کسان قانون-خطرے میں سپریم کورٹ کی ساکھ
حسام صدیقی
نئی دہلی: گزشتہ لمبی مدت سے کئی معاملات میں اپنی ساکھ داؤ پر لگانے والے سپریم کورٹ نے زرعی قوانین پر ماہرین کہے جانے والے چار ممبران کی کمیٹی بنا کر ایک بار پھر اپنی ساکھ داؤ پر لگا دی ہے۔ کسان لیڈران نے صاف طور پر کہہ دیا کہ جن چار ممبران کی کمیٹی سپریم کورٹ نے بنائی ہے وہ چاروں ایسے ہیں جو زرعی قوانین کی حمائت کرچکے ہیں۔ ان میں سے ایک اشوک گلاٹی تو باقاعدی ٹی وی چینلوں کے مباحثوں میں شامل ہو کر زرعی قوانین کو بہتر قانون بتاتے رہے ہیں۔ خبر یہ بھی ہے کہ مودی سرکار نے یہ قانون بناتے وقت اشوک گلاٹی سے بھی مشورہ کیا تھا۔ باقی تین ممبران میں بھوپیندر سنگھ مان، ایگریکلچر ریسرچ اور مینجمنٹ کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر پرمود کمار جوشی اور انل دھنوت کو شامل کیا گیا ہے۔ حالانکہ کمیٹی پر ہنگامہ ہونے کے بعد ۱۴ جنوری کو بھوپیندر سنگھ مان نے خود کوکمیٹی سے الگ کرنے کا اعلان کر دیا۔سپریم کورٹ نے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تو کسانوں کی طرف سے پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ ایم ایل شرما نے کہا کہ آپ کے ذریعہ کمیٹی بنانے سے مقصد حل نہیں ہوگا، اس لئے کہ کسانوں نے صفائی کے ساتھ کہہ دیا ہے کہ وہ کسی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے ، انہیں تو ہر حال میں یہ قانون واپس کرانے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے کہا کہ اگر کسان سرکار کے سامنے جاسکتے ہیں تو کمیٹی کے سامنے کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ کمیٹی ہم نے اپنے لئے بنائی ہے تاکہ میں سمجھ سکوں کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس بوبڈے ، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم کی بینچ نے فی الحال زرعی قوانین کے عمل پر روک لگا دی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسان لیڈر درشن پال سنگھ نے کہا ہے کہ ہم نے ابھی پنجاب کی کسان تنظیموں کے ساتھ بات کی ہے۔ پورے جوائنٹ کسان مورچہ کے ساتھ بات کرکے کوئی فیصلہ کریں گے۔ہم نےپہلے ہی کہہ دیا تھا کہ سپریم کورٹ اگر کوئی کمیٹی بنائے گی تو وہ ہمیں منظور نہیں ہوگی۔ پھر بھی کمیٹی بنی، ہمیں لگتا ہے کہ سرکار سیدھے جو نہیں کرسکی وہ کام وہ سپریم کورٹ کے ذریعہ کرا رہی ہے۔ کسان لیڈر بلبیر سنگھ نے تو اور تلخ لہجہ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرکار کی شرارت ہے جو سپریم کورٹ کے ذریعہ یہ کمیٹی لے آئی ہے۔ کمیٹی میں شامل سبھی ممبران ایسے ہیں جو شروع سے ہی زرعی قوانین کو صحیح ٹھہراتے رہے ہیں۔ ان لوگوں نے اخبارات میں مظامین لکھ کر بھی زرعی قوانین کی حمائت کی ہے۔
مودی حکومت نے جھوٹ بول کر دوسروں کو بدنام کرنے کی کوشش سپریم کورٹ میں کسانوں کے خلاف اس وقت کی جب اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ کسان تحریک میں بین کی جا چکی ملک مخالف تنظیم کے خالصتانیوں نے اس کسان تحریک میں گھس پیٹھ کی ہے، انہوں نے کہا کہ خالصتان ایک ممنوعہ تنظیم ہے جو کسانوں کی مدد کررہی ہے۔ کرنال میں دس جنوری کو جو واقعہ پیش آیا وہ اس کا ثبوت ہے۔ اٹارنی جنرل نے اس خیال سے یہ الزام لگا دیا تھا کہ ان کی بات میڈیا میں آ جائے گی اور کسان بدنام ہوں گے۔ لیکن ہوا الٹا، چیف جسٹس آف انڈیا نے فوراً انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ اگر تحریک کے پیچھے خالصتانی تحریک کا ہاتھ ہے تو آپ کو اس کی تصدیق کرنی ہوگی اور حلف نامہ پیش کرنا پڑے گا۔ وینوگوپال ادھر ادھر دیکھنے لگے پھر بولے کہ وہ آئی بی(انٹیلی جنس بیورو) سے ان پٹ لے کر اگلے دن حلف نامہ پیش کریں گے۔
