آئیے!! کامیاب ترین لوگوں میں شامل ہوجائیں –

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

         اس وقت اسلامی انقلاب اور تحریکوں کی باتیں خوب ہوتی ہیں، یہ خوش آئند بات ہے کہ نئی نسلوں میں بیداری آرہی ہے، وہ اسلامی اقدار و روایات اور علم کی باتیں کرتے ہیں، مختلف پلیٹ فارم اور میدانوں سے جوش و خروش اور اسلامیت کا پرچم بلند کرنے کا حوصلہ دکھاتے ہیں، معاشرے میں انقلاب لانے، اچھائیاں عام کرنے، برائیاں جتم کرنے اور فواحش و ظلم کو مٹادینے کا عزم بھرتے ہیں، اور صحیح بات تو یہی ہے کہ انہیں دیکھ کر ایک نئی صبح کا پتہ چلتا ہے، غبار آلود افق سے ایک نئے سورج کی کرنوں کا اندازہ ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ دجالی طاقتوں کی سرکوبی کا وقت آگیا ہے، اب باطل کا سر مونڈنے اور گردن تَن سے جدا کرنے کا بھی لمحہ قریب ہے؛ لیکن افسوس و کرب کی بات یہ ہے کہ وہ جوشیلے نوجوان مرد و خواتین اس نسخہ کیمیاء کو چھوڑے بیٹھے ہیں یا غفلتوں میں پڑے ہیں جس سے کوئی فرار نہیں ہے، جس کے بغیر امت مسلمہ کیلئے روشن مستقبل کا خیال ممکن ہے کہ صرف خیال ہی رہ جائے، یعنی پنج وقتہ نمازوں کی پابندی بالخصوص نماز فجر کو اس کے وقت اور ممکن ہو تو باجماعت ادا کرنے کی فکر ہے، کتنے ہی نوجوان جو جلسے جلوسوں میں ایمان، اسلام، خلافت، حق وغیرہ وغیرہ کی باتیں کرتے ہیں مگر عین نماز کے وقت مسجد کا رخ نہیں کرتے، اذان بس اک آواز بن کر رہ گئی ہے، ان کے کانوں میں پڑ کر ان کے دلوں کو آمادہ نہیں کرپاتی کہ آؤ! واقعی فلاح ادھر ہی ہے، نماز پڑھو! بستر چھوڑو! جاگو! موسم کی شدت، گرمی، سردی کا وقتی رونا مت رؤو اور اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنے مسلمان ہونے اور حقیقی مؤمن ہونے کا ثبوت دو! بہانے بازیاں بےکار ہیں، اپنے دل میں اللہ اور اس کے رسول کا عشق جگا کر تو دیکھو! پھر اندازہ ہوگا کہ تمام دشواریاں تمہیں لذت دینے کیلئے ہیں، کڑواہٹیں تمہارے لئے شیریں جام کی مانند ہیں، بہر حال اس سلسلے میں ڈاکٹر طارق ایوبی صاحب ندوی لگاتار اپنی فیس بُک دیوار سے نوجوانوں کو جھنجھوڑ رہے ہیں، ایک اہم تحریر پیش خدمت ہے، جو دلوں کو گرماتی ہے، اور صحیح انقلاب کا پتہ دیتی ہے، آپ رقم طراز ہیں:

