امریکہ: سب سے قدیم جمہوریت خطرہ میں۔
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
شبہ نہیں کہ امریکہ سب سے قدیم جمہوریت کا مالک ہے، دنیا جب کہیں جمہوریت (ایک خاص طرز حکومت مراد ہے جس میں انسانی سروں تولا نہیں جاتا صرف شمار کیا جاتا ہے) کا نام لیتی ہے تو لامحالہ امریکہ کی تصویر آہی جاتی ہے، تاریخی جھروکے سے دیکھا جائے تو ١٧٨٨ء میں امریکہ کی موجودہ دستور کو قانونی درجہ دیا گیا تھا، مطلب یہ کہ اسی سال کے بعد اسے جمہوری ملک کا مقام حاصل ہوا تھا، پھر اس کے بعد اگلے ہی سال ١٧٨٩ء میں جارج واشنگٹن امریکہ کے پہلے صدر منتخب کئے گئے تھے، جنہوں نے پوری عقیدت مندی کے ساتھ یہ عہد لیا تھا کہ وہ دستور امریکہ کی حفاظت کریں گے اور اسے لاگو کرتے ہوئے اس کے تئیں پوری صداقت سے کام لیں گے، جارج واشنگٹن پر ایک ڈاکومنٹری بھی بنائی گئی ہے جس کے اندر ان تمام مناظر کو بڑی دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے، امریکی جمہوریت اسی معنی میں پختہ اور مضبوط سمجھی جاتی ہے کہ وہ قدیم ترین جمہوریت ہے، اس کی عمر ٢٣٠/ برس ہوچکی ہے، یقیناً کسی بھی تحریک، انقلاب اور قوم کیلئے یہ مدت بہت بڑی اور معنی خیز ہے، اس عرصے میں تو صحراء سے بھی پانی نکل سکتا ہے، بادیہ نشین شہہ نشین بن سکتے ہیں اور قسمت کے مارے نصیبہ ور کہلا سکتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں دوام اسی کو ہوتا ہے جس میں نافعیت ہو، ورنہ جھاگ کو الگ کردینا رواج الہی میں سے ہے، چنانچہ اگر کسی ضابطے میں معمولی خیر بھی نہ ہو تو اسے اتنے سالوں تک قائم نہیں رکھا جاسکتا ہے، امریکہ کی جمہوریت اگرچہ اب کھوکھلی نظر آتی ہے اور اب اس کی آڑ میں دنیا پر قبضہ کرنے اور اسے اجاڑ کر اپنی بستیاں بسانے کی سیاست تک مقید ہوتی دکھائی دیتی ہے؛ لیکن پھر بھی اس کی قدامت کا لحاظ رکھتے ہوئے بھی اگر غور کریں گے تو اس کی کچھ خصوصیات ایسی ہیں جو اسے ممتاز کرتی ہیں، اس کیلئے سب پہلی امینڈنینٹ کو جاننا ہوگا، اسے ١٧٩١ میں پیش کیا گیا تھا، اس کے تحت تین اہم اور بنیادی باتیں نقل کی گئی ہیں جو اس دستور کی جان، خلاصہ اور ریڑھ کی ہڈی ہے، ١- مذہب کی آزادی. ٢- پریس کی آزادی. ٣- بولنے کی آزادی. دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ یہ آزادیاں اس وقت دی جارہی ہیں جس وقت دنیا استعماریت، بادشاہت اور تاناشاہوں سے جوجھ رہی تھی، اس کے بعد ١٣/ ویں، ١٤/ویں، اور ١٥/ ویں امینڈنینٹ کو جاننا چاہئے، یہ ١٨٦٥ سے لے کر ١٨٧٠ء کے درمیان لاگو ہوئے تھے، اس امیڈمنٹ کو سب سے اہم سمجھا جاتا ہے، اگر امریکہ کی جمہوری تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اسے ایک میل کا پتھر مانا جائے گا، اس کے تحت ابراہم لنکن سابق امریکی صدر نے کالے رنگ کے لوگوں کے خلاف ہورہے بھید بھاؤ پر روک لگائی، انہیں سماج سے کاٹنے اور الگ تھلگ کرنے پر قدغن لگاتے ہوئے ووٹنگ کرنے کا حق دیا، انہیں دستور میں شامل ہونے اور اپنے ملک میں رہتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے کی آزادی ملی، یہ درست اور امریکی تاریخ کا یہ کالا سچ ہے کہ موجودہ امریکہ کے سفید فام لوگوں نے سیاہ فام لوگوں (Red Indians) کو دھکے مار کر اور انہیں موت کے گھاٹ اتار کر انہیں سے ان کا ملک چھینا اور پھر جمہوریت کے نام پر سو سالوں تک ان کا استحصال کیا جاتا رہا؛ حتی کہ انہیں ووٹنگ تک کا حق نہیں دیا، یہ بھی غلط نہیں کہ امریکی معاشرے میں اب بھی ایک سیاہ فام کو قبول نہیں کیا جاتا ہے؛ لیکن ابراہم لنکن کی ماتحتی میں کئے گئے بدلاؤ کے بعد ایک نئی سوچ اور ایک نئے طرز نے جگہ بنائی تھی.
