کمزور ھوتی جمھوریت

 

 

ھمارا ملک ان دنوں 72 ویں یوم جمہوریہ کے جشن کی تیاریوں میں مصروف ھے 26 جنوری وہ تاریخی دن ھے جب ملک میں اعلی دماغوں کے ذریعہ تیار کردہ وہ سیکولر آئین و دستور نافذ ھوا جس نے بھارت کی جمہوریت کو دنیا کے نقشہ میں ایک ممتاز مقام پر لا کھڑا کیا ۔

 

اس تاریخی دن کی آمد پر پوری کشادہ ظرفی کے ساتھ بلا لحاظ مذھب و ملت ھمیں سب سے پہلے آزادی وطن کی جدوجہد میں حصہ لینے والے ان سورماؤں اور مجاہدین کو یاد کرتے ھوئے انہیں خراج عقیدت پیش کرنا چاھئے جن کی بے مثال قربانیوں کی بدولت ملک میں آزادی کا سورج طلوع ہوا اور فرنگیوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ھونا پڑا ۔

 

بلاشبہ بھارت کا آئین ان سیکولر دفعات پر مشتمل ھے جن کو رو بہ عمل لانے کی صورت میں ملک کے ھر باشندے کو باعزت زندگی گزارنے کا موقع ملے گا اور کسی کو دوسرے درجہ کا شھری بن کر اپنے ھی ملک میں زندگی گزارنے پر مجبور نہیں ھونا پڑے گا ، کاشکہ آئین ھند کی قسمیں کھاکر اقتدار کی دھلیز تک پہنچنے والے حکمرانوں نے دستور کا پاس و لحاظ بھی رکھا ھوتا تو آج ملک تاریخ کے اس نازک دور سے نہ گزررھا ھوتا .

 

قومی یادگار اور تیوھار کے طور پر 26 جنوری کا جشن منانے والے ایک مرتبہ اس پہلو پر ضرور غور کریں کہ کیا ھم اسی بھارت میں رہ رھے ھیں جو ھمارے بزرگوں کے خوابوں کی تعبیر ھو ، جس میں ھندو مسلم سکھ عیسائی ایک قوم کی طرح باھمی میل و محبت کے ساتھ رہ رھے ھوں ، جس میں ھر باشندہ دستور کی روشنی میں اپنے بنیادی حقوق حاصل کرتے ھوئے مذہبی شعائر پر آزادی کے ساتھ عمل پیرا ھو ، اگر ایسا نہیں ھے اور یقینا ایسا نہیں ھے تو یہ دن گزری ھوئی کامیابیوں پر جشن منانے سے زیادہ حکومت کے حالیہ خلاف دستور اقدامات اور عوام مخالف فیصلوں کے خلاف اسی مضبوط قومی اتحاد کے ساتھ میدان عمل میں آنے کا ھے جس نے ماضی میں فرنگیوں کی چولیں ھلاکر رکھدی تھیں ۔

 

یوم جمہوریہ کے تاریخی موقع پر محبان وطن کو ملک کی سالمیت ، یکجہتی ، تاریخی ورثہ اور شناخت کے تحفظ کے حوالے سے سب سے زیادہ فکرمندی کا مظاھرہ کرنا ھوگا؛کیونکہ ملک کی دیرینہ روایات کلچر اور تہذیب کی حفاظت سب کی مشترکہ ذمے داری ھے بالخصوص ایسے وقت میں جب کہ حکومت اپنی ذمے داریوں سے آنکھ چراتے ھوئے بےدریغ جمھوری قدروں کو پامال کرنے پر آمادہ دکھائی دے

رھی ھے تو عوام کی ذمے داری قومی ورثہ کی حفاظت کے تئیں مزید بڑھ جاتی ھے۔

 

*واقعہ یہ ھے کہ ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ھوئے 26 جنوری کے جشن کی معنویت کم سے کم تر ھوتی چلی جارھی ھے ، حکمراں طبقہ اگر جمھوری قدروں کی حفاظت کرتے ھوئے اور اپنے فیصلوں میں مذھبی بنیاد پر تفریق سے گریز کرتے ھوئے نظام حکومت چلاتا تو جشن و مسرت کا اظھار کرنے کی طبیعت بھی چاھتی لیکن جب حکومت ھی دستور و قانون کی دھجیاں اڑانے پر کمربستہ ھو تو جشن نہیں ماتم کرنے کو جی چاھتا ھے ۔*

 

