ظلم وزیادتی پرقدغن کے بغیر۔ مصیبتوں سے ہماری نجات نہیں!!
ڈاکٹر آصف لئیق ندوی
لیکچرار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآ باد
موبائل:8801589585
اِس پرفتن اور وبائی آفتوں کے زمانے میں جہاں ہمارا ملک طرح طرح کی مصیبتوں میں الجھا ہوا ہے،حتی کہ اسکی معیشت تباہی سے دوچار ہے، تعلیم و تربیت کا رجحان بالکل بگڑ کر رہ گیا ہے، ارباب اقتدار خود بے شمار پریشانیوں سے دوچار ہیں، مصیبتوں سے چھٹکارے کی کچھ بھی سبیل نہین بن پارہی ہے،جوں جوں دوائیاں ہورہی ہیں مرض اسی کے بقدر بڑھتا جارہا ہے، ان حالات میں بھی شرپسند عناصر اور فرقہ پرست اپنی رفتار بے ڈھنگی سے باز نہیں آرہے ہیں، ظلم و زیادتی کا کھلے عام سہارا لیاجارہاہے، عدل و انصاف کا عدالتوں میں بھی گلاگھونٹا جارہا ہے، عزت و ناموس سے ہرجگہ کھلواڑ ہورہا ہے اور حقوق انسانی کی جگہ جگہ پامالیاں ہورہی ہیں،بالخصوص مسلمانوں کی شبیہ مکمل خراب اور امت مسلمہ کی سچی تصویر بگاڑ کر پیش کی جارہی ہے،آئینہ الٹا دکھاکر برادران وطن کو سیاسی طور سے گمراہ کیا جارہا ہے، اسلام مخالف اور فرقہ پرست افراد بشمول گودی میڈیا اس بات کی ہرممکن کوشش کر رہی ہے کہ مسلمانوں کو خیر امت اور خیر خواہ انسانیت کے وصف کے بجائے کیسے انہیں قاتل اورظالم شمار کرایا جائے؟ صلح پسند اور محبت کے پیامبر کے بجائے کیسے انہیں جنگ جو اور لڑاکوثابت کیا جائے؟ امن کے داعی اورعدل وانصاف کے پیکر کے بجائے کیسے انہیں شدت پسنداور سخت گیر کے عنوان سے پوری دنیا میں متعارف کرایا جائے؟ تمام دشمنان اسلام بشمول یہودی لابی اس بات کیلئے ایک پلیٹ فارم پرمتحد اور جمع ہورہے ہیں کہ کیسے اسلام اور مسلمانوں کوہر اعتبار سے کمزور بنا یا جائے؟کیسے انکی نسل،آبادی اور انکی تہذیب کو پھلنے اور پھولنے سے روک دیاجائے؟کیسے علم و ہنر اور حکمت وقیادت کے میدان میں ترقی کرنے کے بجائے انہیں پیچھے دھکیل دیا جائے؟ بلکہ بعض تو یہ چاہتے ہیں کہ کیسے انہیں صفحہ ہستی سے ہی مٹاکر رکھدیا جائے؟جس کے لئے بڑے پیمانہ پرمختلف سازشیں رچی جارہی ہیں اور آئے دن متعدد پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں!! مگر جن کو خدا رکھے انکو کون چکھے!!مگر بقول شاعر: ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز!!!!! چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی
اسی لئے بھید بھاؤ اورنفرت وعداوت کا یہ طوفان ا سوقت خودہمارے وطن عزیز یعنی ملک ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف دیکھنے کو مل رہا ہے بلکہ باطل عروج پر ہے اور باطل قوت ملک کی فضا کو مسلمانوں کے خلاف گرمانے کی کوشش کررہی ہے،فرقہ پرست پارٹیوں اورشر پسند تنظیموں نے مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کاایک طویل سلسلہ ہی کھول دیا ہے، مرکزی سطح سے گنگاجمنی تہذیب کو مٹانے کی مختلف کوششیں ہورہی ہیں اور مسلمانوں کے خلاف