مودی یوگی کے سپاہیوں کی بزدلی

حسام صدیقی
آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ جب کبھی کسی شہر میں دنگا فساد کراتے ہیں تو بھڑک چکے فسادات میں آگ میںگھی ڈالنے کا کام کرتے ہیں اس وقت دنگائیوں کو بھڑکانے کے لئے یہ انتہائی خطرناک اور زہریلی تقریریںکرتے نظر آتے ہیں جیسے دنیا میں ان سے بڑا بہادر دوسرا کوئی نہیں ہے۔ لیکن جب یہی کاغذی شیر قانون کے پھندے میں پھنسنے لگتے ہیں تو رونے لگتے ہیں، ان کی ساری ہیکڑی بھی ہوا ہوجاتی ہے۔ پھر ان کا کہنا ہوتا ہے کہ ہمیں تو پولیس نے سیاسی وجوہ سے پھنسایا ہے میں تو دنگے میں دور دور تک کہیں تھا ہی نہیں۔ کچھ یہی حال وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے سپاہی کہے جانے والے ریاست کے وزیر سریش رانا، سنگیت سوم، کپل دیو اگروال جیسے ممبران اسمبلی اور ہمیشہ زہر اور آگ ہی اگلنے والی وشو ہندو پریشد کی پراچی کا ہے یہ سبھی ۲۰۱۳ کے مظفر نگر دنگوں کے ملزم ہیں۔ پراچی تو جب تقریر کرتی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ اگر سرکار اور پولیس اسے چھوٹ دے دے تو وہ ایک بھی مسلمان کو ہندوستان کی زمین پر رہنے نہیں دیں گی یا تو انہیں مار ڈالیں گی یا پھر پاکستان یا سمندر کی طرف ڈھکیل دیں گی۔ بولنے پر آتی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ اگر وزیراعظم اسے چھوٹ دے دیں تو وہ دو دنوں کے اندر پاکستان کو دنیا کے نقشہ سے مٹاکر ’اکھنڈ بھارت‘ کا خواب پورا کردیں گی۔ وہ خود کو سادھوی بھی بتاتی ہیں اور کسی کو بھی شراپ تک دینے کی باتیں کرتی ہیں۔ اب ۲۰۱۳ کے مظفر نگر دنگوں کے معاملات کا ٹرائل اپنے آخری مراحل میں ہے۔ پراچی کو لگتا ہے کہ عدالت سے انہیں ان کے گناہو ں کی سزا مل سکتی ہے تو وہ بھیگی بلی کی طرح کسی بل میں چھپ گئی ہیں اور یوگی آدتیہ ناتھ سرکار نے مظفر نگر دنگوں کے جن ملزمان کے مقدمات واپس لینے کی کاروائی دوبارہ کی ہے ان ملزمان میں مبینہ سادھوی پراچی کا بھی نام ہے۔
یوگی سرکار آنے کے بعد سے دنگے فساد کے ملزمان کے مقدمے و اپس لینے کا سلسلہ جاری ہے۔ چونکہ سرکاری سطح سے یا آرٹی آئی کے ذریعہ کسی بھی قیمت پر ان ملزمان کے نام اور فہرست بتانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس لئے اس سلسلہ میں افواہیں بھی بہت زیادہ گرم ہیں کسی کا کہنا ہے کہ یوگی سرکار اب تک اپنی پارٹی کے جتنے ممبران اسمبلی اور ورکرس کے سنگین قسم کے مقدمات واپس لے چکی ہے ان کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سو ہے کوئی سو سو تو کوئی دو سو بتا رہا ہے۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ اسے پوری طرح صاف کرے اور ریاست کو بتائے کہ اب تک کتنے مقدمے واپس لئے گئے ہیں اور کیا جو مقدمہ واپس لئے گئے ہیں ان میں دنگوں کے علاوہ ریپ اور قتل جیسے سنگین معاملات کے مقدمات بھی شامل ہیں؟
سردھنا میرٹھ سے بی جے پی ممبر اسمبلی سنگیت سوم تو مظفر نگر دنگوں کے دوران ایک ایسا ویڈیو جاری کرنے میں پکڑے گئے تھے جس میں ٹوپی والوں کی بھیڑ کسی کی پٹائی کرتے نظر آرہی تھی سنگیت سوم نے ویڈیو کے ساتھ کیپشن لکھا تھا کہ مسلمانوں کی بھیڑ جاٹ نوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کرتے ہوئے۔ وہ ویڈیو مظفر نگر تو کیا ملک کا ہی نہیں تھا وہ پاکستان کے سرحدی صوبہ کا تھا۔ سڑک سے اسمبلی تک سنگیت سوم سمیت جن بی جے پی ممبران اسمبلی نے ہر موقع پر مسلمانوں کو ٹھیک کرنے اور انہیں خوفزدہ کرنے کی باتیں کی تھیں ان سبھی کے خلاف چل رہے مقدمے اب واپس لینے کی کاروائی چل رہی ہے۔ کیوں آخر سرکار کی یہ کون سی اخلاقیات ہیں۔ آخر آپ مقدمات سے ڈر کیوں رہے ہیں اسی لئے نا کہ آپ کو پتہ ہے کہ آپ گناہ گار ہیں اور مقدمہ چلا تو آپ کو سزا مل جائے گی۔ آپ کی تو سوا تین سو ممبران کی مضبوط طاقت والی سرکار ہے نچلی عدالتیں تو دور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک میںبیٹھے بڑی تعداد میں ججوں کی بھی اتنی ہمت نہیں ہے کہ بی جے پی کے کسی لیڈر یا ورکر کو آسانی کے ساتھ سزا دے سکے پھر مقدموں کی واپسی کا مطلب بزدلی کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔
مقدمہ واپس لینے کا سلسلہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مایاوتی سرکار کے زمانے میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد میں اپنے خلاف دائر مقدمہ سے ہی کیا تھا۔ اگر ان میں جرأت ہوتی تو ا پنے خلاف درج سنگین دفعات کے مقدمات واپس لینے کے بجائے یہ کہنا چاہئے تھا کہ وہ مقدمات کا سامنا کریں گے۔ وہ وزیراعلیٰ بن چکے تھے کوئی بھی عدالت انہیں کورٹ میں حاضر ہورنے کے لئے بھی نہیں کہہ سکتی تھی۔ ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل عدالت میں جاتے اور کہتے چونکہ مقدمہ میں خود وزیراعلیٰ کا نام ہے اس لئے ایک طئے مدت میں جلد سے جلد اس کی سنوائی مکمل کی جائے اس طرح پانچ چھ مہینوں کے اندر نچلی عدالت سے با عزت بری ہوجاتے۔ چونکہ سرکار خود آپ کی تھی اس لئے اوپری عدالتوں میں اپیل بھی نہ ہوتی لیکن وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے عدالت سے بری ہونے کے بجائے مقدمہ ہی واپس لینے کا راستہ اختیار کیا۔ شائد انہیں کچھ ایسا خدشہ تھا کہ ان کے خلاف درج مقدمات میں مضبوط ثبوت موجود ہیں اس لئے عدالت میں معاملہ شائد پھنس بھی سکتا ہے حالانکہ گورکھپور میں اس وقت گرفتاری کے کچھ دن بعد ضمانت ملنے پر یوگی نے لوک سبھا میں اپنا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ دنگے فساد میں ان کا کوئی رول نہیں ہے۔ انہیں زبردستی فرضی طریقے سے پھنسایا گیا کیونکہ ریاستی سرکار انہیں قتل کرانا چاہتی ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ لوک سبھا میں رو پڑے تھے۔ وہ اپنی بے گناہی کے موقف پر قائم رہتے مقدمہ چلنے دیتے، عدالت سے بری ہونے پر ان کا اپنا قد کئی گنا بڑھا ہوا نظر آتا۔
آر ایس ایس اور بی جے پی کے بیان بہادر اور کریمنل دونوں قسم کے لوگ قانون کے سامنے بزدلی ظاہر کرتے ہیں مقدمات سے خوف کھاتے ہیں، یہ ہم نے چھ دسمبر ۱۹۹۲کو ایودھیا میں بابری مسجد تڑوانے والوں میں بھی دیکھا ہے۔جو لوگ عوامی میٹنگوں میں دہاڑتے پھرتے تھے انہوں نے کس طرح غلامی کے کلنک کو مٹایا، میڈیا کو انٹرویو دینے میں سارا کریڈٹ خود ہی لینےمیں مقابلہ کرتے نظر آتے تھے جب سی بی آئی کورٹ میں مقدمہ چلا تو سبھی کی ہوا نکل گئی۔ لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی سے نیچے تک سبھی نے عدالت میں ایک ہی بات کہی کہ جج صاحب ہم نے مسجد توڑنے میں کوئی رول ادا نہیں کیا۔ ہمیں تو اس وقت کی سرکار نے زبردستی پھنسایا تھا۔ مطلب’رام للّا ہم آئیں گے- مندر وہیں بنائیں گے‘ کے نعرے دن رات لگانے والا ایک بھی مبینہ رام بھکت اتنی ہمت عدالت میں نہیں دکھا سکا کہ بھگوان رام کے نام پر ہفتہ دس دن بھی جیل جاتا یہی تو ان لوگوں کی بزدلی ہے۔

Comments are closed.