اب غور کرنے والی بات یہ ہے کہ امریکی تہذیب و ثقافت اور جمہوریت اپنی قدامت کے باوجود موت کے دہانے پر ہے، ایسا ممکن تھا کہ ایک قدیم طرز نظام جو انسانی حریت، حقوق کی بازیابی اور عقائد کی آزادی کو اساس سمجھتا ہے، زمانہ میں انسانی تفاوت اور سرمایہ دارای و استعماریت کو زہر گردانتا ہے وہ مزید مضبوط، مستحکم اور قابل تقلید ہوتا؛ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کی جڑیں ناانصافی، سرمایہ داری، طاقت اور قوت پر منحصر ہے، ایک خاص طبقہ پر قانون کا نفاذ ہوتا ہے، جو انہیں مفادات کی ٹوکری تھمادے، ان کے ابر و بھنؤں کے اشاروں پر ناچنے لگے اور انہیں اپنا مائی باپ تصور کرلے وہ انہیں ہر لحاظ اور ہر قیمت پر تحفظ فراہم کرتے ہیں، بلکہ ان کی خاطر دنیا کو جنگ کی بھٹی میں بھی جھونک دیتے ہیں، عموماً قانونی باتیں کتابیں اور دستور تک مقید ہیں، ان کی جمہوریت کی تشریح عدالت عظمیٰ سے وہی ہوتی ہے جو ان کے صدور اور تیسری آنکھ کو بھاتا ہے، انہوں نے اپنی جمہوریت کا ڈنکا بجانے کیلئے نہ جانے کتنی قوموں اور کتنے ہی ممالک کو تہہ و تیغ کردیا، امن ومان اور حقوق کا نام لے کر سینکڑوں ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجادی، یہ ظاہر ہے کہ اس قوم نے ترقی پائی جس میں یقیناً ان کے اندر موجود بہت سی اچھائیوں اور خلوص کا دخل ہے، کہتے کہ باطل بھی حق کی راہ پر ترقی کے زینہ چڑھتا ہے؛ لیکن اس ترقی میں ان معصوموں کا خون ہے جو کمزور ولاچار اور معاش ومعیشت کے مارے ہوئے تھے، دنیا جانتی ہے کہ مظلوم کا خون رنگ لاتا ہے، چنانچہ امریکہ آج خود اپنی کرتوتوں کو بھگت رہا ہے، اس نے جو کچھ چالیں دنیا میں چلیں وہ انہیں پر پلٹ کر آرہی ہیں، پچھلے صدرو نے جو کچھ کیا وہ پاگل پن کی انتہا تھی؛ لیکن ملک کے مفاد پر وہ بھی سرنگو ہوتے نظر آتے ہیں، مگر اس دفعہ ملک اور جمہوریت کے قد سے خود کو اونچا بنا کر صرف ایک شخص نے اس کی جڑوں میں لرزہ طاری کردی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی قدیم ترین عمارت کبھی بھی ڈھہہ جائے گی، اور جمہوریت کا صنم رسوا ہو کر رہ جائے گا، جس کو زمانے بھر سے پالا پوسا گیا اور اسے محبت و عشق کا دودھ پلا کر بڑا کیا گیا؛ وہ اب زخم خوردہ ہے اور زمانے کو خود ہی ترک کرنے پر آمادہ ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا خواہ کتنے ہی نظام کسی بھی شکل میں لے آئے؛ لیکن اس کی نجات اسلامی نظام کے علاوہ کسی چیز میں نہیں ہے، آج امریکی نظام اور اس کا معاشیاتی و معاشرتی سسٹم اوندھے منہ گرچکا ہے، وہاں سیاسی و اجتماعی کیفیتوں پر نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ جمہوریت کی و دیوی نے وہ تانڈو کیا ہے؛ کہ سب کچھ اتھل پتھل ہو کر رہ گیا ہے، اب اس کھوکھلے قلعہ کا خدا ہی مالک ہے. (تاریخ کیلئے ملاحظہ ہو: WWW.Newslondry.Com)
Comments are closed.