تو روز آنہ کہیں نہ کہیں ناگفتہ بہ واقعہ پر واقعہ پیش آرہے ہیں،مسلم عورتوں کے ساتھ انصاف کے بہانے تین طلاق کا غیر شرعی قانون مسلم عورتوں سے ہمدردی کے نام بنایا گیا،مگراسکے بعد کتنی عورتوں کی عزت وناموس سے کھلواڑ ہوا،انکو بیوہ بنا دیا گیا، کتنوں کو انکی آنکھوں کے سامنے اپنی اولاد سے محروم کردیا گیا، ابھی بھی مسلم خواتین کی بے شماردشواریاں جوں کا توں ہیں،انہیں سنگین حالات کا سامنا ہے، کیا یہی مسلمان عورتوں سے ہمدردی ہے کہ انکے نام پر دین و شریعت کا استحصال کیا جائے اور انہیں دستوری حق سے محروم کردیا جائے، انکی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے؟
افسوس کہ اقلیتوں کی بابری مسجد کی جگہ رام مندرکو قانونی اور عدالتی حیثیت دے دی گئی! جس سے شرپسندعناصر کے حوصلے مزیدبلند ہوگئے، اب گیان واپی۔متھرا عیدگاہ و مسجد کے مسائل کو پھر سے سلگائے جانے لگے ہیں،بلکہ سپرم کورٹ میں اسکے خلاف کوشش کی جارہی ہے،یہانتک کہ مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کے ہتھکنڈے بھی اپنائے جارہے ہیں،ان کی ضمیر اور روح کے خلاف ہرطرح کی ناپاک کوششیں ہورہی ہیں، مندر۔مسجد جھگڑا، قتل وغارت گری، حق تلفی و ناانصافی اور ظلم و ستم کو روارکھنے کے لیے میڈیا، عدالت، حکومت اور آئین کا سہارابھی لیا جارہا ہے، انکی شریعت و عبادت، رسم و رواج اور کھانے پینے کی اشیاء پر بھی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں، اس کے لیے کورٹ اور ججوں کا سہارا لیا جارہا ہے۔ آخرکسی مخصوص طبقہ کیساتھ ایسامتضادرویہ اور کھلواڑکب تک ہوتا رہے گا؟اور کب تک مسلمان خاموش بنے بیٹھے رہیں گے؟
حد تو یہ ہے کہ ظلم کے خلاف صدائے حق بلند کرنے والوں پر بھی طرح طرح کے مقدمات لادے جارہے ہیں اور ہندو راشٹریہ کے قیام کے لئے رکاوٹ بننے والوں پر ظلم و ستم ہورہا ہے، اسکے لیے ہرممکن طریقے اختیار کیے جارہے ہیں، تمام جرائم و مظالم کو جوازکا درجہ فراہم کیا جارہا ہے،اسکے لیے راستے ہموار کئے جارہے ہیں اور تمام رکاوٹوں کویکے بعد دیگرے ہٹایا جارہا ہے، پر امن مظاہروں میں قیادت کرنے والوں کو یا تو گرفتار کر لیا جارہا ہے یا ان پر مقدمات کے سنگین دفعات لگا کر انکی زبان و قلم کوہی خاموش بنا دیا جارہا ہے، کیسی کیسی ناپاک کوششیں ہیں جو ہمارے ملک میں کی جارہی ہیں؟ انسان تو انسان جانور بھی شرماجائے! مقصد یہی ہے کہ کیسے ہندو راشٹریہ کے لئے مکمل راہ ہموار کی جائے!!اسکے لیے نئے نئے قوانین کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی شہریت ترمیم ایکٹ کے نام پر وضع کئے جارہے ہیں، اس کے خلاف بولنے والوں کوکھلے عام غدار وطن کہہ کر گولی مارو! والے نعرے،بھید بھاؤ اورنفرت و عداوت والی سازشیں رچی جارہی ہیں،یہاں تک کہ ہندومسلم فساد کی آگ سلگانے کے لئے مافیاؤں کو میدان میں اتارا جارہا ہے۔جنکی وجہ سے دہلی، یوپی اور گجرات جیسے شہروں میں مسلم کش فسادات رونما ہوئے۔ جسکی لاٹھی اسکی بھینس!! ظلم و فساد اور خون کی ہولی کا پورا الزام انہیں نہتھے مظلوم مسلمانوں کی عزت و آبرو، جان ومال اور دولت و ثروت لوٹنے اور جلانے کے باوجود بھی انہیں کے سر پر ڈال کرظالم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرارہاہے۔مگر یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ! ظلم آخر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے!!! خون آخر خون ہے گرتا ہے توجم جاتا ہے۔
ان تمام غیر دستوری قوانین و کارروائیوں کے خلاف ملک میں کہیں اگر مظلوم پرامن احتجاجات ومظاہرے پر اتر آئیں، توانکو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، بلکہ اس پرامن احتجاج کو ہی غیر دستوری عمل قرار دے کرجرم کی فہرست میں شامل کیا جارہا ہے، اب تو کورونا وبااور لاک ڈاؤن کے عرصے میں بھی سی اے اے کے پر امن مظاہرین کی بے جا گرفتاریاں ہورہی ہیں اوران پر سنگین الزامات ودفعات کے ذریعے انکی زندگیوں کو دوبھربنائی جارہی ہے اوراسطرح مظلوموں کو صدائے حق بلند کرنے کی آزادی کو کچلنے کی کوشش ہورہی ہے اورسیاسی حربوں اورسازشوں کا جال پھیلا کر ظالموں کے حوصلے بلند اور مظلوموں کے عزائم پست کئے جارہے ہیں؟مگر سن لیجئے کہ!اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے!!!!اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کے دباؤگے۔
جب کہ مسلمانوں نے کورونا وبا کی اس آزمائش کی گھڑی میں بے شمار مصائب و تکالیف کے باوجود حکمراں طبقے کے ہر حکم کی تعمیل پر تعمیل کرتے چلے آرہے ہیں، مدرسوں،مسجدوں اور دین وشریعت کی تمام اجتماعی سرگرمیوں کی قربانیاں بھی پیش کرکے اپنی انسانیت اور ملک دوستی کا فریضہ ادا کررہے ہیں،آفتوں کے اس عالم میں بھی بلاامتیازمذہب و ملت پوری انسانیت کی ہر ممکن خیر خواہی کررہے ہیں اور خصوصا مزدور اور کمزور طبقوں کو بھر پور مددفراہم کررہے ہیں، مگر افسوس کہ حکومت انکی ستائش و حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے انہیں سازشوں کے نرغے میں ڈالتی جا رہی ہے حتی کہ کورونا وباکا براہ راست مسلمانوں پرالزام لگا کر دعوت و تبلیغ،اجتماعی عبادت و ریاضت اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے شاندار فریضے پرہی اپنی سرکاری اور سیاسی تلوار لٹکا رکھی ہے نیز جماعت تبلیغ کے سر براہ مولانا سعدصاحب مسلسل پولیس کے عملہ کی نظروں میں مقیدہیں۔جوکافی دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ اس سلسلے میں راقم السطور کا تازہ شعرہے کہ۔ نہ توبہ کی جفاؤں سے نہ خالق کا خیال آیا!!!! ہزاروں آفتیں لے کر کورونا کا عذاب آیا۔
