انسان کی بے اختیاری کا سانحہ-
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
انسان اس دنیا کا سب سے کمزور ترین مخلوق ہے، قرآن مجید میں خود اللہ تعالی نے اسے ضعيف بتلایا ہے، غور کیا جائے تو نہ صرف اس کی ساخت و پرداخت بلکہ سوائے قوت فکر کے ہر شئی میں بے وہ اختیار ہے، نہ جینا اس کے ہاتھ میں ہے اور نا مرنا اس کے بس میں ہے، نہ جانے کتنے لوگوں نے اس حقیقت کو بدلنا چاہا، اگر پیدائش نہیں تو موت کو روکنے کی خواہش کی اور اس سلسلہ میں وہ حد سے تجاوز کر گئے لیکن انتہا ان کی مٹی سے الگ نہ ہوسکتی، تب بھی عجب حال یہ ہے وہ خود کو مختار کل گردانتا ہے، اور ایسی ایسی خوش فہمیاں پال لیتا ہے کہ گویا دنیا کی تمام آرائشیں صرف اس کے دم پر ہیں، اگر وہ نہ رہے تو دنیا کا نظام ہی تھپ پڑ جائے گا، ایسوں کو ذرا سوچنا چاہیے کہ کیسے ایک معمولی بخار بھی انہیں بستر پر پٹخ دیتی ہے، ایک زکام انہیں مجبور کردیتا ہے کہ تنگ ہوجائے اور بار بار بے بسی سے چور ہوجائے، آپ نے غور کیا ہوگا کہ انسان ایک عمر تک یہی سوچتا ہے کہ زندگی اس کے مطابق چل رہی ہے، وہ منصوبے بناتا ہے، شب و روز ہی کیا تادم اخیر کا پلان تک تیار کرلیتا ہے؛ لیکن جب کچی عمر اور تجربات سے ہو کر عمر کی پختگی کو جالگتا ہے تب اسے اندازہ ہوتا ہے کہ نہیں….. پتنگ کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھی، ہم تو ہواؤں میں باہیں پھیلائیں خواب بن رہے تھے، زندگی کو ایک رنگ ڈھنگ اور طرز دینے کی کوشش کر رہے تھے، سچی بات تو یہی کہ انسان حیات مستعار میں خواہ کتنا بھی طاقتور بن جائے، مال و دولت، عزت ووقار اور ناموری میں کتنا ہی بڑا ہوجائے؛ تاہم اس کی بے اختیاری سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، وہ ہمیشہ یہ محسوس کرے گا کہ انسان ایک مجبور اور اللہ تعالی کا محتاج مخلوق ہے، انسان کی اسی بے اختیاری کو مولانا وحیدالدین خان صاحب نے بڑی خوبی سے بیان کیا ہے، مولانا ایک عظیم علمی شخصیت ہیں، اختلاف سے کوئی پاک نہیں، مگر یہ ہمارے ہاتھوں میں ہے کہ اچھائیاں تلاش کرلیں، اور اسے بلا کسی تعصب و امتیاز کے تسلیم کریں، شمع حیات بنائیں اور اسلام کی تشریح و توضیح میں کام لیں، مولانا کی یہ تحریر اسی قابل ہے، آپ رقم طراز ہیں:
"برٹش سائنس داں سر جیمز جینز نے اپنی کتاب پر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) میں انسان اور کائنات کے تعلق کے بارےمیں لکھا ہے— ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے لیے بنائی نہیںگئی تھی:It appears that man has strayed in a world which was not made for him. مگر زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جس کو اس نے خود نہیں بنایا، اور نہ وہ اس دنیا کو کنٹرول کرنے والا ہے۔It appears that man has strayed in a world which was not made by him, and nor is he its controller. اس دنیا میں انسان کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ انسان اپنے آپ کو اس دنیا میں ایک زندہ وجود کی حیثیت سے پاتا ہے۔ لیکن یہ وجود ایک عطیہ ہے، اس نے خود اپنے آپ کو وجود نہیں بخشا۔ انسان کو صحت مند جسم چاہئے۔ صحت مند جسم ہوتو وہ بھرپور زندگی گزارتا ہے، لیکن صحت مند جسم اس کے اپنے بس میں نہیں۔ انسان کو وہ تمام چیزیں چاہئیں جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ سسٹم ہوتو انسان کامیاب زندگی گزارےگا، لیکن اس سسٹم کو قائم کرنا اس کے اپنے بس میں نہیں۔ انسان کو موافق موسم درکار ہے۔ موافق موسم ہوتو انسان امن و عافیت کے ساتھ زندگی گزارے گا، لیکن موافق موسم کو قائم کرنا انسان کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی خواہش کے مطابق ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن ہر انسان جو پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے، وہ ایک مقرر وقت پر مر جاتا ہے۔ یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ اپنے آپ پر موت کو وارد ہونے سے روک دے۔ انسان مکمل طور پر ایک ضرورت مند ہستی ہے، لیکن اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے وہ مکمل طور پر ایک خارجی طاقت کا محتاج ہے۔
انسانی زندگی کا یہ پہلو بے حد قابلِ غور ہے، انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے کامل معنوں میں ایک صاحبِ اختیار مخلوق ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اس کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت کو خود پورا کرنے پر قادر نہیں۔ انسان کی زندگی کے یہ دو متضاد پہلو (two contradictory aspects) انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرکے اس معاملے کی حقیقت کو دریافت کرے، اور اس دریافت کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کا نقشہ بنائے۔ انسان کا تجربہ اس کو بتاتا ہے کہ اس دنیا میں وہ صرف ایک پانے والا (taker) ہے، اور دوسری طرف کوئی ہے جو صرف دینے والا (giver) ہے۔ یہ نسبت انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی حقیقت کے بارے میں سوچے، وہ اپنی زندگی کو حقیقت واقعہ کے مطابق بنائے۔ وہ اپنے آپ کو اس مقام پر رکھے جہاں وہ حقیقتاً ہے، اور دوسری ہستی کے لیے اس مقام کا اعتراف کرے جس کا وہ حق دار ہے. مختصر الفاظ میں یہ کہ انسان اگر سنجیدگی کے ساتھ اپنے ہر معاملے پر غور کرے گا تو وہ پائے گا کہ وہ خود اس دنیا میں عبد کے مقام پر ہے، اور دوسری ہستی معبود کے مقام پر۔ یہی دریافت انسان کی کامیابی کا اصل راز ہے۔ جو انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے اس حقیقت کو دریافت کرلے، وہی انسان، انسان ہے۔ اس کے لیے تمام ابدی کامیابیاں مقدر ہیں۔ اس کے برعکس، جو شخص اس حقیقت کی دریافت میں ناکام رہے، وہ انسان کی صورت میں ایک حیوان ہے۔ اس کے لیے اس دنیا میں ابدی خسران (eternal loss) کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو شخص اس حقیقت کو دریافت کرلے، فطری طور پر اس کا رسپانس (response) وہی ہوگا، جس کا ذکر قرآن کے ابتدا میں ان الفاظ میںا ٓیاہے: الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (1:2)۔ یعنی اس بر تر ہستی کا شکر جو سارے عالم کا رب ہے، جو انسان کی تمام کمیوں کی تلافی کرنے والا ہے۔ یہ اعتراف انسان کے اندر وہ انقلاب پیدا کرے گاجب کہ اس کے اندر اپنے رب کے لیے حبّ شدید اور خشیت شدید پیدا ہوجائے۔ یہی وہ فرد ہے جس کو قرآن میںمومن کہا گیا ہے۔” (الرسالہ اگست 2017)
Comments are closed.