امریکی پارلیمنٹ پر حملہ اور بھارت
حسام صدیقی
دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت امریکہ میں ری پبلکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ الیکشن ہار جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انہیں ووٹنگ پر بھروسہ نہیں ہے۔ چھ جنوری کو امریکن پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نومنتخب صدر ڈیموکریٹ جو بائیڈن کے الیکشن پر مہر لگانے کی کاروائی شروع ہوتی ہے، ٹھیک اسی وقت ڈونالڈ ٹرمپ امریکی پارلیمنٹ کی عمارت کیپٹل ہلس کے سامنے ایک ریلی کرتے ہیں اور اپنے حامیوں کو یہ کہہ کر اکساتے ہیں کہ وہ الیکشن ہارے نہیں ہیں انہیں بے ایمانی کرکے زبردستی ہرایا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی وہ اپنے حامیوں سے کیپٹل ہلس میں گھسنے کی بات کہہ کر ریلی ختم کردیتے ہیں۔ ٹرمپ کے ذریعہ بھڑکائی گئی بھیڑ دیکھتے ہی دیکھتے پارلیمنٹ کے اندر گھس گئی توڑ پھوڑ اور ہنگامہ شروع ہوگیا۔ اگر سکیورٹی گارڈز نے سینیٹ(راجیہ سبھا) اور ہاؤس آف کامنس(لوک سبھا) کے اسپیکروں کو اپنے گھیرے میں لے کر محفوظ جگہ نہ پہونچایا ہوتا تو شائد ان دونوں پر حملہ تک ہوجاتا۔ ہنگامہ اتنا ہوا کہ پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی۔ ایک خاتون سمیت پانچ لوگ مارے گئے۔
پور ی دنیا نے امریکہ کے اس واقعہ پر حیرت ظاہر کی اور مذمت بھی کی۔امریکی عوام کے لئے کہا جاتا ہے کہ الیکشن مہم کے دوران تو وہ خوب ہنگامے کرتے ہیں لیکن نتائج آنے کے بعد وہ نتائج کو قبول کرتے ہیں۔ کسی بھی صحت مند جمہوریت کی خوبی بھی یہی ہوتی ہے، پھر اس بار امریکی عوام نے ایسا کیوں کیا؟ ایسا اس لئے کیا کہ ٹرمپ سرکار کے چار سالوں میں انہیں جھوٹ ہی جھوٹ پلایا گیا، ٹرمپ نے شروع سے ہی اپنے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بھرا کہ ملک کا میڈیا ان کے خلاف جھوٹی اور فرضی خبریں دکھاتا اور شائع کرتا ہے، انہوں نے اپنے حامیوں کے ذہنوں میں کوٹ کوٹ کر بھر دیا کہ جو وہ کہیں وہی صحیح ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے ایک ریسرچ شائع کی ہے جس کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ہزار تین سو اکیاسی دنوں میں انتیس ہزار پانچ سو آٹھ (۲۹۵۰۸) بار جھوٹ بولا۔ ایک دوسرا سروے کہتا ہے کہ جنوری سے مارچ ۲۰۲۰ تک ٹرمپ نے صرف چار فیصد ہی سچ بولا، کبھی آدھا کبھی آدھے سے کچھ زیادہ لیکن تینتیس(۳۳) فیصد تو صرف اور صرف جھوٹ ہی بولا۔ جبکہ جارج واشنگٹن کے لئے کہا جاتا ہے کہ انہو ںنے ایک بار بھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔
کئی لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کبھی بھارت میں ایسا ممکن ہے کہ کوئی لیڈر اور اس کی پارٹی الیکشن ہار جائے پھر وہ لیڈر کہے کہ الیکشن میں بے ایمانی ہوئی ہے اس لئے و ہ اپنا عہدہ نہیں چھوڑے گا۔ اس قسم کا سوال اٹھانے والے یا تو بہت بھولے ہیں یا جان بوجھ کر انجان بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ہم نے تو ملک کی جمہوریت کا گلا چار پانچ سال پہلے ہی گھونٹ دیا تھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ وزیراعظم مودی کے نزدیکی دوست رہے ہیں انہوں نے جو کچھ کیا اگر یہ کہا جائے کہ اپنے دوست مودی سے سیکھ کر کیا تو شائد غلط نہ ہوگا۔ جمہوریت کا مطلب ہوتا ہے کہ اکیاون فیصد ووٹ اور سیٹیں پانے والا ہی فاتح کہلاتا ہے۔ انچاس فیصد ووٹ پانے والا لیڈر اور اس کی پارٹی بہت ہی’گریس فل ‘ طریقہ سے اپنی شکست قبول کرکے اپوزیشن میں بیٹھتا ہے۔ یہ جمہوریت ہی تھی کہ پنڈت اٹل بہاری باجپائی ایک ووٹ سے لوک سبھا میں ہار گئے تھے اور انتہائی گریس فل طریقہ سے صدر جمہوریہ کے پاس جا کر استعفیٰ دے دیا تھا۔اس کے بعد تو کبھی ایسی نوبت ہی نہیں آئی لیکن اگر آگئی تو موجودہ لیڈر شپ سے باجپائی جیسی توقع نہیں کی جاسکتی۔
ہماری آج کی لیڈر شپ چاہے کتنے دعوے کرے اس جمہوریت میں کوئی یقین نہیں کرے گا اس کا ثبوت یہ ہے کہ نریندر مودی اور امت شاہ کی جوڑی جب سے ملک پر حاوی ہوئی ہے کئی ریاستوں کے اسمبلی ا لیکشن میں بی جے پی کی واضح شکست کے باوجود ان لوگوں نے ان ریاست کے عوا م کی رائے کو نہیں مانا کیوں صاحب اگر کرناٹک کے عوام نے آپ کو اکثریت نہیں دی تھی تو آپ نے ریاست کے عوام کی رائے کو تسلیم کیوں نہیں کیا؟ سیکڑوں کروڑ کے کالے دھن سے عوام کی رائے کو کیوں دبا دیا گیا کیا یہی جمہوریت ہے؟ شمال مشرق کی ایک چھوٹی ریاست میں بی جے پی کا صرف ایک ممبر جیت کر آیا اور سرکار بی جے پی کی بن گئی یہ کون سی جمہوریت ہے؟ مدھیہ پردیش میں تو بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیدھا مقابلہ تھا، بی جے پی وہاں ہار گئی لیکن وزیراعظم مودی اور امت شاہ نے مدھیہ پردیش کے عوام کی رائے نہیں مانی۔ کرناٹک میں تو پندرہ سولہہ مبران اسمبلی خریدے گئے تھے، مدھیہ پردیش میں ستائیس کانگریسی ممبران اسمبلی کو خرید کر ان سے استعفیٰ دلا دیا گیا۔ پھر مدھیہ پردیش کے عوام کی رائے کا کیا مطلب رہ گیا اور کیا جمہوریت اسی کو کہا جائے گا؟
بھارت میں بھی ٹرمپ کی طرح جھوٹ پھیلانے کی ساری حدیں توڑ دی گئیں خود وزیراعظم مودی نے کانگریس کو بدنام کرنے کے لئے مہم چلا دی کہ کانگریس نے تو ساٹھ ستر سالوں میں ملک کے لئے کچھ کیا ہی نہیں چونکہ عوام کی بڑی تعداد نے مودی پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرلیا اس لئے اس بھروسے کا فائدہ اٹھا کرمودی کی بی جے پی نے عوام پر جھوٹ کا جادوچلا دیا، جتنے بھی بی جے پی مخالف لیڈران یا پارٹیاں ہیں سبھی کو بدنام کرنے کی زبردست مہم چھیڑ دی گئی۔ آر ایس ایس نے اسّی فیصد ہندوؤں کے دل ودماغ میں بھر دیا کہ انہیں مسلمانوں سے خطرہ ہے، لوگوں نے یقین کرلیا اور دیکھتے ہی دیکھتے’ہندو رکشا‘ کے نام پر سیکڑوں تنظیمیں کھڑی ہوگئیں۔ ملک میں لیفٹ پارٹیوں کی آواز کا ہمیشہ سے وزن رہا ہے۔ مودی سرکار آنے کے بعد سے سارے کمیونسٹوں کو اربن نکسل قرار دے دیا گیا۔ سی اے اے جیسا قانون امت شاہ لائے بڑی تعدا د میں لوگوں نے اس کی مخالفت کی چونکہ مخالفین میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی تو وہ سبھی غدار بتا دیئے گئے اور یو اے پی اے جیسے سخت قانون میں گرفتار کرلیا گیا۔ جے این یو کو ٹکڑے ٹکڑے گینگ قرار دیا گیا آخر میں اڈانی اور امبانی کے کہنے پربنائے گئے کسانی قوانین کی کسانوں نے مخالفت کی، تحریک چلائی تو انہیں خالصتانی کہہ دیا گیا حالانکہ یہاں جھوٹ پھیلانے والوں کا داؤ الٹا پڑ گیا۔
Comments are closed.