کسانوں کی سرکار سے بات پھر ناکام

حسام صدیقی

نئی دہلی: تیس دسمبر کو کسان نمائندوں اور سرکار کے درمیان چلی پانچ گھنٹے سے زیادہ کی میٹنگ تقریباً بے نتیجہ ختم ہوگئی، حالانکہ بعد میں وزیرزراعت نریندر سنگھ تومر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت میں کسانوں نے جو چار مدّے پیش کئے تھے، ان میں سے دو پر اتفاق ہوگیا ہے، باقی دو پر چار جنوری کو ہونے والی میٹنگ میں اتفاق رائے ہونے کی پوری امید ہے۔ میٹنگ سے نکل کر کسان لیڈران نے کہا کہ سرکار نے پرالی کے سلسہ میں کسانوں کی بات ماننے کا وعدہ کیا ہے اور مجوزہ بجلی ایکٹ کے سلسلہ میں کسانوں کا مطالبہ ماننے پر سرکار نے رضامندی ظاہر کی ہے۔ لیکن جو دو اصل مدّے ہیں کہ سرکار تینوں کسان قوانین و اپس لے اور منیمم سپورٹ پرائز(ایم ایس پی) کو قانونی درجہ دے اس پر کوئی بات نہیں بنی ہے اور جب تک ان دونوں مدّوں پر بات نہ بنے تب تک کوئی بھی میٹنگ ناکام ہی سمجھی جائے گی۔ کسان لیڈران نے کہا کہ سرکار جب تک تینوں کسان قوانین واپس نہیں لیتی ہم کچھ اور ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پینتیس دن کے مظاہرے کے دوران سرکار نے مظاہرہ کو توڑنے، کمزور کرنے اور پٹری سے اتارنے کی ہر ممکن کوشش کرڈالی لیکن وہ ہمارا کچھ نہیں کرسکے۔

میٹنگ سے نکل کر وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے معاملے کو ہلکا کرکے پیش کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ کسانوں نے جو چار مدّے پیش کئے تھے ان میں سے دو پر آپسی رضامندی ہوگئی ہے۔ باقی دو پر بھی اگلی میٹنگ میں کامیابی ملنے کی امید ہے۔ تومر کچھ بھی کہیں لیکن کسانوں کی اس ضد کے سامنے کہ تینوں قوانین واپس لئے جائیں اور ایم ایس پی کو قانونی درجہ دیا جائے، وزیراعظم نریندر مودی اس کے لئے کسی بھی قیمت پر تیار نہیں ہوں گے اور کسان اس سے کچھ کم پر ماننے کو تیار نہیں ہوں گے۔ نتیجہ ٹکراؤ کی شکل میں ہوگا۔ مودی سرکار ہر صورت میں یہ چاہے گی کہ چھبیس جنوری سے پہلے کسانوں کا مظاہرہ ختم ہوجائے اور دہلی کے چاروں طرف بارڈر پر بیٹھے کسان اپنے اپنے گھر چلے جائیں۔ کیونکہ چھبیس جنوری کی تاریخی پریڈ میں کوئی غیر ملکی حکمراں(صدر یا وزیراعظم) مہمان خصوصی کی حیثیت سے شامل ہونے دہلی آئے گا، کسان تحریک جاری رہی تو غیر ملکی مہمان کے سامنے سرکار کی تھو تھو ہوجائے گی۔ ایک سرکاری اعلان کے مطابق برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اس بار چھبیس جنوری پریڈ کے مہمان کی حیثیت سے آنے والے ہیں۔ حالانکہ برطانیہ میں کورونا کے نئے اسٹرین پائے جانے کی وجہ سے بورس جانسن کا آنا یقینی نہیں رہ گیا ہے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ بورس جانسن کے آفس نے وزیراعظم مودی کے آفس کو خط لکھ کر اطلاع دے دی ہے کہ وہ چھبیس جنوری کے پروگرام میں شامل نہیں ہوپائیں گے۔

