حاجت روائی کا مؤثر عمل

لطافت، کراچی
محلے کی ایک خالہ بہت پریشان حال میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں "بیٹا کوئی وظیفہ یا عمل بتا دو بیٹے کا روزگار نہیں ہے. شوہر بیمار ہیں میں بوڑھی جان پہلے سلائیاں کر کر کے گزارا کرلیتی تھی مگر اب ہڈیوں میں اتنا دم نہیں رہا گھر میں کھانے تک کے لالے پڑے ہوئے ہیں. اوپر سے دو بیٹیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے شادی کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہیں”
میں نے خالہ کو نہایت افسوس سے دیکھا ان کے حالات نے مجھے بہت دل گرفتہ کردیا تھا
"خالہ اللہ سے مانگیں إن شاء ﷲ وہ کوئی نہ کوئی سبیل ضرور نکالیں گے” میں نے ان کا ہاتھ تھام کر تسلی دی.
"بیٹا مجھے کوئی وظیفہ بتا دو تاکہ کچھ تو حالات بہتر ہوں”خالہ نے پھر لجاجت سے کہا
"خالہ میں آپ کو بتاتی ہوں. آپ یوں کریں کہ دو رکعات صلوۃ الحاجت پڑھ کر یہ کلمات پڑھیں اور دعا مانگیں إن شاء ﷲ بہت جلد آپ کی پریشانی دور ہوجائے گی” میں نے سائڈ سے چھوٹی سی ڈائری اور قلم اٹھایا تاکہ حاجت روائی کی مسنون دعا ان کو لکھ کر دے سکوں.
قلم تھامتے وقت اچانک خالہ کے چہرے پر نظر پڑی تو وہ مجھے خشمگین نگاہوں سے گھور رہی تھیں
"ہائیں میں نے ایسی کون سی بات کہہ دی جس پر یہ اتنے غصے سے گھور رہی ہیں؟ ” میں نے دل دل میں اپنی اور ان کی پوری گفتگو کا جائزہ لیا مگر کوئی ایسی بات نہ ملی جو خالہ کو یوں سیخ پا کردے.
"کیا ہوا خالہ؟ میں نے کچھ غلط کہہ دیا کیا؟ ” میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
"نہ مجھے یہ بتا میں تجھ سے وظیفہ پوچھ رہی ہوں اور تو مجھے نماز پڑھنے کا مشورہ دے رہی ہے؟ نماز تو میں اکثر پڑھتی ہی ہوں پابندی بھی کرلوں گی تو مجھے وظیفہ بتا وظیفہ بڑا سارا کوئی وظیفہ جس سے کایا پلٹ جائے” خالہ نے تقریر کردی
مجھے ان کی بات پر ایک دم ہنسی آگئی جس کو میں نے بمشکل ضبط کیا اور ان سے گویا ہوئی
"خالہ ایک وظیفہ تو ہے لیکن ذرا سا لمبا ہے بتاؤں؟ آپ کر سکیں گی؟ "
"ہاں ہاں بیٹا بتادو لمبا وظیفہ ہے تو کیا ہوا سارا دن رونے سے تو اچھا ہے ایک گھنٹہ لگا کر وظیفہ کرلوں تو حالات تو بدلیں گے” وظیفہ کے نام پر خالہ یکدم مشفق سی خالہ بن گئیں.
"خالہ کرنا یہ ہے کہ روزانہ گیارہ ہزار مرتبہ ایک جملہ پڑھنا ہے.” میں نے کھوجتی نظروں سے خالہ کو دیکھا
"ٹھیک ہے بیٹا لکھ کر دے دو. اور مجھے وہ دعا کئی بار پڑھوا بھی دینا تاکہ صحیح طرح پڑھنا آجائے” خالہ نے مطمئن ہوتے ہوئے کہا
"مگر خالہ گیارہ ہزار کا عدد تو بہت بڑا ہوتا ہے آپ کیسے کریں گی؟ ” میں نے تشویش سے بھرپور لہجے میں کہا
"اے بیٹا ہم تینوں ماں بیٹیاں روز بیٹھ جائیں گی رات میں اور کرلیا کریں گی. ایک سے تین بھلے اس میں کیا مشکل ہے اگر اس کو کرنے سے حالات ہی بدل جائیں. ” خالہ بالکل مطمئن تھیں

