مطالعہ کشمیراورنوجوان نسل
عبدالرافع رسول
مطالعہ سے مراد پڑھنے اور جاننے کے ہیں۔ مطالعہ انسان کی شخصیت کو ارتقا کی بلندمنزلوں تک پہنچانے کا اہم ذریعہ، حصول علم ومعلومات کا وسیلہ اور عملی تجربانی سرمایہ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے اور ذہن وفکر کو روشنی فراہم کرنے کا معروف ذریعہ ہے۔کتابوں سے جہاں معلومات میں اضافہ اور راہ عمل کی جستجو ہوتی ہے وہیں اس کا مطالعہ ذوق میں بالیدگی، طبیعت میں نشاط، نگاہوں میں تیزی اور ذہن ودماغ کو تازگی بھی بخشتا ہے۔لیکن یادرکھیں کہ مطالعہ ایسی کتابوں کاہو جو نگاہوں کو بلند، سخن کو دل نواز اور جاں کو پرسوز بنادے، اگر مطالعہ فکر کی سلامت روی، علم میں گیرائی اورگہرائی ، عزائم میں پختگی کے ساتھ ساتھ فرحت بخش اور بہار آفریں بھی ہوتو اسے صحیح معنوں میں مطالعہ کہاجائے گا۔
کشمیرسے متعلق پاکستان کاقومی اورریاستی موقف یہ ہے کہ ’’کشمیر شہہ رگ پاکستان ‘‘ہے اس لئے ضرورت اس امرکی ہے کہ میٹرک سے پی ایچ ڈی تک ،ہائی اسکولوں سے یونیورسٹیزتک ’’مطالعہ کشمیر‘‘کو پاکستان کے نصاب تعلیم کاحصہ بنایا جائے تاکہ پاکستان کی نوجوان نسل کوکشمیرکی تاریخ و تحریک آزادی کشمیرکاپتہ چل سکے۔پاکستان کی نوجوان نسل کو اپنے ملک وملت ،اپنی قوم، اپنی تہذیب اوراپنے قومی ایشوز سے پورے دلائل ،براہین اورتاریخی اعتبار مکمل طورپرآگہی ہونی چاہئے۔بایں ہمہ پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے ’’مسئلہ کشمیر یاکشمیرسبجیکٹ ‘‘کوسمجھنے کے لیے مطالعہ کشمیر اتنا ضروری ہے جتنا انسانی زندگی کی بقا کے لیے شہہ رگ کی اہمیت ہوتی ہے، مطالعہ کشمیرسے اسے پتاچل سکے کہ انکی شہہ رگ پرکب اورکیسے بھارت جبری طورپرقابض ہوچکاہے اورتحریک آزادی کشمیرکے خدوخال کیاہیں ۔جہاں تک گذشتہ کئی برسوں کامجھے تجربہ حاصل ہے تومیں علیٰ وجہ الاشہاد کہہ رہاہوں کہ پاکستان کی نوجوان نسل کوحقیقی معنوں میں کشمیرسے متعلق کچھ پتانہیں۔
مطالعہ کشمیرمیں کشمیرکا تعارف، آبادی، نام اور رقبہ، قدیم دور،ہندو دور، مسلم دورمغلیہ دور، افغانوں کا راج، سکھ راج ،عہد نامہ امرتسر، ڈوگروں کا انگریز فوج کی مدد سے سرینگر پر قبضہ ،ڈوگرہ دور میںکشمیری عوام کی ابتر حالت،ڈوگرہ راج کے خلاف گلگت بلتستان اور وادی میں بغاوت،ڈوگرہ راج کی پہلی کونسل، کشمیریوں کی طرف سے برٹش حکومت سے مطالبات،ریشم خانہ کی تحریک،جموں ینگ مینز ایسوسی ایشن کا قیام،جموں میں مداخلت فی الدین کا واقعہ،یوم شہدائے کشمیر،کشمیر کمیٹی،مجلس احرارالاسلام کی تحریک،گلانسی کمیشن۔تقسیم برصغیرکافارمولہ اورانگریزاورہندوکی مشترکہ ساز ش کے تحت اسے کشمیرپرجان بوجھ کراسے عملانے نہیں دیاگیا ،کشمیرمیںمسلم کانفرنس کا قیام ، مسلم کانفرنس کا ریاست گیر تحریک چلانے کا فیصلہ،ڈوگرہ راج کی پہلی اسمبلی،مسلم کانفرنس میں انتشار،نیشنل کانفرنس کا قیام،قائد اعظم کا دورہ کشمیر،شیخ عبداللہ کی غداری ،نہروشیخ عبداللہ کالال چوک میں رقص ،نیشنل کانفرنس کے لیے کانگرسی کمک،نیشنل کانفرنس کی کشمیر چھوڑ دو تحریک۔