اسی طرح چند ماہ قبل سی اے اے کے خلاف ملک کے مختلف صوبوں میں مسلم مخالف قانون سی اے اے کے خلاف شاہین باغ میں جو احتجاج قائم ہوا تھا، خاص طور سے دہلی کی شاہینوں نے دیگر مذاہب و ادیان کی بہنوں اور ماؤں کے ساتھ مسلسل تین ماہ سے زائد عرصے تک اپنا گھر باڑ چھوڑ کر سراپا احتجاج بنی رہیں اور حکومت سے مطالبات پیش کرتی رہیں،جسکا کوریج پوری دنیا میں ہوا۔ مگربی جے پی کی برسر اقتدارمرکزی حکومت اور اس کے سیاستدانوں نے تمام اقلیتوں خصوصامسلمانوں کے دستوری مطالبات کو نہ صرف غیر اخلاقی اور تخریبی تنقید کا ہدف بنادیا اور انکے خلاف محاذ آرائی کا طویل سلسلہ ہی کھول دیا،گودی میڈیااور شرپسندوں نے مختلف نازیبا الزامات،ناپاک سازشوں اورمتعدد ظلم وستم کاپے در پے نشانہ بنایا۔مگر کورونا وبا اور شرپسندعناصر کی سازشوں نے انہیں بادل نخواستہ جگہ سے کھسکنے پر آمادہ کیا،مگر آج بھی ہماری وہ مائیں اوربہنیں حوصلہ مند ہیں اوراس بات کی منتظر ہیں کہ سی اے اے، این پی آر + اور این آر سی جیسے سیاہ اور غیر آئینی قوانین اور بلوں کو حکومت واپس نہیں لی تو انکے طویل احتجاج کارنگ پھر ابھر کرسامنے آئیگا! مگرحکومت ہرگز یہ نہ سمجھے کہ انکے مطالبات اور ارادے پست پڑ گئے، فی الوقت کورونا وبا نے دشمنوں کے عزائم بلندکردیے ہیں اورپرامن مظاہرین کو مجبورامیدان احتجاج خالی کرنا پڑا ہے۔مگر ہمارا ضمیر ابھی بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا، آخری دم تک ہم ظلم کے خلاف ہر ممکن دستوری جد وجہد جاری رکھیں گے؟افسوس ہے کہ حکومت وقت کورونا وبا کے باوجود اپنے کسی بھی ناپاک ارادے اور سازشوں سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹی ہے، بلکہ اس نے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی راہیں صاف کر نے کی کوشش کی ہے اور ہم کو ہرطرح سے پارالائز بنا کر اپنے گھر وں میں مقید اور گرفتارکردیا ہے، اور ڈر اور خوف پھیلانے کا سلسلہ ہنوزجاری ہے،نہ تواب تک ہمارے مدرسے کھلے ہیں اور نہ ہی ہماری مسجدیں مکمل طور سے آزاد ہیں۔مسلمان اپنی دعوت و تبلیغ کے فریضے کو ملک کی سلامتی اور دوسروں کے آرام و سکون کے لئے قربان کر رہے ہیں حتی کہ مسجدوں میں طویل دیر رہ کر اپنے رب سے راز و نیاز کی باتیں اور مناجات مقبول کرنے سے بھی وہ عاجز ہیں۔ عید کا عظیم تہواربھی عظیم طریقے پر منانے سے اسی کورونا کی نذر ہوکر رہ گیا ہے۔ مسلمان اپنی ہرطرح کی قربانیاں پیش کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کررہے ہیں اور اپنے صبروتحمل کا بھر پور مظاہرہ پیش کررہے ہیں۔مگر ارباب اقتدار ظلم و زیادتی کا سلسلہ دراز کرتے جارہے ہیں، اس بات سے مخالفین کواس خوش فہمی میں مبتلا نہ رہنا چاہیے کہ مسلمان کمزور پڑ گئے ہیں اور انکے جذبات و احساسات ماند پڑ گئے ہیں۔ہماری نگاہیں الحمد للہ بلندہیں، ہم سخن ور ہیں اور سخن نواز بھی۔کوئی ہمارے صبر و آزمائش کاہرگز ناجائز فائدہ نہ اٹھائے!!مگرمسلمانو! یہ خاموش مزاجی تجھے جینے نہیں دے۔ہمیں اپنی صدائے حق کو بلند کرنے کے لئے کوئی راہ اور شکل تلاش کرنی ہی ہوگی۔ہماری خاموشی ہمیں آخرت کی سرخروئی حاصل کرنے سے بھی روکے ہوئے ہے، جبکہ حکومت کو کورونا انکے سیاسی مفادات کے حصول، الیکش کی تیاری اور کامپیننگ وغیرہ سے کچھ بھی مانع نہیں ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے اب کھلنے چاہیے! مسجدیں کسی کے لیے مقفل نہیں رہنی چاہیے! وغیر ہ وغیرہ۔
