سری لنکامیں مسلمان میتوں کی کھلی توہین
عبدالرافع رسول
سوئے ہوئے بیس روزہ نومولود سری لنکاکے شیخ کی تصویرجس کی میت کوسرکاری حکمنامہ پر دفن کرنے کے بجائے جلاڈالاگیا ،مسلمانان سری لنکاکی حالت زار کی علامت بن گئی ہے۔ یہ تصویر سری لنکاکے مسلمانوں کی بے بسی اورانکی لاچارگی کے ساتھ ساتھ 57مسلمان ممالک کی بے حسی کومبرہن کرتی ہے ۔2011 کی مردم شماری کے مطابق سری لنکا کی آبادی تھیرواد بدھ مت 70.2فیصدہیں، ہندو 12.6فیصدہیں، مسلمان9.7فیصد ہیں اوریہ سب اہل سنت ہیں جو مور اور مالے نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔چھٹی صدی عیسوی میں،اہل عرب بحر ہند کی تجارت، بشمول سری لنکا کی تجارت پر غالب تھے۔ سری لنکامیںمسلمان تاجروں کی وجہ سے اسلام پہنچا ، عرب تاجروںنے یہاں تجارت کے دوران مقامی خواتین سے شادیاں کیں اور تبلیغ دین کی۔اگرچہ اسلام سری لنکا کا تیسرا بڑا مذہب ہے لیکن اس کے باوجودسری لنکا میں مسلمانوں کے شب وروز خوف کے عالم میں گذرہے ہیں۔
6مارچ 2018کوسری لنکا میں مسلمانوں کے کاروبار اور مساجد پر کئی حملے ہوئے اورانہیں جان ومال کانقصان پہنچایاگیا،اس وقت یہ بات سامنے آئی کہ سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں32سالہ شخص کو ملوث پایاگیاجس کا تعلق سخت گیر بودھ تنظیم بودو بالا سینا سے ہے۔کہاگیاتھاکہ مسلمانوں کے خلاف حملے اور آتش زنی کرنے جیسے متعدد واقعات اورسری لنکامیں مذہبی منافرت اور کشیدگی کوہوادینے میں اسی بدھ بکھشی کاکریہہ کردارتھا۔لیکن اس کے بعد 14مئی2019 کوایک بار پھرسری لنکا میں خطرناک مسلم کش تشدد پھوٹ پڑا ہے اور کولمبو و دیگر اضلاع میں مساجد اور مسلمانوں کی املاک جلا دی گئیں،مسلم کش واقعات میں کئی مساجد پر بموں سے حملے، توڑ پھوڑ اور املاک کوآگ لگا دی گئی، پولیس اور فوج خاموش تماشہ دیکھتی رہی۔ان مسلم کش فسادات کی حدت اس حد تک تھی کہ ایک ہی دن میں 9مساجد شہید کردیں، جبکہ 30دیہات میں مسلمانوں کی دکانیں اور کاروبار تباہ کردیئے گئے، گھروں میں گھس کر مسلمان خاندانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
لیکن اب کی بار بدھ بکھشوں اورسری لنکاحکومت نے ایک اکھنڈ بنایااوروہ مسلمانان سری لنکاکے خلاف صف آراء ہوچکے ہیں اورمداخلت فی الدین کر کے مسلمانوں کوپیچ وتاب دلارہے ہیںجس کی تازہ مثال یہ ہے کہ کورونا وائرس کی آڑ میںفوت شدہ مسلمانوں کو اسلامی روایات کے مطابق تدفین کے علیٰ الرغم انکی لاشوں کوجلایاجارہاہے جس پر مسلمانان سری لنکا برسراحتجاج ہیں۔سری لنکا کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ حکام کورونا وائرس کی وبا کی آڑمیں مسلمان دشمنی پراتر آئی ہے اور انہیں اپنے مردوں کواسلامی طریقے پر دفنانے کے بجائے غیر اسلامی طریقے سے جلانے پر مجبور کر کے سری لنکاکی حکومت بدہسٹوں سے مل کر ان سے امتیازی سلوک کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
حکومت پردبائو ڈالے ہوئے بااثر بدھ بکھشوں کی جانب سے ایک مہم چلائی گئی کہ کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر جانے والے افراد کو اگر دفن کیا گیا تو اس سے زیر زمین پانی آلودہ ہو جائے گا اور وائرس پھیل جائے گاتواس پرحکومت کی جانب سے اپریل2020 میں مردوں کو جلانے کے ضوابط لاگو کیے گئے تھے۔جبکہ تازہ ترین واقعے میںسری لنکا کے اٹارنی جنرل نے گزشتہ ہفتے 19 مسلمانوں کی لاشیں بھٹی میں ڈال کر خاکستر کرنے کا احکامات جاری کیے تھے۔ ان میں شیخ نامی اس بچے کی لاش بھی شامل ہے، جو اپنی پیدائش کے فقط بیس روز بعد فوت ہو گیا تھا۔ اس بچے کی لاش کو اس کے والدین کی مرضی کے خلاف جلا دیا گیا۔اہل خانہ کے مطابق پہلے اس بچے کی تدفین کی بجائے اسے جلانے کے لیے ان پر زبردست دبا ڈالا گیا، تاہم جب انہوں نے ماننے سے انکار کیا، تو کسی بھی رشتہ کی موجودگی کے بغیر ہی بچے کی لاش جلا دی گئی۔