"اچھا خالہ لکھتی ہوں مگر پہلے ایک بات تو بتائیں ” میں نے ڈرتے ڈرتے خالہ کو کھوجنا چاہا
"کیا ہوا؟ ” خالہ نے بسکٹ اٹھا کر منہ میں رکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا
"وظیفہ ہم کس سے مانگنے کے لئے پڑھتے ہیں؟ ” میں نے سوال کیا
"ظاہر ہے اللہ سے مانگتے ہیں اسی لئے وظیفہ بھی پڑھتے ہیں” خالہ کو میری کم علمی پر حیرت ہوئی
"تو خالہ جب اللہ سے ہی مانگنا ہو تو وہ طریقہ مانگنے کا زیادہ بہتر نہیں ہوگا جو اللہ کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے؟” میں نے ان سے سوال کرکے سوچ کا در وا کیا
"کیا مطلب؟ مجھے سمجھ نہیں آئی” خالہ نے کچھ الجھتے ہوئے کہا
"میں آپ کو بتاتی ہوں خالہ” میں نے مکمل طور پر ان کی طرف رخ موڑتے ہوئے بات کا آغاز کیا
"دیکھیں ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ جس کو دنیا یا آخرت کی کوئی بھی ضرورت پیش آئے چاہے وہ اللہ سے مانگنے والی چیز ہو یا انسانوں سے منسلک کوئی ضرورت ہو اگر وہ یہ عمل کرلے تو اس کی حاجت یعنی ضرورت پوری ہوجائے گی. ایک طرف کوئی عام انسان کہتا ہے کہ سو مرتبہ یہ دعا پڑھ لو ہزار مرتبہ وہ وظیفہ پڑھ لو تو کس کی بات میں زیادہ اثر ہوگا؟ اور کس کی بتائی ہوئی بات اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہوگی؟ اللہ کے محبوب نبی صلي ﷲ علیه وسلم کی یا عام انسان کی؟ ” میں نے تفصیلی طور پر سمجھایا
"ظاہر ہے اللہ کے نبی صلي ﷲ علیه وسلم کی” خالہ نے قائل ہوتے ہوئے سر ہلایا
"تو بس پھر اس لمبے سارے گیارہ ہزار والے وظیفے کو چھوڑیں اور اللہ کے نبی صلي ﷲ علیه وسلم کا بتایا ہوا عمل کرلیں جس کی قبولیت میں سو فیصد امید و یقین ہے”میں نے گرم لوہے پر چوٹ ماری
"ارے واہ تو یہ عمل تو نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا بیٹا؟ ” خالہ نے چہکتے ہوئے کہا
"میں بتاتی ہوں آپ کو خالہ اگر ہم صرف یہی عمل کرلیں تو سارے جعلی پیروں اور بابوں کے کھاتے بند ہوجائیں گے گھر بیٹھے بیٹھے ہم اپنے رب سے مانگ کر اپنے مسائل حل کروا لیں گے نہ کوئی بابا نہ کوئی وظیفہ اور نہ دل کی بے چنی و پریشانی جو شریعت کے خلاف کام کرکے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے. ” میں نے سمجھایا
"ہاں واقعی صحیح تو کہہ رہی ہے بچی تو بس اب جلدی سے وہ عمل بتا دے مجھے” خالہ بیتاب ہوئیں
"لیں خالہ پھر سنیں”میں نے آغاز کیا
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلي ﷲ علیه وسلم نے فرمایا. جس کو اللہ سے کوئی حاجت ہو یا کسی بندے سے کوئی ضرورت وابستہ ہو اس کو چاہئے کہ اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعات نماز پڑھے پھر اللہ رب العزت کی تعریف کرے اور نبی عليه الصلوة و السلام پر درود و سلام پڑھے اور یہ دعا پڑھے
لا إله إلا اللهُ الحليمُ الكريمُ ، سبحانَ اللهِ ربِّ العرشِ العظيمِ ، الحمدُ للهِ ربِّ العالمينَ ، أسألُكَ مُوجِبَاتِ رحمتِكَ وعَزَائِمَ مغفرتِكَ ، والغنيمةَ من كلِّ بِرٍّ ، والسلامةَ من كلِّ إثمٍ ، لا تَدَعْ لي ذنبًا إلا غَفَرْتَه ، ولا هَمًّا إلا فَرَّجْتَه ، ولا حاجةً هي لك رِضًا ، إلا قَضَيْتَها يا أرحمَ الراحِمِينَ

اور اس کے بعد اپنی حاجت کی دعا کریں.
إن شاء ﷲ اس عمل سے آپ کی ہر ہر پریشانی دور ہوجائے گی خالہ کیونکہ یہ نبی کریم صلي ﷲ علیه وسلم کا بتایا ہوا مقبول ترین عمل ہے.
میں نے خالہ کو تفصیلا سمجھایا

"بیٹا یہ حدیث اور پوری دعا مجھے لکھ کر دے دو گی؟ ” خالہ نے بہت خوش ہوکر میرا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا.
"بالکل خالہ ابھی لکھتی ہوں” میں نے مطمئن ہوکر رب کا شکر ادا کیا جس نے خالہ کو یہ بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائی تھی کہ لمبے وظائف کی جگہ اگر نماز کی مکمل پابندی کی جائے اور ہر پریشانی اور مصیبت کے وقت نماز پڑھ کر اللہ سے حاجت پوری ہونے کی دعا کی جائے تو یہ مؤثر بھی خوب ہے اور آسان ترین بھی ہے۔

Comments are closed.