*گذشتہ چند سالوں میں برسر اقتدار شدت پسند طبقے نے اپنی کرسی کی خاطر پورے ملک میں مذھبی منافرت کا جو زھر گھولا ھے اس نے بھارت کے ماحول کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ھے اور پھر یکے بعد دیگرے پارلیمنٹ سے اکثریت کے زعم میں وہ قوانین پاس کرائے گئے جو اگر ایک طرف ملکی آئین سے متصادم تھے تو دوسری طرف ان میں سے بعض سیدھے طور پر مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کرنے والے تھے جبکہ بقیہ کے ذریعہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں ، غریب عوام اور کسانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا ، طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون سازی ھو ، یا شھریت ترمیمی قانون کو منظوری دےکر ملک کی دوسری بڑی اکثریت کو حق شھریت سے محروم کرنا ھو ، اسی طرح جموں کشمیر سے غیر آئینی طور پر دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کرکے جبری نظام مسلط کرنا ھو یا کسانوں کے مفادات کے خلاف چند سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے قانون بنانا ھو یا تاریخی بابری مسجد کے قضیہ میں عدالت عالیہ کے ذریعہ غیر معقول فیصلے کو صادر کرانا ھو یہ سب وہ چیزیں ھیں جس نے اندرونی طور پر نہ صرف یہ کہ ملک کو کمزور کرکے جمھوری قدروں کو پامال کیا ھے ؛ بلکہ عالمی تناظر میں بھی ملک کی ساکھ کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ھے ۔*

 

*ایسی صورتحال میں یہ بھی سوچنا چاھئے کہ عوام کو اپنے فیصلوں کے ذریعہ مسلسل بےچینی میں مبتلا کرنے والی حکومت کے ذمےداران کو کیا یوم جمہوریہ کی پریڈ کی سلامی لینے کا اخلاقی جواز حاصل ھے ، ماحول ایسا بنادیا گیا ھے کہ ایک شھری دوسرے شھری سے خوف کھانے لگا ھے ، سماجی تانے بانے بکھرتے چلے جارھے ھیں ، بغض اور انتقام کا ماحول عام ھے اور حد یہ ھیکہ قانونی ادارے اور عدلیہ بھی بڑی طاقتوں کے زیر اثر ھوتے چلے جارھے ھیں ، اگر مزید چند سالوں تک نظام حکومت اسی طبقہ کے ھاتھ میں رھا تو شاید اس کمزور ھوتی جمھویت کا چراغ بالکل گل ھوجائے اور جمھوری ملکوں کی فہرست سے بھارت کا نام ھی نکل جائے ۔*

 

کیا یہ جمھوریہ ھند کے ماتھے پر کلنک نہیں ھے کہ گذشتہ سال انہی دنوں 26 جنوری 2020 کے موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں شھریت ترمیمی قانون کے خلاف باشندگان ھند سراپا احتجاج تھے ، پھر کورونا کے باعث لاک ڈاؤن ھونے کی وجہ سے ان احتجاجات میں کمی آئی اور اس سال 26 جنوری 2021 کے موقع پر بھی ملک کے کسان تقریبا دو مہینے سے دارالحکومت دھلی کو گھیرے ھوئے ھیں اور کسان مخالف زرعی قوانین کی واپسی کا پرزور انداز میں مطالبہ کررھے ھیں اور سخت سردی کی پرواہ کئے بغیر اپنے مؤثر احتجاج کو جاری رکھے ھوئے ھیں ؛ لیکن ابھی تک حکومت اپنے ھٹلر شاھی فرمان اور فیصلے کو واپس لینے کے لئے رضامند دکھائی نہیں دے رھی ھے شاید حکومتی اھلکاروں کو یہ معلوم نہیں کہ عوامی طاقت کے سامنے بڑے سے بڑے تانا شاہ کو بھی جھکنا پڑتا ھے اور جب عوام کوئی فیصلہ کرنے پر آتے ھیں تو اچھے اچھوں کو اقتدار سے بے دخل کرکے چھوڑ دیتے ھیں ۔

 

آئیے ھم سب ھندوستانی یوم جمہوریہ کے موقع پر اپنے پیارے وطن کی سالمیت ، یکجھتی ، بھائی چارہ اور سیکولر اقدار کے تحفظ کا عزم کریں اور قومی اتحاد کے ذریعہ جھوٹے راشٹر واد کے نام پر ملک کے نظام کو کھوکھلا کرنے والی طاقتوں کو منہ توڑ جواب دیں ۔

 

 

 

 

محمد عفان منصورپوری

جامع مسجد امروھہ

9/جمادی الاخری 1442ھ

23/جنوری 2021ء

Comments are closed.