سر لنکامیں مداخلت فی الدین پرصرف مسلمانان سری لنکاہی برسراحتجاج نہیں ہیں بلکہ سری لنکامیںمسلمان میتیں جلائے جانے کے خلاف دیگر مسلم ممالک میں بھی احتجاج ہورہاہے۔ سری لنکا کے ہمسایہ ملک مالدیپ نے سری لنکا میں کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر جانے والے مسلمانوں کو اپنے ہاں دفنانے کی پیش کش کی ہے۔مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح اپنی حکومت کے عہدیداروں سے بات چیت میں مصروف ہیں تاکہ سری لنکا میں فوت ہونے والے مسلمانوں کی اسلامی طرز پر آخری رسومات کی ادائیگی میں معاونت فراہم کی جا سکے۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں مالدیپ کے وزیرخارجہ عبداللہ شہید نے کہا ہے کہ مالدیپ اس سلسلے میں سری لنکا کی مدد کے لیے تیار ہے۔57رکنی اسلامی تعاون تنظیم’’او آئی سی‘‘نے بھی مسلمانوں کی لاشیں جلانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سری لنکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوت ہو جانے والے افراد کی میتیں ان کے اہل خانہ کے سپرد کرے تاکہ کہ وہ اپنے دین کے احکامات کے مطابق ان کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔او آئی سی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اسلام میں حرام قرار دیے گئے، اس عمل کے خلاف او آئی سی مطالبہ کرتی ہے کہ تدفین کی اسلامی اقدار کا احترام کیا جائے‘‘۔
المیہ یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کورونا سے انتقال کرنے والے افراد کی تدفین سے متعلق نئی گائیڈ لائن کے باوجود سری لنکا میں مسلمانوں کو ان کی میتوں کو تدفین کی اجازت نہیں دی جارہی۔مسلمانوں کی میتوں کو سرکاری سطح پر جلایا جارہا ہے ۔ سری لنکاکے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ باوجود اس کے کہ صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے رہنما اصولوں میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے شخص کی لاش کو دفنانے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن سری لنکا کی حکومت کوئی عالمی اصول اورضابطہ ماننے کے لئے تیار نہیں اورانہیں اپنے مردے جلانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سِنہالی اکثریتی ملک میں مسلمانوں کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کا یہ ایک نیا حربہ ہے۔
حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مسلمانوں کو تدفین کا حق نہ دینے پرسری لنکا پر تنقید کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں ایمسنٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا بیراج پٹنیک نے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں حکام مختلف برداریوں میں مزید خلیج پیدا کرنے کی بجائے ان کو ایک دوسرے کے قریب لائیں۔ایمنسٹی نے کولمبو حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کو اپنی مذہبی اقدار کے مطابق آخری رسومات کی اجازت دے۔لیکن اوآئی سی کاانتباہ ہو،ڈبلیوایچ اوکی ہدایات ہوںیاپھر ایمنسٹی کااحتجاجی خط ہواس سب کے باوجود سری لنکاکی حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی اوروہ اپنی مسلم کش پالیسی اورمداخلت فی الدین پربدستورقائم ہے۔
Comments are closed.