       "دنیا نے بڑے بڑے انقلابات دیکھے ہیں، لیکن تاریخ اقوام و ملل میں جن کے بے نظیرانقلاب اور جن کی بے مثال فتوحات پر سب متفق ہیں وہ وہی لوگ ہیں جن کو قرآن کہیں مفلحون، کہیں فائزون، کہیں مهتدون سے یاد کرتا ہے، ان نفوس قدسیہ کی دیگر تمام خصوصیات کے باوصف جو صفت ان میں سب سے زیادہ نمایاں تھی وہ ان کی عبدیت اور ان کا ذوق عبادت تھا، وہ کثرت سے عبادت کرتے تھے، راتوں کو رب کے سامنے گڑگڑا کر مناجات کرتے تھے؛ جس کے نتیجہ میں ان کے ذریعہ وہ انقلاب برپا ہوا جس کی دشمن بھی گواہی دیتے ہیں، یہ مشکل کام نہیں ہے بس عزم کرنے اور اپنا شیڈول بدلنے کی ضرورت ہے، وقت ضائع کرنے کے بجائے رات میں جلدی سونا ہوگا، یاد رکھیے مؤمنانہ خصوصیات میں یہ بھی ہیکہ لغویات میں وقت نہ برباد کیا جائے، رات کو بے سبب نہ جاگا جائے اور جلدی سونے کی عادت ڈالی جائے، یوں بھی مومن گھوڑے بیچ کر، انجام سے بے خبر ہو کر غفلت کی نیند نہیں سوتا، پھر دین سے وابستہ، اصلاح معاشرہ کیلئے کوشاں اور انقلاب کے خواہاں افراد و نوجوانوں کا شوق عبادت تو مثالی اور لائق تقلید ہونا ہی چاہیے؛ کیونکہ بنیادی طور پر قربانی کا ذوق اسی سے پیدا ہوتا ہے، عہد حاضر میں بھی عالم اسلام میں صالح انقلاب کیلئے کوشاں ایسی تحریک موجود ہے جس کے وابستگان، قیام لیل و تلاوت اور ذکر و ریاضت میں ویسے ہی متحرک نظر آتے ہیں جیسے میدان عمل میں۔ انقلاب برپا کرنے والے بلکہ نظام عالم بدل کر رکھ دینے والے وہ عظیم لوگ انسان ہی تو تھے، رات میں سوتے بھی تھے اور دن میں ضروریات زندگی کی تگ و دو بھی کرتے تھے، مگر دیکھئے قرآن ان کے ذوق عبادت کی بابت کیا کہتا ہے:وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا(فرقان ٦٤) اور وہ اپنے پروردگار کی رضا کیلئے راتیں سجدہ اور قیام میں گزارتے ہیں۔ كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ،وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (ذاريات ١٧،١٨)رات میں کم سوتے تھے اور وقت سحر استغفار کرتے تھے۔ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ ،فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (سجده ١٦.١٧)ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں اور اپنے رب کو خوف و امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور ہم نے جو کچھ انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان(نیک و صالح لوگوں) کیلئے ان کے اعمال کے بدلہ کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک (کیسی کیسی نعمتیں ) چھپا کر رکھی گئی ہیں۔ اور خدا کی نوازش کا کیا کہنا ! اسے تو نوازنے کا بس بہانہ چاہیے بس۔

      ابوداؤد و ابن ماجہ میں صحیح روایت ہیکہ اللہ ایسے مرد و عورت پر رحمتیں نازل کرتا ہے جو رات میں اٹھتے ہوں تہجد پڑھتے ہوں اور اپنے رفیق زندگی کو بھی جگاتے ہوں، میاں بیوی کو یا بیوی شوہر کو جگائے وہ نہ اٹھے تو منہ پر پانی چھڑک دے، اس پر بھی مہربان و شفیق رب رحمتیں برسانے کی بشارت سناتا ہے۔ جب وہ سنت کے اہتمام پر اس قدر رحمتوں سے نوازے گا تو مجھے امید ہے کہ فجر_کے_اہتمام کیلئے جدوجہد پر برکات و انوار کی بارش ضرور ہو گی ۔ خیر یہ تو ان لوگوں کا تذکرہ تھا جو تہجد کیلئے اٹھتے ہیں، جو رات کے اندھیروں میں اپنے رب سے مناجات کرتے ہیں، ہم جیسے کمزور اگر ان کامیاب ترین افراد کی اتباع کیلئے خود کو آمادہ نہیں کر سکتے تو کم از کم ایک دوسرے کو ادائیگی فرض فجرباجماعت کیلئے تو جگا سکتے ہیں ۔ ہم ذرا سی توجہ سے ان میں تو شامل ہو سکتے ہیں جن کو نماز کی_پابندی و حفاظت اور اہتمام کے سبب کامیاب شمار کیا گیا ہے، والذين هم على صلواتهم يحافظون(مومنون ٩) اور جو لوگ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، یہی بات اسی سیاق اور ان ہی خصوصیات کے ذیل میں دوسری جگہ آئی: والذين هم على صلاتهم يحافظون (معارج ٣٤) – -پھر دیر کس بات کی آئیے! عزم کریں کہ ہم دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کے اتباع میں رات کو کچھ نہ کچھ دیر بستر سے اٹھ پڑیں گے ورنہ کم ازکم فجر تو پورے اہتمام سے اس طرح پڑھیں گے کہ جسم و روح گویا محبوب کے دیدار کی لذت سے سرشار ہو جائے، چہرہ کھل اٹھے اور سستی دور ہو جائے، پھر اسی طرح دیگر نمازوں کی بھی فکر کریں گے کہ جماعت فوت نہ ہونے پائے، اللهم وفقنا لما تحب و ترضى.”

Comments are closed.