہر دور میں نہایت مثبت کاوشیں کی ہیں۔ مسلمانوں کی ان کاوشوں سے انتھائی دور رس نتائج بر آمد ہوئے ہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ اس طرح کے ادب و لٹریچر کے فروغ سے باہم ادیان کے مابین جو شکوک و شبہات تھے ان کا قلع قمع ہوگا، دوسری اہم بات یہ ہیکہ آج نفرت کا بازار گرم ہے۔ مذاہب و ادیان کے خلاف غلط فہمیاں عام کی جارہی ہیں ۔ جس کے نتیجہ میں قومیں اور معاشرے باہم دست و گریباں ہورہے ہیں ۔لہذا ان حالات پر قابو پانے کے لئے ضروری ہیکہ ہم مکالماتی ادب کو فروغ دیکر معاشرے میں بڑھتی دوریوں کو رفع کریں۔ آ ج کی سب بڑی ضرورت معاشرتی امن کا قیام اور عدل و مساوات کا غلبہ ہے۔ مگر بد قسمتی سے اس کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ چنانچہ مطالعہ ادیان کی تہذیب سے ہمیں معاشرے میں ہر طرح کی بد امنی اور ابتری کو ختم کرنے میں بڑی حد تک کامیابی ملے گی۔
Comments are closed.