امریکی اور بھارتی جمہوریت کا ایک جائزہ –
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
واشنگٹن ڈی سی میں واقع ٹرمپ حامیوں کی ہلڑبازی اور غیر جمہوری اقدامات کے بعد وہاں کی جمہوریت پر اعتراضات کئے جارہے ہیں، یقیناً اس میں بہت سی خامیاں ہیں؛ لیکن وہاں کی جمہوریت کو ہندوستان کی جمہوریت سے موازنہ کرنا ایک نادانی، جہالت، لاعلمی اور تاریخ سے نابلدی کی بات ہے، اس واقعہ کے بعد بھارتی خبر رساں اداروں نے ایک کھسیانی بلی کا کردار ادا کیا، جو اپنی بھڑاس کھمبا نوچ کر نکالتی ہے، دیپک چورسیا، سدھیر چودھری اور رجت شرما جیسے دلال اور گودی اینکروں نے حد کردی، انہوں نے ہندوستان کی جمہوریت کو سب سے مضبوط اور قدیم جمہوریت تک کہہ ڈالا، انہیں ذرا کوئی بتائے کہ امریکی جمہوریت ١٧٨٨ء میں قائم ہوچکی تھی، اس وقت ہندوستان میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی ایک اور رجواڑے پر قبضہ کر کے اسے مدراس presidency کے حوالے کر رہی تھی، اس حساب سے امریکی جمہوریت اپنی پختگی کی عمر کو جالگی ہے، جبکہ ہندوستانی جمہوریت ابھی بھی گھٹنے کے بل چل رہی ہے یا پھر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہی ہے، اسی طرح امریکہ کے اندر ١٧٩١ء کے اندر دستور میں ترمیم کے مطابق وہاں پریس کی آزادی کو یقینی بنایا گیا تھا، یہ بات صد فیصد درست ہے کہ کسی بھی لوک تنتر اور جمہوریت کیلئے وہاں میڈیا ایک آکسیجن کا کام کرتی ہے، یہ مرتی جمہوریت اور ٹوٹتی آوازوں کا سہارا بنتی ہے، اس کے ذریعے ملک میں دبی کچلی اور پچھڑی ہوئی آوازیں بلندی پاتی ہیں، امریکہ میں اس گئے گزرے دور کے اندر بھی پریس کی آزادی قابل تعریف ہے، صدر ٹرمپ نے اپنے صدارتی عہدے میں متعدد پریس کانفرنس کئے؛ لیکن اکثر و بیشتر وہاں کی میڈیا انہیں سخت چیلینج دیتی ہوئی دیکھی گئی، کئی دفعہ یہ بھی دیکھا گیا کہ وہ سرعام ایک صدر کو رسوا کر رہے ہیں اور رسوائی کی وجہ سے انہیں کانفرنس ہال بھی چھوڑ کر جانا پڑا ہے، امریکی صدر نے اگرچہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور متعدد رپورٹس بتلاتی ہیں کہ بہت حد تک شکنجہ کسا گیا ہے؛ لیکن اس کے باوجود صدر کو مجبور ہونا پڑا ہے کہ وہ کانفرنس رد کریں اور میڈیا سے بھاگتے پھریں، اس کے بالمقابل ہندوستانی میڈیا کی یہ اوقات ہے کہ کوئی بھی اسے کہیں بھی اور کبھی بھی طعنہ دے جاتا ہے، گودی میڈیا اور بکاؤ میڈیا کہہ جاتا ہے، اس وقت انہوں نے جمہوریت کو جو چوٹ پہنچائی وہ ناقابل فراموش ہے، جس کی پاداش میں ضرور ایک دن ایسا آئے گا کہ یہاں کے صدر نہیں بلکہ میڈیا ہاؤسز کے اینکر بوریہ بستر باندھتے نظر آئیں گے، لگ بھگ ٢٣٠ سال پہلے جب امریکہ اپنی پریس کی آزادی کیلئے قانون بنا رہا تھا تب بھارت میں لارڈ کارنوس دکن میں ٹیپو سلطان رحمہ اللہ کو شکست دے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کا راج پھیلا رہا تھا، اس وقت ہندوستان میں صرف ایک ہی اخبار ہکیز گیجٹس کلکتہ سے نکلا کرتا تھا، یہ بھی ہفتہ واری اخبار ہوا کرتا تھا، بھارت میں پریس کی آزادی کی بحثوں کیلئے ابھی ڈیڑھ سو برس کا وقت باقی تھا.
