مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور ہماری حالت زار
از قلم: ماسٹر محمد یوسف، کولتھا
ہے کوئی قوم و ملت کا ہم درد؟ ہے کوئی غریب و نادار بچوں کا خیرخواہ؟ ہے کسی میں قوم و ملت کا درد؟ تو توجہ دیں!
ڈاکٹر محمد اقبال کا پیغام ہے:
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
سرکاری سروے کے مطابق یہ حقیقت عیاں ہے کہ قوم مسلم میں شرح خواندگی سب سے کم ہے، جس قوم کے نبی ﷺ کا فرمان ہے ’’طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم و مسلمۃ‘‘ (علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے) اس قوم میں جہالت کی حکمرانی کا سبب کیا ہے؟ آخر اس امر پر کسی نے توجہ دی؟ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں آیا تھا کہ مسلمان بحیثیت ملت تعلیمی اعتبار سے پسماندہ نہ رہے، تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے اور مسلم بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے بورڈ کا قیام ہوا تھا؛ لیکن حیف صد حیف : بورڈ کے قیام کو چالیس سال ہوگئے اور غریب مسلم بچے اب بھی تعلیم سے محروم ہیں، آپ سوچیں گے کہ کثرت مدارس کے باوجود بھی نادار مسلم بچے تعلیم سے محروم! جی ہاں! اس کے لیے مدرسہ بورڈ اور اس کے ہم نوا مدرسہ کمیٹی کے ذمہ دار ہیں۔ چونکہ مدارس میں ٹیچرز کی بحالی میں دولت اور اقرباپروری حاوی ہے، صد حیف: کس قدر احمقانہ حرکت ہے کہ ٹیچرز کا انتخاب اور بحالی کا اختیار ناخواندہ اور علم دشمن لوگوں پر مشتمل کمیٹی کودیا گیا ہے؛ کتنی مضحکہ خیز بات ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بالکل نااہل، نالائق لوگوں کو جنہیں کچھ بھی نہیں آتابحال کرکے غریب و نادار بچوں کو حق تعلیم سے محروم کرنے کی ناپاک سازش ہے، بچے آخر مدرسہ کیوں جائیں؟ کوئی پڑھانے والا بھی تو ہو! کمیٹی کی حقیقت یہ ہے کہ یہ خود ساختہ ہے، عوام سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا، یہ ناپاک کھیل گذشتہ تین دہائیوں سے ہوتا آرہا ہے؛ لیکن اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے، کیا اس قوم میں سرسید احمد خان، ڈاکٹر محمد اقبال، مولانا مظہر الحق کے وارث نہیں رہے؟ بہار کے دانشور مسلمان اس قدر خود غرض و خود پرست ہوگئے۔ پھر ملت و قوم کا کیا معنی؟کیا یہ مدارس اس لیے توجہ کے قابل نہیں کہ یہاں غریب اور نادار بچے پڑھتے ہیں؟ کوئی قوم اگر دنیا میں باوقار ہے تو علم کی بدولت؟ قوم میں چند لوگ ڈاکٹرز اور انجینئرہوجائیں اور اکثریت جاہل اور ناخواندہ رہے تو قوم سربلند کیسے ہوگی؟
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
اگر حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو بات عیاں ہوجاتی ہے، بورڈ کا کردار قابل مذمت ہے، منافقت کی ایسی مثال کہیں دیکھنے میں نہیں آتی ہے، بورڈ کا’’ مونوگرام‘‘ دیکھ لیجیے( حدیث رسولؐ ہے’’طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم و مسلمۃ‘‘ اور رحل پر کھلا ہوا قرآن پاک اور روشن شمع) اور کردار اتنا گھناؤنا، رشوت خوری کا مرکز، سچ یہ ہے کہ مدرسہ میں ٹیچر بحالی کے جو بھی قوانین و ضوابط ہیں، ان کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، لہذا ان میں فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔
میں یہ کہنے میں بالکل حق بجانب ہوں کہ ہماری حکومت ایک ذمہ دار حکومت ہے، یہ ہندو ہے نہ مسلمان، بلکہ سیکولر ہے، اسے صوبے کے ہر فرقے کی ہمہ جہتی ترقی کی فکر ہے اور علم کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اس لیے حکومت دریا دلی کے ساتھ مدرسہ اور تعلیم پر خرچ کر رہی ہے تاکہ مسلمان بھی برابر ترقی کر سکے۔
اے ملت کے ٹھیکیدارو! حکومت کی نیک نیتی پر تو شبہ کرتے ہو اور خود آنکھیں بند کیے بیٹھے ہو! قوم پر کیا بیت رہی ہے کچھ خبر نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مدارس مل کر بھی ایک اچھا عالم پیدا کرنے کے حامل نہیں ہیں، فرمان نبوی کے مطابق علم حاصل کرنا فرض ہے اور جو حق حصول علم میں خلل پیدا کرے وہ کتنا ملعون و مطعون ہے، یاد رہے۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ٹیچر کی بحالی کے لیے ایسا طریقۂ کار وضع کیا جائے جس سے قوم کے لائق نوجوانوں کی تقرری کو یقینی بنایا جاسکے اور جو نااہل ٹیچر پیسہ اور پیروی کے بل پر بحال ہوچکے ہوں، انہیں نکالا جائے ؛ ورنہ مدرسہ کے قیام کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا؛ بلکہ ہوچکا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ووٹ کی سیاست چھوڑ کرنیک نیتی کے ساتھ مدرسہ ایجوکیشن میں سدھار لائے؛ ورنہ مدارس کو ایڈ دینا بند کردے، اسی میں صوبہ اور صوبے کے لوگوں کی بھلائی ہے۔چونکہ سرکاری خزانہ در اصل پبلک کا خزانہ ہے، یہ بات شک سے بالاتر ہے کہ مدارس میں کچھ باصلاحیت اساتذہ بھی ہیں جو سرکاری مراعات کے مستحق ہیں۔
تمام مسلم دانشوران، جمعیۃ کے عہدیداران، مجلس علمائے ملت کے متحرکین، آل انڈیا علماء بورڈ کے صدور، مسلم پرسنل لا کے ذمہ داران، امارت شرعیہ کے غیور افراد، خانقاہوں کے سجادہ نشینوں اور مسلم سیاست دانوں سے اپیل ہے کہ بہار کے مسلم بچوں اور بچیوں کی تعلیم کے لیے کچھ ٹھوس اقدام کریں، زمانۂ قدیم کے مدارس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی سعی کریں، یہ دنیا ہماری آخری منزل نہیں ہے، بقول شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر اس عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
Comments are closed.