پریس ریلیز
ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، اے ایم یو کے پروجیکٹ ایکسپو میں ایس پی جی ڈائریکٹر آلوک شرما نے انجینئرنگ طلبہ کو اپلائیڈ انجینئرنگ علم پر توجہ دینے کی تلقین کی
اختراعی پروجیکٹس کے لئے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا
علی گڑھ، 23 مئی: اسپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی)، حکومت ہند کے ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نیز ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ممتاز سابق طالب علم مسٹر آلوک شرما نے اے ایم یو کے انجینئرنگ طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے شعبہ کے عملی اور اطلاقی علم سے خود کو آراستہ کریں اور اپنے بنیادی پیشہ ورانہ میدان میں امتیاز حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
وہ اے ایم یو کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کی جانب سے منعقدہ پروجیکٹ ایکسپو 2025–26 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جس میں مختلف انجینئرنگ شعبہ جات کے طلبہ نے اپنے اختراعی منصوبوں اور تکنیکی مہارتوں کی نمائش کی۔
اپنے خطاب میں مسٹر آلوک شرما نے انجینئرنگ کو ایک اطلاقی سائنس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹکنالوجی کی تعلیم کا محور حقیقی دنیا کے مسائل کا حل تلاش کرنا اور ٹکنالوجی کے فروغ و قومی تعمیر میں کردار ادا کرنا ہونا چاہیے۔ طلبہ کے پیش کردہ اختراعی منصوبوں کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے انہیں نظریاتی فہم کو عملی اطلاق اور صنعت سے متعلق مہارتوں کے ساتھ جوڑنے کی تلقین کی۔
مہمانِ اعزازی، تالا نگری انڈسٹریل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (ٹی این آئی ڈی اے) علی گڑھ کے جنرل سکریٹری مسٹر سنیل دتہ نے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان قریبی اشتراک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قلیل مدتی پیشہ ورانہ کورسز اور کال سینٹرز کے قیام کی تجویز پیش کی تاکہ تعلیمی اداروں کو ”لرننگ سینٹرز“ سے ”ارننگ سینٹرز“ میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے طلبہ کو انجینئرنگ کے اختراعی پہلوؤں پر توجہ دینے کی تلقین کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ علی گڑھ اپنی موجودہ شناخت ”تالہ نگری“ سے آگے بڑھ کر تکنیکی اختراع اور مہارت پر مبنی ترقی کے ذریعہ ’ٹیک نگری‘ کے طور پر ابھرے گا۔
وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے نمائش کے مختلف اسٹالوں کا دورہ کیا اور طلبہ سے گفتگو کی۔ انہوں نے یونیورسٹی میں اختراع، تحقیقی کلچر اور بین شعبہ جاتی تعلیم کے فروغ کے لیے منتظمین اور شرکاء کی کوششوں کو سراہا۔
ڈین، فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی پروفیسر محمد حسن نے کہا کہ اس نوعیت کی تعلیمی سرگرمیاں طلبہ کو اختراعی تصورات کو عملی شکل دینے کے مواقع فراہم کرتی ہیں اور ادارے میں تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور تکنیکی برتری کے کلچر کو فروغ دیتی ہیں۔
انجینئرنگ کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل نے کہا کہ اس نمائش کا مقصد طلبہ کو اپنے تصورات، عملی معلومات اور انجینئرنگ صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں کلاس روم کی تعلیم اور صنعت و سماج کو درپیش تکنیکی چیلنجوں کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
نمائش میں مکینیکل انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، سول انجینئرنگ، الیکٹرانکس انجینئرنگ، کمپیوٹر انجینئرنگ، کیمیکل انجینئرنگ، آرکیٹیکچر اور پیٹرولیم اسٹڈیز کے شعبوں کے پروجیکٹ پیش کیے گئے، جن میں مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، روبوٹکس، آٹومیشن، اسمارٹ ٹکنالوجیز، پائیدار ترقی اور صنعتی اطلاقات جیسے عصری موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس موقع پر ایک خصوصی اعزازی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں تعلیمی میدان، تحقیق، تقرریوں اور اعلیٰ تعلیم میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے طلبہ کو اعزاز سے نوازا گیا۔ ارشاد احمد کو بلیک باکس اے آئی میں سالانہ 3.3 کروڑ روپے کے پیکیج پر تقرری حاصل کرنے پر تہنیت پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ طلبہ کو انٹرن شپ، گیٹ امتحان میں کارکردگی، تحقیقی مقالات، کانفرنس پریزنٹیشن اور اعلیٰ تعلیم کے لئے انتخاب پر بھی اعزازات سے نوازا گیا۔
نمائش کے دوران مقابلہ جاتی پروجیکٹ پرزنٹیشن کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ کمپیوٹر انجینئرنگ میں محمد سہیل اور فاران امام کی ٹیم اور محمد فیض العمر اور نتیش مدگل کی ٹیم کو مشترکہ طور سے پہلا انعام دیا گیا، جبکہ شاہ ویز اسلام اور باقر حسان نے دوئم انعام حاصل کیا۔ الیکٹرانکس انجینئرنگ میں احمد الیاس اور عمر علی خان کو اوّل انعام سے نوازا گیا، جبکہ وکاس وشو کرما اور عاطف آفتاب کی ٹیم کو دوئم اور یشرح ملک اور نیہا بانو کو سوئم انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔
مکینیکل انجینئرنگ میں عفان خان اور سیف شکیل نے پہلا انعام حاصل کیا، جبکہ ارباز رشید، شیخ نور عثمانی اور مبشر رضا کی ٹیم اور محمد حسان، محمد شفاعت اللہ اور محمد قاسم کی ٹیم کو مشترکہ طور سے دوم انعام سے نوازا گیا۔ سعادت الحسن اور دیپانش گپتا کی ٹیم سے سوم انعام حاصل کیا۔ سول انجینئرنگ میں شیلیندر کمار اور ساحل ورما نے اول انعام حاصل کیا۔ محمد فراز خاں اور محمد ارمان عالم نے دوم انعام اور سعد الحق، خالد خان، مریم ملک اور دوّیا پرتاپ پندھیر نے سوم انعام حاصل کیا۔
الیکٹریکل انجینئرنگ میں سدرہ سہیل نے اوّل انعام، محمد فہد، یش شکلا، زید احمد خاں اور محمد حمزہ نے دوم انعام اور سمیحہ نساء ہلدر، منیبہ سلطانہ، مرتضیٰ اور آصف اکبر کی ٹیم نے سوم حاصل کیا۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سید فواز ایازی اور نوشین پروین نے پہلا انعام، امینہ احمد اور فوزیہ خان کی ٹیم اور محمد ارقم و محمد حسن کی ٹیم نے مشترکہ طور سے دوم انعام اور سید محمد تاشف اور عبدالہادی ذیشان کی ٹیم نے سوم انعام حاصل کیا۔
پیٹرولیم اسٹڈیز کے شعبہ میں محمد انس عدنان، بٹّو کمار چوہان، تبریز عالم اور شاہ رخ صدیقی کو اول انعام سے نوازا گیا۔ محمد عرفات اقبال، میر محمد عبداللہ اور محمد حسین کی ٹیم نے دوم انعام اور عالیہ رحمان، عمیر علی خاں، شاہ زیب خان اور محمد فراز صدیقی کی ٹیم نے سوم حاصل کیا۔ کیمیکل انجینئرنگ میں عظام احمد صدیقی، ایان احمد اور انس اقبال نے اول انعام حاصل کیا۔ صہیب اللہ نجمی، رچا چودھری اور نبیل شیروانی کی ٹیم اور محمد اسعب، اجے سنگھ راٹھور اور سہیل عباس کی ٹیم کو مشترکہ طور سے دوم انعام سے نوازا گیا۔ فوڈ ٹکنالوجی میں سید حیدر عباس، زید احمد اور سید احمد عبداللہ کی ٹیم نے اوّل انعام حاصل کیا۔ دوم انعام اریب چاند، محمد ساحل خاں اور محمد کیف صدیقی کو دیا گیا، جب کہ سوم انعام وویک کمار، دگ وجے سنگھ چوہان اور محمد سیف علی کی ٹیم نے حاصل کیا۔اسی طرح آرکیٹیکچر میں مجسم احمد بھٹی نے اوّل انعام، شیتل وارشنے نے دوم اور عبدالحنان سبحانی سے سوم انعام حاصل کیا۔
پروجیکٹ ایکسپو کی انچارج ڈاکٹر معینہ اطہر نے طلبہ کے جوش و خروش اور اختراعی جذبے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام نوجوان انجینئروں کو اپنی تخلیقی صلاحیت، تکنیکی معلومات اور مسائل حل کرنے کی مہارتوں کے اظہار کا بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے طلبہ، فیکلٹی کوآرڈینیٹرز اور رضاکاروں کو اس کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ ڈاکٹر علی عمران نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ویمنس کالج میں شجر کاری مہم کا انعقاد
علی گڑھ، 23 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ویمنس کالج میں حکومت ہند کی مشن لائف مہم کے تحت عالمی یومِ ماحولیات کی مناسبت سے نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) اکائی کی جانب سے شجرکاری مہم منعقد کی گئی۔
ویمنس کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود انور علوی نے این ایس ایس پروگرام افسران ڈاکٹر منصور عالم صدیقی، ڈاکٹر فوزیہ فریدی اور ڈاکٹر ندا خان کے ہمراہ کالج کیمپس میں پودے لگائے۔ مہم میں طلبہ اور عملے کے اراکین نے حصہ لیا۔ اس موقع پر شجر کاری کے طریقوں اور پودوں کی دیکھ بھال سے متعلق ضروری رہنمائی بھی فراہم کی گئی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے فیکلٹی رکن کی پیرس میں منعقدہ یورو پی سی آر 2026 میں شرکت
علی گڑھ، 23 مئی: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ کارڈیولوجی کے چیئرمین پروفیسر محمد اظہرالدین ملک نے فرانس کے شہر پیرس میں منعقدہ یورو پی سی آر 2026 کانفرنس میں شرکت کی۔ اسے انٹروینشنل کارڈیولوجی اور قلبی امراض کے شعبے میں دنیا کی اہم بین الاقوامی کانفرنسوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
کانفرنس کے دوران پروفیسر ملک نے ہارٹ اٹیک کے علاج و نگہداشت سے متعلق سائنسی مباحث میں حصہ لیا، جن میں ”ہارٹ فیلئر مینجمنٹ“ کے عنوان سے ایک سیشن بھی شامل تھا۔ اس سیشن میں شدید اور دل کے دورے کے جدید طریق ہائے علاج، انٹروینشنل تھیراپیز اور پیچیدہ کلینیکل کیسز پر گفتگو کی گئی۔
اس معروف سائنسی کانفرنس میں پروفیسر ملک کی شرکت اے ایم یو کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی علمی موجودگی کی عکاس ہے اور اعلیٰ طبی تعلیم، تحقیق اور عالمی سائنسی اشتراک میں یونیورسٹی کی مسلسل خدمات کو اجاگر کرتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
Comments are closed.