۲۰۲۰ء تو گزر گیا مگر آسان نہیں ہوگا
۲۰۲۱ء کا سال!
شکیل رشید
سالِ نو 2021ء کی سانسیں 2020ء ہی جیسی توہیں۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا ہے ۔ کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ ویسا ہی لاک ڈاؤن ،ویساہی نائٹ کرفیو اور ویسا ہی احتجاج ۔ 2019ء جاتے جاتے شاہین باغ دے گیا تھا اور 2020ء جاتے جاتے کسانوں کا احتجاج دے گیا ہے ۔ دونوں ہی لڑائیاں شناخت اور اپنی زمین کی حفاظت کی تھیں اور ہیں ۔۔۔ شاہین باغ کی لڑائی اپنی پہچان کوبرقرار رکھنے کی لڑائی تھی ،لڑائی ہے ، یہ اس زمین پر بسے رہنے کی لڑائی تھی اور ہے ، جس سے اس ملک کے بے شرم ، بے حس اور سفاک حکمراں ، انہیں جو،ان کے ہندوراشٹر کے سانچے میں نہیں سجتے ، بے دخل کردینا چاہتے ہیں ۔ یہ بے دخلی نہ 2019ء میں منظور تھی، نہ 2020ء میں اور نہ ہی 2021ء میںیہ منظور ہے ۔۔۔ کسانوں کی لڑائی بھی شناخت کی لڑائی ہے ، اس زمین سے چمٹے رہنے کی لڑائی ہے جس پر ان کے پرکھوں کا پسینہ بہا ہے ۔ حکومت نے قانون بنادیا ہے کہ بھلے کھیتوں پر پسینہ کسانوں کا بہے حکم کارپوریٹ گھرانوں کا چلے گا ، وہ اناج اپنی من مانی قیمت پر خریدیں گے ، مرضی ان کی چلے گی ، یہ کسانوں کو منظور نہیں ہے ۔۔۔
گویا یہ کہ ہم 2020ء سے نکل کر 2021ء میں آتوگئے ہیں مگر سب کچھ ویسا ہی ہے ۔ یعنی لڑائی ابھی جاری ہے ، ابھی بھی کچھ بدلا نہیں ہے ۔۔۔ جب ہم گردن موڑ کر 2020ء پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ابھی ابھی جو سال گزرگیا ہے وہ کیسا غم سے بھرا ہوا تھا، اس نے کتنے الم دیئے ہیں ، کتنی چوٹیں پہنچائی ہیں۔ 2019ء میں بی جے پی کو دوسری کامیابی ملی تھی۔ نریندر مودی دوسری دفعہ ملک کے وزیراعظم بنے تھے اور امیت شاہ نے وزیرداخلہ کی حیثیت سے کمان سنبھالی تھی۔ طاقت اور گھمنڈ کے نشے میں چور امیت شاہ نے شہریت بِل پیش کیا تھا۔ ملک 2019ء کی ان تین تاریخوں 11,10 اور 12 دسمبر کو کبھی نہیں بھلا سکتا ۔۔ یہ تاریخیں ملک کے سیکولر اور جمہوری ڈھانچے پر حملے کی تاریخیں ہیں ۔ 9دسمبر کو لوک سبھا میں شہریت بِل (سی اے اے) پیش کیا گیا اور دوسرے ہی روز اسے منظوری مل گئی، تیسرے روز راجیہ سبھا میں بھی اسے منظور کرلیا گیا اور منظوری دینے والوں میں خود کو سیکولر کہلانے والے ، بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار بھی شامل تھے ۔۔۔ ان کی پارٹی متحدہ جنتا دل نے سی اے اے کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔۔۔ اور 11دسمبر کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد بِل قانون بن گیا ۔ یہ قانون اس ملک کے مسلمانوں کو ہی نہیں دلتوں اور پچھڑوں کو بھی شہریت سے محروم کرنے والا قانون ہے ۔۔۔ یوںتو آسام سے سی اے اے کے خلاف 4دسمبر سے ہی احتجاج کی خبریں آنے لگی تھیں لیکن 14 دسمبر 2019ء کو دہلی کے شاہین باغ میں چند خواتین نے جو احتجاج شروع کیا اس نے مودی سرکار کی مسلم اور اقلیت مخالف پالیسیوں کو ساری دنیا پر عیاں کردیا ۔۔۔ اور ساری دنیا میں تھوتھو ہونے لگی ۔ بیرون ممالک جگہ جگہ شاہین باغ کی حمایت اور سی اے اے کی مخالفت میں مظاہرے شروع ہوگئے ۔ ملک میں جگہ جگہ نئے شاہین باغ بن گئے ۔ احتجاج اور مظاہروں کی لہر بہت تیز تھی، اتنی تیز کہ مرکزی سرکار ہل کر رہ گئی ۔ جو روستم سے احتجاج کو دبانے کی کوشش کی گئی، پولس نے اپنی بندوقوں کے دہانے مظاہرین کی طرف موڑ دیئے ۔۔۔ 15دسمبر 2019ء کو جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ پر مودی اور یوگی کی پولس نے جو تشدد ڈھایا اسے ملک کی تاریخ میں ہمیشہ کالی سیاہی سے لکھا جائے گا ۔ وزیراعظم مودی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی چاہے جسقدر تعریف کریں، چاہے رات دن اسے ’ منی انڈیا ‘کہتے نہ تھکیں ، طلبہ اور اس ملک کے سیکولر اور جمہوری شہری انہیں اور ان کی پولس کو ہمیشہ ان دویونیورسیٹیوں کا قصوروار سمجھتے رہیں گے۔۔۔ انہیں بھی اور ان کے دستِ راست امیت شاہ کو بھی۔ کتنے طلبہ آج بھی بے گناہ قیدی بنے ہوئے ہیں ! کتنوں پر مقدمے بنادیئے گئے ہیں ۔۔۔ حاملہ صفورا زرگر ہوں یا شرجیل امام یا کہ عمر خالد سب کے سب صرف اس لئے معتوب ہیں کہ انہوں نے سی اے اے کے خلاف جمہوری احتجاج کرنے کی جرات کی تھی۔
گزرےہوئے سال کا ایک بڑا سبق یہ ہے کہ زبانیں بند رکھی جائیں ۔ مودی سرکار ، بی جے پی کی ریاستی سرکاروں اور سنگھیوں کا ساتھ دینے والوں کے خلاف زبانیں نہ کھولی جائیں ، زبانیں کھلی نہیں کہ مصیبت آئی۔ یہ ’ زبان بندی‘ تحریری نہیں نہ قانونی ہے ، کہنے کو تو سرکار یہ کہتی ہے کہ سب کو بولنے کی آزادی ہے ۔ مگر سچ یہی ہے کہ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کا نعرہ دینے والی اس سرکار کی نظر میں ہر وہ شخص جو زبان کھولے ’ملک دشمن‘ ہے۔ کیسے کیسےصحافی، دانشور اور انسانی حقوق کے کارکنان کو زنداں میں ڈال دیا گیا ہے ۔ ورورا راؤ ملک دشمن ہیں ، اسٹین سوامی ملک دشمن ہیں، ہرش مندر اور اپوروانند ملک دشمن ہیں، کیونکہ سب اقلیتوں کے حق کے لئے لڑتے رہے ہیں ۔ مذکورہ یونیورسیٹیوں کے طلبہ اور ان طلبہ کی آواز میں آواز ملانے والے سب کے سب ’ملک دشمن‘ ہی کہے جاتے ہیں ۔ اس ملک میں اگر کوئی قوم پرست ہے تو وہ ہندوتواوادی اور ہندوراشٹر وادی ہیں ۔ ہاں! یہ سکھ بھی تو ملک دشمن ہیں ، پہلے شاہین باغ والوں کی حمایت کی اور اب کسان کی شکل میں خود احتجاجی بن گئے۔
جب گھوم کر دیکھتے ہیں تو کئی تصویریں نظر کے سامنے گھوم جاتی ہیں ، ایک تصویر نقاب پوش نوجوانوں کی ہے ، ہاتھوں میں لاٹھی ڈنڈے اور لوہے کی چھڑ لئے ہوئے ۔۔ نقاب کے اندر سے جھانکتی آنکھوں میں نفرت کی شدید لہر ۔ یہ نقاب پوش زعفرانی غنڈے جے این یو میں گھسے تھے ۔ ان کے لاٹھی ڈنڈے اور لوہے کی چھڑیں طلبہ اور اساتذہ پر برسی تھیں ۔ ان میں ایک نقاب پوش لڑکی بھی ہے ، اس کے ہاتھ میں بھی لوہے کی سلاخ ہے ۔۔۔ یہ معمولی سلاخ نہیں ہے ، اس ملک کی کمان جن لوگوں نے سنبھال رکھی ہے ، انہوں نے یہ سلاخ اس نقاب پولش لڑکی کے ہاتھ میں تھمائی ہے اور اس سلاخ نے کئی سروں کو سرخ کیا ہے ۔۔۔ یہ سارے ہی نقاب پوش انجانے نہیں ہیں لیکن دہلی کی پولس ، جوبڑی ہی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ مودی سرکار کے قدموں میں بچھ گئی ہے اب تک ،پورا سال گزر جانے کے بعد بھی انہیں نہیں پہچان سکی ہے ، لہٰذا ان کی گرفتاری کا سوال ہی نہیں ہے ۔۔۔ یہ وہی پولس ہے جس نے ظفر الاسلام خان اور ایڈوکیٹ محمود پراچہ پر چھاپے مارے ہیں ۔ ایک تصویر دہلی کے الیکشن کی ہے ، امیت شاہ تقریر کررہے ہیں شاہین باغ کے خلاف نفرت بھری تقریر ، یوگی کی تقریر ہو رہی ہے ، ماردھاڑ کی دعوت دیتی تقریر ۔ انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور کپل مشرا نفرت پروس رہے ہیں ’ دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو‘۔۔۔ اور پھر دہلی کی تصویر ، دھواں دھواں جلتی دہلی ، جلتے گھر اور دکانیں اور مسجد پر لہراتا بھگوا دھوج ۔ پولس کے ذریعے لاٹھی ڈنڈے سے پیٹے جاتے زمین پر زخمی حالت میں پڑے نوجوان ، جنہیں جن گن من پڑھنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔۔۔ جیت کے بعد فتح کے نشےمیں چور دہلی کے وزیراعلیٰ کیجریوال کو ہنومان مندر میں ماتھا ٹیکنا اور امیت شاہ سے میٹنگ کرنا تو یاد رہتا ہے لیکن ان مسلمانوں کی جو زعفرانی غنڈوں کی زد پر تھے ، یاد قطعیٔ نہیں آتی ہے جبکہ سب نے انہیں ووٹ دیا تھا۔ 2020ء کے بے حد مکروہ چہروں میں سے ایک چہرہ کیجریوال کا ہے ۔ دہلی فسادات میں مارے گئے اور لٹے پٹے مسلمانوں پر ہی فسادات کا الزام عائد کیا گیا ہے ، یہ بھی 2020ء کا ایک ستم ہے ۔۔۔ ٹرمپ کی گجرات ریلی بھی یاد ہے ، ایم پی میں حکومت کی تبدیلی بھی یاد ہے ، اور کورونا کے سبب تالی ، تھالی او ردیئے روشن کرنا بھی ۔۔۔ ایک تصویر ان لاکھوں مزدوروں اور غریبوں کی ہے جو کورونا کے بعد ہزار ہزار کلو میٹر کا سفر پیدل طے کرکے اپنے گھر پہنچے ، درمیان میں مرے یا ریل کی پٹری پر کٹ گئے یا سڑک حادثے کا شکار ہوگئے ۔۔۔ اور کورونا نے کتنے ہی اپنے اور پرائے ہم سے چھین لیے، بے شمار علمائے کرام ، دانشور، ادیب اور شاعر اور اپنے پیارے عزیز۔۔۔ سب کے چہرے سامنے ہیں ۔
سمجھتے تھے 2021ء کا سورج نکلے گا اور سب بدل جائے گا مگر کچھ نہیں بدلا ہے ۔ شاہین باغ کی جگہ کسانوں کے احتجاج نے لے لی ہے ۔مسجدوں پر بھگوے لہرائے جارہے ہیں ۔ ایم پی کو نفرت کا گڑھ بنایا جارہا ہے ۔ لاک ڈاؤن کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔۔۔ حکمراں اسی طرح بے حس، بے شرم اور سفاک بنے ہوئے ہیں ۔ کسانوں کا یہ احتجاج ناکام نہیں ہونا چاہیئے کہ اس احتجاج سے سارے ملک کی اقلیتوں ، غریبوں اور پچھڑوں کا مفاد وابستہ ہے ۔ یہ نیا شاہین باغ ہے ۔۔۔ 2020ء کی لڑائی 2021ء میں سخت ہوگی ۔ حکومت جھکے گی نہیں اس لئے اس لڑائی کو بڑی ہی طاقت اور ہوشیاری سے لڑنا ہوگا ۔ دشمن شاطر ہے ۔ وہ خریدنا جانتا ہے ، بانٹنا جانتا ہے ۔ نہ جانے کتنے سیاست داں ، دانشور اور صحافی بک گئے ہیں ۔۔۔ آزاد میڈیا گودی میڈیا میں تبدیل ہوچکا ہے ۔۔ اس سال سی اے اے کا ہنگامہ پھر اٹھے گا ، یکساں سول کوڈ کی بات بھی کی جائے گی اور چونکہ مغربی بنگال میں اسمبلی الیکشن ہے اس لئے ملک میں فرقہ وارانہ فضا کو انتہائی مکدّر کردیا جائے گا ۔ آسام اور یوپی کے الیکشن بھی بہت دور نہیں ہیں اس لئے وہاں کے حالات بے حد دشوار بنادیئے جائیں گے ۔ یہ سال آسان نہیں ہے اس لئے لڑائی بھی آسان نہیں ہوگی ۔ بہت عزم اور حوصلے کی ضرورت ہے ۔ منافقین سے بچنے کی ضرورت ہے ۔۔۔ اللہ کرے نئے سال میں یہ لڑائی جو 2019ء سے بھی پہلے شروع ہوئی تھی مثبت نتیجے پر پہنچے ۔
Comments are closed.