پونچھ میں ڈوگرہ راج کے خلاف مسلح بغاوت۔آزادکشمیر حکومت کا قیام ، آزاد فوج اورسرفروش قبائلیوں کی یلغار،3جون 47 کے قانون آزادی ہند میں ریاستوں کا حق الحاق، قرار داد الحاق پاکستان، کانگریسی سازش، ریاست میں مسلمانوں کو دبانے کی پالیسی،الحاق کا ڈرامہ،جموں میں مسلمانوں کا قتل عام۔اقوام متحدہ اور کشمیر،سلامتی کونسل کا ہندو پاک کمیشن کے قیام اور استصواب رائے پر اتفاق کا اعلان،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کمیشن کی قرار داد، بھارتی ہٹ دھرمی، وادی کشمیر میں ظلم و تشدد کا بدترین دور،بھارت سے الحاق کی توثیق کے لیے کٹھ پتلی اسمبلی کا قیام۔ 1988 میں بھارت سے آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کا آ غاز کیا اوراس خون آشام تحریک کے مختلف نشیب و فراز کا مطالعہ انتہائی ناگزیر ہے ۔
نقشہ جموںو کشمیر،رقبہ و آبادی ، اشاعت اسلام ، ڈوگرہ مظالم کا تذکرہ ،شہدا ئے کشمیر،یوم تاسیس، آزاد کشمیر کا 73 سالہ سفر آزادی،قائداعظم کے دورے مقبوضہ کشمیر،اعلان آزادی،بھارتی فوج کا قبضہ ، آزاد کشمیر سے تحریک آزادی کے حوالہ سے خدمات سرانجام دینے والوں کا ذکر ،شخصیات کا تذکرہ،پر فضا سیاحتی مقامات،شہر،قصبے ،مختلف ادوار میںکشمیری شعرا ء ،دانشوراں، کشمیری کلچرل و ثقافت وغیرہ کونصاب کا بنایاجائے توپاکستان کی نسل تک ہم اپنی ذمہ داریاں پہنچانے میں کامیاب ٹھریں گے ۔
اسلامیان کشمیرکیوں شہیدہورہے ہیں یہ جنگ کیاہے اورکیوں لڑی جارہی ہے اوراس کی تکمیل کا ذریعہ کیاہے مطالعہ کشمیرکوسیلبس میں شامل کرکے اسے پتاچل سکے گا۔ وہ کشمیرمیں خونریزی سے ضرورباخبر ہیں لیکن صرف کے اسی پر اکتفا کرکے بیٹھے ہوئے ہیں کہ بھارت کشمیریوں کوماررہاہے اورکشمیرکی صورتحال بڑی ناگفتہ بہہ ہے ۔اس کلیے سے اس کی فکر و نظر کا دائرہ بالکل تنگ ہوکر رہ چکاہے۔وہ نہیں سمجھتی کہ اسلامیان جموںوکشمیرکی تحریک آزادی کافکروفلسفہ کیاہے ۔کیوں کہ اس کے پاس ’’کشمیرکاز‘‘ سے متعلق معلومات نہیں ۔دراصل مطالعہ استعداد کی کنجی اور صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا بہترین آلہ ہے۔ یہ مطالعہ ہی کا کرشمہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنی معلومات میں وسعت پیدا کرتا رہتا ہے۔ اور زاویہ فکر ونظر کو وسیع سے وسیع تر کرتا رہتا ہے۔مطالعہ ایک ایسا دوربین ہے جس کے ذریعے انسان دنیا کے گوشہ گوشہ کو دیکھتا رہتا ہے۔، مطالعہ کے توسط سے ایک انسان دنیا کے چپہ چپہ کی سیر کرتا رہتا ہے اور وہاں کی تعلیمی، تہذیبی، سیاسی اور اقتصادی احوال سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔جب معلومات نہ ہوں توپھردلیل میں قوت اور اثرنہیں ہوتا ہے اورپھروہ کمزور، پھسپھسی اور بے جان ہوتی ہے۔
