امت مسلمہ کے علاوہ دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسی قوم نہیں ملتی، جس کا بنیادی منصب علم کی نشرواشاعت ہو

 

۔ مولانابدیع الزماں ندوی

امت مسلمہ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ امت علم کی بنیاد پر قائم ہے، بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ یہ امت علم کی بنیادپر قائم ہوئی تھی، علم کی بنیادسے

سےمراد یہ ہےکہ یہ امت وہ واحد امت ہے، جس کو تعلیمی ذمہ داری دی گئی ، جس کی ذمہ داریوں میں علم کی نشر واشاعت اور تعلیم کا بندوبست بھی شامل ہے۔ ان خیالات کا کااظہار مختلف اخبار کے صحافیوں کے درمیان ملک کے مشہور عالم دین ، درجنوں کتابوں کے مصنف ، ممتاز ماہر تعلیم مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی چیرمین انڈین کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ ٹرسٹ بنگلور وچیرمین جامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور نے کیا۔

انہوں نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یا حال میں کوئی ایسی قوم یا امت تاریخ میں نہیں ملتی ، جس کا بنیادی ہدف اور بنیادی منصب علم کی نشرو اشاعت ہو، جس کو بطور معلم کے اٹھایا گیا ہو، جس کے قائد اول اور نبی صلی الله عليه وسلم نے اپنے کو بنیادی طور پر معلم قرار دیا ہو۔”انّما بعثتُ معلّماً” مجھے تو صرف معلم کے طور پر بھیجا گیا ہے، اگر رسول الله صلی الله عليه وسلم کی بنیادی حیثیت معلم کائنات اور معلم انسانیت کی تھی ، اور یہ امت بطور آپ صلی الله عليه وسلم کی جانشین کے کام کررہی ہے تو پھر اس امت کو بھی معلم الامم اور معلم انسانیت ہونا چاہئے ۔ورنہ پھر جانشینی کا مطلب کیا…..؟

انہوں نے کہا قرآن مجید کے نزول سے پہلے کا زمانہ علم سے دوری ، حکمت سے بُعد ، اور عقل سے انحراف کی بنیاد پر نظام بنانے کا دَور ہے۔

رسول الله صلی الله عليه وسلم کی تشریف آوری کے بعد اور نزول قرآن مجید کے بعد کا دَور بالتدریج علم کی وسعت کا ،حکمت کے پھیلاؤ کا ، اور عقل کے کردار میں اضافے کا دور ہے ، اسلام نے علم کو بھی بیان کیا اور علم کی حقیقت کو بھی بیان کیا ، اسلامی معاشرے میں عالم اور متعلم کو اعلیٰ ترین مقام پر فائز کیا ، اسلامی معاشرے میں درسگاہ اور کتاب کو انتہائی اہمیت حاصل ہوئی ، اسلامی معاشرے نے قرطاس وقلم کو تقدس کا درجہ دیا ، علم اور علماء کو قیادت کے مقام پر فائز کیا ، اسلامی معاشرے نے انسانیت کو نئے نئے علوم و فنون سے نواز ، علوم و فنون کے باب میں مسلمان علماء نے نئے نئے رجحانات انسانیت کے سامنے پیش کئے اور علوم و فنون کو اتنی ترقی دی کہ ان کی تعداد سینکڑوں سے بڑھاکر ہزاروں تک پہنچادی ، قدیم و جدید دور میں جتنے علوم پائے جاتے ہیں ، ان سب کی اساس ، ان سب کی جڑ اسلامی شریعت اور اسلامی تہذیب کی اساس میں موجود ہیں ۔

مولاناموصوف نے کہاکہ نبی امّی صلی الله عليه وسلم پر جو سب سے پہلی وحی نازل ہوئی وہ "اقرأ”تھی ۔ گویا قرآن مجید کا آغاز پڑھو کے عنوان سے ایک نئے دور کا نقیب اور ایک نئے زمانے کا غماز ہے ، یہی وجہ ہے کہ علم کی طلب ہر مسلمان مرد وعورت کا فریضہ قرار ديا گیا ، علم کی اہمیت وضرورت کے پیش نظر حکم دیا گیا کہ حصول علم لئے کسی عمر یا کسی وقت کی قید نہیں ہے ، مہد سے لحد تک علم کا حصول جاری رہنا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی اساس علم پر ہے ، یہ علم وہ ہے جو عقل و نقل دونوں کا جامع ہے ، جو علم دین اور علم دنیا دونوں کی ہم آہنگی پر مبنی ہے ۔

Comments are closed.