ملک و بیرون ملک میں روز بروز ناقدین اسلام اوراعداء دین الزامات کی بھر مار لگارہے ہیں،جب کہ ان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ کوئی سچا پکا مسلمان کبھی شدت پسند وجنگ جو ہو ہی نہیں سکتا، کیوں کہ اس کا رشتہ ایسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے، جو صرف انسانیت ہی کے لیے نہیں، بلکہ سارے عالموں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث کیے گئے ہیں، جن کی ر حمت کا اثر صرف انسانوں تک ہی محدود نہ تھا، بلکہ اس سے متجاوز ہو کر آپ کا سایہئ عاطفت ورحمت چرند پرند حیوانات تک کے لیے عام تھا، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ جانوروں کے ساتھ نرمی کی ہدایات دیں، وہیں عمل کے ذریعہ بھی جانور کے ساتھ رحم وکرم کا معاملہ کرکے دکھا یا، آج جب کہ جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی خاطر کئی تنظیمیں بیدار ہورہی ہیں، کئی حکومتیں خصوصا ہندوستانی حکومتیں جانوروں کے تحفظ کے لیے سرگرم مہم چلارہی ہیں، جانوروں کے حقوق کی رعایت نہ کرنے والوں کے لیے کڑی سے کڑی سزائیں تجویز کی جارہی ہیں، ان قوانین کے پامال کرنے والوں کو قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑرہی ہیں، قربان جائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر! جنہوں نے آج سے چودہ صدی قبل حیوانات کے حقوق کے تحفظ اور ان کی حمایت کا اعلان فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو بھوکا رکھنے، اسے تکلیف دینے، اس پر سکت سے زائد بوجھ لادنے سے منع فرمایاہے، نیز جانور کو نشانہ بنانے، جانور پر لعنت کرنے والے کو مجرم قرار دیاہے، جانوروں کی تکلیف دہی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قساوتِ قلبی میں سے شمار کیا ہے۔
جانور کے ساتھ رحم وکرم ان کے ساتھ نرمی کے بے شمار واقعات اسلامی کتابوں میں مذکور ہیں، لیکن ہم کتنے ظالم ہیں کہ انسانوں کو ہی بلی کا بکرا بنا رہے ہیں، بالخصوص مسلمانوں اور اسکی شریعت ورسالت کو اچھوت سمجھ رہے ہیں،جب کہ ہماری ساری بیماریوں اوردنیوی و اخروی مصیبتوں کا نجات دہندہ وہی دین اسلام ہے جس سے دنیا اور ظالم لوگ نفرت کررہے ہیں، جو دین یہ بتاتا ہے کہ سارے انسان اللہ کی مخلوق اور ایک کنبہ ہیں،اللہ ہی سب کارازق و مالک ہے، اور ہم ادیان کے جھگڑوں میں پڑ کر اپنی عاقبت خراب کررہے ہیں،جبکہ ہمارا دین ایک ہے اور راستہ بھی ایک ہے اور بلاوجہ ایکدوسرے کیساتھ ظلم وزیادتی پرآمادہ ہیں،جب تک ظلم و زیادتی پر قدغن نہیں مصیبتوں سے ہماری نجات محال اور ناممکن ہے۔
Comments are closed.