اصلاح کی حقیقی کنجی ہمارے ہاتھ میں نہیں

 

محمد صابر حسین ندوی

*کسی کی اصلاح کیلئے آپ کیا کر سکتے ہیں؟ یہی کہ آپ اسے سمجھائیں، صحیح و غلط کا امتیاز بتائیں، عقلی و نقلی دلیلیں بھی دیں، دنیا و آخرت کی بھلائیاں اور خیر و صلاح بھی بتائیں، اگر وہ مؤمن ہے اور کچھ للہیت و خشیت کی شد بد رکھتا ہے؛ تو اسے اللہ تعالی کی عظمت، محبت، انعام اور اس کی کرم فرمائیوں کا تذکرہ کریں، قرآن و حدیث کی اہمیت اور ان سے ثابت ہونے والے احکام و اعمال بھی بتائیں، لیکن اگر وہ دنیادار ہو تو بھی اصلاح کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں، عقلی دلائل تو بہرحال کارگر ہیں، منطقی باتیں بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہیں، نیز اگر کوئی عام، اور سادہ لوح ہو تو اسے ہلکی پھلکی وہ باتیں جو شرع و دنیا سے تعلق رکھتی ہیں اسے پیش کریں، مرتب کرنے اور زندگی کا مقصد سامنے رکھنے کی ہدایت کریں، بلکہ ان سب میں سب سے زیادہ مؤثر خود کا عملی پہلو ان کے سامنے رکھیں، انہیں باور کروائیں کہ شریعت کے مطابق زندگی گزاری جاسکتی ہے، نماز، روزہ، اخلاقی اقدار اور معاشرتی مسائل کا حل کیا جاسکتا ہے، مگر ذرا غور کیجئے اور بتائیے! کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی اگر کوئی باتوں پر کان نہ دھرے تو کیا کیا جاسکتا ہے؟ آپ کے عملی پہلوؤں کو آپ ہی کی حد تک خاص سمجھے اور وے اپنے آپ کو آپ سے جدا جانیں تو کیا کرسکتے ہیں؟ لوگ جھنجھلاہٹ اور غصے میں شاید مارپیٹ اور چیخ و پکار پر اتر جائیں، ممکن ہے کہ اگر محنت اور شدت ہو تو کچھ ایسا بھی کر گزریں جو مناسب نہ ہو؛ لیکن ان سب کے بعد بھی حاصل کیا ہوگا؟ یہ یقنی ہے کہ اگر کوئی دروازہ چابی سے کھل جائے تو اسے بارہا استعمال کیا جاسکتا ہے، وہ معاشرے کیلئے مفید بن سکتا ہے، خزانے کی حفاظت ہوسکتی ہے؛ مگر اسی تالے کو اگر پتھر، ہتھوڑا یا سریے سے توڑا جائے تو یہ لازمی ہے کہ دروازہ کھل تو جائے گا، لیکن یہ بھی مسلم ہے کہ دوبارہ اس تالے سے کوئی استفادہ نہیں کیا جاسکتا، دل بھی ایک گھر ہے، ایک خزانہ ہے جس کے اندر انسان کی بیش قیمت شئی رکھی گئی ہے، فکر وہدایت اور انشراح کا وہ خزانہ وہیں تو ہے، اگر دل کو کچھ چھو جائے اور اس میں بات اتر جائے تو پھر اس کے دروازے کو کھولنے میں آسانی ہے، بار بار اس خزانے سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، البتہ اگر اس دل کی در و دیوار کو توڑ دیا جائے اور زبردستی اس میں داخل ہونے کی کوشش کی جائے تو ہوسکتا ہے؛ کہ یہ زور آوری اسے اندر گھسنے کا موقع فراہم کردے؛ لیکن اس کے بعد ایسا ہوگا کہ وہ دل مردہ ہوجائے گا، اس میں شادابی نہ ہوگی، مبلغ کیلئے کوئی شیفتگی اور دلبری نہ رہے گی؛ بلکہ وہ عمل برائے عمل ہی رہ جائے گا، اس کا کوئی اثر اس کے نفس و دل اور پوری زندگی پر نہیں پڑے گا.*

*سچی بات تو یہی ہے کہ انسان صرف اسی بات کا مکلف ہے کہ وہ عملی طور پر باتوں، اچھائیوں اور عمدہ و بلیغ انداز سے دلوں میں اترنے کی کوشش کرے، اس دروازے کو محبت سے کھولے، اس سلسلے میں سب سے زیادہ دعاؤں کا سہارا لے، مناجات اور دلی کیفیت کو اپنا ہتھیار بنائے، یقیناً اس میں خیر ہوگی اور اللہ تعالی کو منظور ہوگا تو یہ دروازہ سدا کیلئے کھل جائے گا، اگر وہ عنداللہ مقبول نہ ہو تو نوح کی دعا اپنے بیٹے، ابراہیم کی گزارش اپنے والد، لوط کی مناجات اپنی اہلیہ اور نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ابوجہل کے حق میں کارگر نہ ہوسکی تو بھلا ہماری کیا بساط ہے!! اللہ تعالی کا یہ اصول ہر ایک کو معلوم ہونا چاہئے – اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ – (قصص: ٢٦) "( اے رسول !) آپ جس کو چاہیں ، ہدایت پر نہیں لاسکتے ہیں ؛ لیکن اللہ جسے چاہتے ہیں ہدایت سے نوازتے ہیں اور اللہ ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو ہدایت کو قبول کریں گے” – – تقریباً تمام اہل علم کی رائے ہے کہ یہ آیت حضرت ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، آپ کی آخری درجہ خواہش تھی کہ آپ ﷺ کے یہ محسن چچا ایمان لے آئیں؛ لیکن وہ ایمان نہیں لائے، (تفسیر قرطبی : ۱۳؍۲۹۹) — اگر ہدایت پیغمبروں کے ہاتھ میں ہوتی تو حضرت ابراہیم کے والد، حضرت نوح کے بیٹے ، حضرت لوط کی بیوی اور رسول اللہ ﷺ کے محبوب چچا دولت ِایمان سے محروم نہیں رہتے ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کسی شخص کا ہدایت سے بہرور ہونا اللہ کا کتنا بڑا انعام ہے ! (آسان تفسیر قرآن مجید) کبھی کبھی یہ خیال بہت ٹیس مارتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے اقرباء کی بے دینی یا بد دینی کا طعنہ ان اصحاب کو دے دیتے ہیں جو ان گھروں میں دینی علامات کا حامل ہو، نماز، روزہ اور تقوی و للہیت کا کسی حد تک پابند ہو، ایسے لوگ کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اصلاح اور ہدایت صرف اور صرف اللہ تعالی کی جانب سے ہے، انسان صرف اپنی استطاعت کے بقدر کا ہی مکلف ہے، اگر کوئی جانتے بوجھتے جہنم کی وادیوں کو ہی اپنا ٹھکانا بنانا چاہے اور طوفان نوح علیہ السلام میں گھرے ہونے کے باوجود پہاڑوں کی مدد کو کافی سمجھے تو نوح کیا کرسکتے ہیں، جو لوگ معاشرے میں گنے چنے کسی خاندان کے فرد کو نشانہ بناتے ہیں تو وہ یہ بھی لازم کرلیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی نشانہ بنائیں اور کہتے پھریں کہ نعوذ باللہ فلاں نبی کی بیوی، اولاد اور والد جہنم میں چلے گئے اور اس کے ذمہ دار وہ انبیاء تھے؟؟؟؟*

 

 

Comments are closed.