کسان تحریک کے پیچھے خالصتان تحریک کے ہاتھ ہیں، سپریم کورٹ میں سرکا ر کی جانب سے یہ بات کہے جانے کی خبر نے کسانوں کو اور بھڑکا دیا۔ کسانوں نے سوال کیا کہ تقریباً دو مہینے سے وہ لوگ سنگھو بارڈر پر بیٹھے ہوئے ہیں، سخت سردی کی وجہ سے روز ایک یا دو لوگوں کی موت ہورہی ہے ، اس کے باوجود آج تک کسی کسان نے تشدد کا سہارا نہیں لیا، یہاں تک کسی نے ایک پتھر بھی نہیں پھینکا۔ اس کے باوجود سرکار خود اور اپنے غلام میڈیا کے ذریعہ تحریک کے پیچھے خالصتان کا ہاتھ ہونے کا الزام لگا کر ہمیں بدنام کر رہی ہے۔ اب تو انتہا ہو گئی کہ سرکار نے سپریم کورٹ تک میں اتنا جھوٹ بول دیا۔ ہم صاف طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ اگر اسی طرح ہمیں بدنام کیا جاتا رہا تو ہم بھی انسان ہیں ہم بھی کبھی’ری ایکٹ‘ کرسکتے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں اکسا کرتشدد میں پھنسانے کی سازش کے تحت اس طرح کا جھوٹ سرکار بار بار بول رہی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا نے امید ظاہر کی کہ چھبیس جنوری کو کسان دہلی میں ٹریکٹر ریلی نہیں نکالیں گے لیکن کسانوں نے پھر کہا کہ ہم نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے۔ ہم ریلی نکالیں گے اور ہمارے خلاف جو جھوٹا پروپگینڈا کیا جارہا ہے کہ ریلی کے دوران ہم تشدد کرسکتے ہیں پارلیمنٹ یا لال قلعہ پر قبضہ کرسکتے ہی یہ سراسر جھوٹ ہے۔ ہم کسی بھی طرح کے تشدد میں ملوث نہیں ہوں گے۔ لیکن سپریم کورٹ کہے یا سرکار زرعی قوانین واپسی کے علاوہ ہم دوسری کوئی بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہیں جب تک یہ قانون واپس نہیں لئے جائیں گے تب تک ہمارا پر امن دھرنا جاری رہے گا، ہمیں کوئی بھی طاقت اس کے لئے روک نہیں سکتی۔
چار ممبران کی کمیٹی بنانے سے پہلے سپریم کورٹ میں اس معاملے پر کئی دنوں سےبحث چل رہی تھی، اسی دوران سپریم کورٹ نے ایک دن سرکار کو ڈانٹ لگاتے ہوئے یہ تک کہا کہ آخر یہ نئے قوانین لاگو کرنے کی اتنی جلدی کیوں ہے؟ کیا سرکار ان قوانین کو کچھ دنوں کے لئے ’ہولڈ‘نہیں کرسکتی اگر نہیں کرے گی تو ہم اسے’ہولڈ‘ کردیں گے۔ عدالت نے بارہ جنوری کو قانون ہولڈ کرنے کا آرڈر کردیا اور کمیٹی بنا دی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کمیٹی کے لئے سپریم کورٹ کو چار لوگوں کے نام کس نے دیئے تھے؟ ایسا تو ہو نہیں سکتا سپریم کورٹ میںبیٹھے جج صاحبان ان سبھی کے ناموں سے واقف ہوں اور اگر عدالت نے سرکار کے مشورے پر ان لوگوں کی کمیٹی بنائی ہے پھر تو کسانوں کا یہ الزام سچ ہے کہ سرکار نے سپریم کورٹ کے ذریعہ یہ کمیٹی بنانے کی سازش کی ہے۔
ابھی تک سرکار خصوصاً ہریانہ کی کھٹر سرکار یہ دعویٰ کرتی آئی تھی کہ کسانوں کی تحریک میں ہریانہ کے کسان شامل نہیں ہیں۔ لیکن دس جنوری کو جب منوہرلال کھٹر نے اپنے گڑھ کرنال کے کیملا میں فرضی کسانوں کی کسان پنچائت کرنے کا پروگرام بنایا تو ہریانہ کے ہی بڑی تعداد میں کسانوں نے وہاں اکٹھا ہو کر نہ صرف ہنگامہ کیا کرسیاں پھینک دیں بلکہ کھٹر کے لئے بنا ڈائس توڑ دیا ان کے ہیلی پیڈ کو بھی توڑا، نتیجہ یہ کہ کھٹر کے ہیلی کاپٹر کو آسمان میں ہی چکر لگا کر واپس جانا پڑا۔ پولیس نے کسانوں پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے داغے اور پانی کی بوچھار کی ، پھر بھی کسانوں کا حوصلہ توڑ نہیں سکے۔ ساتھ ہی یہ بھی ثابت کردیا کہ ہریانہ کے کسان بھی پوری طرح اس تحریک میں شامل ہیں۔
Comments are closed.