کشمیرکوپاکستان کے نصاب تعلیم میں شامل کرنے کے لئے حکومت پاکستان کے لئے وافرذخیرہ کتب موجود ہیں۔کشمیر پرآج تک لکھی گئی کتابیں یہ ہیں۔مسئلہ کشمیر: تاریخی، سیاسی اور قانونی مطالعہ از ممتاز احمد۔تاریخ کشمیر از چراغ حسن حسرت۔مکمل تاریخ کشمیر از محمد الدین فوق۔کشمیر عہد بہ عہد از ڈاکٹر ایم ایس ناز۔تاریخ کشمیر از پروفیسر نذیر احمد تشنہ۔تاریخ کشمیر از سید محمود آزاد۔تحریک پاکستان میں شمالی علاقہ جات کا کردار از سید عالم۔کشمیر تاریخ کے آئینے میں از ایم اے خان۔ تحریک آزادی کشمیرمنزل بہ منزل از پروفیسر الیف الدین ترابی۔کشمکش از چوہدری غلام عباس۔ آتش چنار از شیخ محمد عبداللہ۔ تاریخ جدوجہد آزادی کشمیر از پریم ناتھ بزاز، مترجم:عبدالحمید نظامی۔آزاد کشمیرایک سیاسی جائزہ، 1947 تا 1975 از مرزا شفیق حسین۔کشمیر: آزادی کی جدوجہد مرتب سفیر اختر۔تخلیق پاکستان اور شاہی ریاستیں از ڈاکٹر سید جمیل الرحمن۔پاک بھارت تنازعہ اور مسئلہ کشمیر کا آغاز از زاہد چوہدری، تکمیل و ترتیب حسن جعفر زیدی۔شمشیر سے زنجیر تک از کرنل مرزا حسن خان۔تحریک آزادی کشمیر: بدلتے حالات اور پاکستان کی پالیسی از پروفیسرخورشید احمد۔جموں کشمیر بک آف نالج از محمد سعید اسعد۔آزادی کی تلاش از محمدفاروق رحمانی۔کشمیر: گرتے لاشوں کی روداد از اجمل تیموری۔کشمیر1947 سے 1977 تک از ثنا اللہ بٹ۔آئینہ تاریخ کشمیر از محمدامین خان۔متاعِ غرور از عبدالخالق انصاری۔ جہد مسلسل از امان اللہ خان۔ معلومات کشمیر کا انسائیکلو پیڈیا از محمد ریاض عباسی۔کشمیر تاریخ کے گرداب میں ازسید عارف بہار۔روداد قفس از سیدعلی گیلانی۔کشمیر: منزل دور نہیں از علی عمران شاہین۔کشمیر انٹرنیشنل لا کیا کہتا ہے؟ازآصف محمود۔کشمیر کے حملہ آور اور پنڈی سازش کیس از میجرجنرل اکبر خان۔ مترجم: عنایت اللہ۔ آپریشن جبرالٹر از عالمگیر۔مسئلہ جموں کشمیر: قانونی، جہادی اور نتیجہ خیزی کا پہلو از پروفیسر محمد عارف خان۔کشمیر میں تحریک مزاحمت از ڈاکٹرطاہر امین۔ مترجم: عبداللطیف الفت۔جہاد کشمیر و افغانستان ازمحمدعامر رانا۔
کشمیر کے باکبازازعبدالرافع رسول۔ کشمیرمیں آتش وخون ازعبدالرافع رسول۔ کشمیری بیٹوں کی تلاش ازعبدالرافع رسول ۔ کشمیرنائن الیون کے بعدازعبدالرافع رسول۔ کشمیردوتہذیبی تصادم ازعبدالرافع رسول ۔ کشمیراورنظریہ پاکستان ازعبدالرافع رسول ۔ کشمیرپلوامہ حملے سے دفعہ 370کے خاتمے تک ازعبدالرافع رسول۔کشمیرعزیمتوں کی سرزمین ازعبدالرافع رسول۔(نوٹ)راقم کی یہ ساری کتابیں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے بک شاپس، مسٹر بکس سپرمارکیٹ ایف سیکس مرکز اسلام آباد اورسعید بک ڈیپوجناح سپرمارکیٹ ایف سیون اسلام آباد پر دستیاب ہیںجبکہ راولپنڈی میں راقم کی یہ کتب پرنس بک ڈپوکمرشل مارکیٹ ،مجیدبک ڈپواورملک بک ڈپوسکستھ روڈ پردستیاب ہیں۔اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ کشمیریات کی لائبریری اولڈ کیمپس گورنمنٹ اورینٹل کالج، انارکلی لاہور، آئی پی ایس سیکٹر ای الیون تھری اسلام آباد کی لائبریری اورآزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی، چہلہ کیمپس مظفر آباد میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ کی لائبریری جبکہ مظفر آباد جلال آباد میں جلال آباد میموریل لائبریری میں بھی میری یہ کتب برائے مطالعہ دستیاب ہیں۔
Comments are closed.