سرکار نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ سردی کی شدت کے پیش نظر وہ بزرگ کسانوں اور بچوں کو دھرنے سے ہٹا کر انہیں گھر بھیج دیں۔ کسانو ں کا کہنا ہے کہ بچے اور بزرگ اپنی مرضی سے آئے ہیں۔ اگر واپس جانا چاہیں گے تو خود ہی چلے جائیں گے، انہیں کچھ کہنےکی ضرورت نہیں ہے۔ کسانوں نے پھر دہرایا کہ سرکار بار بار اسلئے لمبی لمبی میٹنگیں کررہی ہے کہ وہ کسانوں کو تھکا سکے۔ ہم صاف بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم نہ تو تھکنے والے ہیں نہ جھکنے والے۔ سرکار کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ وہ ملک کے عوا م میں یہ بھرم پیدا کردے کہ ہم تو کسانو ں کے ہمدرد ہیں لیکن کسان ہی ہیں جو کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اکتیس دسمبر کو اپنی ٹریکٹر ریلی فی الحال ملتوی کردی ہے۔ چار جنوری کی بات چیت تک ہم کوئی نیا پروگرام نہیں چلائیں گے۔ کچھ کسان لیڈران نے کہا کہ تیس دسمبر کی میٹنگ سے ایک دن پہلے وزیرزراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ بات چیت ضرور ہوگی لیکن کسان یہ سوچ کر میٹنگ میں نہ آئیں کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی پر کسی قسم کا دباؤ بنا لیں گے۔

اب وزیراعظم نریندر مودی کی مجبوری یہ ہے کہ وہ نہ تو تینوں قوانین واپس لے سکتے ہیں نہ ہی ایم ایس پی کو قانونی درجہ دے سکتے ہیں۔ یہ دونوں کام شائد انہوں نے خود کئے بھی نہیں ہیں۔ ان کے دوست گوتم اڈانی اور مکیش امبانی نے اپنے اپنے فائدے میں کرائے ہیں۔ اگر مودی کی یقین دہانی پر گوتم اڈانی نے ملک کی کئی ریاستوں میں کروڑوں روپئے خرچ کرکے غلّہ اسٹور کرنے کے لئے بڑے بڑے گودام بنا لئے ہیں اور مکیش امبانی نے ہزاروں کروڑ روپئے لگا کر بگ بازار سمیت سبزیوں اور کھانے پینے کی دوسری اشیاء کی کمپنیوں کو خرید لیا ہے تو وہ دونوں یہ قانون کیسے واپس لینے دیں گے۔ جہاں تک ایم ایس پی کا سوال ہے مودی اسے بھی قانونی درجہ کسی قیمت پر نہیں دیں گے۔

اس درمیان مودی کے نئے کسان قوانین کی دھجیّاں اڑانے والی ایک خبر مدھیہ پردیش سے پھر آئی۔ یہ خبر ٹھیک اسی وقت آئی جب کسان لیڈران کی سرکار کے وزیروں کے ساتھ بات چیت ہورہی تھی۔ خبر کے مطابق مدھیہ پردیش کے دیواس، ہوشنگ آباد، سیہور اور ہردی سمیت تقریباً سات اضلاع کے کسانوں سے پرائیویٹ کمپنیوں نے چنا، دھنیا، مونگ اور دیگر اناج خرید کے پیسہ دینے کے بجائے چیک دیئے، جو چیک بعد میں باؤنس ہوگئے۔ جن بڑی کمپنیوں کے چیک باؤنس ہوئے ہیں ان کے ذمہ داران کا کچھ اتا پتہ نہیں ہے۔ چیک بھی تھوڑی رقم کے باؤنس نہیں ہوئے ہیں کل ملا کر یہ گھپلہ پانچ سے سات کروڑ کے درمیان کا ہے۔ مدھیہ پردیش سرکار نے ہی نئے کسان قوانین سب سے پہلے لاگو کئے تھے۔ اب مدھیہ پردیش کے وزیرزراعت کمل پٹیل کہہ رہے ہیں کہ ہم تو بار بارکسانوں سے اپیل کررہے ہیں کہ اپنا غلّہ ادھار مت بیچو لیکن زیادہ قیمت حاصل کرنے کے چکر میں یہ لوگ کمپنیوں کو اس طرح چیک لے کر غلّہ بیچ دیتے ہیں۔ اس میں سرکار کیا کرسکتی ہے۔ کمل پٹیل یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ چیک لے کر غلّہ بیچنا ادھار غلّہ بیچنا ہے۔

Comments are closed.