کرسمس ٹری ہے شئی لا یعنی

ازقلم: امام علی مقصود شیخ فلاحی
متعلم: جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام انبیاء کرام میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں، کیونکہ اللہ نے آپ کو ایک معجزانہ انداز میں مبعوث فرمایا، وہ اس طرح کہ بغیر باپ کے آپ کو اس کائنات میں پیدا فرمایا، اسکے علاوہ اللہ نے آپ کو معجزانہ انداز میں اپنے پاس بلایا، وہ اس طرح کہ زندہ آپ کو آسمان میں اٹھایا، علاوہ ازیں قرب قیامت اللہ دوبارہ آپ کو مبعوث کرے گا۔

قارئین! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی نہایت سبق آموز اور عبرت انگیز ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مختلف انداز و اسلوب میں آپ کی شخصیت کو اجاگر کیا ہے۔ لیکن آپ کے ماننے والوں نے آپ کے ساتھ بہت ہی ناروا سلوک کیا اور آپ کی جانب اور آپ کی ماں کی جانب بہت سی غیر ضروری اور لا یعنی باتوں کو جوڑ دیا ہے۔ متعدد عقائد و نظریات کو منسوب کردیا ہے، اور آپ کی پیدائش کے نام‌ پر شرافت کا لبادہ اوڑھ کر اور حقائق سے ناآشنا ہوکر جن رسومات و بدعات کو انجام دینے کا سلسلہ جاری کیا ہے وہ بڑا ہی خطرناک اور ایک لایعنی شئی ہے ۔
آئیے ایک سرسری نظر اس پر ڈالتے ہیں۔

قارئین کرام! عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت پر جو خوشی مناتے ہیں اسے کرسمس کہتے ہیں، جسکی ایک مشہور شاخ کرسمس ٹری ہے ۔

کرسمس ٹری کیا ہے _ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں صنوبر کے درخت کو مصنوعی شکل میں ڈھالا جاتا ہے پھر اسے رنگ برنگ قمقموں سے سجایا جاتا ہے ، پھر اس سے اپنے گھروں کے صحن کو آراستہ و پیراستہ کیا جاتا ہے۔
کرسمس ٹری لگانے کی روایت پانچ سو سال سے زیادہ پرانی ہے۔ تاریخی حقائق کے مطابق پہلا کرسمس ٹری لٹویا کے شہر ریگا میں 1510ء میں لگایا گیاتھا ۔ مورخوں کا کہنا ہے کہ سدابہار درختوں سے سجاوٹ کا کام کرنے کی روایت بہت پرانی ہے اور حضرت عیسی ٰ کی پیدائش سے قبل بھی لوگ اہم موقعوں پر اپنے گھروں کو سدابہار درختوں سے سجاتے تھے۔
لیکن برقی قمقموں سے کرسمس ٹری کی سجاوٹ کا آغاز 1882ء میں ہوا۔ تھامس ایڈی سن کمپنی کے ایڈورڈ جانسن نے اپنے کرسمس ٹری کو سجانے کے لیے پہلی بار سرخ ، سفید اور نیلے رنگ کے بلب استعمال کیا تھا ۔ جس کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہوئی اورلوگوں میں اس کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔ اس کے صرف تین سال بعد1885ء میں امریکی صدر کلیولینڈ نے وائٹ ہاؤس میں کرسمس ٹری کی سجاوٹ کے لیے برقی بلب استعمال کیے اور پھر آنے والے برسوں میں کرسمس ٹری کو خوبصورت رنگیں برقی قمقوں سے آراستہ کرنے کا رواج بڑھنے لگا اور 1890 ء میں کرسمس ٹری کی سجاوٹ کے لیے خصوصی طورپر تیار کیے جانے والے آرائشی بلب بڑے پیمانے پر مارکیٹ میں فروخت ہونے لگے۔

قرون وسطیٰ کا کرسمس ٹری اپنے اندر کچھ اور حقائق لئے ہوئے ہے، بریٹانیکا انسایکلوپیڈیا کے مطابق جدید کرسمس ٹری کا آغاز جرمنی سے ہوا، چونکہ امام حوا اور بابا آدم پر بنائے گئے قرون وسطیٰ کے ایک مقبول ڈرامے میں ایک سدا بہار درخت کو ‘جنت کے درخت’ کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ اور جرمنی میں ٢٤ دسمبر کا دن اما حوا اور بابا آدم کے احترام میں منایا جاتا تھا، اور اس روز گھروں میں جنت کا درخت یعنی سدا بہار درخت کو لگایا جاتا تھا، اور گھروں کو سجایا جاتا تھا۔

اور دور حاضر کا کرسمس ٹری اپنے اندر کچھ اور حقائق لئے ہوئے ہے ، کیونکہ دور حاضر کا کرسمس ٹری حضرت‌ مریم ، حضرت عیسیٰ اور حضرت جبرئیل علیہم السلام پر مبنی ہے، کیوں کہ دور حاضر کے کرسمس ٹری کے موقع پر ان تینوں کے کردار کو مختلف اداکاروں کے ذریعے ایک ڈرامے کی شکل دی جاتی ہے، اور ان تمام واقعات کو دہرایا جاتا ہے جو حضرت مریم کے ساتھ ولادت مسیح کے ضمن میں پیش آیا تھا، اور اس واقعہ کے دوران درخت کو حضرت مریم کا ساتھی بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور اس‌قت کو یاد دلایا جاتا ہے کہ جس وقت مریم نے اپنی ساری اداسی اور تنہائی ایک درخت کی سایہ میں بیٹھ کر گذار دیتی ہیں۔
ان ساری گفتگو سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دوہزار سال پہلے شروع ہونے والی عیسائی مذہبی تحریک نے مختلف ادوار اور ثقافتوں کا سامنا کیا ھے۔
ایک رپورٹ کے مطابق آج کل برطانیہ میں 70 لاکھ کرسمس ٹری تیار کئے جاتے ہیں، جن پر ایک سو پچاس بلین پاؤنڈ کی لاگت آتی ہے، اسکے علاوہ یہ کہ 200 بلین پاؤنڈ کے بلب اور چھوٹے ٹیوب لائٹ بھی لگائے جاتے ہیں۔