پھر امریکی قوانین میں ایک اور ترمیم ہوئی ١٨٦٥ سے ١٨٧٠ کے درمیان جس کی ١٣/١٤/١٥ ویں امینڈمینٹ میں کالے، سیاہ فام لوگوں کو ووٹنگ کی آزادی دی گئی، یہ تسلیم کیا گیا کہ ہر کوئی جو امریکہ کا باشندہ ہے خواہ وہ کالا ہو ووٹ ڈال سکتا ہے، اس وقت بھارت میں ہندوستان کی پہلی جنگی تحریک اور انقلاب کا دور گزر چکا تھا، ١٨٥٧ء کا وہ بھیانک اور خوفناک تصادم ختم ہوچکا تھا، انگریز ہندوستان پر پوری طرح قابض ہوچکے تھے، اب ایسٹ انڈیا کمپنی کے بجائے باقاعدہ برطانوی سامراج کے ماتحت حکومت قائم ہوچکی تھی، اور برائے نام مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو جلاوطن کیا جا چکا تھا، اور وہ رنگون کی سرزمین پر آخری سانس گن رہے تھے، نیز اس ناکام کرانتی اور انقلاب میں موجود ہزاروں افراد کو انگریزوں نے پھانسی کے تخہ پر چڑھا دیا تھا، جگہ جگہ سے ڈھونڈ کر انہیں گولی ماردی گئی تھی، دہلی کے ارد گرد خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں، درختوں پر لاشیں لٹکی ہوئی تھیں، ایسے میں اس وقت عام لوگوں کیلئے ووٹنگ کا حق کوئی چاند تارے توڑ لینے کی بات تھی. اب اسی سال کی چھلانگ لگا کر ١٩٥٠ء میں آجائیں، جہاں ہندوستان برطانوی سامراج سے آزاد ہوچکا تھا، اور اس نے باقاعدہ انتجابی مہم شروع کردی تھی، یہ ہندوستان کی خوش قسمتی ہی ہے کہ آزادی کہ تین سال بعد ہی دفعہ ٣٢٦/ کے تحت ہر ایک کو ووٹنگ کا حق دیا گیا، ١٩٥٢ء میں بھارت کے اندر پہلا چناؤ ہوا، پھر صحیح معنوں میں اب یہ ایک جمہوری ملک بنا تھا، اور ایک دستور کے تحت اسے لایا گیا، یہ بھی ہر ایک کو جان لینا چاہیے کہ ہندوستان میں میڈیا آج جس دستور کو لے کر فخر کر رہی ہے اور اس کی آڑ میں امریکی دستور کا مزاق اڑا رہی ہے؛ دراصل یہ ہندوستانی دستور کا بھی مزاق ہے کیوں کہ ہندوستان کا دستور دنیا کے بڑے بڑے ممالک اور ان کے دستور کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے، یہ عجیب بات ہے کہ ایک نئی پود جوان اور توانا درخت سے مقابلہ کرے، ایسا بھی نہیں ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت کو بہتر جان نشین ملے ہوں اور بہتر پالن پوشن کی وجہ سے وہ وقت سے پہلے ٹھوس ہوگیا ہو؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت دن بدن کمزور ہوتی جاتی ہے، بعض انگریزوں نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ہندوستان کی جمہوریت سو سال بھی نہیں چلے گی، ہمیں نہیں لگتا کہ یہ بات درست ہے؛ تاہم اتنا طے ہے کہ سو سال بعد یہاں کی جمہوریت برائے نام رہ جائے گی، ذرا غور کرنے کی بات ہے کہ امریکی جمہوریت میں اب بھی جان کی قیمت ہے، ایک کی جان چلی جاتی ہے تو سبھی سڑکوں پر آجاتے ہیں، جارج فلوریڈا اور پھر حالیہ واشنگٹن ڈی سی ہنگامہ کے بعد عوامی اور قانونی کارروائیاں دیکھی جاسکتی ہیں؛ جبکہ بھارت ہنگامہ خیز ملک بن چکا ہے، جان جانا، اپنے سے کمزور اور اقلیت کو نشانہ بنانا عام بات ہے، آپ ہر اعتبار سے موازنہ کرلیں! یقیناً آپ کو یہ بجوبی اندازہ ہوجائے گا کہ ہندوستان اپنی جمہوریت کی عمر میں نادانی کی طرف زیادہ مائل ہے؛ جبکہ امریکہ اگرچہ مفاد پرستی اور مادیت کی طرف میلان رکھتا ہے؛ لیکن وہاں خواہ اپنے حد تک ہی جمہوری اساس کو بہرحال قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے. (دیکھئے: WWW. Newslondry. Com)
17/01/2021
Comments are closed.