قارئین ! کرسمس کا جب آغاز ہوا تھا تو اسکا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگوں میں مذہبی رجحان پیدا کیا جائے، لیکن جیسے جیسے ایام گذرتے گئے ویسے ویسے بدعات و خرافات کے راستے ہموار ہوتے چلے گئے، کرسمس ٹری کو آنا ہی تھا کہ موسیقی نے جنم لے لیا، موسیقی کی آمد ہی تھی کہ رقص نے ہلا بول دیا پھر کیا تھا عریانیت و فحاشیت کا دروازہ کھل گیا ، اسکے کھلتے ہی شراب نوشی نے آدبوچا، پھر کیا ہوا ؟ شراب کے آتے ہی یہ تہوار فحاشی و عیاشی کی شکل اختیار کر گیا۔
صرف برطانیہ کا یہ حال ہے کہ ہر سال کرسمس کے موقع پر 7 ارب 30 کروڑ پاؤنڈ کی شراب پی جاتی ہے، 2005 میں برطانیہ میں جو لڑائی اور مار کٹائی کے دس لاکھ واقعے سامنے آئے تھے ، وہ کیوں آئے تھے ؟ صرف شراب نوشی کی بنا پر آئے تھے۔
2002 کو آبروریزی اور زیادتی کے جو نو ہزار کیس درج ہوئےتھے ، وہ کیوں ہوے تھے ؟ صرف اور صرف شراب نوشی کی بنا پر ۔
ایک سروے کے مطابق برطانیہ کے ہر 7 میں سے ایک نوجوان کرسمس کے موقع پر شراب پی کر بدکاری کا ارتکاب کرتا ہے۔

امریکہ کی حالت تو اس بھی گئی گذری ہے، امریکہ میں کرسمس کے موقع پر ٹریفک کے قوانین کی اتنی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں کہ پورا سال نہیں ہوتیں۔ اور 25 دسمبر کو ہر شہری کے منہ سے شراب کی بو آتی ہے۔اور شراب کے اخراجات چودہ ارب ڈالر تک پہنچ جاتے ہیں۔
2005 کو کرسمس کے روز کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے حادثوں کے دوران اڑھائی ہزار امریکی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، اور پانچ لاکھ خواتین اپنے بوائے فرینڈ سے پٹی تھیں۔ یہ سب کیوں ہوا تھا ؟ صرف شراب نوشی کی بنا پر۔
یہی وجہ ہے کہ اب یورپ میں ایسے قوانین بن رہے ہیں جنکے ذریعے شہریوں کو یہ تلقین دی جاتی ہے کہ وہ کرسمس کی عبادت کے لئے اپنے قریبی چرچ کو زیادہ ترجیح دیں، شراب نوشی کے بعد اپنی گلی سے باہر نہ نکلیں، اور خواتین بھی اس حالت میں اپنے بوائے فرینڈ سے دور رہیں۔ مذکورہ تمام‌‌ رپورٹس 2004 اور 2005 کے ہیں۔

لہذا انہیں تمام خرافات کی بنا پر اب عیسائیوں کے اندر بھی ایسے گروہ پیدا ہوچکے ہیں، جو کرسمس کو پسند نہیں کرتے، اور اس تہوار کے منانے والوں پر مختلف اعتراض کرتے ہیں ،
مثلاً مسیح نے اپنی زندگی میں کبھی کرسمس نہیں منائی، تم کیوں مناتے ہو ؟
اور یہ تہوار تیسری صدی کا ایجاد کردہ ہے جبکہ اس سے پہلے اس تہوار کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ تو جس چیز کا نام و نشان بھی نہ تھا اسے کیوں منایا جائے۔
اور منائیں بھی کیسے جبکہ انجیل میں واضح طور پر یہ حکم موجود ہے کہ
"کسی درخت کو کاٹ کر مصنوعی طریقے پر صحن میں نہ گاڑا جائے”
جبکہ کرسمس ٹری کی بنیاد ہی اسی پر ہے کہ درخت کو کاٹ کر اسے سجا کر گھروں کو رونق بخشی جائے۔
اسکے علاوہ بائبل میں تقریباً 38 مقامات سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ عیسائیت میں شراب نوشی حرام ہے، جبکہ اس دن شراب نوشی اہتمام کے ساتھ کی جاتی ہے۔‌ جسکے نتیجے میں لاکھوں جانیں چلی جاتی ہیں ، ہزاروں بیٹیاں اپنی عزت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، لاکھوں ماؤں کے ارمان ٹوٹ جاتے ہیں۔
معلوم ہوا کہ کرسمس ٹری ایک لا یعنی شئی ہے۔

Comments are closed.